جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آفر کی دل‌پذیری: دنیوی لذت یا اخروی سعادت؟

تحریر: تسلیم حفاظ عالی20 اکتوبر، 20261,882قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آفر کی دل‌پذیری: دنیوی لذت یا اخروی سعادت؟
فل اسکرین دیکھیں

انسان کی فطرت بڑی عجیب ہے۔اسے "آفر" سننا اچھا لگتا ہے،چاہے بات کسی رعایت،سہولت یا کسی بھی فائدے کی ہو۔یہ لفظ دل کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتا ہے،خواہ چیز ضروری ہو یا نہ ہو۔اس لفظ میں ایک جادو ہے جو عقل پر وقتی پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان فائدے کے خیال میں اکثر نقصان اٹھا لیتا ہے۔

دنیا کی کمپنیاں اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں۔وہ جانتی ہیں کہ انسان "چھوٹ" اور "مفت" کے لفظ سے جلد متاثر ہوتا ہے۔اسی لیے وہ کبھی "ایک خریدو،ایک مفت پاؤ" کی پیشکش کرتی ہیں،کبھی "پچاس فیصد رعایت" کے خوش نما بورڈ لگا دیتی ہیں۔انسان سمجھتا ہے کہ وہ فائدہ اٹھا رہا ہے،مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی جلد بازی،خواہش ِ نفس،ضعفِ ارادہ اور حرص وطمع کےبدلے خود خریدا جا چکا ہوتا ہے۔

دنیاوی متاعِ حقیر کا مفت ملنا انسان کو وقتی خوشی ضرور دیتا ہے،مگر یہ خوشی ہمیشہ برقرار نہیں رہتی۔اسی طرح محنت سے حاصل شدہ سامان کا لطف بھی اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک اس کی قدر کی جاتی ہے،ورنہ وہ بھی بے قدر ہو جاتا ہے۔

دنیا میں مختلف کمپنیاں اپنے پروڈکٹس کی فروخت کے لیے خوشنما اور جاذب نظر لیبل اس لیے لگاتی ہیں اور مواقع کے مطابق آفراس لیے پیش کرتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین ان سے جڑیں اور پروڈکٹ پر بھروسہ قائم ہو۔یہ دنیاوی آفر دیکھنے میں خوشگوار لگتا ہے،اوراس سے انکار نہیں کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔مگر یہ خرید و فروخت نیت وارادے کے مطابق کبھی نیکی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور کبھی بدی کا۔

انسان کی مفت پسند طبیعت کی گراں نشینیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئےشیطان نے سب سے پہلے یہی حکمت اپنائی تھی۔وہ انسان کے سامنے گناہوں کا آفر پیش کرتا ہے،مگر کھلے الفاظ میں جہنم کی دعوت نہیں دیتا۔وہ گناہ کو خوشنما بنا کر دکھاتا ہے،لذت اور آزادی کے دل فریب غلاف میں لپیٹ دیتا ہےاور کہتا ہے کہ ذرا چکھ کر دیکھ لو،کیا نقصان ہوگا؟ بعد میں توبہ کر لینا۔اسی آفر کی دل پذیری اور خوش نمائی کے سامنے انسان بے بس ہوجاتا ہے اور بسا اوقات اپنے ایمان،حیا اوراخلاق وکردار تک کا سودا کر لیتا ہے۔

شیطان کے پہلے آفر کی مثال حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ بھی پیش آئی،جب انھیں بہکاتے ہوئے کہا گیا:

هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَا يَبْلَى

(سورۃ طٰہٰ: 120)

کیا میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلاؤں جو کبھی پرانی نہ ہو۔

یہ بڑا پر کشش اور دل فریب آفر تھا،مگر اس کے بدلے جنت کی سکونت چھن گئی۔انسان زمین پر بھیج دیا گیا تاکہ یہ سبق سیکھے کہ ہر چمک سونا نہیں ہوتی اور سراب کے پیچھے بھاگنے والی کی تشنگی کبھی زائل نہیں ہوتی۔

آج بھی شیطان اسی طریقے سے انسان کو بہکاتا ہے۔انسان کی نگاہ میں نیکیوں کو مشکل سے مشکل ترین بنانے اور گناہوں کو آسان سے آسان ترین بنانے کی کوششوں میں اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ مصروف ہے۔شہوات وخواہشات کے دامِ ہم رنگ زمین میں انسان کو پھانسنے کے لیےنت نئے حربے استعمال کرتا ہے۔بدکاری پھیلانے کے لیے نکاح کو مشکل اور سفاح کو آسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ شرم و حیا مٹ جائے،حلال راستہ تنگ ہو جائے اور حرام راستہ کشادہ نظر آئے۔سوشل میڈیا،عریانیت وفحاشیت،ہندوانہ رسم و رواج اور نوع بہ نوع فتنوں کے ذریعے وہ ایسا ماحول بناتا ہے کہ گناہ عام اور نیکی اجنبی بن جائے۔

