امسال فسادی ٹولہ اور ان کے حواری دوران حج سیاسی مظاہروں کا پلان بنارہے تھے لیکن سعودی انٹلجنس نے ان سب کو حج سے پہلے ہی قابو کرلیا تھا۔
ما قدر اللہ وشاء دوران حج ہزار بارہ تیرہ سو حجاج کی موت واقع ہوگئی۔اللہ تعالیٰ ان سبھوں کی مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل دے۔آمین
اس واقعے کو بنیاد بناکر بلدالتوحید سے بغض رکھنے والوں نے سعودی حکومت کے خلاف طرح طرح کے جھوٹے پروپیگنڈے شروع کردیے اور کئی جھوٹی تصویریں پھیلائیں،
بالخصوص سلفی علماء اور بالعموم بلدالتوحید سے محبت کرنے والوں نے ان دشمنان مملکہ کے جھوٹے پروپیگنڈوں کا پردہ فاش کیا اور ان کے بیانیے کی قلعی کھول کر رکھ دی۔سچائی یہ سامنے آئی کہ جن لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے ان کی اکثریت غیر قانونی دراندازوں کی تھی اور یہ سب ممنوعہ حصار کو توڑ کر زبردستی گھس کر حج کر رہے تھے۔ان لوگوں کے پاس نہ حج کا ویزا تھا اور نہ حج کی تصریح۔یہ سارے لوگ ٹورسٹ ویزا پر مکہ آئے ہوئے تھے۔ویزا کے دستاویز پر یہ صاف لکھا ہے کہ یہ ویزا حج کے لیے ویلڈ نہیں ہے۔اس کے باوجود ان کے ایجنٹوں نے انھیں یہ یقین دلاکر مکہ بھیجا تھا کہ انھیں حج کا پرمٹ لے کر دیا جائے گا۔لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ ممکن بھی نہ تھا۔ایسے حجاج جن کے پاس “نسک کارڈ” نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کے پاس منی وغیرہ میں نہ رہنے کے لیے ٹینٹ تھے اور نہ کھانے پینے کے انتظامات،
ان اموات کے لیے اولین قصور ان ایجنٹوں کا تھا جنھوں نے ان کو دھوکہ دے کر غیر حج ویزا پر سعودی عرب بھیجا تھا۔اسی لیے مصر،
مصر کی کیبنٹ نے یہ بیان دیا ہے کہ رسمی طور پر کل 50 ہزار مصری شہری حج کے ویزا پر حج کے لیے تشریف لے گئے۔جو 658 مصری حاجی فوت ہوئے ان میں 630 حاجی غیر قانونی تھے۔اور جو بقیہ 28 حاجی فوت ہوئے ہیں وہ 50 ہزار قانونی حجاج میں سے تھے جو اپنی پرانی بیماریوں کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔مصری کیبنٹ کا یہ فیصلہ کن بیانیہ ہے جس سے خوب اندازہ ہوتا ہے کہ ان اموات کے پیچھے اصل سبب کیا تھا۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس حادثے میں سعودیہ کا کتنا قصور ہے؟ اس حادثے میں سعودیہ کہاں کھڑا ہے؟ ان اموات کے لیے اس کی کتنی ذمہ داری بنتی ہے؟ کیونکہ بالآخر یہی منتظم اعلی ہے۔ان کے انتظامات میں نقص کی وجہ ہی سے یہ افراد بغیر اجازت نامہ کے منی،
معلوم رہے کہ کبار علماء نے بغیر اجازت نامہ کے حج کرنے کو ناجائز قرار دیا ہے۔
آخر میں یہ بتاتا چلوں کہ دنیا بالخصوص ویسٹ سعودی عرب کے حج کے انتظامات کی نہ صرف تعریف کرتا ہے بلکہ وہ حیرت واستعجاب کے اندر بھی مبتلا ہے کہ مختلف زبان و تہذیب اور بیک گراؤنڈ رکھنے والے دو سو ممالک کے دو ملین لوگوں کا استقبال کرنا،
صاف دل اور انصاف پسند لوگ اتنے بڑے انتظام کی کامیابی پر سعودی حکومت کی تعریف کیے اور انھیں مبارک باد دیے بغیر نہیں رہ سکتے،
اللہ تعالیٰ بلدالتوحید اور اس کی قیادت کی حفاظت فرمائے اور انھیں مزید نیک توفیق دے۔آمین






