اجتہادی مسائل میں اختلاف پہلے بھی تھا،
لیکن وہ لوگ جنھوں نے ترکِ تقلید اور اتباعِ دلیل کا راستہ اختیار کیا ہے ان کو تو یہ اختلافات دیکھنے اور سمجھنے پڑیں گے،
ہاں! کوئی عامی کم ظرف اور کم ہمت ہو یا دلائل کے موازنہ کی صلاحیت خود میں نہیں پاتا تو اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ اختلافی مسائل میں جس مفتی کی چاہے تقلید کرلے،
لیکن علماء سے یہ مطالبہ کرنا سراسر غلط ہے کہ وہ اپنے مسائل کسی ایسے خفیہ چینل پر ڈسکس کریں کہ اس کی بھنک عوام کو نہ لگنے پائے۔صحابہ کے زمانے سے لے کر اب تک اس طرح کے اختلافات ہوتے رہے ہیں لیکن کبھی علماء پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی کہ وہ اپنے اختلافات ڈسکس نہیں کرسکتے۔اگر پابندی لگائی گئی ہوتی تو ان یہ اختلافات اپنی ان تفصیلات کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچ پاتے۔
ان مسائل پر مباحثے سے ہی مسائل کی تنقیح ہوتی،
ہاں علماء سے یہ کہا جانا چاہیے کہ مباحثے میں ان کا انداز عالمانہ ہونا چاہیے مناظرانہ نہیں اور مزاج بات رکھنے کا ہونا چاہیے رائے تھوپنے کا نہیں،





