۷؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز بدھ بوقت شام یہ خبر بذریعہ سوشل میڈیا نشر ہوئی کہ مولانا سعید الرحمن اعظمی دارِ فانی سے دارِ بقا کو کوچ کر گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ۔موصوف عمر کی دسویں دہائی میں داخل ہو چکے تھے۔ضعف و نقاہت کا غلبہ تھا۔رحلت کا سانحہ غیر متوقع نہیں تھا،
راقم کا موصوف سے نہ تو شاگردی کا رشتہ ہے نہ ہی آپ سے قبائلی یا خاندانی تعلق ہے۔البتہ آپ کا ہم وطن ہے۔اور آپ کے علمی مقام و مرتبے،
مولانا موصوف مشرقی یوپی کے مشہور ’’شہر ہنروراں‘‘ مئو ناتھ بھنجن کے محلہ اورنگ آباد سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے والد مولانا محمد ایوب اعظمی بھی ایک نامور عالم دین تھے۔دیوبندی مکتب فکر سے اس گھرانے کا تعلق ہے۔آپ کے کئی بھائی علم و ادب سے وابستہ رہے اور علم اور دین کی خدمت کرتے رہے۔
باشندگان مئو کے اعظم گڑھ کی طرف نسبت کر کے اپنے آپ کو ''اعظمی'' لکھنے پر بعض لوگ حیرت و استعجاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔اس تعلق سے بار بار وضاحت کی جاتی ہے کہ شہر مئو ۱۹۸۸ء میں ضلع بننے سے پہلے اعظم گڑھ ضلع کے تابع تھا جس کی بنا پر لوگ اعظمی کا لاحقہ لگاتے تھے۔علاقے کے کبار علما اس نسبت سے شہرت رکھتے ہیں،
مولانا سعید الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کے ساتھ یادگار ملاقاتوں میں غالباً پہلی ملاقات ۲۰۰۶ء یا ۲۰۰۷ء میں جامعہ رحمانیہ تحفیظ القرآن کاندیولی ممبئی کی جانب سے منعقد ایک دعوتی اجلاس میں ہوئی۔اس اجلاس میں مولانا سعید الرحمن اعظمی،
۲۰۱۰ء میں ’’مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ(متوفی ۲۰۰۷ء) حیات و خدمات‘‘ کے موضوع پر جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں میں ایک سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں مولانا سعید الرحمن صاحب نے بھی شرکت فرمائی۔پروگرام کے بیچ ایک مرتبہ کچھ دیر آپ کے ساتھ بیٹھنے کا اور استفادہ کا موقع ملا۔آپ نے بڑی شفقت فرمائی اور دعاؤں سے نوازا۔اس سے چھ سات ماہ قبل اکتوبر ۲۰۰۹ء میں ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال واقع ہوا تھا جس کے بعد جامعہ سلفیہ سے نکلنے والے عربی ماہ نامہ ’’صوت الامۃ‘‘کی ادارت کی ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر ڈال دی گئی تھی۔اعظمی صاحب کے پاس بھی مجلہ پہنچتا تھا۔اس کے تعلق سے بھی بات ہوئی۔اس وقت آپ سے ہوئی گفتگو کو میں نے ایک کاغذ پر نقاط کی شکل میں مختصراً نوٹ کر لیا تھا۔اللہ کا شکر ہے کہ آج کاغذات کے انبار میں معمولی جدوجہد کے بعد وہ کاغذ ہاتھ لگ گیا۔اس کاغذ کی مدد سے یہاں کچھ باتیں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔
آپ کی تواضع اور خردنوازی کا عالم دیکھیے کہ خیر خیریت کے بعد آپ نے خود صوت الامہ کا ذکر خیر کیا اور کہا کہ ’’میں آپ سے ملنا چاہتا تھا،
حالاں کہ یہ محض آپ کی شفقت تھی اور حوصلہ افزائی کا ایک انداز تھا،
میں نے افتتاحیہ سے متعلق درپیش اشکالات آپ کے سامنے رکھے،
مدارس میں عربی زبان میں درس و تدریس سے متعلق استفسار پر آپ نے فرمایا کہ اگر اساتذہ از خود اقدام کریں تو ہو سکتا ہے،
