ایک عرصے سے میری خواہش تھی کہ میں اپنے استاد و مرشد ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب کی شخصیت کے بارے میں کچھ لکھوں مگر میرے قلب و ذہن میں ہمیشہ یہ کشمکش رہی کہ ان کی شخصیت کے کس پہلو پر قلم اٹھاؤں کیونکہ ان کی شخصیت کے بہت سارے پہلو ہیں مثلا:
ڈاکٹر شمس کمال انجم بحیثیتِ شاعر:
سوچا تھا ان کی شاعری کو اپنا موضوع بناؤں،
ڈاکٹر شمس کمال انجم بحیثیتِ مترجم:
ڈاکٹر شمس کمال انجم کی شخصیت کی یہ جہت بھی کافی عرصے تک میرے ذہن میں تھی۔میں چاہتا تھا دورِ حاضر کے ایک ایسے بڑے مترجم پر اپنے خیالات کا اظہار کروں جس نے عربی ادب کا ایک بہت ہی بڑا ذخیرہ اردو ادب میں منتقل کرنے کا شرف حاصل کیا ہے۔آپ کی ترجمہ کردہ کتابیں مثلا جدید عربی ادب،
لہذا میں نے سوچا کہ ایک ایسا شخص جس نے کسی کتاب کا ترجمہ نہ کیا ہو اتنے بڑے مترجم پر جسے یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا اردو ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی طرف سے سید سلیمان ندوی ایوارڈ برائے ترجمہ نگاری تفویض ہوا ہو کیا لکھے اور کیسے لکھے۔اس لیے میں نے اس موضوع پر لکھنے کا خیال چھوڑ دیا۔
ڈاکٹر شمس کمال انجم بحیثیت اسکالر:
پھر میں نے سوچا کہ میں ایسے اسکالر پر لکھوں جس نے عربی اور اردو میں اتنا ریسرچ کا کام کیا ہے کہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کی طرف سے اسے ممتاز محقق ایوارڈ برائے 2017 تفویض کیا گیا۔آپ کی عربی زبان میں سب سے بہترین تحقیقی کتاب "الطبقات الکبری لابن سعد: دراسۃ تحلیلیۃ" قابل ذکر ہے جو لبنان سے شائع ہوئی ہے۔اس کے علاوہ اردو زبان میں آپ کی کتاب 'جدید عربی شاعری،
ڈاکٹر شمس کمال انجم بحیثیت صدر شعبۂ عربی:
اس موضوع کے ساتھ اگرچہ میں کم و بیش انصاف کر سکتا تھا کیونکہ میں خود شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے متعلق اس وقت سے واقف ہوں جب کہ یہ شعبہ اس بچے کی مانند تھا جو ماں کی گود میں دودھ پیتا ہو اور اس کی کمزوری کا عالم یہ تھا کہ بہت کم امید کی جاتی تھی کہ یہ کبھی چل پائے گا مگر پھر 2009ء میں ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب اس کشتی کے ناخدا بن کر 20،
بہت کوشش کے بعد میں نے اس موضوع پر لکھنا چاہا مگر پھر خیال ہوا کہ اس موضوع پر لکھنے کا حق آپ کے کسی کلیگ کو ہی ہوسکتا ہے کیونکہ ان پر شعبہ کا اندرون اور بیرون مجھ سے زیادہ عیاں ہے،
ڈاکٹر شمس کمال انجم بحیثیت استاد:
فقط اسی موضوع کے لیے میں نے اپنے آپ کو موزوں پایا کیونکہ ایک شاگرد کو اپنے استاد کے بارے میں لکھنے کا بہرحال حق ہے۔یہ موضوع اختیار کرنے میں مجھے آپ کے اخلاق نے مجبور کر دیا۔مجھے یاد آتا ہے وہ دن جب کالجوں کے لیے اسسٹنٹ پروفیسر کی پوسٹ پر میرا تقرر نہیں ہوا تو رزلٹ آنے کے بعد سب سے پہلا کال مجھے آپ ہی کے نمبر سے آیا اور آپ میرے رنج و غم میں شریک ہوئے۔اس وقت آپ کی نصیحت یاد آئی کہ ارشد! میں نے کہا تھا کہ پی ایچ ڈی کی تکمیل پر ہی یونیورسٹی سے رخصت ہونا۔صرف ایم فل کافی نہیں ہے۔لو آج تم وہی پی ایچ ڈی نہ ہونے کی وجہ سے ڈراپ ہوگئے۔پھر آپ نے فرمایا آج کل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے فارم نکلے ہوئے ہیں۔اپلائی کرو گے؟ میں نے کہا میں مشورہ کروں گا۔آپ نے کہا آخری تاریخ ختم ہونے والی ہے۔"ہاں یا نہ" میں جواب دو۔میں نے کہا ہاں۔پھر رابطہ منقطع ہوگیا۔اور میں نے اپلائی بھی نہیں کیا اور ایک مہینے کے بعد مجھے یونیورسٹی سے کال آتا ہے کہ آپ کا وائیوا ہے۔میں حیران ہوا کہ وائیوا کس چیز کا ہے؟ بتایا گیا پی ایچ ڈی ایڈمیشن کا ہے میں نے کہا میں نے اپلائی نہیں کیا۔بتایا گیا شمس سر نے خود آپ کا فارم بھردیا تھا اور فیس بھی آپ نے خود بھر دی تھی۔آپ کے ڈاکومنٹس ایم فل فائل سے نکال کر لگادیے تھے اور آپ کا فوٹو فیس بک سے نکالاتھا۔تو اس وقت میں نے جانا کہ ایک اعلی استاد کی شان کیا ہوتی ہے۔وہ ہر حال میں اپنے طلبہ کا بھلا چاہتا ہے اور ہر حال میں محبت و شفقت سے پیش آتا ہے۔
میں اسی وقت چاہ رہا تھا کہ آپ کے اعلیٰ اخلاق اور اعلی کردار پر ایک مضمون لکھوں مگر پھر ڈر ہوا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اپنے گائیڈ کو خوش کرنے کے لیے لکھتا ہے۔لیکن آج جبکہ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے اور میرے اساتذہ اور والدین کی دعاؤں سے مجھے لیکچررشپ کے منصب پر فائز کر دیا ہے تو اگر اب میں آپ کی شخصیت پر قلم اٹھاتا ہوں تو میرے اخلاص پر انگلی نہیں اٹھ سکتی۔
مجھے یاد آتا ہے۔ہم لوگ ایم فل کے طالب علم تھے۔وہ ہمیں پہلے سمسٹر میں ریسرچ میتھاڈولوجی پڑھاتے تھے۔انھوں نے ہم لوگوں میں عربی اور انگریزی کا شوق پیدا کرنے کے لیے کلاس میں کبھی اردو میں بات نہیں کی۔ہم لوگ بھی سوال وجواب عربی اور انگریزی میں کرتے تھے۔جس سے ہم لوگوں کی زبان بہت صاف ہورہی تھی۔اس کے علاوہ انھوں نے یہ شرط بھی لگادی تھی کہ ان کے پاس یا ان کے دفتر میں جو بھی جائے گا وہ عربی میں بات کرے گا۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم لوگ جملے بناکر ان کے پاس جایا کرتے تھے۔اس طرح انھوں نے ہم لوگوں میں عربی کا شوق پیدا کیا اور بولنے کی مشق کرائی۔
مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میں یونیورسٹی کے ہاسٹل میں بیٹھا ہوا تھا۔عشاء کی اذان ہو رہی تھی۔میں وضو کرکے ہاسٹل سے باہر نکلا اور مسجد کی طرف نماز پڑھنے کے لیے چل دیا۔اچانک میری نظر عربی ڈپارٹمنٹ پر گئی۔میں دور سے دیکھ رہا تھا کہ آفس میں بجلی جل رہی ہے۔میں نے سوچا کہ آفس والے آج بجلی بند کرنا بھول گئے۔میں نے فون اٹھا کر شمس صاحب سے بات کی۔سر آفس والے آج آفس کی بجلی بند کرنا بھول گئے۔تو آپ نے جواب دیا کوئی بھولا نہیں،
اس وقت میں نے یہ محسوس کیا "ومن طلب العلٰی سہر اللیالی" بلندیوں کو چھونے والے راتوں کو جاگا کرتے ہیں۔صبح 8 بجے سے شام کے 10 بجے تک کام کرنے والی یہ شخصیت کبھی کاہلی اور سستی کا شکار نہیں ہوتی بلکہ ہر وقت سرگرم اور متحرک رہتی ہے۔یہی ہے ایک بہترین استاذ کی نشانی۔
شمس صاحب کی شخصیت پر بہت لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے مگر ان کی تحریروں کا سرچشمہ شمس صاحب کی کتابیں ہیں جن کا مطالعہ کر کے انھوں نے آپ کے متعلق اپنی آراء قلمبند کی ہیں مگر میری آراء ان سے کچھ مختلف ہیں۔میں نے ان چشم دید حقائق کا انکشاف کیا ہے جو لوگوں سے مخفی ہیں۔یہ حقائق آپ کو ایک استاد ہونے کے ناطے آپ کی سیرت کو جِلا بخشتے ہیں۔
آپ کے طلبہ کیسے ان چیزوں کو بھول سکتے ہیں کہ آپ خود ان کو سیمینار اور کانفرنس میں شرکت کے لیے تیار کرتے ہیں۔کبھی تحریری طور پر تو کبھی تقریری طور پر۔سیمینار اور کانفرنس میں اسٹیج پر بڑی بڑی شخصیات کے سامنے ان کی بڑی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اسی حوصلہ افزائی سے آپ نے ان کے اندر علم و ادب کا ایک جنون و جذبہ پیدا کیا ہے جس جنون اور جذبے کا پھل آپ آج کل خود محسوس کر رہے ہیں کہ آپ کے طلباء بڑے بڑے منصبوں پر فائز ہوکر تحریری اور تقریری طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔یہ میرے نزدیک ایک بہت بڑی کامیابی ہے اس شخص کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودوں کو پھل دار درخت کی شکل میں دیکھتا ہے۔
یہ جو کچھ میں نے شمس سر کی بحیثیت استاد پرسونا پر لکھنے کی جرأت کی ہے اس کے گواہ شعبے کے سارے طلباء ہیں۔باتیں اور بھی ہیں لیکن فی الحال میں اسی پر اکتفا کروں گا اور دعا کروں گا کہ علم کے پیاسے آپ کے بحر سے سیراب ہوں اور آپ شاد رہیں آباد رہیں۔آمین





