الحمد للہ رب العالمین،
محترمی ومکرمی حضرت مولانا سجاد نعمانی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امیدہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے،
فیس بک پر مجھے آپ کا ایک خطاب بعنوان’’برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے علماءکرام کی خدمت میں ایک طالب علمانہ گزارش‘‘سننے کا موقع ملا،
خطاب کے آغاز میں آپ نے اپنے والد ماجد مولانا محمد منظور نعمانی کی تاريخ ساز،
پھر آپ نے برسر اقتدار سعودی حکومت کی خارجہ پالیسیوں اور بيرونی منصوبوں میں غير معمولی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے كہا:
یہ ہے وہ سعودی حکومت جس کی موجودہ خارجہ پالیسیوں کے بارے میں نت نئے انکشافات روزانہ سامنے آرہے ہیں۔(مولانا سجاد نعمانی کا خطاب8:30)
آپ کے بقول:اب یہ خبریں آ رہی ہیں كہ وہ (موجودہ سعودی حکمران ) بر صغیر کے بعض علاقوں میں شیعوں کے خلاف مسلح جد وجہد کے ليے سنی علما کو آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہاں تک کہ اس کے ليے ان طاقتوں سے معاہدے بھی کررہے ہیں۔اور اللہ کرےیہ خبر غلط ثابت ہوجائےکہ جن سے مقابلے کی فوج کی انھیں قیادت کرنی چاہیے۔(مولانا سجاد نعمانی کا خطاب 11:20)
محترمی!
آپ بخوبی واقف ہیں کہ باطل پرست عناصر آج کس مكاری وعیاری سے میڈیا وديگر ذرائع ابلاغ کا غلط استعمال کررہے ہیں اور کس برق رفتار ی سے بیشتر مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہےہیں،
حیرت ہے کہ آپ نے اس بھونڈی اور بے بنیاد خبر کو در خور اعتنا سمجھا کہ امت کو اس کی سنگینی وخطرناکی پر تنبیہ کی ضرورت پڑ گئی ہے۔
اگر واقعتاً اس خبر میں ذرہ برابر بھی صداقت ہوتی تو سعودیہ خود اپنی حکومت کے حدود میں موجود رہائش پذیر شیعہ کے ساتھ بھی وہی نا روا سلوک کرتاجس کاذکر آپ کی موہوم ومزعوم خبرپر خطر،
اور یہ بھی يكسر بعيد از عقل ہے کہ فوجی كارروائی کے ليے سعودی حکومت اپنے ملک کے علماء کرام سے تو بے نیا ز ہوجائے اور ديگر ممالک کے بيرونی علما کی خدمت کا محتاج ہوجائے؟اور اس سے بھی زياده اچھنبے كی بات تو یہ ہے کہ مسلح جد وجہد کے ليے علماء کرام کا سہارا لیا جائے؟
اور مجھے افسوس صد افسوس ہےکہ ایران جیسی ظالم وجابر حکومت جس نے شام،
حرمین شریفین کی پاک سرزمین اور اس کی بے لوث خدمات کی سعادت مند حکومت کے تئيں بلا تحقیق وبغيرثبوت ایسی كھوٹی بلكہ سراسر جھوٹی اور نا قابل یقین خبر شائع کرنا یقیناً بڑے خطرناک اور سنگین نتائج کا باعث ہو سکتا ہے۔اس افواه اوراس کے نتائج كے متعلق آپ سے عند اللہ ضرور بازپرس ہوگی،
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ [الحجرات: 6]
مولانا محترم!
آپ نے اشارہ کیا كہ سعودیہ كا 35 سالہ طویل عرصہ شیعہ کے ليے غير معمولی تبدیلی کا رہا،
اس میں کوئی شک نہیں کہ شیعہ کے تعلق سے-آپ کے والد ماجدمولانا منظور نعمانی کی وفات کے بعد سے تا ہنوز-جو غیر معمولی تبدیلی آپ کی فکر ونظر میں در آئی ہے وہ تو آپ کے اس خطاب سے عالم آشکار ہے۔آپ نے شیعان دوراں کے حوالے سے اپنی نئی فکر کو درست قرار دينے کےليے دو تمہیديں باندھی ہيں:
ایک تو یہ کہ والد محترم نے شیعہ کے بارے میں اپنی طرف سے کسی تبصرے یا اظہار خیال سے حتی الامکان گریز کیا۔آپ نے اپنے خطاب میں فرمايا:
اس کتاب میں خمینی صاحب کے افکار ونظریات،
پھر آپ نے اپنی فکر ونظر کی اس تبدیلی کو صحیح ثابت کرنے کے ليے اپنے اکابر واسلاف کا سہارا لیا اور فرمایا:
ہم نے اکابر واسلاف کی ایک خصوصیت یہ بھی دیکھی کہ وہ امت کی رہبری اپنے ذوق ومزاج کی روشنی میں نہیں بلکہ بدلتےحالات،
چليے ہم نے مانا کہ دین میں ثوابت واصول کے علاوه بعض مسائل کے احکام حالات کے پيش نظر كبھی كبھار بدل سكتے ہيں تاہم يہ سوال تو ا ٹھتا ہے کہ کیا آپ کے والد ماجد نے خمینی صاحب کے افکار ونظریات،
آپ کے والد ماجد مولانا منظور نعمانی نے خمینی،
ا۔وہ (خمینی)پوری صراحت کے ساتھ ائمہ کو انبیاء ورسل اور ملائکہ سے افضل قرار دیتے ہیں بلکہ انھیں صفات الوہیت کا حامل بھی مانتے ہیں۔
ب۔خمینی صاحب صحابۂ کرام بالخصوص خلفاء ثلاثہ کے بارے میں انتہائی گھناؤنی اور ناپاک رائے رکھتے ہیں،
اور شیعیت کے بارے میں فرمايا:
شیعیت،
اور پھر آخر میں فرمايا:
بہر حال ہمارے جن بھائیوں سے خمینی صاحب کے بارے میں غلطی ہوئی جو یقیناً سنگین غلطی تھی،
مولانا!
اب آپ ہی بتائیں کہ کیا اتنی وضاحت وصراحت کے بعد بھی آپ کے والد ماجد کے متعلق یہ کہنا درست ہوگا کہ آپ نے شیعہ،
پھر آپ نے مولانا محمد انوری رائے کوٹی صاحب کی معرفت ووساطت سے ان کے استاذ گرامی مولانا انورشاہ کشمیری کا قول بحوالۂ کتاب " مجالس حضرت رائے پوری "نقل کیا:
مسلمان اور عیسائی آپس میں لڑتے رہیں گے،
پھر آپ نے مولانا عبید اللہ سندھی کا قول بھی نقل کیا کہ آپ نے فرمایا:
ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ تمام دنیا اسلام پرمتفق ہوجائے گی اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ عیسائیوں کے اسلام پرمتحد ہونے کے ليے کسی ایسی ہستی کا ظہور ہو جس کو عیسائی مانتے ہوں اور وہ اسلام کی دعوت عیسائیوں کو دیں گےاور شیعہ فرقے کو متحد کرنے کے ليے بھی کسی ایسی ہستی کے ظہور کی ضرورت ہے جسے شیعہ بھی مانتے ہوں اور وہ ان کو اہل سنت مسلمانوں سے متحد کردیں گے،
پھر آپ نے بتایا کہ آپ کو یقین ہوچلا ہےیہ وقت آکر رہے گا اور یہ عظیم اتحاد،
آپ نے عیسی علیہ السلام اورمہدی کے ظہور کے وقت کو قریب سے قریب تربتاکر امت کے نام ایک پیغام دیا جو غالباً اس خطاب سے اصل مقصود ہے،
اس ليے اس پہلوکا،
اور دوسری طرف حدود وقیودکا خیال رکھتے ہوئے اپنے اپنے حلقے اور مکتب فکر سے وابستہ مردو خواتین،
ميری دعابھی یہی ہے کہ سارےاختلافات ونزاعات اور الزامات وخدشات ختم ہوں اور سب كے سب حق پر متفق ہو جائیں۔لیکن کیا میں سوال کرسکتا ہوں کہ اس طرح كی ذہن سازی سے آپ كا منشا كيا ہے؟جس کی طرف اشاروں ہی اشاروں میں آپ نےدعوت دی اوررضاکارانہ طور پر اسے دہراتے ہوئے كہا کہ آپ میرے اشارے کو سمجھ رہے ہوں گے؟
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ اتحاد امت کے ليے یہ دعوت ِذہن سازی كيا صرف یک طرفہ عمل ہے؟ یا طرف ثانی اور مد مقابل کو بھی آپ نے اس کی دعوت دی ہے؟
