آج کل حرکات اور نقطوں کے بغیر کسی لفظ کو پڑھنا ہمارے لیے بہت مشکل ہے۔لیکن ایک زمانہ تھا جب عربی خطوط میں اس طرح کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی۔آپ ہاتھ کے لکھے زمانۂ قدیم کی کوئی تحریر دیکھیں غالبا آپ کو اس میں حرکات اور نقطے نظر نہیں آئیں گے۔بلکہ نویں صدی ہجری تک کی بہت ساری تحریروں میں آپ کو یہ معاملہ واضح طور پر نظر آئےگا،
شیخ عبدالسلام ہارون فرماتے ہیں:
قد يوجد في الخط القديم من إهمال النقط والإعجام،
(بسا اوقات قدیم خط میں نقطے نہیں ہوتے۔کتابت کے بعض ایسے رموز واشارات ہوتے ہیں جنھیں طویل مشق اور خاص لگاؤ کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا،
تیسری صدی ہجری تک کوفی خط کا رواج تھا۔شروع شروع میں اہل عرب کوفی خط میں نہ نقطے استعمال کرتے تھے اور نہ حرکات۔مرور ایام کے ساتھ حسب ضرورت ان چیزوں کا اضافہ ہوتا رہا۔قرآن کریم کے قدیم نسخوں میں اسے بآسانی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔قرآن کریم میوزیم میں ارشاد وتوجیہ کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے الحمد للہ ان نسخوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔
عربی خطوط میں نقطوں کی شروعات اعراب کے نقطوں سے ہوئی ہے،
اعراب کے ان نقطوں کی شروعات ابو الاسود الدؤلی رحمہ اللہ نے کی تھی،
اعجام کے نقطوں (مثلا: ب ت ث ج خ وغیرہ کے نقطے)کی شروعات اس کے بعد ہوئی ہے۔اسے عبدالملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف کی امارت میں نصر بن عاصم نے انجام دیا تھا۔اس لیے کسی قدیم ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر میں نقطہ کی تمییز ضروری ہے کہ کہیں وہ اعراب کا نقطہ تو نہیں۔
زبر زیر پیش وغیرہ کی موجودہ شکل خلیل بن احمد الفراہیدی رحمہ اللہ کی ایجاد ہے۔ڈاکٹر محمد التو نجی نے اپنی کتاب ’المنہاج فی تالیف البحوث وتحقیق المخطوطات‘ (ص ۱۵۵) میں قدرے تفصیل کے ساتھ ان اہم معلومات کو بیان کیا ہے۔
عربی خطوط کے اندر مذکورہ ترقی کو اسٹیپ بائی اسٹیپ میں نے ایک مختصر ویڈیو میں پریکٹیکل سمجھانے کی کوشش کی ہے۔یہ ویڈیو صرف ۹ منٹ دس سکنڈ کا ہے۔درج ذیل لنک سے آپ اس ویڈیو کو دیکھ سکتے ہیں:
ساتویں صدی ہجری کے بعد کی تحریروں میں خط ثلث،
اور فارسی خطوط مثلا تعلیق،
پرانے زمانے کی ہاتھ کی لکھی ہوئی عربی تحریروں کو پڑھتے وقت حرکات اور نقطوں کے ساتھ ساتھ املا کا قدیم طریقہ بھی پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔مثلا الف مقصورہ کے لکھنے میں عصر حاضر اور عصر قدیم میں کافی فرق ہے۔اسی طرح کاف اور طاء کا معاملہ ہے۔ایک ناتجربہ کار شخص قدیم تحریروں میں لفظ ’شرط‘ کو ’شرک‘ پڑھ سکتا ہے۔مغربی خط کا معاملہ اس سے بھی پیچیدہ ہے،
اندلسی خطوط میں حروف بالکل گول گول ہوتے ہیں،
اسی طرح بعض قدیم تحریروں میں سین مہملہ اور شین معجمہ کے مابین فرق کرنے کے لیے سین مہملہ کے نیچے تین نقطے رکھ دیتے ہیں۔
املا اور خطوط کے معاملہ کو آسان کرنے والی ایک بہترین کتاب ہے ’المَطَالِعُ النَّصرية للمَطَابِعِ المصريَّةِ في الأصُول الخَطيَّةِ‘ لنصر أبی الوفاء بن الشيخ نصر يونس الوفائي الهوريني الأحمدي الأزهري الأشعري الحنفي الشافعيّ (المتوفى:۱۲۹۱)۔اس کتاب کے مطالعہ سے ان شاء اللہ ایک حد تک املا اور خطوط کی بہت ساری مشکلات حل ہو جائیں گی۔لیکن صرف اسے پڑھنا کافی نہیں ہے۔اصل یہی ہے کہ قدیم تحریروں کو پڑھنےکی خوب پریکٹس کی جائے تب تجربہ سے اس میں مہارت پیدا ہوگی اور ان تحریروں کو پڑھنا ہمارے لیے ان شاء اللہ آسان ہو جائے گا۔





