مکہ اور مدینہ میں لاکھوں زائرين کی موجودگی خطرناک نتائج پیدا کرے گی
ترجمہ: سعد احمد
گرچہ دنیا وبائی مرض میں گرفتار ہے،
ہر سال تقريبا دوملین زائرین حج مکہ میں اپنے ارکان کی ادائیگی کے لیے اکٹھا ہوتے ہیں اور شہر کے مضاٖفات میں کئی جگہوں کا سفر کرتے ہیں،
خدا کی وحدانیت کی گواہی دینے،
ہر باضمیر مسلمان اگر بحفاظت اور بدنی طور سے زیارت حج کا اہتمام کرنے کا متحمل ہو تو اسے زندگی میں ایک مرتبہ ضرور حج کرنا ضروری ہے۔مکہ کا سفر کرنے سے پہلے زائرین سالوں تیاریاں کرتے ہیں۔میں حج کر چکا ہوں اور مجھے اس بات کا علم ہے کہ حج کی ادائیگی ایک مشقت آمیز عمل ہے۔سعودی عربیہ میں زائرين کی آمد سے لے کر،
سعودی حکام نے وبائی امراض سے متعلق شدید خطرے سے آگہی کا اظہار کیا ہے۔۴مارچ کو سعودی حکام نے رضاکارنہ زیارت عمرہ کو اپنے شہریوں کے لیے منسوخ کردیا۔غیر ملکی شہری بھی عمرہ کے لیے مملکت کے سفر سے روک دیے گئے۔
سعودی عربیہ کو چاہیے کہ کورونا وائرس کو مد نظر رکھتے ہوئے حج کو موقوف کرنے کا فوری اعلان کرے۔وبا کے دوران اس طرح کا اعلان اسلامی اخلاقیات میں تمام مومنین کے لیے حفظان صحت کی اولیت پر زور دے گا اور مذہبی اجتماعات پر روک لگانے میں بھی معاون ہوگا۔
حج کو موقوف کرنا ایک حساس سوال ہے جس کے لیے مسلم علماء،
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہنگامہ خیز عروج،
لیکن حج کو موقوف کرنا سعودیوں اور مذہبی رہنماوں کے لیے اشد ضروری ہے،
جب کہ اسلامی تعليمات یہ حکم دیتی ہے کہ کچھ لوگ سخت نگرانی میں حج ادا کریں اور تمام تر حفاظتی اقدامات اور معاشرتی دوری کے اہتمام کے ساتھ سعودی حکام علاقے کے کچھ لوگوں کوحج کی ادائیگی کی اجازت دے۔
مورخین کہتے ہیں کہ جب سے حج شعائر اسلام ٹھہرا،
مسلم ماہرین ِاخلاقیات کا ماننا ہے کہ وبا کے دنوں میں جان کی حفاظت کو دینی ارکان پرترجیح دی جائے گی۔پندرہویں صدی کے مصری عالم ابن حجر عسقلانی نے طاعون کے دوران بڑے پیمانے پر نماز کے لیے اجتماعات کی وجہ سے نقصان کی طرف اشارہ کیا ہے۔دسمبر ۱۴۲۹ میں انھوں نے لکھا کہ قاہرہ میں طاعون کی وجہ سے ایک دن مین ۴۰ موتیں ہوئیں۔ایک مہینہ بعد جب لوگ کفارے کے روزوں اور نماز کے لیے مجمعوں سے نکل رہے تھے کہ طاعون اٹھا لیا جائے شرح اموات ایک دن میں ایک ہزار سے متجاوز کرگئی۔اسی طرح علامہ عسقلانی نے یہ خبر بھی دی کہ متعددی بیماری کے مشاہدے میں ناکامی نے ایک صدی پہلے بھی دمشق میں تباہ کن نتائج برپا کیے ہیں۔
بزرگ ابن رشد (مشہور فلسفی،
دنیا کے باشعور مذہبی رہنماوں نے بھی تقریبا ایک مہینہ سے مسجدوں کے دروازوں کو بند کردیا ہے۔وہیں علماء نے دین والوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ شب میں پڑھی جانے والی نماز تراویح کا اہتمام بھی گھر میں ہی کریں۔
خادم حرمین شریفین کے خطاب کا اعزاز رکھنے والے شاہ سلمان بن عبد العزیز اگر مسلم دنیا کو حج میں توقف سے مطلع کرتے ہیں تو یقینی طور سے یہ عالمی مصلحت عامہ کی طرف ایک قدم ہوگا۔مملکت اور مسلم ممالك کے درمیان مشاورت اس مرتبہ حج کے فریضے کو موقوف کرنے کی ضرورت پر اتفاق رائے بنانے میں مدد کرے گی۔
اس بات پر زور دے کر کہ بحران کے ان ایام میں کہیں بھی مذہبی اجتماع خطرناک ہو سکتا ہے،
(ابراہیم موسى یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کے کیو اسکول آف گلوبل افئیرز میں اسلامی تھاٹ اور مسلم سوسائٹیز کے پروفیسر ہیں)





