کورونا وائرس کے پیدا کردہ سنگین مسائل میں ایک مسئلہ لوگوں کی محتاجگی میں شدید اضافہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ جہاں لوگ وبائی مرض کا شکار ہوکر بڑی تعداد میں دم توڑ رہے ہیں وہیں کثرت سے اموات بھوک وتنگی کی وجہ سے ہورہی ہیں۔یہ اس وقت کا انتہائی سنگین مسئلہ ہے،
ہم نے رمضان کی مبارک ساعات لاک ڈاون میں گزاریں،
فتوی سے ہٹ کر یہ بحث لوگوں میں بھی عام ہے کہ ان دنوں قربانی کی جگہ اس کی قیمت محتاجوں پر صدقہ کرنا کیسا ہے؟
قربانی کا دوسرا کوئی بدل نہیں ہے،
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمھارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔اسی طرح اللہ نے جانوروں کو تمھارا مطیع کردیا ہے کہ تم اس کی راہنمائی کے شکریے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا مقصد جانور ذبح کرکے اللہ کا تقرب حاصل کرنا اور اپنے اندر پرہیزگاری پیدا کرنا ہے۔اس آیت سے تین آیت پہلے اللہ نے یہ بھی کہا ہے"وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا"
کہ ہم نے ہر امت میں منسک(قربانی) مقرر کیے اور منسک کہتے ہیں اللہ کے تقرب کے لیے جانور ذبح کرنا اسی لیے آگے چویایوں (بهيمة الأنعام) کا ذکر ہے۔
قربانی عبادت ہے اور عبادت توقیفی ہوتی ہے،
ترجمہ: جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی اس کی قربانی صحیح ہوئی لیکن جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرے وہ نماز سے پہلے ہی گوشت کھاتا ہے مگر وہ قربانی نہیں۔
اس حدیث نے بالکل واضح کردیا کہ قربانی اسی صورت میں پیش کی جائے گی اور اللہ کے یہاں مقبول ہوگی جو رسول اللہ کی سنت کے مطابق ہوگی۔ورنہ وہ قربانی نہیں جانور کا گوشت ہے جیسا کہ ایک صحابی نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی تو آ پ نے کہا: "شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ"
کہ تمھاری بکری گوشت کی بکری ہوئی۔
ذرا اندازہ لگائیں کہ قربانی میں جب معمولی وقت کی تقدیم وتاخیر نہیں کرسکتے ہیں تو اس کی قیمت ادا کرنا قربانی کیسے کہلائے گی؟ کورونا وائرس جیسے محتاجگی کے وقت بھی قربانی کی قیمت ادا کرنا قربانی نہیں ہوگی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی تنگی کا موقع آیا لیکن آپ نے قربانی کے موقع پر اس کی قیمت صدقہ کرنے کو نہیں کہا،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَن ضَحَّى مِنكُم فلا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثالِثَةٍ وبَقِيَ في بَيْتِهِ منه شيءٌ فَلَمَّا كانَ العامُ المُقْبِلُ،
ترجمہ: جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں)۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ،
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قربانی میں جانور ذبح کرنا ہی مقصود ہے لہذا جن کو اللہ نے قربانی کی وسعت دی ہے وہ سنت کے مطابق جانور کی قربانی کریں۔جہاں تک کورونا وائرس کے مسائل کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں:
پہلے جو لوگ ایک فیملی کی طرف سے کئی کئی قربانی کرتے تھے وہ امسال پورے گھرانہ کی طرف سے ایک ہی جانور کی قربانی کریں،
کچھ لوگ بڑے جانور میں کئی کئی حصے لیتے ہیں وہ امسال ایک ہی حصہ گھر کے سرپرست کی طرف سے لیں اور باقی پیسوں کو صدقہ کردیں۔
میت کی طرف سے قربانی مشروع نہیں ہے پھر بھی بہت سے لوگ میت کی طرف سے قربانی کرتے ہیں ان لوگوں سے گزارش ہے کہ میت کی طرف سے مالی صدقہ کریں اور کورونا سے متاثر افراد کی مدد کریں۔
اگر آپ قربانی کرکے اس کا سارا گوشت محتاجوں میں تقسیم کردیتے ہیں تو بھی آپ کی قربانی صحیح ہے حتی کہ آپ اپنی قربانی دوسرے محتاج کو دے سکتے ہیں یا دوسری جگہوں پر بھی بھیج سکتے ہیں تاکہ وہ آپ کی قربانی کے گوشت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
جو لوگ ہرسال قربانی کرتے تھے مگر امسال قربانی دینے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں انھیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے،
وقتی محتاج اس محتاجگی کے دور میں قرض لے کر قربانی کرسکتے ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ قرض کی ادائیگی آسان ہو۔
محتاجوں کی مدد کرنا ایک الگ چیز ہے اور قربانی کرنا ایک الگ چیز ہے۔قربانی کے ذریعہ بھی ہم محتاجوں کی مدد کرسکتے ہیں جس کا ذکر اوپر ہوا ہے اور نفلی وواجبی صدقات کے ذریعہ بھی مدد کرسکتے ہیں لیکن تعاون کے لیے قربانی کی صورت بدل نہیں سکتے ہیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس عالمی وبا سے نجات دے،





