جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

شِئْتُمْ أَمْ أَبَیْتُمْ

تحریر: دکتور وسیم المحمدی17 اکتوبر، 20262,855قارئین3 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
شِئْتُمْ أَمْ أَبَیْتُمْ
فل اسکرین دیکھیں
🖋️ ادارتی نوٹ

ایک آدمی اپنے آپ کو اہل حدیث کہتا ہے اور سلفیت سے بیر رکھتا ہے،رافضیت کی پرشنسا کرتا ہے،اخوانیت کی بھاشا بولتا ہے،مودودیت کی شبداولی برتتا ہے،عقلانیت کی شیلی اپناتا ہے اور ہر جگہ شیخ کہلاتا ہے۔قصاص (قصہ گویوں) کی طرح اہل حدیث مسجدوں میں اپنی خطابت کے جوہر دکھلاتا ہے اور معتبر عالم دین کی بدعتوں پر گرفت کو اپنے طنز و تعریض کا نشانہ بناتا ہے‌۔پھر بھی وہ سلفی کہلائے جانے پر بضد کیوں رہتا ہے؟

کیوں وہ علماء کے نقد کو نشانہ بناتے ہوئے اس سے کہیں سخت نقد کرتا ہے،پھر بھی اپنی معصومیت کا ڈھول بجاتا ہے؟ ایک ہی عالم یا ایک ہی قسم کے علماء پر نقد کرنے سے کبھی نہیں چوکتا،دوسرے عالم یا دوسری قسم کے علماء پر لب نہیں کھولتا،پھر بھی وہ اپنے انصاف کے دعوے پر اٹھنے والی ہر انگلی کو توڑنے دوڑتا ہے۔

حال یہ ہے کہ بدعتوں کو پروموٹ کرنے والا معاف کردیا جاتا ہے اور اخوانیوں کو اہل سنت میں شامل کرنے والا بخش دیا جاتا ہے۔جب کہ دن رات بدعتوں اور بدعتیوں سے سلفیوں کو آگاہ کرنے والا،اخوانیوں کے فکر و عمل کی کجی بتانے والا کبھی نہیں بچتا،اس کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔یہ کیسی سلفیت ہے؟

سلفیت کیا ہے جب یہ بتایا جاتا ہے،معتبر تاریخی تسلسل کے حوالے پیش کیے جاتے ہیں،اشخاص و افکار ہی نہیں عادات و اطوار کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے یہ بتانے والا ممبئی کا عالم کیوں؟

سید قطب کو 'مالہ و ماعلیہ' کی بحث میں لے جاکر کلین چٹ دینا نری اخوانیت ہے،اس اخوانیت کو کسی بھی درجے میں سنیت سے جوڑنا بدترین سہولت کاری ہے،اس سہولت کاری کا سلفیت سے کوئی تعلق نہیں،پھر بھی سلفیت کے شفاف پانی میں پوں پاں کرنا جاری ہے۔اس حرکت سے آخر کس تحریک کو فائدہ پہنچتا ہے،علم و عقل کے مدعی پر بس اتنی سی بات سمجھنا کیوں بھاری ہے؟

اپنا موقف کیسے پیش کیا جاتا ہے؟ کسی بھی سوال کا جواب کیسے دیا جاتا ہے،جواب دینے میں کیسے الفاظ اور کس طرح کی تعبیریں استعمال کی جاتی ہیں،یہ جاننے کے لیے دکتور وسیم المحمدی کا یہ مختصر مضمون پڑھیے۔

علامہ احمد شاکر،علامہ البانی اور علامہ ابن باز-رحمھم اللہ-سے سیکھیے کہ بدعتیوں کے لیے کس قسم کی شبداولی کا پریوگ کیا جاتا ہے۔(ایڈیٹر)

