جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

یہ مطالبہ غلط ہے

تحریر: سرفراز فیضی21 مئی، 20201,675قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

اجتہادی مسائل میں اختلاف پہلے بھی تھا،اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ایسے مسائل میں یہ مطالبہ کرنا کہ علماء اپنے اختلافات سائڈ رکھ کر عمل کے لیے صرف ایک حکم نکال کر دیں مقلدین کی طرف سے ہو تو سمجھ میں آنے والا ہے۔

لیکن وہ لوگ جنھوں نے ترکِ تقلید اور اتباعِ دلیل کا راستہ اختیار کیا ہے ان کو تو یہ اختلافات دیکھنے اور سمجھنے پڑیں گے،دلیلوں کا موازنہ کرنا پڑے گا اور اپنے علم اور تحقیق کے مطابق راجح مسئلے پر عمل کرنا پڑے گا۔

ہاں! کوئی عامی کم ظرف اور کم ہمت ہو یا دلائل کے موازنہ کی صلاحیت خود میں نہیں پاتا تو اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ اختلافی مسائل میں جس مفتی کی چاہے تقلید کرلے،کیونکہ جہاں علماء کا اختلاف ہو وہاں عامی کے لیے توسع پیدا ہوجاتا ہے۔

لیکن علماء سے یہ مطالبہ کرنا سراسر غلط ہے کہ وہ اپنے مسائل کسی ایسے خفیہ چینل پر ڈسکس کریں کہ اس کی بھنک عوام کو نہ لگنے پائے۔صحابہ کے زمانے سے لے کر اب تک اس طرح کے اختلافات ہوتے رہے ہیں لیکن کبھی علماء پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی کہ وہ اپنے اختلافات ڈسکس نہیں کرسکتے۔اگر پابندی لگائی گئی ہوتی تو ان یہ اختلافات اپنی ان تفصیلات کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچ پاتے۔

ان مسائل پر مباحثے سے ہی مسائل کی تنقیح ہوتی،غور وفکر کے نئے زاویے روشن ہوتے ہیں،آراء کا تبادلہ ہوتا ہے،اجتہاد کے نئے دروازے کھلتے ہیں،ایک طرف ماضی کے ہمارے فقہی ذخیرے کی تفہیم ہوتی ہے تو دوسری طرف مستقبل میں آنے والی نسل کے لیے فقہی نظائر قائم ہوتے ہیں۔مباحثے پر پابندے سے سہ طرفہ فیضان عام کرنے والا یہ مبارک عمل رک جائے گا۔

ہاں علماء سے یہ کہا جانا چاہیے کہ مباحثے میں ان کا انداز عالمانہ ہونا چاہیے مناظرانہ نہیں اور مزاج بات رکھنے کا ہونا چاہیے رائے تھوپنے کا نہیں،لہجے میں تواضع ہونا چاہیے ادعا اور کبر نہیں۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

یہ مطالبہ غلط ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر