جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مولانا سعید الرحمن اعظمی — کچھ یادیں، کچھ ملاقاتیں

تحریر: شیخ اسعد اعظمی10 اکتوبر، 20262,081قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مولانا سعید الرحمن اعظمی — کچھ یادیں، کچھ ملاقاتیں
فل اسکرین دیکھیں

۷؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز بدھ بوقت شام یہ خبر بذریعہ سوشل میڈیا نشر ہوئی کہ مولانا سعید الرحمن اعظمی دارِ فانی سے دارِ بقا کو کوچ کر گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ۔موصوف عمر کی دسویں دہائی میں داخل ہو چکے تھے۔ضعف و نقاہت کا غلبہ تھا۔رحلت کا سانحہ غیر متوقع نہیں تھا،پھر بھی انتقال کی خبر ذہن و دماغ کو جھنجھوڑ گئی۔

راقم کا موصوف سے نہ تو شاگردی کا رشتہ ہے نہ ہی آپ سے قبائلی یا خاندانی تعلق ہے۔البتہ آپ کا ہم وطن ہے۔اور آپ کے علمی مقام و مرتبے،تواضع و سادگی،بے نفسی و دیگر بہت سارے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے دل آپ کی عزت و احترام کے جذبے سے معمور رہتا تھا۔چند یادگار ملاقاتیں تھیں،آپ کے ساتھ متعدد بار علمی پروگراموں میں ساتھ میں اٹھنے بیٹھنے کا موقع حاصل ہوا،اور بھی کچھ یادیں تھیں جو انتقال کی خبر سن کر ذہن کے پردے پر گھوم گئیں۔اس لیے ان ملاقاتوں،ان یادوں اور ان مناسبتوں کو حوالہ قرطاس کرنا مناسب معلوم ہوا کہ۔۔۔۔۔۔پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے۔

مولانا موصوف مشرقی یوپی کے مشہور ’’شہر ہنروراں‘‘ مئو ناتھ بھنجن کے محلہ اورنگ آباد سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے والد مولانا محمد ایوب اعظمی بھی ایک نامور عالم دین تھے۔دیوبندی مکتب فکر سے اس گھرانے کا تعلق ہے۔آپ کے کئی بھائی علم و ادب سے وابستہ رہے اور علم اور دین کی خدمت کرتے رہے۔

باشندگان مئو کے اعظم گڑھ کی طرف نسبت کر کے اپنے آپ کو ''اعظمی'' لکھنے پر بعض لوگ حیرت و استعجاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔اس تعلق سے بار بار وضاحت کی جاتی ہے کہ شہر مئو ۱۹۸۸ء میں ضلع بننے سے پہلے اعظم گڑھ ضلع کے تابع تھا جس کی بنا پر لوگ اعظمی کا لاحقہ لگاتے تھے۔علاقے کے کبار علما اس نسبت سے شہرت رکھتے ہیں،مثلاً مولانا محمد اعظمی،مولانا حبیب الرحمن اعظمی،مولانا ڈاکٹر مصطفی اعظمی وغیرہم رحمہم اللہ۔جامعہ دارالسلام عمرآباد میں اعظمی اسلاف و اخلاف کا بھی یہی معاملہ ہے۔مئو کے مستقل ضلع بن جانے کے بعد اعظم گڑھ کی طرف نسبت کرنے کا معاملہ ختم ہو گیا۔راقم کے نام میں بھی ’’اعظمی‘‘ کا لاحقہ لگے ہونے کی وجہ سے وقتاً فوقتاً سوال کیا جاتا رہتا ہے۔