اخوانیت اپنے وجود سے ایک شر پسند جماعت اور اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار رہی ہے۔انہی کی مدد سے اس کی نشونما ہوئی اور انہی کی پشت پناہی سے یہ تنظیم کھڑی ہوئی۔آج تک اعدائے اسلام سے اس کا ٹھوس تعاون جاری اور اس کے مضبوط تعلقات استوار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ معاصر ائمہ علم کا موقف اس تنظیم کے تئیں واضح،دو ٹوک اور سخت ہے۔

شمس الائمہ علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-(وفات: 1958ء) کا شمار عصر حاضر کے محدثین میں ہوتا ہے۔آپ عربی زبان وادب کے بے نظیر عالم علامہ محمود شاکر-رحمہ اللہ-(وفات: 1997ء) کے بڑے بھائی اور عصر حاضر کے ان علماء میں سے تھے جنھوں نے تعلیم وتعلم،بحث وتحقیق،تصنیف وتالیف،فقہ وقضا ہر میدان میں اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ساٹھ سے زائد کتابوں اور نہایت اہم علمی اسفار کی آپ نے تالیف وتصنیف اور شرح وتحقیق کی ہے۔

تفسیر سے لے کر عربی زبان وادب تک مختلف علوم وفنون کی آپ نے خدمت کی اور اس پیمانے پر کی کہ علمی میدان میں ثقاہت کی ایک علامت بن گئے۔کسی کتاب کے ٹائٹل پر آپ کا نام طالب علم کے لیے ایک طرح کی ضمانت ہوتا ہے۔

بحث وتحقیق کے میدان میں آپ بیسویں صدی کے ان ائمہ میں سے تھے جنھیں اللہ تعالىٰ نے خصوصی توفیق سے نوازا تھا۔بڑے ہی ذکی الحس اور باریک بیں تھے۔نصوص کی ایسی اصلاح کرتے تھے کہ بمشکل درست الفاظ کے اختیار میں آپ سے غلطی ہوتی تھی۔تحقیق نصوص میں یہی ملکہ آپ کے چھوٹے بھائی علامہ محمود شاکر-رحمہ اللہ-(وفات: 1997ء) کے پاس تھا-آپ دیار مصر میں منصب قضا پر بھی فائز ہوئے اور ملک کے اعلى ترین کورٹ میں جج کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں۔

امام شافعی-رحمہ اللہ-کی معروف کتاب "الرسالۃ" اور ان کے شاگرد رشید امام اہل السنۃ احمد بن حنبل-رحمہ اللہ-کے مسند کی آپ نے تحقیق کی۔آپ اصلاً حنفی تھے،مگر متعصب نہیں تھے۔کتاب وسنت کی پابندی اور سلف صالحین کے منہج کا التزام آپ کی خصوصیت تھی۔یہ چیز آپ کی سنت سے محبت کا لازمی نتیجہ تھی۔

الاخوان المسلمون کا بانی حسن البنا بھی مصری تھا۔اس کی پیدائش 1906ء میں ہوئی۔1928ء میں اس نے اپنی معروف فسادی جماعت "الاخوان المسلمون" کی بنیاد ڈالی۔1949ء میں اسے قتل کردیا گیا۔

علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-کی پیدائش 1892ء جبکہ وفات 1958ء میں ہوئی۔آپ نہ صرف حسن البنا سے تقریباً14 سال بڑے تھے بلکہ آپ کی وفات بھی حسن البناکی موت کے تقریباً 9 سال بعد ہوئی۔

حسن البنا کی پوری زندگی آپ کے سامنے تھی۔جس وقت حسن البنا کی پیدائش ہوئی آپ تقریباً 14 سال کے تھے۔جب اس نے الاخوان المسلمون نامی فسادی تنظیم کی بنیاد ڈالی اس وقت آپ تقریباً 36 برس کے تھے۔جب اسے قتل کیا گیا اس وقت آپ کی عمر تقریباً 57 سال تھی۔

علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-کے سامنے حسن البنا کی پوری زندگی کھلی کتاب کی طرح تھی۔آپ ایک حساس دل رکھنے والے ملک کے معروف ترین عالم دین اور اپنے زمانے میں حوادث مصر کے عینی شاہد اور زیرک گواہ تھے۔منصب قضا جیسے حساس پوسٹ پر رہنے کی وجہ سے آپ کو اس جماعت کی سرگرمیوں کا بھی بخوبی علم تھا۔

اس مفسد ومہلک جماعت کو علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-خوارج کی جماعت کہتے تھے۔آپ نے بہت کھل کراس کے بارے میں فرمایا:

"حركةُ الشيخ حسن البنا وإخوانِه المسلمين الذين قلَبوا الدعوة َالإسلاميّةَ إلى دعوةٍ إجراميّةٍ هدّامةٍ،يُنفِق عليها الشُّيوعيون واليهودُ،كما نعلَم ذلك علم َاليقينِ"

(شؤون التعليم والقضاء 1/48)

یعنی: شیخ حسن البنا اور ان کی "الإخوان المسلمون" جنھوں نے اسلامی دعوت کو ایک مجرمانہ اور تخریب کار دعوت میں تبدیل کردیا؛کی تحریک پر اشتراکی اور یہودی پیسہ خرچ کرتے ہیں۔یہ بات ہم یقینی طور سے جانتے ہیں۔

علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-جیسی شخصیت جو علم وعرفان کا پہاڑ ہے۔میدان بحث وتحقیق کا شہسوار ہے۔محدث ہے۔فقیہ ہے۔اعلى ترین محکمہ میں جج ہے۔مصر میں جاری معاصر علمی ودعوتی سرگرمیوں کا چشم دید گواہ ہے،وہ انھیں خوارج کہہ رہا ہے۔انتہائی سنگین انکشاف کر رہا ہے کہ ان پر اشتراکی اور یہودی پیسہ خرچ کرتے اور ان کا مالی تعاون کرتے ہیں۔یہ باتیں وہ نہ صرف جزم کے ساتھ کہہ رہے ہیں بلکہ علم یقین کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔

کیا ایسے شخص کی بات نظر انداز کی جاسکتی ہے؟ اسے جھٹلایا جا سکتا ہے؟ اسے مبالغہ آرائی یا غلط بیانی پر محمول کیا جا سکتا ہے؟

محدث عصر علامہ محمد ناصر الدین البانی-رحمہ اللہ-(وفات: 1999م)کو کون نہیں جانتا؟ آپ تنہا ایک عہد زریں تھے۔ایک تاریخ ساز شخصیت کے مالک تھے۔آپ نے سنت رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی ایسی خدمت کی کہ علامت بن گئے۔احادیث کی صحت وضعف کے باب میں آپ متقدمین ائمہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے۔کسی حدیث کے تئیں جب "صحّحہ الألبانی" کہا جاتاہے تو اس کی صحت پر گویا مہر لگ جاتی ہے۔پڑھنے اور سننے والے کو ایک طرح کا اطمینان ہوجاتا ہے۔آپ سچے معنوں میں ایک مجدد تھے۔احادیث کی چھان پھٹک میں آپ نے ایسی روح پھونکی کہ ائمہ عظام کی روش زندہ ہوگئی۔عصر حاضر میں آپ سے بڑا حدیث کا کوئی عالم اور سنت کا ویسا خادم دور دور تک نظر نہیں آتا۔عالم اسلام کی عظیم یونیورسٹی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں آپ نے تدریسی فرائض انجام دیے۔سنت نبوی کی عظیم خدمات پر آپ کو فیصل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