اور تیسرا سوال یہ ہے کہ جس طرح عیسی علیہ السلام کےنزول کے بعدنصاری اسلام میں داخل ہوجائیں گے،
اس میں دو رائے نہیں کہ ُاس وقت ساری دنیا جس راہ حق پرمتحد ہوگی یہ وہی اسلام ہوگا جو قرآن وسنت رسولﷺ كا ترجمان اور جوصحابہؓ اور سلف صالحین کا طرہ امتیاز رہا ہے۔اور اگر بات ایسی ہی ہے توظہورمہدی کی تیاری کی اصلی صورت تو یہ ہوني چاہیےکہ آپ اب اپنی ساری جد وجہد کا مرکز ومحور ایران کو بنا دیں اور انھیں حقیقت اسلام سے آگاہ کریں تاکہ امت متحد ہوجائے۔
میں یہاں سردست مزید تین باتیں ذکر کردینا مناسب سمجھتا ہوں:
(۱)موجودہ حالات میں آپ کی اس دعوت اتحاد کا مقصد اگر وطن عزيز میں موجود فرقہ پرستی کی بنیادوں پر نفرتیں پھیلانے والوں کے خلاف انسانيت نواز امت کی یک جہتی،
اور اس حل کے ليے ہمارے روبرو سنت وسيرت سے بہترین مثال ہے،
لقد شهدت في دار عبد الله بن جدعان حلفا ما أحب أن لی بها حُمُرَ النَّعَم ولو أدعى به في الإسلام لأجبتُ
ترجمہ: میں نے عبد الله جدعان كے باڑے/ صحن دار مكانات میں جاری ایک ایسے معاہدہ ٔاتحاد میں شركت كی جس کے عوض میرے يہاں سرخ اونٹ بھی عزیز نہیں اور اگر اسلام میں بھی ایسے معاہدۂ اتحاد کی دعوت دی جائے تو میں ضرور شرکت کروں گا۔
لیکن كيا اس دعوت اتحاد کا مقصد وہی ہے جو سیریا،
آپ کے والد ماجد مولانا منظور نعمانی خمینی کی ولایت فقیہ کے نظریہ پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
جہاں تک ہمارا مطالعہ اور ہماری اطلاع ہے انھوں نے اپنی اس حیثیت پر پردہ ڈالنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی اور ان کی اس حیثیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ پورے عالم اسلام بلکہ ساری دنیاکو اپنے زیر حکومت اور تحت اقتدار لانے کی جد وجہد کریں۔(ایرانی انقلاب ص 32)
اور خود آپ نے اپنے اس خطاب میں فرمایا:
والد ماجد مولانا منظور نعمانی قدس اللہ سرہ کو اپنے طویل مطالعے کی وجہ سے یہ یقین ہوگیا تھا کہ خمینی صاحب اور ایرانی قیادت حرمین شریفین پر قبضہ کرنے کی کوشش لازماً کرےگی۔(مولانا سجاد نعمانی کا خطاب 7:22)
آپ ذرا غور کریں اور امت کو یہ بتائیں کیا اس دعوت کا مقصد واقعی اتحادواتفاق پیدا کرنا ہے؟
(۲)میں یہاں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ دعوت اتحاد وتقریبِ سنی اور شیعہ کو بعض عرب علما خصوصاً ایک مکتب فکر سے منسلک علما نےخوب آزمایا،
اس کی ایک بڑی زندہ مثال علامہ یوسف القرضاوی کی معروف شخصیت ہے جنھوں نے مسلسل دس سال تک سنی اور شیعہ کو قریب لانے کی انتھک کوشش کی پھر جب تہران کے حکمرانوں کے سامنے تین درخواستیں رکھیں:
۱۔شيعہ سنیوں کو تہران میں اپنی مساجد بنانے کی اجازت دیں۔
۲۔شيعہ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کے قاتل ابو لؤلؤ المجوسی کے مزار کو ختم کردیں اور اس کی تعظیم و تکریم کرنا چھوڑ دیں تاکہ سنیوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔
۳۔شيعہ اپنی کتابوں اور میڈیا میں صحابۂ کرام کو لعن طعن اور برا بھلا کہنے سے گریز کریں۔
تو ایران نے ان تینوں درخواستوں كو يك لخت مسترد کردیا،