مولانا سعید الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کے ساتھ یادگار ملاقاتوں میں غالباً پہلی ملاقات ۲۰۰۶ء یا ۲۰۰۷ء میں جامعہ رحمانیہ تحفیظ القرآن کاندیولی ممبئی کی جانب سے منعقد ایک دعوتی اجلاس میں ہوئی۔اس اجلاس میں مولانا سعید الرحمن اعظمی،مولانا انیس الرحمن اعظمی عمری اور کچھ دیگر علما و دعاۃ شریک تھے۔اس موقع پر جماعت کے کسی عالم نے کہا تھا کہ تین اعظمی اکٹھا ہو گئے ہیں۔مجھے یاد آ رہا ہے کہ شیخ انیس الرحمن اعظمی حفظہ اللہ کی تقریر کے بعد رات کو کھانے کی میز پر جب ہم لوگ جمع ہوئے تو مولانا سعید الرحمن رحمہ اللہ نے شیخ انیس الرحمن صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کی تقریر نے دل پر بڑا اثر ڈالا۔

۲۰۱۰ء میں ’’مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ(متوفی ۲۰۰۷ء) حیات و خدمات‘‘ کے موضوع پر جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں میں ایک سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں مولانا سعید الرحمن صاحب نے بھی شرکت فرمائی۔پروگرام کے بیچ ایک مرتبہ کچھ دیر آپ کے ساتھ بیٹھنے کا اور استفادہ کا موقع ملا۔آپ نے بڑی شفقت فرمائی اور دعاؤں سے نوازا۔اس سے چھ سات ماہ قبل اکتوبر ۲۰۰۹ء میں ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال واقع ہوا تھا جس کے بعد جامعہ سلفیہ سے نکلنے والے عربی ماہ نامہ ’’صوت الامۃ‘‘کی ادارت کی ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر ڈال دی گئی تھی۔اعظمی صاحب کے پاس بھی مجلہ پہنچتا تھا۔اس کے تعلق سے بھی بات ہوئی۔اس وقت آپ سے ہوئی گفتگو کو میں نے ایک کاغذ پر نقاط کی شکل میں مختصراً نوٹ کر لیا تھا۔اللہ کا شکر ہے کہ آج کاغذات کے انبار میں معمولی جدوجہد کے بعد وہ کاغذ ہاتھ لگ گیا۔اس کاغذ کی مدد سے یہاں کچھ باتیں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

آپ کی تواضع اور خردنوازی کا عالم دیکھیے کہ خیر خیریت کے بعد آپ نے خود صوت الامہ کا ذکر خیر کیا اور کہا کہ ’’میں آپ سے ملنا چاہتا تھا،آپ کا پرچہ بہت اچھا نکل رہا ہے،آپ کا افتتاحیہ بہت اچھا رہتا ہے،زبان و اسلوب بہتر ہے۔‘‘

حالاں کہ یہ محض آپ کی شفقت تھی اور حوصلہ افزائی کا ایک انداز تھا،ورنہ کہاں میں اس میدان خاردار کا نووارد مسافر اور کہاں آپ ایک ماہر تجربہ کار صحافی،ادیب اور انشا پرداز۔میری کمیاں اور کوتاہیاں سب آپ کی نظروں میں رہی ہوں گی،آپ ایک آزمودہ کار ایڈیٹر ہونے کی حیثیت سے ساری نزاکتوں اور باریِکیوں سے باخبر تھے،لیکن تشجیعی کلمات سے آپ نے ایک طفل مکتب کا دل رکھ دیا اور اس کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔

میں نے افتتاحیہ سے متعلق درپیش اشکالات آپ کے سامنے رکھے،خاص کر موضوع کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ معاصر مسائل پر لکھیں اور ساتھ ہی دینی رہنمائی بھی ضروری ہے۔یہ بھی کہا کہ لکھتے لکھتے آپ کو خود اندازہ ہوجائے گا اور موضوع کے انتخاب میں کوئی دقت نہ ہوگی۔

مدارس میں عربی زبان میں درس و تدریس سے متعلق استفسار پر آپ نے فرمایا کہ اگر اساتذہ از خود اقدام کریں تو ہو سکتا ہے،ادارے شاید کچھ نہ کرسکیں۔خاکسار کا اس میدان کا تیس سالہ تجربہ بھی یہی کہتا ہے۔

ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کا دیر تک ذکر خیر کرتے رہے،اور فرمایا کہ ’’میں ڈاکٹر صاحب پر ایک مضمون لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ایک مختصر تحریر ’’البعث الاسلامی‘‘میں آچکی ہے۔‘‘

البعث الاسلامی میں آپ کی مختصر تحریر جنوری-فروری ۲۰۱۰ء مطابق محرم-صفر ۱۴۳۱ھ کے شمارے میں ص: ۹۷-۹۸پر شائع ہوئی ہے،اور وعدے کے مطابق ازہری صاحب پر آپ نے اپنا مضمون تحریر فرمایا جو سہ ماہی مجلہ ’’افکارِ عالیہ‘‘ مئو کے ازہری نمبر (اپریل ۲۰۱۲ء تا جون ۲۰۱۳ء) میں شائع ہوا ہے۔

اس ملاقات میں آپ نے والد محترم مولانا محمد اعظمی رحمہ اللہ کا ذکر خیر بھی کیا اور آپ کے احوال دریافت کیے اور حکم دیا کہ والد صاحب کو میرا سلام عرض کریں۔دعا میں یاد رکھنے کے لیے بھی کہا۔رحمہ اللہ

کانفرنس میں مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ کے تعلق سے اپنے خطاب میں آپ نے فرمایا کہ جب مولانا ندوے میں پڑھتے تھے تو میں ندوے میں نہیں تھا۔میں۱۹۵۲ء میں وہاں گیا اور ۱۹۵۴ء میں میری فراغت ہے۔البتہ بعدمیں آپ کا بہت ساتھ رہا۔ہمہ جہت شخصیت تھے۔اللہ نے انتخاب کیا تھا۔تن تنہا اتنا بڑا کام کیا جو بڑی بڑی جماعتیں نہیں کر سکتی تھیں۔خاص طور سے الدار السلفیہ تو بہت بڑا کارنامہ ہے۔

آپ نے اپنے خطاب میں مولانا مختار رحمہ اللہ کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ مشہور عربی شعر پڑھا:

فما کان قیس ہلکہ ہلک واحد

ولکنہ بنیان قوم تہدما

آپ نے ’’ہلکہ‘‘ کو جب بضم الہاء پڑھا تو میں چونک گیا،کیوں کہ میرے ذہن میں اس کا تلفظ کچھ اور تھا جس کی اس موقع پر تصحیح ہوئی۔اللہ نے پردہ پوشی کی تھی،اس وقت تک کسی مقام و مجلس میں اس شعر کو پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا اور رسوائی سے بچا تھا۔

۲۰۱۵ء میں عید الفطر کے موقع پر وطنِ عزیز مئو ناتھ بھنجن کے کچھ سیاسی و سماجی رہنماؤں نے تہوار کی مناسبت سے شہر کے علما و اعیان کا ایک مشاورتی اجتماع منعقد کیا جس میں دونوں جماعتوں—اہلِ حدیث و احناف دیوبند—کے چنندہ علما کو مدعو کیا گیا۔منتظمین نے حلقۂ دیوبند کی نمائندگی کے لیے مولانا سعید اعظمی رحمہ اللہ اور اہلِ حدیث کی نمائندگی کے لیے اس گنہگار کا انتخاب کر کے مہمانِ خصوصی کا درجہ دیا۔اس موقع پر بھی مولانا کی شفقتوں اور دعاؤں سے مستفیض ہونے کا موقع نصیب ہوا۔وللہ الحمد۔

