الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين. أما بعد:
عربی زبان میں اس کو عید الحب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس لیے سب سے پہلے یہ واضح ہوجائے کہ عید کسے کہتے ہیں۔
عید کی تعریف
عید کا لغوی معنی:
عربی لغت میں عید ہر اس دن کو کہتے ہیں جس میں لوگوں کا اجتماع ہو اور اس کی اصل عاد یعود سے ہے یعنی بار بار لوگوں کا اس دن جمع ہونا۔
اور عید اس دن کو کہتے ہیں جس دن خوشی یا غمی لوٹ کر آئے،
کہا جاتا ہے کہ اس کو عید اس کے ہر سال لوٹنے اور بار بار واقع ہونے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔
اس کو عید اس لیے بھی کہتے ہیں کہ اس دن میں مسلمانوں کی خوشیاں لوٹ آتی ہے۔
امام خطابی فرماتے ہیں کہ یہ دونوں معانی قریب اور یکساں ہیں۔(۲)
عید کا اصطلاحی معنی:
عید اپنے اصطلاحی معنی کے اعتبار سے لغوی معنی کے بالکل موافق ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عید میں مختلف چیزیں جمع ہوتی ہیں: جیسے وہ دن جو لوٹ کر آئے جیسے عید الفطر،
حب کی تعریف
حب کی لغوی تعریف:
حب کی اصل عربی لغت میں حاء باء اور باء تین لفظی ہے،
حب کی اصطلاحی تعریف:
حب اپنے اصطلاحی معنی کے اعتبار سے لغوی معنی کے بالکل موافق ہے۔
عید الحب یعنی ویلنٹائنس ڈے کی تعریف:
کسی نے اس کی کوئی مستقل تعریف ذکر نہیں کی ہے لیکن ہم عید اور حب کی تعریف پر غور کرنے کے بعد یہ کہہ سکتے ہیں:
ھو: الیوم الذی یتبادل فیہ الناس الحب المزعوم، یعنی وہ دن جسے لوگ یوم محبت کے طور پر مناتے ہوں۔
ویلنٹائنس ڈے کی حقیقت:
جب ہم نے عید و حب اور محبت کی عید تینوں کے مفہوم کو سمجھ لیا تو اب ایک نظر اس ویلنٹائنس ڈے کی حقیقت پر بھی ڈالتے چلیں تاکہ کسی کے دل میں ذرا سا شک بھی اس کے خرافات اور حرام ہونے کے سلسلہ میں نہ رہ جائے۔
اس کی اصل قدیم رومن تہذیب کی طرف لوٹتی ہے جو ۱۵ فروری کو (لوبرکیلیا) نامی ایک عید مناتے تھے جس میں وہ لوگ اپنے معبود (لرکس) کو تحفہ تحائف پیش کرتے تھے تا کہ وہ ان کے جانوروں کو بھیڑیوں کا شکار بننے سے محفوظ رکھے،
تو ویلنٹائن نامی ایک شخص نے اس حکم کی بغاوت کی اور وہ چوری چپکے شادی کرواتا تھا جو پکڑا گیا،
اس دن کو منانے کا حکم:
جب ہم نے اس دن کی حقیقت کو جان لیا تو اب ہمارے اوپر یہ بھی واضح ہوگیا کہ سوائے حرام ہونے کے اس کا کوئی اور حکم نہیں ہوسکتا۔
اس کی حرمت کا ثبوت:
اس کی حرمت قرآن وسنت اجماع اور عقل سے ثابت ہے۔
۱۔قرآن سے دلیل: اللہ تعالی فرماتا ہے:
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (۷)
وجہ استدلال: اللہ تعالی نے کسی بھی قسم کی اپنائیت کفار سے رکھنے سے منع کیا ہے چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو،
۲۔سنت سے دلیل:
عن أنس رضي الله عنه،
أنس سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ مدینہ والوں کے دو دن ہیں جن میں وہ کھیل کود کرتے ہیں،
وجہ استدلال: نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے صحابہ کے لیے یہ وضاحت کردی کہ اللہ نے تمھیں ان دو دنوں کے بدلہ ان سے اچھے دو دن دیے ہیں جو تمھارے لیے عید کا دن ہے،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: اس حدیث سے کفار کی تہواروں میں مشارکت کا منع ہونا اس میں خوشی منانا اور ان سے مشابہت اختیار کرنے کی ممنوعیت ثابت ہوئی۔اور اس میں امام نسفی رحمہ اللہ نے شدید موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ: جس کسی نے ان تہواروں میں کسی کافر کو ایک انڈا بھی تحفہ میں دیا اس دن کی تعظیم میں وہ کافر ہوگیا۔(۹)