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کا دیر تک ذکر خیر کرتے رہے،
البعث الاسلامی میں آپ کی مختصر تحریر جنوری-فروری ۲۰۱۰ء مطابق محرم-صفر ۱۴۳۱ھ کے شمارے میں ص: ۹۷-۹۸پر شائع ہوئی ہے،
اس ملاقات میں آپ نے والد محترم مولانا محمد اعظمی رحمہ اللہ کا ذکر خیر بھی کیا اور آپ کے احوال دریافت کیے اور حکم دیا کہ والد صاحب کو میرا سلام عرض کریں۔دعا میں یاد رکھنے کے لیے بھی کہا۔رحمہ اللہ
کانفرنس میں مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ کے تعلق سے اپنے خطاب میں آپ نے فرمایا کہ جب مولانا ندوے میں پڑھتے تھے تو میں ندوے میں نہیں تھا۔میں۱۹۵۲ء میں وہاں گیا اور ۱۹۵۴ء میں میری فراغت ہے۔البتہ بعدمیں آپ کا بہت ساتھ رہا۔ہمہ جہت شخصیت تھے۔اللہ نے انتخاب کیا تھا۔تن تنہا اتنا بڑا کام کیا جو بڑی بڑی جماعتیں نہیں کر سکتی تھیں۔خاص طور سے الدار السلفیہ تو بہت بڑا کارنامہ ہے۔
آپ نے اپنے خطاب میں مولانا مختار رحمہ اللہ کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ مشہور عربی شعر پڑھا:
فما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
ولکنہ بنیان قوم تہدما
آپ نے ’’ہلکہ‘‘ کو جب بضم الہاء پڑھا تو میں چونک گیا،
۲۰۱۵ء میں عید الفطر کے موقع پر وطنِ عزیز مئو ناتھ بھنجن کے کچھ سیاسی و سماجی رہنماؤں نے تہوار کی مناسبت سے شہر کے علما و اعیان کا ایک مشاورتی اجتماع منعقد کیا جس میں دونوں جماعتوں—اہلِ حدیث و احناف دیوبند—کے چنندہ علما کو مدعو کیا گیا۔منتظمین نے حلقۂ دیوبند کی نمائندگی کے لیے مولانا سعید اعظمی رحمہ اللہ اور اہلِ حدیث کی نمائندگی کے لیے اس گنہگار کا انتخاب کر کے مہمانِ خصوصی کا درجہ دیا۔اس موقع پر بھی مولانا کی شفقتوں اور دعاؤں سے مستفیض ہونے کا موقع نصیب ہوا۔وللہ الحمد۔
۱۹۹۷ء یا ۱۹۹۸ء کی بات ہوگی،
راقم کی تیار کردہ عربی کتاب ’’الشیخ عبیداللہ الرحمانی المبارکفوری: حیاتہ وأعمالہ‘‘ شائع ہوئی تو ایک نسخہ آپ کی خدمت میں بھی ارسال کیا۔کچھ دنوں کے بعد میرے کسی عزیز نے خبر دی کہ آپ کی کتاب کا اشتہار البعث الاسلامی کے عقبی سرورق پر شائع ہوا ہے۔میں نے جامعہ کی لائبریری میں جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ جون ۲۰۲۱ء کے شمارے میں آخری بیرونی صفحے پر ’’إصدارات حدیثۃ‘‘ کے عنوان سے آدھے آدھے صفحے میں جلی حروف میں دو کتابوں کا اشتہار ہے۔ذرہ نوازی یہاں تک فرمائی کہ راقم کی کتاب کو نمبر (۱) پر رکھا۔
کبار علمائے اہل حدیث کی وفات پر آپ البعث الاسلامی کے ’’وفیات‘‘ کے کالم میں وفات کی خبر کے ساتھ مختصر تعارف لکھا کرتے تھے،
ندوہ کی مسجد میں ایک دو بار آپ کا خطبہ سننے کا موقع ملا۔سر پر عمامہ باندھ کر آپ پورے وقار اور تمکنت کے ساتھ منبر پر تشریف لاتے اور برجستہ پورا خطبہ عربی زبان میں دیتے۔تحریر ہی کی طرح آپ کی تقریر بھی ادب و بلاغت کی چاشنی میں ڈوبی ہوئی اور سامعین جو کہ تقریباً کل کے کل طلبہ اور علماء ہوتے تھے ان کے مناسب حال ہوتی۔
مولانا موصوف کی رحلت کی خبر نے ذہن میں محفوظ ان یادوں کو تازہ کر دیا تھا اس لیے انھیں حوالہ قرطاس کر کے آپ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ موقع ملا۔اللہ تعالیٰ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے،
۱۰؍۱۰؍۲۰۲۶ء