سنت کے اس عظیم خادم کی رائے بھی اخوانیوں کے بارے میں بہت صریح اور دو ٹوک ہے۔آپ کے نزدیک "الاخوان المسلمون" کو اہل سنت کہنا درست نہیں ہے کیونکہ جو جماعت سنت ہی سے نبرد آزما ہو اسے اہل سنت کیسے کہہ سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا: "لیس صوابا أن یقال: إن الإخوان المسلمین ھم من أہل السنۃ؛لأنہم یحاربون السنۃ"۔(من شریط: فتوى حول جماعۃ التبلیغ والإخوان،من تسجیلات منہاج السنۃ فی الریاض)

اخوانیوں کی سنت سے برگشتگی اور محبین سلف سے ان کی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔مشہور معاصر عالم دین اور سعودی عرب میں اسلامی امور کے سابق وزیر صالح آل الشیخ-حفظہ اللہ-نے بھی بہت وضاحت کے ساتھ اس امر کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے:

"ممّا یُمیّزُ الإخوانَ عَنْ غیرِھم أنّھم لا یحترِمونَ السنۃ،ولا یُحبّونَ أھلَھا۔وإن کانوا فی الجملۃِ لا یُظھرونَ ذلک،لکنّھم فی حقیقۃِ الأمرِ ما یُحبُّونَ السُّنۃ"

(فتاوى العلماء فی الجماعات وأثرھا على بلاد الحرمین،تسجیلات منہاج السنۃ بالریاض)

یعنی: اخوانیوں کو جو چیزیں دوسروں سے الگ کرتی ہیں ان میں سے ایک چیز سنت اور اہل سنت کے تئیں ان کا نامناسب رویہ ہے۔وہ نہ تو سنت کا احترام کرتے ہیں نہ ہی اہل سنت سے محبت کرتے ہیں۔اگرچہ عموماً وہ اس کا اظہار نہیں کرتے ہیں۔تاہم حقیقت یہی ہے کہ وہ سنت رسول-صلى اللہ علیہ وسلم-سے محبت نہیں کرتے ہیں۔

علامہ البانی-رحمہ اللہ-نے اخوانی جماعت کو صرف سنت سے جنگ کرنے والی جماعت کہنے پر اکتفا نہیں کیا ہے،بلکہ مشہور نیم رافضی اخوانی تنظیم "حماس" جس نے فلسطین اور غزہ کی تباہی میں ہمہ جہت کردار ادا کیا ہے،اس کے بارے میں آپ بالکل یقین سے فرماتے ہیں: "ھذہ الحَرَکَۃُ-أیْ: حرکۃُ حماس-لَیْسَتْ إسلامیّۃً،شِئْتُمْ أَمْ أَبَیْتُمْ"

(مأخوذ من بعض دروسہ الصوتیۃ المنشورۃ على الیوتیوب )

یعنی: حماس کی یہ تحریک اسلامی تحریک نہیں ہے۔چاہے آپ مانیں یا نہ مانیں "۔"شئتم أم أبیتم" کہہ کہ جس طرح آپ نے اس امر کی تاکید کی ہے وہ اہل نظر پر مخفی نہیں۔

جب ہم حماس کے کرتوتوں پر نظر ڈالتے اور غزہ سمیت فلسطین کی بربادی میں اس کا چوطرفہ کردار دیکھتے ہیں تو آپ کی بات حرف بحرف درست معلوم ہوتی ہے اور آپ کی بصیرت وفراست پر رشک آتا ہے۔

علامہ عبد العزیز بن عبد اللہ المعروف بابن باز-رحمہ اللہ-(وفات: 1999ء) اس زمانے کے ان علماء میں سے تھے جن کی امامت،علم وفضل،زہد وتقوى،نصح واخلاص،صدق وصفا،سب پر معتبر اہل علم کا اتفاق ہے۔آپ وسطیت کا رمز اور اعتدال کا پیکر تھے۔محدث عصر علامہ البانی-رحمہ اللہ-انھیں اس صدى کا مجدد تو شیخ محمد السبیل اس زمانہ میں اہل سنت کا امام مانتے تھے۔شیخ عبد الرزاق عفیفی کہتے ہیں:" ابن باز-رحمہ اللہ-اپنے علم وعمل اور اخلاق میں قدیم علماء کا بقیہ ہیں۔"