۱۹۹۷ء یا ۱۹۹۸ء کی بات ہوگی،میں لکھنؤ یونیورسٹی میں ایم اے کا سالانہ امتحان دینے گیا۔جانے سے پہلے ہمارے شہر کے مشہور شاعر و ادیب جناب فضا ابن فیضی رحمہ اللہ (جو رشتے میں میرے پھوپھا ہوتے ہیں) کو جب خبر ملی تو میری کسی تحریک یا مطالبے کے بغیر آپ نے مولانا سعید اعظمی رحمہ اللہ کے نام ایک خط لکھ کر میرے حوالے کیا۔اس خط میں آپ نے مولانا سے سفارش کی تھی کہ مجھے ندوہ کے مہمان خانے میں قیام کی اجازت دی جائے۔ندوہ پہنچ کر آپ کے آفس میں ملاقات کے لیے گیا تو آپ نے ملازم کے ذریعے ضیافت کا انتظام کرایا،اور کچھ انتظامی مجبوریوں کی وجہ سے جو کہ معقول تھیں قیام کی اجازت سے معذرت فرمائی۔آپ بار بار فضا صاحب کے خط کی طرف دیکھتے اور افسوس بلکہ شرمندگی کا اظہار کرتے کہ رکاوٹ کی وجہ سے تعمیل نہیں کر سکتا۔

راقم کی تیار کردہ عربی کتاب ’’الشیخ عبیداللہ الرحمانی المبارکفوری: حیاتہ وأعمالہ‘‘ شائع ہوئی تو ایک نسخہ آپ کی خدمت میں بھی ارسال کیا۔کچھ دنوں کے بعد میرے کسی عزیز نے خبر دی کہ آپ کی کتاب کا اشتہار البعث الاسلامی کے عقبی سرورق پر شائع ہوا ہے۔میں نے جامعہ کی لائبریری میں جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ جون ۲۰۲۱ء کے شمارے میں آخری بیرونی صفحے پر ’’إصدارات حدیثۃ‘‘ کے عنوان سے آدھے آدھے صفحے میں جلی حروف میں دو کتابوں کا اشتہار ہے۔ذرہ نوازی یہاں تک فرمائی کہ راقم کی کتاب کو نمبر (۱) پر رکھا۔

کبار علمائے اہل حدیث کی وفات پر آپ البعث الاسلامی کے ’’وفیات‘‘ کے کالم میں وفات کی خبر کے ساتھ مختصر تعارف لکھا کرتے تھے،کبھی کبھی تفصیل سے بھی لکھتے تھے۔عرصہ پہلے ایک بار اپنے ایک شاگرد سے میں نے ان تحریروں کوجمع بھی کرایا تھا جو مکمل نہ ہوسکا۔شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ رحمانی،مولانا عبد الرؤوف جھنڈانگری،ڈاکٹر رضاء اللہ مبارکپوری،ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری،مولانا صفی الرحمن مبارکپوری،ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی،مولانا عبد الوحید سلفی وغیرہم رحمہم اللہ پر آپ نے مختصر اور جامع لکھا ہے اور اپنے ادیبانہ اسلوب میں انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔متعدد علمائے اہل حدیث پر آپ کے اردو میں خصوصی ومطول مضامین بھی موجود ہیں۔

ندوہ کی مسجد میں ایک دو بار آپ کا خطبہ سننے کا موقع ملا۔سر پر عمامہ باندھ کر آپ پورے وقار اور تمکنت کے ساتھ منبر پر تشریف لاتے اور برجستہ پورا خطبہ عربی زبان میں دیتے۔تحریر ہی کی طرح آپ کی تقریر بھی ادب و بلاغت کی چاشنی میں ڈوبی ہوئی اور سامعین جو کہ تقریباً کل کے کل طلبہ اور علماء ہوتے تھے ان کے مناسب حال ہوتی۔

مولانا موصوف کی رحلت کی خبر نے ذہن میں محفوظ ان یادوں کو تازہ کر دیا تھا اس لیے انھیں حوالہ قرطاس کر کے آپ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ موقع ملا۔اللہ تعالیٰ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے،آپ کی بشری لغزشوں کو درگزر فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔آمین

۱۰؍۱۰؍۲۰۲۶ء

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مولانا سعید الرحمن اعظمی — کچھ یادیں، کچھ ملاقاتیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر