جو لوگ اس وقت حالات کا رونا روتے ہیں یا لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں یاپھر قرض لینے اور ادا کرنے میں پریشان ہورہے ہیں ان کے لیے بہترہے کہ سامنے جو بھی کام نظر آئے اسے کسب رزق کا ذریعہ بنالیں خواہ وہ لکڑی ڈھونے،
ان دو وجوہات کی بناپر بہت سے لوگ معاشی پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں اور دردرکی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کمائی ہاتھ سے کمائی ہوئی ہے۔مقدام بن معدی کرب بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا:
ما اكل احد منكم طعاما احب الى الله عز وجل من عمل يديه(مسند احمد)
ترجمہ: تم میں سے کسی نے بھی ایسا کھانا نہیں کھایا جو رب تعالیٰ کو اس کے ہاتھوں کی کمائی سے زیادہ محبوب ہو۔
یہی روایت مذکورہ صحابی سے صحیح بخاری میں اس طرح مروی ہے،
ما أكَلَ أحَدٌ طَعامًا قَطُّ،
ترجمہ: کسی آدمی کے لیے اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہے کہ اپنے ہاتھ سے محنت کرکے کھائے اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے۔
اس حدیث سے اس بات کی ترغیب ملتی ہے کہ ہاتھوں کی کمائی شرف ومنزلت والی کمائی ہے کیونکہ یہ انبیاء کا پیشہ ہے اور اللہ کو محبوب ہے۔بھلائی کاایسا کوئی کام جسے اللہ پسند کرتا ہو اور نبیوں نے اختیار کیا ہوکبھی حقیر ہوسکتا ہے یا اس کے کرنے میں عار محسوس کی جاسکتی ہے؟ نہیں،
اسلام نے حلال وطیب رزق کمانے اور کھانے کی ترغیب دے کر اس پر شکرگزاری کا حکم دیا،
فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ(النحل:۱۱۴)
ترجمہ: جو کچھ حلال اور پاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اُسی کی عبادت کرتے ہو۔
اور نبی ﷺحلال روزی میں سب سے پاکیزہ روزی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
ما كسبَ الرَّجلُ كَسبًا أطيبُ من عملِ يدِه وما أنفقَ الرَّجلُ على نفسِه وأهلِه وولدِه وخادِمِه فهو صدَقةٌ(صحيح ابن ماجہ:۱۷۵۲)
ترجمہ: آدمی کی کوئی کمائی اس کمائی سے بہتر نہیں جسے اس نے اپنی محنت سے کمایا ہواور آدمی اپنی ذات،
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حلال روزیوں میں ہاتھوں کی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے اس لیے اپنے دونوں ہاتھوں کو محنت ومزدوری کے کسی کام میں لگانے میں شرم محسوس نہیں کرنا چاہیے۔انسانوں میں سب سے افضل طبقہ انبیاء کا ہے ان سب نے بکریاں چرائیں،
ما بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إلَّا رَعَى الغَنَمَ،
ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے پوچھا کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ فرمایا ہاں! کبھی میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کی تنخواہ پر چرایا کرتا تھا۔
موسی علیہ السلام کے بارے میں قرآن شاہد ہے کہ انھوں مدین کے بزرگ کے یہاں (دس سال) بکریاں چرائیں۔بکری چرانے کے علاوہ انبیاء کے متعلق مختلف قسم کے ہاتھ والے پیشے کی صراحت ملتی ہے۔نوح علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے تھے،
لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ،
ترجمہ:تم میں سے کوئی بھی اگر (ضرورت مند ہو تو) اپنی رسی لے کر آئے اور لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے۔اور اسے بیچے۔اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی عزت کو محفوظ رکھ لے تو یہ اس سے اچھا ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے،
حالات جس قدر بھی خراب ہوجائیں یہ حدیث سبق دیتی ہے کہ گزربسر کے لیے کوئی کام نہ ملے تو لکڑی اٹھانے اور بیچنے کا کام ہی کرلیاجائے لیکن کام چور بن کر لوگوں سے بھیک نہ مانگی جائے۔لکڑی کی مثال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس یہی کام کیا جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ حلال اور پاکیزہ روزی کے لیے محنت در محنت اور کڑی سے کڑی مشقت اٹھانی پڑے گھبرانا نہیں چاہیے۔محنت کرکے حلال روزی ہی کھانی چاہیے۔دین اسلام عمل وکردار کا نام ہے،
إنْ قامَتِ السَّاعةُ وفي يدِ أحدِكُم فَسيلةً فإنِ استَطاعَ أن لا تَقومَ حتَّى يغرِسَها فلْيغرِسْها(صحيح الأدب المفرد:۳۷۱)
ترجمہ:اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا سا پودا ہو اور اگر وہ اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ قیامت قائم ہونے سے پہلے اسے لگا لے گا تو اسے ضرور لگانا چاہیے۔
دھیان سے اس حدیث پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلام نے کس قدروقت کو اہمیت دی ہے اور کس قدرقلیل وقت میں بھی عمل کرنے کی ترغیب دی ہے بلکہ درخت لگانے کا ذکر زراعت کی اہمیت اور اسے بطور پیشہ اختیار کرنے کی طرف اشارہ کناں ہے۔صحیح بخاری میں صراحت کے ساتھ مسلمانوں کے لیے زراعت کاذکر ہے۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما مِن مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا،
ترجمہ:کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے،
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اپنی معاشی حالت درست کرنے کے لیے قطع نظر اس سے کہ سماج کیا کہے گا یا سماج کی نظر میں کون سا پیشہ محترم ہے آپ اپنے ہاتھوں سے جو کام کرسکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ہمت جٹاکراللہ پر توکل کرتے ہوئے اس کام میں لگ جائیں۔ہاتھوں سے متعلق سیکڑوں کام ایسے ہیں جن میں ڈگری اور ہنر کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف محنت چاہیے۔میرے کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ تجارت نہ کریں یا آپ ترقی یافتہ اقتصادی شعبوں سے نہ جڑیں بلکہ اس مضمون کے ذریعہ ان مایوس بھائیوں کو دلاسہ دینا اور عمل کی طرف راغب کرانا چاہتا ہوں جویہ کہتے ہیں میرے پاس کوئی کام نہیں ہے۔آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں چاروں طرف کام ہی کام ہے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں کام کرنا نہیں چاہتا۔ابن الجوزی نے تاریخ عمربن الخطاب میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص مجھے پسند آتا اس کے بارے میں پوچھتا کہ اس کے پاس کوئی کام ہے،
کام آپ کے پاس آپ کے ہاتھ میں ہے،