واقعی ابن باز-رحمہ اللہ-کی شخصیت عدیم النظیر تھی۔عالم اسلام کی معروف ومبارک یونیورسٹی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ایک زمانہ تک آپ وائس چانسلر رہے۔طلبہ کے ساتھ حسن تعامل،تعاون اور خیر خواہی کی بابت ان کے واقعات ناقابل یقین ہیں۔زمانہ بعد ایسی شخصیات پیدا ہوتی ہیں۔آپ ایک متفق علیہ شخصیت تھے۔علم کے ساتھ اخلاق کا ایسا پہاڑ تھے کہ اہل علم آپ کی علمی تحقیقات سن کر نیز آپ کا حسن اخلاق اور تواضع وانکساری دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔

آپ نے اس اخوانی جماعت کو ان بہتر(۷۲) فرقوں میں شمار کیا ہے جو ہلاک ہوں گی۔وفات سے محض دو سال قبل طائف میں ایک درس کے دوران آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا تبلیغی جماعت اور "الاخوان المسلمون" ان بہتر فرقوں میں داخل ہیں جو ہلاک ہونے والی ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں وہ ان بہترفرقوں میں داخل ہیں جو ہلاک ہوں گی۔آپ سے دوبارہ بطور تاکید یہی بات پوچھی گئی تو آپ نے پھر تاکید کی یہ انہی بہتر فرقوں میں سے ہیں جو ہلاک ہونے والی ہیں۔(شہر طائف میں دیے گئے دروس پر مشتمل ایک کیسٹ سے ماخوذ)

محدث مصر علامہ احمد شاکر،محدث عصر علامہ البانی اور امام العصر علامہ ابن باز-رحمہم اللہ-یہ تینوں اس زمانہ کے وہ ائمہ علم ہیں جن کی امامت مسلم ہے۔ان کی ثقاہت پر کوئی بھی انصاف پسند ذی علم نہ تو انگلی اٹھا سکتا ہے نہ ہی ان کی بصیرت واخلاص پر سوال کھڑا کر سکتا ہے۔

علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-مصری ہیں۔مصر کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔وقت کے محدث وفقیہ ہیں۔منصب قضا پر براجمان ہیں۔ایک معاصر جماعت کے بارے میں یقین کے ساتھ ایک نہایت اہم اور سنگین بات کہہ رہے ہیں۔اسے یہودیوں اور اشترکیوں کا پروردہ بتا رہے ہیں۔یقینی علم کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔

علامہ البانی-رحمہ اللہ-عظیم محدث ہیں۔سنت سے آپ کی محبت اور احادیث مبارکہ سے آپ کا شغف ضرب المثل ہے۔آپ اس بات کے لیے قطعاً تیار نہیں ہیں کہ اخوانیوں کے لیے اہل سنت جیسا مبارک لقب استعمال کیا جائے اور انھیں اہل السنۃ میں شمار کیا جائے۔وجہ آپ یہ بتاتے ہیں کہ یہ جماعت سنت کی دشمن اور اس سے نبردآزما ہے۔یہی نہیں اخوانیوں کی نیم رافضی جماعت "حماس" کی تحریک کو بھی آپ یہ کہہ کر ایک غیر اسلامی جماعت قرار دیتے ہیں کہ کوئی مانے یا نہ مانے یہی حقیقت ہے۔

امام العصر علامہ ابن باز-رحمہ اللہ-جیسی متفق علیہ شخصیت جس کا تقوى،جس کا علم،جس کا اعتدال،جس کا حسن اخلاق،جس کا تواضع،سب مثالی ہے،وہ بھی اس گمراہ جماعت کو ان بہتر (۷۲)فرقوں میں شمار کرتے ہیں ہلاکت جن کا مقدر ہے۔