۳۔اجماع سے دلیل: اس بات پر علماء کا اجماع ہوچکا ہے کہ مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے صرف دو تہوار ملے ہیں اور انھی کا منانا جائز ہے ان کے علاوہ کسی بھی قسم کا تہوار مسلمانوں کے لیے منانا حرام ہے۔
۴۔عقل سے دلیل: سارے لوگ اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ تہوار کسی بھی قوم کا شعار ہوتا ہے جو ان کی تہذیب اور دین کا ترجمان ہوتا ہے تو جب یہ دن نصرانیوں کا ہے تو ایک مسلمان اس کو کیسے اپنا سکتا ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عید بھی من جملہ اعتبار سے انھی شریعت طریقہ اور اصولوں میں سے ہے جس کو اللہ تعالی نے اپنے فرمان: لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجا (۱۰) میں بیان کیا ہے جیسے قبلہ اور روزہ وغیرہ ہے۔
ان کی عیدوں میں شریک ہونے اور ان کے دوسرے دینی شعائر میں شریک ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ عید سب سے اہم چیز ہے جس سے دینی رسم ورواج کا پتہ چلتا ہے،
اس کی حرمت کے اسباب:
جو بنیادی باتیں قرآن وسنت کی روشنی میں اوپر مذکور ہوئی ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اس کی حرمت کی تین وجوہات ہیں:
۱۔شریعت اسلامیہ کا انکار اور اس میں بدعت کا ایجاد جبکہ اللہ کا فرمان ہے:
الیوم اکملت لکم دینکم وأتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الإسلام دینا کہ آج کے دن ہم نے تمھارے لیے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین کے پسند کرلیا۔
نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد (۱۲)جس نے میرے دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔
۲۔کفار سے مشابہت جبکہ شریعت میں اس سے منع کیا گیا ہے،
من تشبہ بقوم فہو منہ (۱۳) جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انھی میں سے ہے۔
۳۔کفر میں داخل ہوجانے کا ذریعہ ہے جبکہ اسلام نے ایسے سارے ذرائع مسدود کر دیے ہیں جو انسان کو کفر کے قریب بھی کردے۔اس کی سب بڑی مثال عمر بن الخطاب رضی الله عنہ کی زندگی میں ملتی ہے کہ ان کو جب خبر ملی کہ لوگ اس پیڑ کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں جس کے نیچے نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے صحابہ سے بیعت لی تھی (بیعت رضوان) تو انھوں نے اس پیڑ کو ہی کٹوادیا۔(۱۴)
یہ ساری وجوہات ہیں جو ہم کو کفار کے تہواروں میں شریک ہونے سے روکتی ہیں چاہے شریک ہونے کی کوئی بھی وجہ ہو اور چاہے اس میں ان سے مشابہت کرنا مقصود نہ ہو،
مسلمان اس باطل چیز میں کیوں شریک ہوتے ہیں جبکہ اسلام نے ہمیں دو دن تہوار خود دیے ہیں،
فبالمحبة وللمحبة وجدت الأرض والسموات،
گزشتہ نصوص سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلام کا مقصد ہے مسلمان کو اس بات پر ابھارنا کہ وہ اپنی ایک الگ پہچان بنائے اور وہ ایک قائد کی حیثیت سے زندگی گزارے۔
اسی طرح یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اسلام کا مقصد ہے ان تمام راستوں کو مسدود کردینا جو ایک مسلمان کو کفر کی دہلیز تک پہنچانے والے ہیں،
ما یفضی إلی محرم فہو حرام،
ہمارے دین کا مسلمہ قاعدہ یہ بھی ہے کہ:
من اعتقد أن هدي غير النبي صلى الله عليه وسلم أكمل من هديه،
اسی لیے صحابہ کرام نے اس کی طرف خصوصی توجہ دی اور لوگوں کو اس سے ڈرایا،
