اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن عظیم نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے سب سے بڑی نعمت عقل ہے،
لفظ عقل قرآن مجید میں کم و بیش 49 مرتبہ استعمال ہوا ہے اور رب العالمین نے تواتر کے ساتھ تمام انسانوں کو عقل کے استعمال کی دعوت دی ہے،
یقیناً اسلام غور و فکر،
ترجمہ: "کہہ دیجیے! تم دیکھو اور غور کرو آسمان و زمین میں موجود چیزوں میں"۔
اسلام سوالات قائم کرنے،
عقل کی تعریف:
"وہ قوت جو غور و فکر،
اور لغت کی مشہور کتاب (لسان العرب: 458/11-459) میں ہے: "العقل: الحجر والنھی ضد الحمق... وسمی العقل عقلا لأنه یعقل صاحبه عن التورط فی المھالک أی: یحبسه"۔
ترجمہ: "یعنی عقل کے معنی روکنے اور منع کرنے کے ہیں،
عقل کی اہمیت کتاب و سنت کی نظر میں:
اللہ رب العزت نے عقل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا ہے:وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَيئا وَّجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن"۔(النحل:78)
ترجمہ: "اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا جبکہ تم کچھ نہیں جانتے تھے،
قرآن و سنت میں حکمت و دانائی اور سوجھ بوجھ کی ستائش یوں کی گئی ہے:
"یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآءُ وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَاب"۔(البقرۃ:169)
ترجمہ: "وہ جسے چاہتا ہے دانائی عطا کرتا ہے اور جسے دانائی عطا کی جائے تو بلاشبہ اسے بہت زیادہ بھلائی دے دی گئی اور نصیحت صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں"۔
اور رسول اکرمﷺ نے اپنی حدیث میں یوں ارشاد فرمایا:
"مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ....." (صحیح البخاری:71،
ترجمہ: "اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت کر دیتا ہے"۔
اسلام نے ایسی چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جن سے عقل پر برے اثرات پڑتے ہیں،
"یا آَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْن"۔(النساء:43)
ترجمہ: "اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ یہاں تک کہ اپنی بات کو سمجھنے لگو"۔
جب عقل پختہ نہ ہو یا انسان عقل کی حالت میں نہ ہو یا سرے سے عقل ہی نہ ہو تو انسان احکام شرعیہ کا مکلف نہیں ہوتا اس سے شریعت ساقط ہوجاتی ہے:
دلیل: عن عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ؛
ترجمہ: "سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین طرح کے آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: مجنون جس کی عقل مغلوب ہو حتی کہ افاقہ پا جائے اور سویا ہوا شخص حتی کہ جاگ جائے اور بچہ حتی کہ بالغ ہو جائے"۔
حق سمجھنے کے لیے عقل کا استعمال نہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی طرح قرار دیا ہے:
"لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّایَفْقَھُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اَعْیُن, لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اٰذَانٌ لَّایَسْمَعُوْنَ بِھَا اُولٰٓئکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلّ اُولٰٓئکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ"۔(الأعراف:179)
ترجمہ: "ان کے دل ایسے ہیں جن سے سمجھتے نہیں،
اسلام کی نظر میں مجرم وہ ہے جو حق کو سمجھنے اور اس کے واضح ہو جانے کے بعد حق کا انکار کرے،
"وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَسَآءَ تْ مَصِیْرًا"۔(النساء: 115)
ترجمہ: "جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے ہدایت کے خوب واضح ہوجانے کے بعد بھی اور مومنوں کے راستے کے سوا (کسی اور) کی پیروی کرے ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھر گیا ہے اور ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے،
غور و فکر اور عقل کا استعمال کرنے کے بجائے اندھی تقلید کرنے والوں کی قرآن مجید میں مذمت کی گئی ہے،
"وَإِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَنَا اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئا وَّلَا یَھْتَدُوْنَ"۔(المائدۃ:104)
ترجمہ: "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول ﷺ کی طرف آؤ تو کہتے ہیں کہ ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ داداؤں کو پایا،
نیز ارشاد فرمایا:"وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآاَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَنَا اَوَلَوْ کَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْھُمْ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْر"۔(لقمان:21)