اس کے باوجود فکری انحراف کا جو سیلاب سنیوں میں آیا ہے اور برصغیر میں رافضیت کے ساتھ ساتھ جس طرح مودودیت اور تحریکیت نے اپنے پاؤں پسارے ہیں،خرد کا نام جنوں اور جنوں کا نام خرد پڑ گیا ہے۔اخوانیت کو شر وفساد کا منبع سمجھنے کے بجائے اسے خیرکا باعث باور کرانے کی ہمہ جہت کوششیں جاری ہیں۔تضاد وتناقض کا یہ سفر عرب سے عجم تک جاری وساری ہے۔حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تحریکی جراثیم اہل حدیثوں میں بھی سرایت کرتے جا رہے ہیں۔ان کا ایک طبقہ بھی وہی بولی بولنے لگا ہے جو کبھی مودودیوں اور اخوانیوں کی پہچان ہوا کرتی تھی۔

اس جماعت کے شروفساد کو نہ اخوانی قبول کرنے کو تیار ہے،نہ مودودی،نہ تحریکی،نہ تحریکیت سے متاثر دانش ور اور سہولت کار۔اخوانی،مودودی اور تحریکی کا عذر تو واضح ہے،وہ اسی قبیلہ کا ایک فرد ہے۔مگر وہ دانش ور اور سہولت کار جس نے ابھی تک اہل حدیثیت کا چولا نہیں اتارا ہے،ہنوز سلفیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے،اس کے پاس کون سا عذر ہے؟ تحریکیت کا اثر یا اس کا وہ کھوکھلا علم جس پر ڈھٹائی کا مضبوط غلاف چڑھا ہوا ہے؟

آپ کسی اخوانی،مودودی یا تحریکی سے قطعاً یہ نہیں منوا سکتے کہ اخوانی جماعت کوئی شر پسند یا شر انگیز جماعت ہے۔اس کے برعکس اس کے یہاں یہ ایک عظیم جماعت ہے جس نے اسلام اور مسلمانوں کی بڑی خدمت کی ہے۔وہ اس کے شر کو خیر،اس کے فساد کو تعمیر اور اس کے خروج کو انقلاب کا نام دیتا ہے۔وہ رافضی ثورائیت جو خروج کی قبیح ترین شکل ہے اس کی ڈکشنری میں انقلاب کے نام سے جانی جاتی ہے۔اس خروج بنام انقلاب کو ملمع کرکے نوجوانوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔انھیں گمراہ کیا جاتا ہے۔ان کے کاسہ سر میں شر وفساد سے لبریز اس فکر کی چاہت بڑی چالاکی سے انڈیلی جاتی ہے۔ان کے دل ودماغ میں خبث ونفاق میں ڈوبے اس نظریہ کی الفت و محبت بڑی مہارت سے کاشت کی جاتی ہے۔

وہ علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-کی بات بڑی آسانی سے رد کردے گا۔علامہ البانی-رحمہ اللہ-کے موقف کو ٹھوکر مار دے گا۔علامہ ابن باز-رحمہ اللہ-کے فتوى کو درکنار کردے گا؛مگر اس بچھڑے کی محبت سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔

ہمارے دانشوروں اور سہولت کاروں کا وہ طبقہ جو اخوانیوں ہی نہیں رافضیوں کو بھی اسلام کا خیر خواہ سمجھتا ہے وہ بھی ان ائمہ علم-رحمہم اللہ-کی بات سن کر منہ بسور لے گا۔یا تو انھیں یکلخت رد کر دے گا یا ان کی تاویل تلاش کرنے میں لگ جائے گا۔مگر مانے گا نہیں۔بس چلے گا تو ان پر رد بھی کرے گا۔کچھ نہ بن سکے گا تو خاموش ہوکر مناسب موقع کا انتظار کرے گا۔سب کچھ کرے گا مگر یہ تکلف کبھی نہیں کرے گا کہ چلیں ایک لمحہ ٹھہر کر سوچ لیں کہ آخر اس قدر ذی علم،ذمہ دار،حساس مناصب پر براجمان یہ ائمہ علم اخوانیوں کے تئیں کیونکر اتنی سنگین باتیں کہہ رہے ہیں؟ ان بنائیوں اور قطبیوں کے تئیں ان کا موقف اس قدر سخت کیوں ہے؟

