جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کتابی تعلیم کے ساتھ عملی مہارتوں کی اہمیتہندوستانی نظامِ تعلیم اور مدارس کے تناظر میں

تحریر: ڈاکٹر حماد عبدالغفار14 اکتوبر، 20261,483قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کتابی تعلیم کے ساتھ عملی مہارتوں کی اہمیت
فل اسکرین دیکھیں

تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی کا بنیادی ستون ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف کتابی تعلیم ہی کسی فرد کو کامیاب زندگی کے لیے تیار کر سکتی ہے؟ یا محض ڈگری لینے سے روزگار کی ضمانت مل جاتی ہے؟ موجودہ دور میں تعلیم کا مقصد صرف نظری علم تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی مہارتوں کا حصول بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔اس مضمون میں ہندوستانی نظامِ تعلیم خصوصاً مدارس میں ہُنرکی کمی اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔عالمی تحقیقی رپورٹ خصوصاً OECD اور دیگر مطالعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مہارتوں کا فقدان روزگار،آمدنی اور معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔مضمون میں مختلف ممالک کے کامیاب تعلیمی ماڈل کو سرسری لکھ دیاگیا ہے تاکہ قاری تقابل کرسکے۔ہندوستان میں نصابی اصلاحات کی ضرورت پربھی بات کی گئی ہے۔نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم اور ہُنرکا امتزاج ہی پائیدار ترقی اور نوجوانوں کی خود کفالت کا ضامن ہے۔

(۱)تعارف

کتابی تعلیم اور مہارت کا فرق:

کتابی تعلیم سے مراد وہ علم ہے جو نصابی کتابوں سے حاصل کیا جاتا ہےمثلاً طب کے اصول پڑھنا،جبکہ مہارت سے مراد کسی کام کو عملی طور پر انجام دینے کی صلاحیت ہے جیسے مریض کا معائنہ یا تشخیص کرنا۔یہی فرق کسی طالب علم کو “صرف پڑھا لکھا” اور “قابلِ عمل” انسان بناتا ہے۔نظری تعلیم قوی بنیاد فراہم کرتا ہے جو مہارت میں نکھار پیدا کرنے کے لیے ضروری ہےالبتہ محض نظری تعلیم انسان کو باعمل انسان سے زیادہ ایک ناقد بنا دیتی ہے۔

عالمی سطح پر مہارتوں یا ہُنر کی اہمیت

OECD Skills Outlook 2025 کے مطابق؛آمدنی،روزگار اور سماجی ترقی کا دارومدار صرف ڈگری پر نہیں بلکہ مہارتوں پر زیادہ ہےتقریباً 75 %آمدنی کا فرق مہارتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔بہتر مہارت رکھنے والے افراد کو زیادہ روزگار کے مواقع ملتے ہیں،کم مہارت والے افراد کم تنخواہ اور غیر مستحکم ملازمتوں میں پھنس جاتے ہیں۔

OECD کی ایک اور رپورٹ کے مطابق مہارت رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد میں شرح روزگار ۸۳ سے ۹۳ فیصد ہے۔

جدید دنیا میں “Skill-Based Hiring” کا رجحان:

حالیہ تحقیقی مطالعہ کے مطابق AI اور جدید شعبوں میں ڈگری کی اہمیت کم اور Skills کی اہمیت زیادہ ہو رہی ہے۔AI skills رکھنے والوں کو 23 %زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔یہ رجحان واضح کرتا ہے کہ اب دنیا “Degree-Oriented” نہیں بلکہ “Skill-Oriented” ہو رہی ہے۔نیپال میں vocational training پر ایک تحقیق سے معلوم ہواکہ ایسے پروگرام سے روزگار میں10-31% کا اضافہ ہوا ہے۔

(۲(تحقیقی طریقہ کار:

یہ مضمونQualitative + Secondary Data Analysis پر مبنی ہے،جس میں بین الاقوامی رپورٹOECD،IFCتحقیقی مقالات (arXiv studies)ہندوستانی تعلیمی رپورٹ اور اخباری ڈیٹاکا جائزہ لیا گیا ہے۔