کئی سالوں سے میں تقريب بين المذاهب فرقوں کے مابین اجتماعیت کا مطالبہ کرتا رہا ہوں اور میں نے سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں ایران کا سفربھی کیا اوراس تناظر میں زور دیا کہ یہ متعصب اور متشدد لوگ ایران میں سنیوں کو کھا لينا چاہتے ہیں ليكن ان شيعوں نے مجھے اور مجھ جیسے بہت لوگوں کو بےوقوف بنایا۔اور کہاكرتےتھے کہ وہ مختلف فرقوں کو اکٹھا کر کے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرنا چاہتے ہیں۔
میں سعودی عرب کے كبار مشايخ کے خلاف ایک زمانے تک نبرد آزما تھا اور برسوں پہلے حزب اللہ کی حمایت کا مطالبہ کررہا تھا،
ڈاکٹر وہبہ الزحیلی نے کہا کہ یہ تو سراسر آنکھوں میں دھول جھونکناہے اور اس کا مقصد سنیوں کو شیعہ بنانا ہے۔
اور علامہ محب الدین الخطیب نے فرمایا:
سارے مسلمان تخریب کاری کے مرکز سے علیحدہ ہو گئے،
اکابر دیوبند کی بہت ساری شہادتیں اس سے ملتی جلتی ہیں:
علامہ علی شیر حیدری کا فتوی ہے کہ شیعہ کے ساتھ اتحاد مداہنت فی الدین ہے۔
بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی کو ایک بار اہليان علی گڑھ نے اپنی کسی تعلیمی کمیٹی کے اجلاس ميں دعوت دی تو انھوں نے دعوت محض اس بنیاد پر ٹھکرادی کہ اس اجلاس میں ہم اس ليے شریک نہیں ہو سکتے كيوں کہ اس میں ایسے لوگ بھی آرہے ہیں جو شیعہ کے ساتھ نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
عطاء اللہ شاہ بخاری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے شیعہ سے اتحاد کیا،
حيف صد حيف کہ علماءعرب وعجم نے اس پرفريب اتحاد وتقریب کا دسیوں سال تجربہ کرليا اور بالآخر اسےمحض ایک دھوکے سے تعبیر کیا،
۳۔تیسری اور آخری بات عرض کردوں کہ شیعہ کے خودساختہ مہدی اور سنیوں کی احاديث ميں بيان كرده مہدی میں زمین آسمان کا فرق ہےجيسے:
(۱)سنیوں کےمہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہے جب کہ شیعہ کا مہدی منتظر محمّد ابن الحسن العسكری ہے۔
(۲)شیعہ کا مہدی جب آئے گا تو شیخین ابو بکروعمر ؓکو قبروں سے نکالے گا،
آپ ہی بتائیں كہ جب شيعہ كےمنظور نظرمہدی موعود ومنتظر ہی اختلاف كی نذر ہے تو کیا شیعہ اب بھی آپ سے اور آپ شيعہ سے اتحاد کے ليے تیار ہوں گے؟ جب كہ بعض فتنہ پرور اس پرفتن دور ميں سنیوں کا لَبادہ اوڑھ کر صحابہ ؓکے بارے ميں طعن وتشنيع اورفتنہ انگیزی ميں مشغول ہيں،
مولانا محترم!
الله نے آپ کے والد ماجدكے ذريعے 35 سال قبل لاكھوں لوگوں كو فتنۂ خمينيت سے بچاليا،
قبل از اختتام كلام آں محترم سے بطور مخلصانہ گزارش دو اقتباسات نقل کرنا عين مناسب سمجھتا ہوں:
(۱)آپ کے والد ماجدکی کتاب پر لکھا مولانا سید ابوالحسن ندوی کا مقدمہ جس ميں انھوں نے فرمايا:
حقیقت میں اسلام کی حقیقی تعلیم اور صحیح عقیدہ وہ دریا ہے جو کہ کبھی اپنا رخ نہیں بدلتا اور کبھی پایاب نہیں ہو سکتا۔سیاسی طاقتیں،
اس ليے فساد عقیدہ اور زیغ وضلال کے ساتھ کوئی دعوت و تحریک،
یہ وہ حقیقت ہے جس میں اس ملت کی بقا اور دین کی حفاظت کا راز مضمر ہے،
(۲) آپ کے والد ماجدکی کتاب ایرانی انقلاب کے آخری صفحے سے پیش خدمت ہے،
اس کتاب میں آپ نے شیعہ اثناعشریہ کی مستند ترین کتابوں اور ان کے مسلَّم علما ومجتہدین کی واضح تصریحات کی روشنی میں ملاحظہ فرمایا کہ ان کے اساسی عقیدۂ امامت کی حقیقت کیا ہے،
شاعر مشرق نے كيا ہی خوب كہا:
ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
ساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم
اللہ سے دعا گو ہوں کہ الہ العالمین ہم سب کو توحید وسنت اور منہج سلف امت پر جمع کردے:
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ[آل عمران: 8]





