رب کائنات کا تعارف اور اس کی الوہیت و عبودیت،
جب خوارج،
سلف صالحین نے ہمیشہ رب کائنات کی تعریف و تعارف میں،
{لیس کمثلہ شئ وھوالسمیع البصیر} [الشوری:۱۱]
کے متفق علیہ اصول کے ذریعہ حل کر دیا ہے۔
اس پس منظر میں سلف صالحین اور قیامت تک آنے والے ان کے متبعین کی کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحتوں کو ’’الٰہیات کے تراشیدہ لات و منات‘‘ سے تعبیر کرنا ایک طرح رب کائنات کی شان میں گستاخی،
’’یہ الٰہیات کے ترشے ہوئے لات و منات‘‘:
بسا اوقات انسان دوسروں کی تقلید میں کفریہ کلمات کے استعمال کا مرتکب ہوجاتا ہے۔’’ارمغان حجاز‘‘ میں علامہ اقبالؔ کی مشہور نظم ’’ابلیس کی مجلس شوری‘‘ ہے اس میں ابلیس اپنے مشیروں سے مخاطب ہوکر چند عقائدی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے:
توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات!
ابنِ مریم مر گیا یا زندہء جاوید ہے؟
ہیں صفاتِ ذاتِ حق حق سے جدا یا عین ذات؟
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے
یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟
ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
امتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں
یہ الٰہیات کے ترشے ہوئے لات و منات؟
ابلیس کے خطاب میں وارد شدہ عقائد کی موشگافیوں کا سلف صالحین نے بھی کتاب و سنت کی روشنی میں تصفیہ کیا ہے۔فرقوں کے عقائد باطلہ کو بالائے طاق رکھ کر سلف کی توضیحات کو ہی ’’الٰہیات کے تراشیدہ لات و منات‘‘ کے دائرے میں لے آنا ابلیس کی ترجمانی ہے سلفیت کی نہیں۔
اس کا شرعی حل یہ ہے کہ جس طرح بڑے طمطراق سے اس لقب کا استعمال کیا گیا ہے اسی طرح بے باکی سے توبہ بھی کر لی جائے۔(ذلک خیر و أحسن تأویلا)
لات و منات کا استعمال شعراء بھی کفر اور کفریہ امور کے بارے میں اظہار کے لیے کرتے ہیں۔شورش کاشمیری کا شعر ہے:
حرم کو بندۂ لات و منات کیا جانے
خدا کے گھر کو سکندر حیات کیا جانے
تعبیر کی غلطی کے اسباب:
ان جیسے مسائل میں غلط تعبیر کے تین اسباب ہوتے ہیں:
(۱) یا تو انسان کتاب و سنت کے نصوص میں غور و فکر اور تدبر کی نعمت سے محروم اور غفلت کا شکار ہوتا ہے۔
(۲)یا تو اپنے ماحول کی اثرپذیری یا کم علمی کے سبب غیر معمولی اہمیت کے حامل مسئلے کو بالکل معمولی سمجھتا ہے۔
(۳) یا تو وہ پھر اس پر ایمان ہی نہیں رکھتا۔
میری نظر میں یقیناً یہاں نصوص میں تدبر و تامل کی نعمت سے محرومی یا زیر بحث مسئلے پر عدم ایمان کی بات نہیں بلکہ غیر معمولی کو معمولی سمجھ لیا گیا ہے۔
الٰہیات کے تراشیدہ لات و منات کا مفہوم:
’’الٰہیات کے تراشیدہ لات و منات‘‘ کے پجاری کفار و مشرکین اور یہود و نصاری ہیں،
{وَقَالَتِ الْیَہُودُ عُزَیْْرٌ ابْنُ اللّہِ وَقَالَتْ النَّصَارَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّہِ ذَلِکَ قَوْلُہُم بِأَفْوَاہِہِمْ یُضَاہِؤُونَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَبْلُ قَاتَلَہُمُ اللّہُ أَنَّی یُؤْفَکُونَ* اتَّخَذُواْ أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِیَعْبُدُواْ إِلَہاً وَاحِداً لاَّ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ سُبْحَانَہُ عَمَّا یُشْرِکُونَ} [التوبہ:۳۰۔۳۱]
(ترجمہ:یہود کہتے ہیں: عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں: مسیح اللہ کا بیٹا ہے،
ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو بھی،
{أَفَأَصْفَاکُمْ رَبُّکُم بِالْبَنِیْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ إِنَاثاً إِنَّکُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلاً عَظِیْماً} [بنی اسرائیل:۴۰]
(ترجمہ: کیا بیٹوں کے لیے تو اللہ نے تمھیں چھانٹ لیا اور خود اپنے لیے فرشتوں کولڑکیاں بنا لیں؟ بے شک تم بہت بڑا بول بول رہے ہو۔)
’’الٰہیات کے لات و منات‘‘ تراشنے والے کفار و مشرکین اور یہود و نصاری کے ان اقوال پر تبصرہ،
{وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَداً* لَقَدْ جِئتُمْ شَیْْئاً إِدّاً* تَکَادُ السَّمَاوَاتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ھدّاً* أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَداً* وَمَا یَنبَغِیْ لِلرَّحْمَنِ أَن یَتَّخِذَ وَلَداً} [مریم:۸۸۔۹۲]
(ترجمہ: ان کا قول تو یہ ہے کہ اللہ رحمن نے بھی اولاد اختیار کی ہے۔یقیناً تم بہت بری اور بھاری چیز لائے ہو۔قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔کہ وہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے۔شانِ رحمان کے لائق نہیں کہ اولاد رکھے۔)
منہج سلف پر اس کا انطباق:
توحید عبادت،
کہاجارہا ہے کہ’’صرف ایک تحریر سے میرے جغرافیہ کی پیمائش کر ڈالی گئی‘‘،
’’سکت دھراً و نطق کفراً‘‘
(ایک زمانہ تک خاموش رہا اور بولا تو کفریہ بات کہہ دی)
رہ گئے زیر بحث دیگر امور تو ان کے بارے میں بحث و تحقیق کا دروازہ بالکل کھلا رہنا چاہیے تاکہ مضطرب طبیعتوں اور بیٹھے ہوئے دلوں کو سہارا مل سکے اور اصلاح و خود احتسابی کا جذبہ پیدا ہو۔(اللہ ہم سب کو حق کہنے سننے اور اس پر عمل کی توفیق سے نوازے)
’’سبحانک اللھم و بحمدک،