چاہے وہ عالم عرب کا اخوانی ہو یا برصغیر کامودودی وتحریکی یا پھر کوئی دانش ور اور سہولت کار،بھلا کس چیز میں وہ ان ائمہ علم-رحمہم اللہ-سے برتر ہے؟ اخلاص وللہیت میں؟ نصح ووفا میں؟ علم وعمل میں؟ فکر وفہم میں؟ زہد وتقوى میں؟ فراست وبصیرت میں؟ صفاء نفس ونقاء ذہن میں؟طہارت جسد وتزکیہ نفس میں؟ یا اسلام اورمسلمانوں کے تئیں ہمدردی وخیر خواہی میں؟ پھر کون سی چیز ان ائمہ عظام کے موقف کو قبول کرنے میں مانع ہوجاتی ہے؟ کون سا روڑا اس کی راہ راست کا پتھر بن جاتا ہے؟ جہالت؟ ہوائے نفس؟ عناد؟ عقلانیت؟کبر وغرور؟ تعالم وتکبر یا پھر منہج سلف سے نفرت وعداوت اور سلفیت سے محاذ آرائی کا نہ چھٹنے والا چسکا؟

حالانکہ اگر وہ ان ائمہ علم-رحمہم اللہ-کی باتوں پر غور کرلے،ان کو اچھے سےسمجھ لے،تو-ان شاء اللہ-اخوانیوں کا سارا شر وفساد اور مکروفریب اس کی سمجھ میں آجائے گا۔پھر نہ اسے نیم رافضی اخوانی تحریک "حماس" کا مسئلہ اس قدر پیچیدہ لگے گا نہ ہی تحریکی خارجیت کا۔نہ اسےفلسطین کا قضیہ اتنا مبہم لگے گا نہ ہی غزہ کے مسائل سمجھنے میں کوئی پریشانی ہوگی اور نہ ہی-ان شاء اللہ العزیز-اسے مشرق وسطى میں پھیلے رافضی فتنہ وفساد اور قتل وغارت گری کی تہہ تک پہنچنے میں کوئی دشواری ہوگی۔

تاہم تحریکی کی طرح دانش ور کے لیے بھی اس طرح کی باتوں کو قبول کرلینا آسان نہیں ہوتا۔ایک سبب تو اس کا یہ ہے کہ اس کے یہاں اہل علم کا وہ احترام ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان کے مواقف کو اپنی عقلانیت پر ترجیح دے۔اس کے یہاں معتبر سے معتبرعلماء کا بھی وہ مقام نہیں ہوتا کہ ان کی باتیں سن کر اپنے دل ودماغ میں بیٹھی کوئی فرسودہ فکر تبدیل کرلے۔عقلانیت کے پردہ میں چھپا زعم وغرور اور تعقل کی دبیز چادر میں لپٹا تکبر اسے کبھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔

ہاں موقف من موافق ہو تو انہی اہل علم کی بات سے نہ صرف مکمل اتفاق واطمینان ہوجاتا ہے بلکہ زیر بحث مسئلہ میں وہ بات اس کی گفتگو کا عنوان بن جاتی ہے۔ایسا نہ ہو تو آپ پڑھتے اور سنتے چلے جائیں،نہ آیات واحادیث کا گزر،نہ سلف صالحین اورمنہج سلف سے واسطہ۔پوری گفتگو اور پورا مباحثہ زعم وغرور کا پرتو،عقلانیت کا عکس قبیح،قیل وقال کا نمونہ،ادعا ءبنام تجزیہ کا نموذج اور تداعی وتعالم کا عدیل نظر آئے گا۔

