جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مؤذن اور اذاں

تحریر: عبداللہ رفیق5 مئی، 20201,330قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

مسلمانوں پر دن میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے جو ایک اجتماعی عبادت ہے اور اس کو اس کے مقررہ وقت میں ہی مسجد میں ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس فرض کو ادا کرنے اور کروانے کے لیے مسجدوں میں امام اور مؤذن متعین ہوتے ہیں۔امام پنج وقتہ نمازوں کی امامت کے ساتھ ساتھ خطبہ جمعہ دیتا ہے اور درس و تدریس کے فرائض انجام دیتا ہے اور مؤذن کا اصل کام لوگوں کو نماز کے لیے بلانا ہوتا ہے جسے اذان دینا کہتے ہیں جس میں وہ حی علی الصلاح اور حی علی الفلاح پکارتا ہے یعنی آؤ نماز کی طرف آؤ کامیابی کی طرف مگر ہم اس آواز کی طرف کان تک نہیں دھرتے یا یوں کہیں ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اس کی بہت سی وجہیں ہوسکتی ہیں جیسے دلوں میں نماز کی اہمیت نہ ہونا،سستی و کاہلی یا اللہ اور رسول کا خوف دل میں نہ ہونا۔لیکن میری نظر میں ایک وجہ اور بھی ہے جس کے سبب مسلمان نماز کی طرف رغبت نہیں کر پا رہا ہے۔

ہماری مسجدوں میں جو مؤذن ہوتے ہیں وہ نیم خواندہ ہوتے ہیں قرأت و تجوید سے پوری طرح سے نابلد ہوتے ہیں اور آواز انکر الاصوات کے مصداق ہوتی ہے،کم پیسوں میں دستیاب ہو جاتے ہیں اس لیے متولیان انہی کو ترجیح دیتے ہیں۔الغرض ہمارے یہاں اذان ایک بے روح رسم بن کر رہ گئی ہے بقول علامہ اقبال "رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی" اور کچھ مسجدوں میں تو ایسے ضعیف العمر شخص کو اذان دینے پر معمور کر دیا جاتا ہے جو پوری طرح سے دنیاوی ذمہ داریوں سے خالی ہوتا ہے اور جس کی ضرورت گھر والوں کو نہیں ہوتی اس لیے وہ اپنے بیشتر اوقات مسجد میں ہی گزارتا ہے اور جب وہ بزرگ شخص اذان دیتا ہے تو اللہ کی پناہ... اس کی آواز میں لرزہ رہتا ہے،اس کا جسم اس کی آواز کا ساتھ نہیں دے رہا ہوتا ہے،سننے والوں کو عجیب بے ہنگم سا شور معلوم پڑتا ہے تبھی تو اذان لاؤڈ اسپیکر سے نہ دینے کے حق میں بہت سے مسلمان بھی نظر آجائیں گے اور سونو نگم جیسے لوگ اس کے خلاف کھڑے جگہ جگہ مل جائیں گے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اذان دینے پر معمور ایسے حافظ و قاری کو کیا جاتا جس کی سحر انگیز آواز ہو،جو تجوید سے پوری طرح آشنا ہو تاکہ جب وہ اذان دینا شروع کرے تو لوگ اپنے کاموں سے رک جائیں اور اذان سننے پر مجبور ہوجائیں اور مسجد کی طرف یعنی کامیابی کی طرف ان کے قدم خودبخود بڑھنے لگیں اور جو اس کے خلاف ہیں وہ جب سحر انگیز اذان سنیں تو ان کے منہ سے برجستہ نکلے واہ..... کیا آواز ہے:

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود

ہوتی ہے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا

اور ایسے دور میں جب ہم مسجد نہیں جاسکتے تو کم سے کم مسجد سے آنے والی صدا ایسی خوبصورت ہونی چاہیے جس سے ہم محظوظ و مسحور ہو سکیں۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مؤذن اور اذاں - دی فری لانسر | دی فری لانسر