(۳)نتائج:

(۱) ہندوستان میں تعلیم اور مہارت کا بحران

(الف) اسکل گیپ (Skill Gap):ہندوستان میں نظامِ تعلیم بڑی حد تک نظری تعلیم پر مبنی ہے۔یہاں 73 %افراد صرف بنیادی تعلیم رکھتے ہیں جس کی وجہ سے نوجوانوں کیemployability صرف 54.8 %ہےیعنی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بےروزگاری کا شکار ہو رہی ہے۔مدارس کی صورت حال مزید تشویشناک ہے جہاں عملی مہارتوں پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔مہارت نہ رکھنے والے نوجوانوں کی تقریباً ۸۸ فیصد تعداد معمولی قسم کی نوکریاں کر رہی ہے۔

مہارت کی کمی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کو سوائے نوکری کے کوئی اور کام یا اسٹارٹ اپ شروع کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوپاتی ہے۔یہ سچ ہے کہ ہندوستان جیسی بڑی آبادی میں ہرانسان کو نوکری دینا سرکار کے لیے تقریباً ناممکن ہےلیکن خوشحال زندگی ہرانسان کا خواب ہے۔معاشرے کی خوشحالی کا انحصار خاص طور سے ان کے ہُنرپر منحصر ہے۔

(ب)اسکولوں میں مہارت کی کمی: صرف 47% اسکول skill-based courses مہیا کرتےہیں جبکہ ان کورسوں میں صرف 29 %طلبہ حصہ لیتے ہیں۔یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہمارےنظام تعلیم میں مہارتوں کو وہ مقام حاصل نہیں جو ہونا چاہیے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کی ضرورتوں اور ہمارے نظامِ تعلیم کے مابین بڑا خلا موجود ہے لیکن ہمارے فرسودہ خیالات اس خلا کو پُر کرنے کے بجائے نظری تعلیم کی اس قدر حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ کتاب نہ رٹنے والے ذہین طلباء کو اچھے تعلیمی اداروں میں داخلہ ہی نہیں مل پاتا ہے۔

(۲)مدارس اور مہارتوں کی کمی

ہندوستان میں مدارس ایک اہم تعلیمی نظام ہیں مگر یہاں زیادہ تر نظری تعلیم ہوتی ہے،عملی مہارتوں کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہےحتیٰ کہ بعض حلقوں میں Skills کومکروہ کی حد تک غیر ضروری سمجھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں فارغینِ مدارس کو روزگار کے محدود مواقع ہی مل پاتےہیں،وہ اکثر صرف تدریس یا امامت تک محدود رہ جاتے ہیں،یہ صورتحال ہنگامی اصلاح کی متقاضی ہے۔خطابت کو اسکل کی فہرست میں شامل بھی کرلیا جائے تو بھی بطورِ روزگار اس کی افادیت کم ہے۔ایک خطیب اکیلےکئی ساری بستیوں میں وعظ دے سکتا ہے پھر وعظ و نصیحت کو روزگار سے زیادہ دین کی خدمت سمجھا جاتا ہے،یہی حقیقت بھی ہے اس لیے مدارس کے نصاب میں skill-based syllabusبھی شامل کرنا ناگریز ہے۔مدارس کے نصاب اور طریقہ تعلیم سے متعلق ہمارا نظریہ وحی الٰہی پر مبنی نہیں ہے جس میں کسی قسم کی تبدیلی شرعاً ممنوع ہو۔ضرورت کے لحاظ سے خود کو تیار کرنا بھی ایک دینی فریضہ ہے۔

(۳) مہارتوں؍ہُنر کی کمی کے نقصانات:

۱۔بے روزگاری اور تعلیم کے باوجود نوکری نہ ملنا

۲۔Underemploymentقابلیت سے کم درجے کی نوکری

۳۔معاشی نقصان اور ملک کی Productivity کم ہونا

۴۔ذہنی دباؤنوجوانوں میں مایوسی اور Frustration

(۴)مہارت پر مبنی تعلیم اور عملی صلاحیت کے فوائد:

(الف) روزگار کے مواقع میں اضافہ،جیسا کہ مذکورہ سطور میں نیپال کی مثال سے ہم سمجھ سکتے ہیں۔

(ب) خود روزگاری یا آزاد پیشہ انسان کوکاروبار شروع کرنے کے قابل بنا دیتی ہیں،اسےنوکری کے انتظار سے آزاد کرتی ہیں۔

(ج) معاشی ترقیSkill-based workforce:معیشت کو مضبوط بناتی ہے اورinnovation کو فروغ دیتی ہے۔مہارت پر مبنی تعلیم کی وجہ سے انسان اپنے آئیڈیا یا خیالات کو کامیاب تجارت میں بدل سکتا ہے۔یہ بات ذی عقل سے مخفی نہیں کہ مہارت پر مبنی تعلیم حاصل کرنے سے فارغینِ مدارس زیادہ آزادی و یکسوئی کے ساتھ خالص لوجہ اللہ دین کی خدمت کرسکتے ہیں۔

(۵)مختلف ممالک میں مہارتوں پر مبنی تعلیم:

۱۔جرمنی میںDual Education System(تعلیم مع apprenticeship)کا نظام ہے طلبہ پڑھائی کے ساتھ کام بھی سیکھتے ہیں۔

۲۔جاپان میںApplied trainingکا نظام ہے یہاں بچوں کو تعلیم و مہارت کے ساتھ ساتھ discipline بھی سکھایا جاتا ہے۔یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ ہم اپنے بچوں کے اخلاقیات کا موازنہ جاپانی بچوں سے نہیں کرسکتے ہیں۔ان کے یہاں روزگار کی شرح 60-62% ہے حتیٰ کہ بعض شعبوں میں نوکری تلاش رہے ہر ۱۰۰ افراد کے لیے ۱۱۹؍ نوکریاں دستیاب ہیں۔

۳۔چین میں Technical focusکا نظام قائم ہے،اس نظامِ تعلیم نے وہاں ایسا صنعتی انقلاب پیدا کیا کہ آج دنیا میں استعمال ہونے والا ہر تیسرا سامان میڈ اِن چائنا ہے۔

(۴)تجاویز:

(۱)داخلہ امتحانات میں اصلاح کی ضرورت

ہندوستان میں داخلہ امتحانات صرف کتابی معلومات پر مبنی ہوتے ہیںcreative اور skillful بچے پیچھے رہ جاتے ہیں۔اگر skillsکو بھی معیار بنایا جائے تو ان طلبہ کو بھی اچھے اداروں میں پڑھنے کا موقع ملے گا اور ادارہ کا ما حصل بھی بہتر رہے گا۔غیر معیاری اور فرسودہ نظامِ داخلہ میں مدارس و اسکول عام طور سے مشترک ہیں۔ہمارے یہاں رٹّو بچوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے،ان ذہین بالفاظِ دیگر رٹّو بچوں کی ایک کثیر تعداد دورانِ تعلیم اچھے نمبر لانے کے باوجود عملی زندگی میں ناکام رہتی ہے گویا کہ ہمارے نظام نے ان بچوں کی ایسی ذہن سازی کردی ہے کہ دورانِ تعلیم اچھے نمبر لانا ہی ان کا اصل مقصد ہے۔

(۲) نصاب میں مہارت پر مبنی تعلیم کو شامل کرنے کی ضرورت

ہمارا نصاب خاص کر مدارس کا نصاب بہت بہتر ہے البتہ وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہےاس لیے تعلیم اور ضرور ت کے درمیان خلا کو پُر کرنے کے لیے درج ذیل skills شامل کرنے کی ضرورت ہے:

کمپیوٹر اسکل

کمیونی کیشن اسکل

انٹرپرینیرشپ

ہیلتھ کیئر پریکٹیکل اسکل

ان کے علاوہ مہارتوں پر مبنی وہ تمام کورس جو مقامی،ملکی یا بین الاقوامی اہمیت رکھتے ہوں۔