اسی لیے کہتے ہیں کہ تحریکی کی طرح دانش ور بھی ہر مسئلہ کو صاحب مسئلہ سے زیادہ جانتا ہے۔وہ غزہ کو اہل غزہ سے،فلسطین کو فلسطینیوں سے،عراق کو عراقیوں سے،لبنان کو لبنانیوں سے،شام کو شامیوں سے،یمن کو یمنیوں سے اور عرب کو عربوں سے زیادہ جانتا ہے۔وہ مشرق وسطى کے حالات اور عربوں کے جملہ مسائل کو چشم دید گواہوں سے بھی زیادہ پرکھتا اورسمجھتا ہے۔کیونکہ وہ دانش ور ہے۔یہی اس کے لیے کافی ہے۔

دوسری مشکل یہ ہے کہ اگر وہ یہ بات تسلیم کرے کہ اخوانی جماعت ایک مہلک اور فسادی جماعت ہے تواس کے صنم کدے میں موجود اکثر نظریاتی بت منہ کے بل گر جائیں گے۔اس کے فکری کاروبار کی تجارتی عمارتیں زمیں بوس ہو جائیں گی۔پھر نہ وہ "حماس" جیسی نیم رافضی جماعت کی حمایت کرپائے گا،نہ ہی تحریکیت کے برگ وبار کو سیراب،اور نہ ہی اس کے زقّومی افکار ونظریات کا دفاع۔

تیسری اور سب سے اہم چیز حسن توفیق ہے جو صراط مستقیم کی حصولیابی کے لیے سب سے ضروری ہے۔اگر توفیق الہی نہ ہو تو سورج بھی آنکھوں کو روشنی فراہم کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے۔نور بصیرت ماند پڑ جاتی ہے۔بصارت کی حدت کمزور ہوجاتی ہے۔پھر سورج کی وہی کرنیں جو روشنی کا انتظام کرتی اور بینائی کو رسد پہنچاتی ہیں؛آنکھوں میں چبھنے لگتی ہیں۔وہی ماء زلال جو دل ودماغ کو تازگی بخشتا اور جسم وجان کو توانائی عطا کرتا ہے؛منہ کو کڑوا لگنے لگتا ہے۔

اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فہم وبصیرت عطا کرے۔حق کی معرفت اور حقیقت کا ادراک دے۔سچائی کو جاننے،سمجھنے اور اسے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (3)

ل
لقمان احمد مشتاق احمد
19 اکتوبر، 2026
مضمون بہت ہی دلچسپ اور مفید ہے، ان جیسے مضامین کو خطبہ جمعہ میں بھی بیان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام بھی مستفید ہو ں
ش
شميم أختر أنيس الرحمن ، طالب دكتوراه، قسم العقيدة، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
18 اکتوبر، 2026
ما شاء اللہ! اسے کہتے ہیں پوسٹ مارٹم کرنا۔ فساد کی جڑ تک پہنچنے کے لیے نہایت ہی مختصر اور دو ٹوک انداز میں اخوانیت کے سینے کو چیر کر اس کے گندے کلیجے اور پھیپھڑے کو نکال کر، اس کے اندر ہونے والے فسادکو بڑے واضح انداز میں دکھایا ہے۔ اس کامیاب آپریشن پر ڈاکٹر وسیم محمدی حفظہ اللہ کو بہت بہت مبارک باد۔
ش
شمس الہدی سنابلی
18 اکتوبر، 2026
ماشاءاللہ بارک اللہ فیکم جزاکم اللہ خیرا

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

شِئْتُمْ أَمْ أَبَیْتُمْ - دی فری لانسر | دی فری لانسر