گو دل تقسیم نہیں ہوئے،
گلشن میں کہیں بوے دمساز نہیں آتی
اللہ رے سناٹا——-آواز نہیں آتی
اللہ بھلا کرے مجلہ "الاعتصام " والوں کا کہ جنہوں نے ہندستان کے بھائیوں سے ربط قائم رکھا،
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
سوشل میڈیا،
خوشی غمی کی خبر معلوم ہونے لگی ... ورنہ تو کبھی کبھی لگتا تھا کہ بھائی ہم سے بہت ناراض ہو گئے ہیں،
آج اس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لیے
آج میں رویا تو میرے ساتھ وہ رویا نہ تھا
کل رشید ودود کی وال سے خبر نشر ہوئی کہ شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ بنارس
"مولانا عبدالسلام مدنی رحمہ اللہ ہو گئے"
آج صبح تڑکے برادر ہلال احمد کا نشر کردہ مضمون پڑھا،
مولانا عبدالسلام مدنی جامعہ رحمانیہ کے آخری طلبا میں سے تھے-یہ جامعہ رحمانیہ بنارس میں ہے اور دلی کے مرحوم جامعہ رحمانیہ سے قدیم ہے-جب دلی کا جامعہ رحمانیہ تقسیم کے سبب ختم ہو گیا تو مولانا نذیر احمد املوی اسی جامعہ میں آ گئے-
دلی کا جامعہ رحمانیہ وہی ہے جو ہماری جماعت کے اکابرین نے بہت محنت سے قائم کیا تھا،
مانند حرم پاک ہے تو میری نظر میں
لیکن اس بے کلی کا یہاں بھلا کیا علاج،
غرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے و لیکن
تسکین مسافر نہ سفر میں نہ حضر میں
دیکھا بھی دکھایا بھی،
ہے دل کی تسلی نہ نظر میں،
..... آپ مدینہ یونیورسٹی سے ساٹھ کی دہائی کے اخیر میں فارغ ہو کر آئے تھے-فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ آپ مولانا ان ابتدائی چار طلبہ میں سے تھے جن کا جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ ہوا،
مولانا عبدالسلام مدنی جب مدینہ یونورسٹی سے فارغ ہو کر آئے تو آ کے جامعہ سلفیہ میں تدریس شروع کر دی-اور پھر
حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے،
اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے
حضرت مولانا نے پھر پلٹ کے نہیں دیکھا اور چالیس برس اسی جامعہ میں گزار دیے-میں پڑھ رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا کہ یہ عمر کا نصف سے زیادہ حصہ بنتا ہے-ڈیڑھ سو ماہوار سے شروع ہونے والی یہ نوکری نہ تھی،
سو مولانا نے بھی اسے محبت ہی بنا رکھا،
اب انہیں ڈھونڈھ چراغ رخ زیبا لے کر
........
یہ مختصر مضمون لکھ چکا تو احباب نے اصلاح کی کہ مولانا مدنی،





