۲۰۰۵-۲۰۰۹ء کے مابین’المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ‘ اور’اہل حدیث منزل‘ جامع مسجد،
اللہ پاک نے مولانا کو نوع بنوع خوبیوں سے نوازا تھا۔ان کی کتابی صلاحیت کافی اچھی تھی۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے جامعۃ الفلاح بلریا گنج اور جامعہ فیض عام مئو سے فراغت کے بعد کئی مدرسوں میں درس وتدریس کا فریضہ انجام دیا تھا۔مولانا جتنا اچھا اردو اور ہندی لکھتے تھے اتنا ہی اچھا بولتے بھی تھے۔انھوں نے اترپردیش اور دہلی کی بہت ساری مسجدوں میں خطابت کا بھی فریضہ انجام دیا۔
اللہ نے مولانا کو جرأت،
مرکز کے اجلاس اور پروگراموں میں مولانا کی کوشش ہوتی کہ بڑی علمی شخصیات سے مل کر کچھ اپنی معلومات میں اضافہ کیا جائے۔کم سے کم ان کی زندگی کا خاکہ ہی حاصل کرلیا جائے۔اس لیے شخصیات سے ملنے ملانے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔اور الحمد للہ اس اعتبار سے وہ کامیاب بھی رہے کہ اپنی محنت اور لگن اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کی مہمیز سے ’تراجم علماء اہل حدیث‘ پر مشتمل ایک قیمتی سرمایہ انھوں نے پوری جماعت کو دیا۔اس سرمائے کے حصول کے لیے ہندوستان کے اکثر وبیشتر صوبوں کا انھوں نے سفر کیا۔اور ملک کے نامور علماء ودعاۃ سے مل کر ان کے سوانحی خاکے جمع کیے۔انھوں نے جتنے علمی مواد جمع کیے علماء اہل حدیث ہند کی زندگی پر مشتمل کئی جلدیں شائع ہوسکتی ہیں،
اللہ نے مولانا کو قرآنی ذوق سے سرفراز کیا تھا۔مولانا کی گفتگو کے موضوعات میں سے قرآن اور علوم قرآن خاص اہمیت کا حامل ہواکرتے تھے۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مولانا قرآن کے ہندی ترجمہ اور تفسیر پر کام کررہے تھے۔انھیں مولانا محمد جوناگڑھی رحمہ اللہ کے ترجمہ اور حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی تفسیر کے بعض گوشوں پر بھی اعتراض تھا۔بلکہ ترجمہ اور تفسیر میں مولانا صدیقی کے بقول جہاں جہاں ان دونوں صاحبان سے چوک ہوئی تھا ان تمام جگہوں کا وہ اپنے ترجمے میں تدارک کرنا چاہتے تھے۔اور ان شاء اللہ انھوں نے کیا بھی ہوگا۔جب وہ ’احسن البیان‘ پر اپنی زبان کھولتے تو مجھے سخت دلی کوفت محسوس ہوتی اور میں چاہتا کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو خاموش ہوجائیں۔اس لیے کہ میں مذکورہ تفسیر کو دل وجان سے چاہتا تھا اور اب بھی اردو کی چند اچھی تفسیروں میں اسے گردانتا ہوں،
مولانا کی شخصیت نہایت سادہ تھی۔لمبا قلمی اور تدریسی تجربہ رکھنے کے باوجود بالکل متواضع تھے۔جس کسی سے ملتے کامل اخلاق نبوی کا مظاہرہ کرتے۔کبر وغرور نام کی کوئی چیز مولانا کے اندر میں نے محسوس نہ کی۔لباس وپوشاک کے اعتبار سے بھی نہایت معمولی تھے۔کوئی خاص رکھ رکھاؤ نہ تھا۔میں نے ہمیشہ مولانا کو پٹھانی سوٹ میں ملبوس دیکھا۔سرپر ٹوپی ضرور ہوتی تھی۔نماز کی پابندی بھی مولانا کی زندگی میں پائی جاتی تھی۔بلکہ مرکز کی مسجد کی کبھی کبھار امامت بھی فرماتے تھے۔
ذیل کے سطور میں مولانا خالد حنیف صدیقی رحمہ اللہ کا مختصر سوانحی خاکہ سپرد قلم کیا جاتا ہے:
نام ونسب:
مولانا کا نام خالد،
تعلیم وتربیت:
مولانا خالد حنیف صدیقی کی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے ہوا۔مزید تعلیم کے لیے مدرسہ نصرۃ العلوم،
درس وتدریس:
جامعہ فیض عام سے دورہ حدیث مکمل کرنے کے بعداسی سال ۱۹۷۷ء میں مدرسہ نور الہدیٰ اونر ہوا کی مسند تدریس پر متمکن ہوئے اور تین سال صدر المدرسین کی حیثیت سے خدمت سرانجام دی۔پھر یہاں سے مستعفی ہو کر موضع گڑرھیا کے مدرسہ دار الہدیٰ میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔یہاں بھی مولانا صدرالمدسین اور خطابت وامامت کے مناصب پر فائز رہے۔
۱۹۸۰ء اور ۱۹۸۱ء میں دوسال دہلی کے دارالکتاب والسنہ (صدر بازار) میں مدرس رہے۔انھی دنوں جماعت اہل حدیث کے ایک بزرگ قاری عبدالمنان مرحوم کی کوشش سے موجودہ اہل حدیث کمپلیکس (دہلی) میں دارالحدیث رحمانیہ کا اجرا عمل میں آیا تومولانا کو اس دارالحدیث کا صدر مدرس اور شیخ التفسیر والادب مقرر کیا گیا۔
تالیف وترجمہ:
درس وتدریس کے ساتھ مولانا مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے آرگن ’جریدہ ترجمان‘سے بھی وابستہ رہے۔’تراجم علماے اہل حدیث‘ کے نام سے ہندوستان کے اہل حدیث علماے کرام کے حالات کی ترتیب دیے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔یہ مولانا کی بہت بڑی خدمت ہے جوعلمی حلقوں میں کافی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔مولانا کا اہم کام قرآن مجید اور کتب حدیث کا ہندی زبان میں ترجمہ بھی ہے۔
مولانا کے تراجم کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
(۱) قرآن مجید: مولانا ثناء اللہ امرتسری کے اردو ترجمے کا ہندی میں ترجمہ کیا۔ناشر مکتبہ ترجمان جامع مسجد دہلی۔صفحات:۱۴۱۴
(۲) قرآن مجید: ترجمہ مولانا فتح محمد خاں جالندھری۔ہندی ترجمے کے ساتھ اردو ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔صفحات۱۲۰۰
(۳) صحیح بخاری: ترجمہ و تشریح۔چار جلدیں۔صفحات۳۵۰۰
(۴) صحیح مسلم: ترجمہ وتشریح۔دو جلدیں۔صفحات۱۶۰۰
(۵) صحیح مسلم (مختصر المنذری) ترجمہ وتشریح۔صفحات۱۴۰۰
(۶) سنن ابی داود: ترجمہ وتشریح۔تین جلدیں۔صفحات۲۵۰۰
(۷)بلوغ المرام:مولانا محمد صادق خلیل کے اردو ترجمے کاہندی ترجمہ وتشریح۔دو جلدیں۔صفحات۱۴۰۰
(۸) شیخ عبدالقادر جیلانی حیات وخدمات: صفحات۴۵۵
(۹) فتاویٰ المرأۃ (عورتوں کے مسائل) صفحات۶۵۰
(۱۰) فتاویٰ شیخ ابن باز: صفحات۶۰۰
(۱۱) بارہ سورہ شریف (قرآن مجید کی بارہ سورتیں،
(۱۲) حصن المسلم: صفحات۲۵۰
(۱۳) احکام الجنائز: (علامہ البانی) صفحات۴۰۱
(۱۴) اسلام میں حلال وحرام: (علامہ قرضادی) صفحات۳۵۰
(۱۵) صلاۃ الرسول: (حکیم محمد صادق سیالکوٹی) صفحات۴۵۰
(۱۶) صلاۃ النبی (از پروفیسر محمد اقبال کیلانی) صفحات۶۰۰
(۱۷) نماز نبوی (شفیق الرحمن) صفحات۵۰۰
(۱۸) شمع محمدی: صفحات۲۵۰
(۱۹) الحج والعمرہ: (شیخ ابن باز) صفحات۱۵۰
عین ممکن ہے کہ ان کے علاوہ بھی موصوف کے ترجمے ہوں گے جن کے بارے میں ان پر لکھنے والے بتلائیں گے۔لیکن تاہم مذکورہ ترجموں سے آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اللہ نے ان کی زندگی میں کتنی برکت دے رکھی تھی۔اس مشغول زمانے میں اپنے آپ کو ترجمہ وتالیف کے منسلک رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔اللہ تعالی ان کے حسنات کو قبول کرے اور سیآت کو درگزر فرمائے۔
وفات وپسماندگان:
موصوف مورخہ ۲۰؍ اپریل ۲۰۲۱ء بروز منگل مختصر علالت کے بعد پرانی دلی کی اونچی مسجد،