ترجمہ: "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کی تابعداری کرو،
عقل کے فوائد:
1- کائنات اور اس کی وسعتوں میں غور و فکر کر کے خالق کائنات کی قدرت،
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ"۔(البقرۃ:164)
ترجمہ: "بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں،
2- قرآن کی آیتوں میں غور و فکر کرنا اور اس کے معانی کو سمجھنے کا کام بھی عقل سے ہی کیا جا سکتا ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا"۔(محمد:24)
ترجمہ: "تو کیا وہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟"۔
3- اللہ تعالیٰ نے جو شرعی قوانین اور احکام دیے ہیں ان کی حکمت کے بارے میں غور و فکر کرنا:
چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:
"وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃ ّ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن"۔(البقرۃ:179)
ترجمہ: "اور تمھارے لیے قصاص ہی میں زندگی ہے،
بظاہر قصاص (خون کا بدلہ خون کے طور پر کسی مجرم کا قتل کیا جانا) مزید ایک جان کی ہلاکت ہے لیکن اگر غور کیا جائے اور عقل کو استعمال کر کے سوچا جائے تو نظر آئے گا کہ جب قاتل کو قصاصاً قتل کردیا جائے تو دوسرے تمام مجرمین سزا کے خوف سے قتل کا جرم کرنے سے باز آ جائیں گے اور اس طرح بہت سی معصوم جانیں بچ جائیں گی اور ان کی زندگیاں محفوظ رہ سکیں گی۔
اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
"یقول تعالیٰ فی شرع القصاص لکم وھو قتل القاتل حکمۃ عظیمۃ وھی بقاء المھج وصونھا لأنہ إذا علم القاتل أنہ یقتل انکف عن صنیعہ فکان فی ذلک حیاۃ للنفوس"۔
ترجمہ: "یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو قصاص کا حکم دیا ہے کہ قاتل کو قتل کر دیا جائے تو اس میں ایک عظیم حکمت پنہاں ہے اور وہ ہے سیکڑوں جانوں کی بقا اور حفاظت۔وہ اس طرح کہ جب قاتل کو یہ معلوم ہو کہ اگر اس نے قتل کیا تو اسے بھی اسی طرح قتل کر دیا جائے گا تو وہ اپنی اس کرتوت سے باز رہے گا،
4- نئے پیش آمدہ مسائل میں عقل کے ذریعہ اجتہاد کرکے قرآن و سنت سے ان کا حل پیش کرنا،
’’كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ‘‘۔(صحیح البخاری:6124)
ترجمہ: "ہرنشہ آور چیز حرام ہے"۔
علماء امت نے اس نص کی روشنی میں اپنی عقل کے ذریعہ قیاس کرتے ہوئے چرس،
5- عقل ہی کا استعمال کر کے اہل حق باطل پرستوں کی تردید بھی کرتے ہیں،
"اَلَمْ تر َاِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰھٖمَ فِیْ رَبِّہٖٓ اَنْ اٰتٰۂُ اللّٰہُ الْمُلْکَ اِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیْتُ قَالَ اِبْرٰھٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِھَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُھِتَ الَّذِیْ کَفَرَ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْن"۔(البقرۃ:258)
ترجمہ: "کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم علیہ السلام سے اس کے رب کے بارے میں اس لیے جھگڑا کیا کہ اللہ نے اسے بادشاہی دے رکھی تھی؟ جب ابراہیم نے کہا: میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے،
6- بہت سی سیدھی سادی باتوں کو صرف عقل کے ذریعہ سمجھایا جا سکتا ہے،
"قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْن"۔(الصافات:95)
ترجمہ: "آپ علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم ان کی پوجا اور عبادت کرتے ہو جنھیں تم (خود) تراشتے ہو؟"۔
نیز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہودی اور عیسائی دونوں دعوی کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے دین پر تھے،
"یاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمَآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰۃُ وَالْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ بَعْدِہٖ افَلاَ تَعْقِلُوْن"۔(اٰل عمران:95)
ترجمہ: "اے اہل کتاب! تم ابراہیم کی بابت کیوں جھگڑتے ہو،
7- اپنی یا دوسروں کی غلطیوں سے سبق لینے یا دوسروں کی نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی عقل چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُولُوا الْاَلْبَابِ"۔(الزمر:9)
ترجمہ: "نصیحت صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہوں"۔
برتر کون؟ عقل یا نقل؟