(۳)مدارس کے لیے اصلاحی تجاویز

ہم نے ایک نصاب بناکر یہ طے کرلیا ہے کہ مدارس کا مقصد صرف مبلغین پیدا کرنا ہے نہ کہ دنیا دار انسان۔دعاۃ و مبلغ بے شک مدارس کا مرکزی مقصد ہیں لیکن دعوت کے ساتھ ساتھ ہُنر سیکھنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے نہ ہی ہُنر سِکھانے پرمرکزی مقصد سے کسی قسم کا Deviation ہوتا ہے۔یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ غریب داعی کے بنسبت امیر داعی سوسائٹی کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

(۵) NEP 2020 اور مہارتوں کا فروغ

ہندوستان کی نئی تعلیمی پالیسی (NEP 2020) میںvocational education اور skill integration پر زور دیا گیا ہے۔حالانکہ عملاً اس کا نفاذ ابھی محدود ہے لیکن اسے ملک بھر میں نافذ ہوناہے۔اس لیے وقت رہتے اس نئی پالیسی کے مطابق خود کو تیار کرلینا زیادہ عقلمندی ہے۔

(۶)سفارشات

نصاب میں skill subjects شامل کیے جائیں

اسکول و مدارس میں vocational training لازمی ہو

داخلہ امتحانات میں skills کو شامل کیا جائے یا اہمیت دی جائے

اساتذہ کو بھی skill-based training دی جائے

حکومت skill development پر سرمایہ کاری کرے اور Industry-academia collaboration کو بڑھائے۔

(۷)اختتامی کلمات

تعلیم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ انسان کو قابلِ عمل،خود مختار اور مفید شہری بنانا ہے۔جب تک ہم تعلیم کو مہارتوں اور ہُنر سے نہیں جوڑیں گےتب تک ڈگریاں صرف کاغذ کا ٹکڑا رہیں گی۔یہ حقیقت ہے کہ ہنر انسان کو محتاجی سے نجات دیتا ہےجبکہ صرف علم کبھی کبھی اسے بے بس چھوڑ دیتا ہے۔

نوٹ: مضمون کی تیاری میں اے آئی سے (انگلش اردو ترجمہ) میں مدد لی گئی ہے۔

اس مضمون میں نصاب خصوصاً مدارس کے نصاب میں رد و بدل کی سفارش نہیں کی گئی ہے بلکہ کچھ اہم اضافات کی سفارش ہے۔

کچھ اردو اصطلاحات جنھیں سمجھنے میں دشواری ہوسکتی ہے یہاں انگریزی میں بھی لکھ دیے گئے ہیں:

نظری علم (Theoretical Knowledge)

عملی مہارتوں (Practical Skills)

مہارت (Skill)

کتابی تعلیم (Theoretical Education)

آزاد پیشہ (Self-employment)

ما حصل (output)

کمپیوٹر اسکل(Computer skills)

کمیونی کیشن اسکل(Communication skills)

انٹرپرینیرشپ(Entrepreneurship)

ہیلتھ کیئر پریکٹیکل اسکل(Healthcare practical skills)

References:

1. OECD.2025). OECD Skills Outlook 2025: Skills and labour market outcomes. Paris: OECD Publishing.

2. OECD. (2025). Education at a Glance 2025. Paris: OECD Publishing.

3. Ganuthula, V. R. R., & Balaraman, K. K. (2025). Skill-Based Labor Market Polarization.

4. Bone, M., Ehlinger, E., & Stephany, F. (2023). Skills vs Degrees in AI Jobs.

5. Chakravarty, S., et al. (2020). Vocational Training and Youth Employment.

6. Government of India Reports (2024–2025). Skill and Employability Data

7. IFC Report (2024). Workforce Competency Analysis.

8. NCERT PARAKH Survey (2024). Skill Education in Schools.

9. Icnomic Times.

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کتابی تعلیم کے ساتھ عملی مہارتوں کی اہمیت - دی فری لانسر | دی فری لانسر