ہمارے حبیب لبیب مرزا اب بھی 90 کی دہائی میں جیتے ہیں،
ہوا ہوا اے ہوا خوشبو لٹا دے
کہاں کھلی ہاں کھلی ذرا بتا دے
اب اس کا پتا دے ذرا مجھ کو بتا دے
میں اس سے ملوں گا،
یار ملا دے...
آخری مصرع کی تین چار بار تکرار کے بعد پوچھا: "جانتے ہو پاشا،
ہماری خاموشی پر خود ہی اس طرح ڈرامائی لہجے میں بولے جیسے ابن صفی جاسوسی ناول کے اختتام پر کرنل فریدی جیب سے مجرم نکال کر رکھ دیتا ہے:
"حلیم!!"
اس کے ساتھ ہی مرزا کے تھوک نگلنے کی کراری آواز واضح طور پر سنائی دی۔بولے:
"واللہ حبیبی! سمجھ میں نہیں آتا روزہ میں روحانی تقویٰ اور جسمانی قوت پیدا کیسے ہو پھر؟ کمبخت وائرس نہ ہوا قرب قیامت کے آثار پیدا ہو گئے... بھلا بتاؤ بغیر حلیم کبھی روزہ کا تصور بھی کیا تھا؟"
پھر وہ دانت کچکچا کر نام بہ نام لتاڑنے لگے:
"شاہ غوث،
ذرا سانس لینے رکے تھے کہ ہم نے حلق میں مچلتے اشتہا انگیز غراروں پر قابو پاکر کہا: "بس کرو مرزا،
"کیا بس کرو میاں؟ کمبختوں نے ایک نامراد فیصلہ کیا کیا،
پھر مرزا کی آواز یک بیک رقت انگیز ہوگئی جب خاتون خانہ کے حوالے سے گھر پر ہی حلیم کی تیاری کا ذکر چھیڑا...
ایک غریب مرزا کا کیا ذکر۔اس ناہنجار لاک ڈاؤن نے حلیم گو نہ کھلائی ہو مگر تمام شوہر حضرات کو حلیم الطبع بننے پر مجبور ضرور کر دیا ہے۔ونیز یہ فقرہ تو ان دنوں زبان زد عام و خاص ہو گیا کہ:
گھر میں رہنا ہو تو ڈرنا ہے،
تجربہ نے یہ تو سکھا دیا تھا کہ تقاضا کرنا ہو تو بچوں کو پٹا کر ان کی معرفت ہی کرنا چاہیے،
"ہوٹلوں نے تو اس رمضان ہاتھ اٹھا دیے،
بیگم ٹھٹھکیں،
"معلوم ہے کچھ گوشت کیا دام چل رہا ہے؟ ایک کیلو ٹماٹے،
منمناتی آواز میں دہائی دینا چاہی:
"دیکھو بیغم،
سرکاری نوکری سے ہٹ کر جو چند مقامی مسلم اداروں کے آن لائن کام ہم انجام دیا کرتے ہیں،
"کہاں کے پیسے؟ کتنے پیسے؟ اور وہ بڈھا وعدہ کرکے دیا ٹائم پر،
پھر بیگم کے "صبر کے قصے" جو شروع ہوئے تو پرسوں ایک جگہ پڑھا قولِ زریں بے تحاشا یاد آیا،
"بیوی صبر کرتی ہے،
بہرحال صبر کے اس روایتی پند و نصائح کا اختتام عموماً ایک ہی جملہ پر ہوتا رہا ہے:
"میں پہلے ہی بولتی تھی نکو آؤ سعودی سے نکو آؤ،
صاحبو! یہ چند منٹ کی داستان نہیں،
"کب جاتا کی یہ دلیندر..."
کوکر کی تیز سیٹی پر بیگم اپنے مہان لیکچر کا اختتامی جملہ پھینکتے کچن کی طرف لپکیں۔
"میں اور دلیندر...؟" برہمی کے بگولہ نے اڑان بھرنا چاہی۔
کھٹ سے جواب آیا:
"آپ کو کئیکو بولوں گی،
برہمی کے بگولہ کو شہ مات ہوگئی۔
قصہ مختصر یہ کہ... بیوی بھی عجیب مخلوق ہوتی ہے۔چیخے گی چلائے گی،
تو یہ رہی گھر میں تیارکردہ خاتون خانہ کی طویل محنت کا نتیجہ: مٹن حلیم!!
جسے بقول ان کے،
یار،
لیجیے لیجیے،
اور ہاں... چلتے چلتے ایک بار پھر یاد کر لیں:
ڈرنا ہے،
***
مکرم نیاز،