بعض لوگوں نے اپنی عقلوں کو بے کار اور معطل کر رکھا ہے حتی کہ نہ تو عقل کو کوئی اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی قدرتوں اور کائنات میں پھیلی ہوئی اس کی عظمت کی نشانیوں میں غور و فکر کے لیے اپنی عقل کا استعمال کرتے ہیں،
یہ لوگ عقل کو ہی اپنا قبلہ وکعبہ اور سب کچھ سمجھتے ہیں،
قرآن حکیم نے’’عقل سلیم‘‘ کی تعریف کی ہے،
عقل پرستی یا وحی کے مقابلے میں عقل کی برتری وتفوق کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا،
عقل پرستوں نے ماضی بعید میں یونانی افکار سے اور ماضی قریب میں مغربی افکار سے ذہنی طور پر شکست کھاکر اس بات پر زور دینا شروع کردیا کہ شریعت میں فیصلہ کن حیثیت اللہ اور اس کے رسول کے بجائے عقل کو حاصل ہونی چاہیے۔ں برصغیر میں اس فکر کے سرخیل سرسید احمد خان(1817ء۔1898ء) تھے جنھوں نے مغرب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اور اس دور میں یورپ صرف اسی بات کو ماننے پر تیار تھا جو عقل وتجربہ کی کسوٹی پر پوری اترتی ہو۔اور ہر وہ بات جو خرق عادت یا مافوق الفطرت Super Natural ہو،
مغرب سے بے پناہ مرعوبیت کے نتیجے میں عقل کو کتاب وسنت پر بھی مقدم کردیا گیا،
بلاشبہ انسان اسلام قبول کرنے سے پہلے مختار ہے کہ اگر چاہے تو اسے قبول کرے اور چاہے تو رد کرے،
خرق عادت امور: انبیاء کے معجزات اولیاء کی کرامات،
بعض نادان کہہ دیتے ہیں: ’’یہ حدیث میری عقل میں نہیں آتی یا میری سمجھ سے بالاتر ہے‘‘ ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ انسانی عقل چھوٹی اور کتاب وسنت کاعلم بڑا ہے اپنی عقل کو بڑا کرنا چاہیے کیونکہ سوٹ کیس کو جیب میں رکھنے سے جیب تنگ پڑجائے گی اور پھٹ جائے گی۔لہذا عقل انسانی نقلی علم کا احاطہ نہیں کرسکتی۔
ہدایت کیا ہے اور گمراہی کیا؟ حق کیا ہے اور باطل کیا؟ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا؟ اس کا تعین انسانی عقل نہیں کرسکتی،
وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (البقرۃ: 216)
ترجمہ: اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمھارے لیے بہتر ہو،
لہذا خیر وشر کا فیصلہ کرنا یہ انسانی عقل کی دسترس سے باہر ہے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِذٰلِکَ خَیْر’‘ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلاً (النساء:59)
ترجمہ: پھر اگر باہم تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹادو،
یہ بات ذہن نشین رہے کہ باہم اختلاف اسی وقت ہوتا ہے جب ایک کی عقل دوسرے کی عقل سے ٹکراتی ہے،
معلوم ہوا کہ عقل ونقل وحی کے تابع ہے،
’’لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ،
ترجمہ: اگر دین کا دارومدار رائے اور عقل پر ہوتا تو موزے کا نیچے والا حصہ اوپر والے کی بنسبت مسح کا زیادہ مستحق ہوتا،
عقلیں تو مختلف ہوتی ہیں،
اگر عقل کو قبلہ وکعبہ بنا لیا جائے اور اسے اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر مقدم کیا جائے تو کفر کا ارتکاب بھی ہوسکتا ہے۔اور یہ ابلیسی حرکت ہوگی۔ارشاد الٰہی ہے:
قَالَ مَامَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ قَالَ اَنَا خَیْر’‘ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ قَالَ فَاھْبِطْ مِنْھَا فَمَایَکُوْنُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْھَا فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ (الأعراف:12-13)
ترجمہ: (اللہ عزوجل نے) فرمایا: تجھ کو سجدہ کرنے سے کس امر نے روک دیا جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا،
معلوم ہوا کہ ابلیس نے فرمان رب کے مقابلے میں اپنی عقل کا استعمال کیا اور خود کو بہتر و برتر سمجھ بیٹھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کفر کا مرتکب ہوکر راندۂ درگاہ ہوگیا۔
اسی تناظر میں یہ حدیث قابل غور ہے:
عن عائشہ رضی اللہ عنہا قالت: لما أسری بالنبی ﷺ إلی المسجد الأقصی أصبح یتحدث الناس بذلک،
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،
معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے نقل (فرمان نبوی) کے مقابلے اپنی عقل کا استعمال کیا وہ ضلالت وگمراہی سے دوچار ہوکر مرتد ہوگئے اور جس نے نقل کے آجانے پر اپنا سرتسلیم خم کردیا وہ صدیقیت کے مقام پر فائز ہوکر دنیا وآخرت کی تمام بھلائیاں سمیٹ لے گیے۔
اللہ ورسول کا حکم آجانے پر عقل کے لیے رد وقبول کی گنجائش نہیں رہتی بلکہ تسلیم وقبول کرنا ہر حال میں واجب ہوتا ہے خواہ عقل ان امور کی کیفیت کا ادراک کرسکے یا نہ کرسکے کیونکہ ہر چیز کا احاطہ وادراک کرنے سے عقل عاجز ہے۔ارشاد الٰہی ہے:
اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاوَاُولٰٓئکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (النور:51)
