جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

حقیقی دوست

تحریر: ارشاد الحق روشاد13 مارچ، 20211,392قارئین7 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
حقیقی دوست
فل اسکرین دیکھیں

حقیقی دوست وہ ہے جو ایک دوست کا مونس و غمخوار ہو،اس کے راز کا محافظ ہو،اس سے کوئی غلطی یا خطا ہو جائے تو در گزر کر دے،خود اس سے بھی کوئی لغزش سرزد ہو جائے تو اس کا معترف ہو اور فورا معذرت طلب کرے،دوست کی الجھنوں اور پریشانیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن تدبیر اپنائے،اسے دلاسہ اور تسلی دے،با وفا ہو،وعدہ نبھائے،امانت میں کبھی خیانت نہ کرے،دل کا پاک صاف ہو،ذرّہ برابر بغض و حسد نہ رکھتا ہو،عمدہ اخلاق و کردار کا حامل ہو،راست باز اور سچا ہو،دوست کے عیوب کی پردہ پوشی کرے،اس سے حسن ظن رکھے،عدم موجودگی میں بھی اس کی غیبت و چغلی نہ کرے،محفلوں میں بھی ذکر خیر کرے،لوگوں میں اس کی شان بلند کرے،اپنی عظیم دوستی پر فخر کرے،اس کی خوشی و غمی کو اپنی خوشی و غمی تصور کرے۔

در حقیقت اچھا اور سچا دوست وہی ہے جو اپنے ساتھی کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتا ہو،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ(ترمذی)آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے پس تم میں سے ہر ایک غور و فکر کر لے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔

یعنی دوست اسی کو بنایا جائے جو نیک،پرہیزگار اور دیندار ہو،بد خلق،مطلبی اور خود غرض نہ ہو،اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بطور مثال ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دوستی کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے:

إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا

غار ثور میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ساتھی حضرت ابو بکر صديق رضی اللہ عنہ کو مشکل وقت میں یوں تسلی دے رہے تھے کہ تم غم نہ کرو،بےشک اللہ ہمارے ساتھ ہے،پس حقیقی دوست وہی ہے جو مشکل ترین لمحات میں کام آئے،کسی بھی حال میں ساتھ نہ چھوڑے،صبر و شکر اور توکل علی اللہ کی تلقین کرے،معاون و مدددگار ہو،دوست بے بس و مجبور ہو تو اس کا دست و بازو بنا رہے،اگر کسی معاملے میں آراء و خیالات مختلف ہوجائیں تو صفت دوستی پر حرف تک نہ آئے،الفت و محبت برقرار رہے۔

حقیقی دوست دوستی نبھاتا ہے،وہ دوست سے دور نہیں رہنا چاہتا،دور ہوجانے پر بھی بذریعہ کال خیر خیریت دریافت کرتا رہتا ہے،بے تکلف باتیں کرتا ہے،اس کو اطمینان دلاتا ہے،خیر خواہ بن کر کر رہتا ہے،اس کی خامیوں اور عیوب کی نشاندہی کرتا ہے تاکہ دور کر لے۔

ایک دوست دوسرے دوست کے لیے مثل آئینہ ہے،اس کا چہرہ دیکھ کر بھانپ لے کہ وہ خوشی میں ہے یا غمی میں،حزن و ملال میں ہے یا فرحت و شادمانی میں۔یاد رکھیں! دوست مصیبت و پریشانی کے وقت ہی آزمایا جاتا ہے،دوستی اور دشمنی محض اللہ اور اس کی رضا کی خاطر ہو تو اللہ بروز قیامت اپنے سایے تلے جگہ بھی عطا کرے گا جس دن اس کے سایے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔

لہذا دوست وہی تلاش کریں جو آپ کو اللہ سے قریب کرنے والا ہو،آپ سے حد درجہ محبت رکھتا ہو،لایعنی اور فضولیات میں نہ پھنسائے رکھتا ہو،خوش اخلاق،خوش گفتار،خوش ذوق اور خوش طبع ہو،ہر حال میں آپ کا بھلا چاہتا ہو۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (7)

ش
شیخ صادق فیضی
1 نومبر، 2024
,, ماشاءاللہ تبارک اللہ کیا ہی خوب آپ نے لکھا
م
محمد طاہر
13 مارچ، 2021
بہت خوب محترم عمدہ ہے
S
Shafaur Rahman
13 مارچ، 2021
ماشاءاللہ۔ بہت بہت شکریہ۔ وان يحب المرء لا يحبه الا لله
ح
حمادالحق روشاد
13 مارچ، 2021
ماشاءاللہ قابل تعریف
ا
ارشادالحق روشاد
13 مارچ، 2021
جزاکم اللہ خیرا بھائی حوصلہ افزائی کیلئے
M
Mo Mubarak Rain
13 مارچ، 2021
دوستی پہ مختصر لیکن جامع اور شامل تحریر ہے دوستی کا تقاضا فطرت کے عین مطابق ہے لیکن انتخاب ہمارا ہے کہ مفاد کے لئے ہے یا للہیت کے لیے، شكراً شیخنا المکرم بارك الله فى علمك و احسن إليك آمين
ا
ارشادالحق روشاد
13 مارچ، 2021
جزاکم اللہ خیرا۔۔۔

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

حقیقی دوست - دی فری لانسر | دی فری لانسر