شیطان کی سب سے محبوب کوشش یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات میں دراڑ ڈال کر دونوں کو بے راہ روی کا شکار بنائے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إنَّ إبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ علَى الماءِ،ثُمَّ يَبْعَثُ سَراياهُ،فأدْناهُمْ منه مَنْزِلَةً أعْظَمُهُمْ فِتْنَةً،يَجِيءُ أحَدُهُمْ فيَقولُ: فَعَلْتُ كَذا وكَذا،فيَقولُ: ما صَنَعْتَ شيئًا،قالَ ثُمَّ يَجِيءُ أحَدُهُمْ فيَقولُ: ما تَرَكْتُهُ حتَّى فَرَّقْتُ بيْنَهُ وبيْنَ امْرَأَتِهِ،قالَ: فيُدْنِيهِ منه ويقولُ: نِعْمَ أنْتَ.

(صحیح مسلم: 2813)

ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے،پھر اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے۔سب سے زیادہ فتنہ انگیز لشکر اس کے سب سےقریب ہوتا ہے۔ان میں سے ایک آکر کہتا ہے: میں نے فلاں فلاں کام کیا ہے۔وہ کہتا ہے: تم نے کچھ نہیں کیا۔پھر ان میں سے ایک آکر کہتا ہے: میں فلاں شخص کے ساتھ رہا یہاں تک کہ میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی۔تو ابلیس اسے اپنے قریب کر کے کہتا ہے:تم بہت اچھا کام کر کے آئے ہو!

شیطان جانتا ہے کہ جب گھر کا سکون ختم ہو جائے تو انسان قلق واضطراب کا شکار ہوجاتاہے۔گناہ،بغض و حسد اور نفرت وعداوت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ازدواجی رشتے کے ٹوٹنے سے عفت وعصمت کی دیواروں میں شگاف پیدا ہوجاتا ہے۔پھر شیطان بڑی چالاکی کے ساتھ اس سے اندر داخل ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے اسے تار تار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

شیطان چاہتا ہے کہ انسان ظلم کرے،غیبت کرے،بہتان باندھے،دوسروں کا حق مارےاور قیامت کے دن محنت ومشقت سے کی ہوئی اپنی نیکیوں کو اپنے ہاتھوں ضائع کرکے جہنم میں اس کا حقیقی قرین بن جائے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟» قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ،فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ،وَصِيَامٍ،وَزَكَاةٍ،وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا،وَقَذَفَ هَذَا،وَأَكَلَ مَالَ هَذَا،وَسَفَكَ دَمَ هَذَا،وَضَرَبَ هَذَا،فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ،وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ،فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ،أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ،ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»

(صحیح مسلم: 2581)

کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابۂ کرام نے کہا کہ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو،نہ کوئی ساز وسامان۔آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز،روزہ اور زکات لے کر آئے گا،مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی،کسی پر بہتان باندھا ہوگا،کسی کا مال کھایا ہوگا،کسی کا خون بہایا ہوگا،کسی کو مارا ہوگا۔تو اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی،اور اگر نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے،پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

دنیا کا آفر وقتی اور فریب سے بھرا ہوتا ہے،شیطان کا آفر مہلک اور موجب جہنم ہے،مگر رب کا آفر ابدی،حقیقی اور بے حد رحمت سے بھرا ہواہے۔دنیا کا آفر وقتی لذت دیتا ہے جب کہ آخرت کا آفر ابدی سعادت کا پیامبر ہے۔جس میں کسی بھی طرح کا کوئی فریب نہیں،کوئی تصنع نہیں۔اللہ تعالی نے مومنوں کے سامنے جنت کاآفر پیش کرتے ہوئے فرمایا:

{إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}

(سورۃ التوبۃ:111)

اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں اور قتل کرتے ہیں یا قتل کیے جاتے ہیں۔یہ اللہ کی طرف سے حق وعدہ ہے۔پس خوش ہو جاؤ اس سودے پر جو تم نے اللہ سے کیا،اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اس لیے انسان کو چاہیے کہ اپنی نیکیوں کو ارزاں نہ کرے،اپنے ایمان کو سستا نہ بیچے۔دنیا کے بازاروں کی چمک ماند پڑ جائے گی،مگر رب کے سودے کی قیمت ہمیشہ باقی رہے گی۔جنت وہ عظیم کامیابی اور انعام ہے اور اس کی نعمتیں اس قدر بیش قیمت اور بے مثال ہیں جن کے بارے میں ایک انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔حدیث کے اندر آپ ﷺ نے فرمایا:

فِيهَا ما لا عَيْنٌ رَأَتْ،وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ،وَلَا خَطَرَ علَى قَلْبِ بَشَرٍ

(صحيح مسلم:2825)

جنت میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا،نہ کسی کان نے سنا،نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔

ویسے تو کتاب وسنت کے اندر اللہ تعالی کے انعامات اور آخرت میں کامیابی سے ہم کنار کرنے والے اعمال کا ذکر بکثرت وارد ہے۔سر دست ذیل میں اخروی سعادت سے بہرہ ور کرنے والے چند شاندار ربانی آفرز کو ضبطِ تحریر میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایمان و عملِ صالح پر دائمی جنت:

ایمان وہ روشنی ہے جو دل کے اندھیروں کو اجالوں میں بدل دیتی ہے۔جب یہ روشنی عملِ صالح سے ہم آغوش ہو جاتی ہے تو انسان کے لیے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔یہ جنت کوئی عارضی انعام نہیں بلکہ ابدی مسکن ہے جہاں نہ غم ہے نہ جدائی۔

اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا﴾

(سورۃ الکہف: 107)

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے،ان کے لیےفردوس کے باغات کی مہمانی ہے۔

ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر:

اللہ تعالی نے فرمایا:

{مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا}

(سورۃ الأنعام:160)

جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے۔

حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

یہ اللہ تعالی کے اس فضل واحسان کا بیان ہے جو اہل ایمان کے ساتھ وہ کرےگاکہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا۔یہ کم از کم اجر ہے۔ورنہ قرآن اور احادیث دونوں سے ثابت ہے کہ بعض نیکیوں کا اجر کئی کئی سو گنا بلکہ ہزاروں گنا تک ملےگا۔(احسن البیان)

رمضان المبارک سالانہ انعامِ رحمت و مغفرت:

رمضان المبارک اللہ کی جانب سے سالانہ ایک عظیم آفر ہے،جس میں بندوں کے لیے روزہ،قرآن کی تلاوت،نوافل اور دعاؤں کے ذریعے درجات میں بلندی اور گناہوں کی معافی حاصل کرنے کے سنہری مواقع موجود ہیں۔یہ مہینہ خاص طور پر ایمان والوں کے لیے رحمت اور مغفرت کا سب سے بڑا موقع ہے۔اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین پا بجولاں کردیے جاتے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ،فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ،وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ،وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ»

(صحيح مسلم: 1079)

جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطان باندھ دیے جاتے ہیں۔

یہ مہینہ گناہوں کی بخشش،روح کی تطہیراور دلوں کے انقلابات کا موسم ہے۔جو بندہ ایمان اور اخلاص کے ساتھ روزے رکھتا ہے،اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

مَن صامَ رمضانَ إيمانًا واحتسابًا غُفِرَ له ما تقدَّمَ من ذنبِه

(بخاری: 38)

جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے،اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے۔

روزہ داروں کے لیے ” بابُ الرَّیَّان“ کی خوشخبری:

روزہ ایک عظیم عبادت ہے۔اس میں نہ نمود ہے نہ شہرت،صرف بندے اور رب کے درمیان کا راز ہے۔جو پیاس اور بھوک برداشت کرتا ہے،اس کے لے جنت میں ایک مخصوص دروازہ ہے جسےباب الریان کہتے ہیں۔جہاں سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔یہ دروازہ ان کے لیےہے جنھوں نے دنیا کی حرارت میں صبر کیا تاکہ آخرت میں اسےٹھنڈک نصیب ہو۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ،يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ

(بخاری: 1896)

جنت میں ایک دروازہ ہے جسے “الریان” کہا جاتا ہے،اس میں سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔

شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر:

یہ وہ رات ہے جب آسمان رحمتوں سے بھر جاتا ہے اور زمین پر سکون اتر آتا ہے۔عبادت کی یہ ایک رات،ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔جو بندہ اس رات کو جاگ کر عبادت کرے گویا وہ عمر بھر کے اعمال کا اجر پا لیتا ہے۔

اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾

(القدر: 3)

شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

رات کا آخری پہر:

ہر رات کا آخری پہر اور سحر کے وقت اللہ تعالیٰ بندوں کو خصوصی رحمت و مغفرت کا آفر دیتا ہے۔یہ وہ وقت ہے جب دعا،عبادت اور توبہ کا اجر سب سے زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے۔یہ آفر روزانہ دستیاب ہے،مگر بہت سے لوگ سوتے رہنے یا دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے اسے ضائع کر دیتے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

«يَنْزِلُ رَبُّنَا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا،حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ،فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟»

(البخاري: 1145،مسلم: 758)

اللہ تعالیٰ ہر رات آخری تہائی حصے میں دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے: کون ہے جو مانگ رہا ہے کہ میں اسے دوں؟ کون ہے جو دعا کر رہا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟

جمعہ سب سے بہتر دن اور اس کی ایک مخصوص گھڑی:

جمعہ کا دن سید الایام ہے۔اللہ کی طرف سےبندوں کے لیے یہ ایک خصوصی عنایت ہے،جس میں دعا قبول ہوتی ہے،گناہوں کی معافی ملتی ہے اور خاص ساعت میں دعا کرنے والے کے لیے خصوصی رحمتیں مقرر ہیں۔یہ دن نہ صرف عبادت کا دن ہے بلکہ فکرِ آخرت کا بھی بہترین موقع ہے،اسی دن قیامت قائم ہوگی۔مگر ہم اسے عام دن سمجھ کر ضائع کر دیتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الجُمُعَةِ»

(مسلم: 854)

سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا وہ جمعہ کا دن ہے۔

نیز آپ ﷺ نے فرمایا:

«فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ»

( مسلم: 852)

اس دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں کوئی مسلمان دعا کرے تو اللہ اسے عطا فرماتا ہے۔

قرآنِ مجید کی تلاوت جنتی نور اور شفاعت:

قرآن وہ کلام ہے جو دنیا میں دل کو جلا دیتا ہے،اور آخرت میں جنت کا نور بن جاتا ہے۔جو بندہ محبت واخلاص سے تلاوت کرتا ہے،اس کےلیے ہر حرف پر دس نیکیوں کا وعدہ ہے،اور قیامت کے دن یہی قرآن اس کے حق میں سفارش کرے گا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

اقرؤوا القرآنَ فإنه يأتي يومَ القيامةِ شفيعًا لأصحابِه

(مسلم: 804)

قرآن پڑھو،کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارش کرے گا۔

دوسری روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا:

«منْ قرأَ حرفًا من كتابِ اللهِ فله به حسنةٌ،والحسنةُ بعشرِ أمثالِها لا أقولُ آلم حرفٌ،ولَكِن ألِفٌ حرفٌ،ولامٌ حرفٌ،وميمٌ حرفٌ»

(صحيح الترمذی: 2910)

جو شخص اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھے گا،اسے ایک نیکی ملے گی اور نیکی کا اجر اس کے دس گنا دیا جائے گا۔میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے۔بلکہ الف ایک حرف ہے،لام ایک حرف ہےاور میم ایک حرف ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ:

صدقہ اور خیرات صرف دنیاوی مدد نہیں بلکہ آخرت میں درجات بڑھانے اور گناہوں کو مٹانے کا شاندار آفر ہے۔چھوٹا صدقہ بھی اللہ کے ہاں بڑے اجر کا سبب بنتا ہے اور جو دل سے خرچ کرتا ہے،اللہ اس کے مال اور درجات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ﴾

(البقرة: 261)

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،ان کی مثال ایک بیج کی طرح ہے جو سات بالیاں پیدا کرتا ہے،اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں۔

صدقہ انسان کو صرف غربت سے نہیں بچاتا بلکہ بلاؤں اور مصیبتوں سے ڈھال بن جاتا ہے۔جو بندہ خلوص سے دیتا ہے،اللہ اس کے مال میں برکت اور دل میں سکون عطا کرتا ہے اور اس کے گناہوں کو مٹادیتا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ المَاءُ النَّارَ

(صحيح الترمذی: 614)

صدقہ گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔

یتیم نوازی پر جنت میں نبی ﷺ کی رفاقت:

یتیم کا سر سہلانا دراصل رحمت کے دروازے کھول دینا ہے۔جو دل یتیم کے درد سے دھڑکے،اس کے لیے جنت میں نبی ﷺ کی قربت ہے۔یہ قربت کسی مال دار یا عالم کے لیے نہیں،بلکہ اس کے لیے ہے جس نے ایک بے سہارا دل کو سہارا دیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا

(بخاری: 5304)

میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں ہوں گے (اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیاں ملا لیں)۔

صلہ رحمی عمر او ر رزق میں برکت کا سبب:

رشتے جوڑنا محض اخلاق نہیں،عبادت ہے۔جو اپنے رشتہ داروں سے تعلق قائم رکھتا ہے،اس کی عمر میں برکت،رزق میں کشادگی اور دل میں سکون دیا جاتا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

مَن أحبَّ أن يُبسطَ له في رزقِه،ويُنسأَ له في أثرِه،فليصلْ رحمَه

(بخاری: 5986)

جو چاہتا ہے کہ اس کا رزق بڑھایا جائے اور عمر میں برکت ہو،تووہ صلہ رحمی کرے۔

درودِ پاک قربِ مصطفی ﷺ کا ذریعہ اور جنت کا راستہ:

درود،محبتِ رسول ﷺ کا نغمہ ہے۔جو زبان درود سے تر رہتی ہے،اس کے لیے نبی ﷺ کی شفاعت اور جنت کی بشارت ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

مَن صلّى عليّ واحدةً،صلّى الله عليه عشرًا

(مسلم: 408)

جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے،اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔

حسنِ اخلاق پر نبی ﷺ کی قربت:

اچھے اخلاق وہ آئینہ ہیں جس میں ایمان کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔نرمی،صبر،حلم اور خیرخواہی،یہی وہ جوہر ہیں جن سے دل فتح ہوتے ہیں۔نبی ﷺ نے وعدہ فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ محبوب اور قریب وہ ہوگا جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں گے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا

(ترمذی: 2018)

تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے قریب وہ ہوگا جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔

صبر پر بے حساب اجر:

صبر کوئی کمزور دل کی کیفیت نہیں،بلکہ یہ ایک طاقت ہے جو انسان کو طوفانوں میں بھی قائم رکھتی ہے۔جو شخص دنیا کی آزمائشوں پر صبر کرتا ہے،اللہ اس کے لیے اجر کے دروازے کھول دیتا ہے جن کا کوئی حساب نہیں۔یہ وعدہ ان دلوں کے لیے ہے جو غم میں بھی شکر کا چراغ جلائے رکھتے ہیں۔

اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾

(سورۃ الزمر: 10)

بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

حج اور عمرہ گناہوں کی معافی:

حج ایمان کی تکمیل ہے۔جو بندہ خلوص کے ساتھ حج کرتا ہے،وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔یہ وہ عبادت ہے جس کے بدلے جنت کے سوا کچھ نہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

مَن حجَّ هذا البيتَ فلم يرفثْ ولم يفسقْ،رجع كيومِ ولدته أمُّه

(بخاری: 1521)

جس نے حج کیا،فحش اور گناہ سے بچا رہا،وہ ایسے پاک لوٹا جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔

نیکی کی رہنمائی پر اجر کی بشارت:

جو شخص کسی کو نیکی کی طرف رہنمائی کرے،اسے بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ»

(صحیح مسلم: 1897)

جو شخص کسی کو نیکی کی طرف رہنمائی کرے،اسے اس نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔

سطورِ بالا میں ان چنداخروی آفر کو بطور مشتے نمونہ از خروارے معرضِ تحریر میں لایا گیا ہے۔دراصل یہ رحمتِ الٰہی کے مظاہر ہیں۔کتاب وسنت کے اندر ایسے بے شمار مواقع ومناسبات کا ذکر ہے جن سے ہم بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں اوراپنے نیک اعمال کے ذریعے ابدی کامیابی وکامرانی سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔اس حقیقت کا ہر شخص معترف ہے کہ موت کا مزہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے۔دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں فناپذیر ہیں۔یہاں کی تجارت ختم ہو جائے گی،مگر اللہ کے سودےاور اس کے انعامات و احسانات ابدی اور لازوال ہیں۔اس لیےایمانی فراست اور عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم وقتی،سراب آلود اور فنا ہونے والی چیزوں کے پیچھے نہ بھاگیں اور ان نعمتوں کے حصول کی فکر کریں جو دائمی اور لافانی ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ان مواقع کو غنیمت جاننے اور اپنے قلوب واذہان کو ایمان وعمل صالح کی روشنی سے منور کرنے کی توفیق دے اور ہمیں جنت کی دائمی راحتیں نصیب فرمائے۔آمین

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آفر کی دل‌پذیری: دنیوی لذت یا اخروی سعادت؟ - دی فری لانسر | دی فری لانسر