ترجمہ: مومنوں کی بات تو صرف یہ ہونی چاہیے جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان کے بارے میں فیصلہ کرے تو یہ کہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی۔اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
دوسری جگہ یوں ارشاد فرمایا:
وَمَاکَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَامُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً مُّبِیْنًا۔(احزاب:36)
ترجمہ: اور کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو ان کے لیے اپنے معاملے میں ان کا کوئی اختیار (باقی) رہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ یقیناً کھلم کھلا گمراہ ہوگیا۔معلوم ہوا کہ نہ صرف یہ کہ اللہ ورسول کا حکم آجانے پر عقل کو سر اٹھانے کی گنجائش نہیں رہتی بلکہ اگر کوئی نقل کے مقابلے اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے تو وہ واضح گمراہی کا شکار ہوجاتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے جس کو امام بخاری ؒ نے یوں روایت کیا ہے:
’’عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ،
ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دے کر فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے،
عقل پر نقل (کتاب وسنت) کے تفوق کے عقلی دلائل:
عقل سلیم کبھی بھی نقل صحیح کے معارض نہیں ہوسکتی ہمیشہ موافق ہی ہوگی۔جو بھی عقل شرع سے ٹکرائے تو سمجھ لیناچاہیے کہ یہ عقل فاسد ہے یا پھر نقل میں کہیں خلل واقع ہے لہذا اس کی تحقیق کرنی چاہیے۔ذیل میں کچھ ایسی عقلی دلیلیں بیان کی جاتی ہیں جو عقل پر نقل کے تفوق کی متقاضی ہیں:
۱۔متعدد وجوہ کی بنا پر لوگوں کی عقلیں متفاوت اور مختلف ہوتی ہیں،
۲۔شریعت کو نازل کرنے والا اللہ رب العالمین ہے جو خطا اور نسیان سے مبرا اور منزہ ہے جبکہ عقل کو استعمال کرنے والا انسان مختلف خواہشات اور نقص وعیوب کا مجموعہ ہے،
۳۔عقل کا ایک محدود دائرۂ عمل ہے جس میں اس کو استعمال کرنا چاہیے اور غفلت نہ برتنی چاہیے۔اسی طرح بعض چیزیں عقل کے دائرۂ عمل سے خارج ہیں جن کا عقل کے ذریعہ ادراک نہیں کیا جاسکتا،
٤۔عقل ہر چیز کا ادراک کرنے سے قاصر ہے۔لہذا اگر ایسے معاملات میں عقل کو مداخلت کی اجازت دی جائے جو اس کے دائرے سے خارج ہیں تو اس کی توانائی اور صلاحیت کو ضائع کرنا اور ایسی جگہ صرف کرنا ہے جو اس کے لیے مضر ہے،
وَیَسئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّاقَلِیْلاًً (الإسراء:85)
ترجمہ: اور وہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں،
معلوم ہوا کہ روح کی حقیقت کا ادراک انسانی عقل کے بس کی بات نہیں۔
۵۔کسی بات کا عقل میں نہ آنا اور کسی بات کا عقل سے ٹکرانا دو الگ الگ چیزیں ہیں،
فَسئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْن (النحل:43)
ترجمہ: پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کرلو.
٦۔عقل کو نقل صحیح (شریعت) پر مقدم کرنے کے نتیجے میں شریعت پر اعتماد اور بھروسہ کمزور ہوتا ہے اور کلام اللہ کو کلام الناس کے برابر قرار دینا لازم آتا ہے۔
۷۔عقل پر شریعت کے تقدم وتفوق اور برتری پر خود عقول سلیمہ دلالت کناں ہیں لہذا شریعت پر عقل کو مقدم کرنے سے خود عقول سلیمہ کی دلالت پر طعن لازم آئے گا۔
۸۔جس شخص نے اپنی رائے کو شریعت پر مقدم کیا وہ حقیقی مؤمن نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ صحیح معنوں میں متبع شریعت ہے بلکہ اس پر یہ فرمان الٰہی صادق آتاہے:
’’الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِسُلْطٰنٍ اَتٰھُمْ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَاللّٰہِ وَعِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍجَبَّار"۔(غافر:35)
ترجمہ: جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل کے جھگڑتے ہیں،
۹۔صحیح بات تو یہ ہے کہ کتاب وسنت کا کبھی بھی عقل سلیم سے تعارض اور ٹکراؤ نہیں ہوسکتا کیونکہ کتاب وسنت کو نازل کرنے والا وہی اللہ ہے جس نے انسان کو عقل سلیم کی نعمت بخشی ہے۔
۱۰۔عقل کو بے لگام چھوڑنا اور اسے کتاب وسنت کا پابند نہ بنانا تیز رفتار گاڑی کو بغیر بریک اور اسٹیرنگ کے چھوڑ دینے کی مانند ہے جو کبھی بھی اور کہیں بھی ٹکرا کر خود کو اپنے مالک سمیت ختم کر ڈالتی ہے۔
تلک عشرۃ کاملۃ۔
اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
عقل بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں
راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبوں کارِ حیات