إیاکم ورطانۃ الاعاجم وأن تدخلوا على المشركين في يوم عيدهم في كنائسهم یعنی تم عجم کی زبان سے اور ان کے تہواروں کے دن ان کے کنائس میں داخل ہونے سے بچو۔(۱۶)
وعنه رضي الله عنه قال: اجتنبوا أعداء الله في عيدهم۔ اللہ کے دشمنوں سے ان کی عیدوں میں بچو۔(۱۷)
وعن عبدالله بن عمر ومثله عن عبدالله بن عمرو رضي الله عنهما: من بنى ببلاد الأعاجم فصنع نيروزهم ومهرجانهم،
یہی وہ عقیدہ ہے جس پر نبی نے اپنے صحابہ کی تربیت کی تھی اور ان لوگوں نے اپنے بعد والوں کو سکھلادیا،
اور ایک قاعدہ جو ان مسائل کے احکام بیان کرنے سے منسلک ہے وہ یہ ہے کہ:
’’أن مضاھاۃ المشروع من التشریع،
یہاں جو چیز تعجب خیز ہے وہ یہ کہ سنہ۱۹۶۹م میں اس دن کے منانے سے گرجا گھروں نے منع کردیا تھا کیونکہ یہ چیزیں دین اورحسن خلق کے منافی ہیں۔اس کے باوجود ہم مسلمانوں میں سے بہت سارے لوگوں کو پاتے ہیں کہ وہ اس تہوار کو مناتے ہیں اور اس کی تعظیم کرتے ہیں اس میں تحفہ تحائف تقسیم کرتے ہیں اور اباحیت میں مشغول رہتے ہیں اور شرم وحیا کو پامال کردیتے ہیں۔واللہ المستعان
اسی طرح ایک اور قاعدہ جو ان مسائل کے احکام بیان کرنے سے منسلک ہے وہ یہ کہ:
’’ما لم یکن فی عھد النبوۃ من متعلقات الدین،
اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ ان میں سے اکثر عیسائی تہوار نبی صلى الله عليہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے،
’’إن لکل قوم عید،
ویلنٹائنس ڈے منانے کے طریقے:
ویلنٹائنس ڈے منانے کے مختلف طریقے ہیں جیسے سرخ رنگ کا کپڑا پہننا،
میں یہاں ہر اس مسلمان سے جو ویلنٹائنس یا دوسری غیر اسلامی تہوار مناتا ہے ایک سوال کرناچاہتا ہوں کہ وہ اپنے اس عمل کے ذریعہ کس بات کا ثبوت دینا چاہتا ہے؟
کیا وہ ان کے دین کو پھیلانا چاہتا ہے یا یہ بتلانا چاہتا ہے کہ ہمارا دین ناقص ہے،
ایسے لوگوں سے ہم زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھنا چاہتے ہیں جو خود کے گھر کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے،
اے پیارے مسلمان! کیا تمھارے لیے کافی نہیں ہے کہ تمھارے رب نے فرما دیا:
ورضیت لکم الإسلام دینا(۲۰)
اور کیا تمھارے رب کا یہ فرمان کہ:
ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون(۲۱) تمھارے لیے مشعل راہ نہیں ہے۔
اے پیارے اسلامی بھائیو اور بہنو! کیا تمھارے نبی صلى الله عليہ وسلم کا فرمان کہ اللہ نے ان سب سے اچھے دو دن تمھیں تہوار منانے کے دیے ہیں(۲۲) تمھارے لیے کافی نہیں ہیں،
اللہ تعالی ہماری اصلاح کرے اور ہمیں سیدھے راستہ کی رہنمائی کرے اور ہمیں حق کو سمجھنے حق پر قائم رہنے اور برائی کو پرکھنے اور اس سے دور رہنے کی توفیق عطا کرے۔
مراجع
۱۔تهذيب اللغة للأزهري:۳/۸۴
۲۔غريب الحديث للخطابي: ۱/۹۶
۳۔اقتضاء الصراط المستقيم لابن تيمية:۱/۲۴۱
۴۔معجم مقاييس اللغة لابن فارس:۲/۲۵
۵۔النهاية في غريب الحديث لابن الأثير:۱/۳۲۷
۶۔تهذيب اللغة للأزهري: ۴/۸
۷۔المجادلة:۲۲
۸۔سنن أبي داود:۱۱۳۴،
۹۔فتح الباري شرح صحيح البخاري:۲/۴۴۲
۱۰۔الحج:۶۷
۱۱۔اقتضاء الصراط المستقيم لابن تيمية:۱/۵۲۸
۱۲۔صحيح البخاري: (معلقا)،
۱۳۔سنن أبي داود:۴۰۳۱(والحديث بمجموع طرقه حسن)
۱۴۔الطبقات الكبرى لابن سعد:۲/۷۶
۱۵۔روضة المحبين ونزهة المشتاقين:ص۳
۱۶۔مصنف عبدالرزاق:۱/۴۱۱،
۱۷۔السنن الكبرى للبيهقي:۹/۳۹۲،
۱۸۔المصدر السابق: حديث۱۸۸۶۳
۱۹۔صحيح البخاري:۹۵۲،
۲۰۔المائدة:۳
۲۱۔آل عمران:۱۰۲
۲۲۔تقدم تخريجه





