نقطہ اور نکتہ عربی زبان کے دو الگ الگ الفاظ ہیں۔دونوں ہم وزن ضرور ہیں،
لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ بعض حضرات لکھتے وقت بھی ایک کو دوسرے کی جگہ استعمال کردیتے ہیں اور دونوں کے درمیان معنی کا جو فرق ہے اسے ملحوظ نہیں رکھتے،
سطور ذیل میں دونوں کے لغوی اور معنوی فرق کو واضح کرتے ہوئے اس سلسلے کی کچھ دل چسپ حکایات درج کی جارہی ہیں۔امید کہ قارئین محظوظ بھی ہوں گے نیز اس نوعیت کی غلطیوں سے پرہیز کی کوشش کریں گے۔
لغوی معنی:
نُقْطَہ: (عربی۔۱سم۔مذکر)
(۱)بندی،
(۲) مرکز (فیروز اللغات،
نُکْتَہ: (عربی۔۱سم۔مذکر)
(۱)باریکی،
(۲)لطیفہ،
(۳)وہ چمڑا جو گھوڑے کے منہ میں رہتا ہے۔(ایضا،
امیر حمزہ،
’’ ’’نقطہ‘‘ اور ’’نکتہ‘‘ کے بارے میں اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں۔قلم جب ہم صفحے پر رکھ کر اٹھاتے ہیں تو ایک نقطہ بنتا ہے،
جب کہ ’’نکتہ‘‘ کسی باریک بات کو کہتے ہیں۔مثال کے طور پر فلاں شعر میں غالب نے بہت اہم نکتہ بیان کیا ہے،
ایک دل جلے عربی کے نکتے:
کسی عربی نے نقطے کے نکتے اس انداز میں بیان کیے ہیں:
عنوان اس طرح لگایا:
ھل النقطۃ جعلتنا نکتۃ
فھل الفرق بین الغرب والعرب
ھو فقط في (النقطۃ)
فھم غرب-ونحن عرب فقط بالنقطۃ
وھم شعب یختار-ونحن شعب یحتار نفس النقطۃ مجددا
وھم تحالفوا-والعرب تخالفوا عادت النقطۃ مرۃ أخری
ھم تعلموا بالأقلام-ونحن تعلمنا بالأفلام
ھم یصنعون الدبابۃ-ونحن نخاف الذبابۃ...
اسی طرح ایک طویل فہرست تیار کردی ہے۔پھر کچھ دوسرے ناحیوں سے بھی عرب اور غرب میں موازنہ کیا ہے۔(دنیا المسلم Facebook)
بخیل کا نقطہ:
مولانا جمیل احمد صاحب،
کاتبوں کے نقطوں کے نکتے:
مولانا وحید الدین خاں نے قرآن کی حفاظت اور اس کے تحریف وتبدل سے محفوظ رہنے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہیں لکھا ہے کہ ایک کاتب کسی کتاب یا مضمون کی کتابت کررہا تھا،
’’کاتب کی کاٹ چھانٹ‘‘ والا واقعہ بہت مشہور ہے۔لیکن ادب اور شائستگی اسے زیر تحریر لانے سے مانع ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا نقطہ:
مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک مرتبہ اشتہار شائع کیا کہ میں نے براہین احمدیہ نام کی ایک کتاب تالیف کی ہے جس کی پچاس جلدیں ہیں،
اس نام پر انھوں نے خوب چندہ جمع کیا اور ان کی مالی حالت جو پہلے ڈاواں ڈول تھی کافی حد تک سدھر گئی۔پھر کئی کئی سال کے وقفے سے چھوٹے چھوٹے چار یا پانچ حصے شائع کیے۔اور اگلے حصوں کو نہ چھاپنے کا ایک حیلہ پیش کرکے بقیہ حصوں کی طباعت بند کردی۔
میں نے اس تعلق سے کہیں پڑھا تھا کہ جب مرزا صاحب سے سوال کیا جاتا تو فرماتے کہ میاں (۵۰) اور (۵) میں ایک نقطے ہی کا تو فرق ہے۔لیکن جس کتاب کے بارے میں ظن غالب ہے کہ میں نے اس میں یہ بات پڑھی تھی وہ فی الحال میرے پاس موجود نہیں ہے اس لیے حوالہ درج کرنے یا قطعیت کے ساتھ یہ بات کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔البتہ براہین احمدیہ اور اس کے اشتہار کی بات اور چار پانچ جلد میں چھپنے کی بات متحقق ہے۔ملاحظہ ہو ’’قادیانیت اپنے آئینہ میں‘‘ از مولانا صفی الرحمن مبارک پوری،
نقطوں کی منتقلی کے نکتے:
جامعہ میں عالمیت اور فضیلت (کلیات) کے آخری سال کے طلبہ کو مقالہ لکھنا ہوتا ہے۔ایسے طلبہ کی طویل فہرست ہوتی ہے اور اساتذہ مختلف امور کی رعایت اور لحاظ کرتے ہوئے ان تمام طلبہ کے لیے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں۔منتخب موضوعات کی فہرست کئی مراحل سے گذرتے اور ایک چارٹ سے دوسرے چارٹ اور رجسٹر پر منتقل ہوتے ہوتے طلبہ تک پہنچتی ہے۔اس نقل وانتقال میں بسا اوقات لفظوں کی ہیرا پھیری بھی ہوجاتی ہے۔
ایک مرتبہ ایک طالب علم نے مجھ سے اپنے موضوع کے بارے میں کچھ مراجع کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے کہا۔پوچھنے پر بتلایا کہ میرا موضوع ’’فقہائے شیعہ کا تعارف‘‘ ہے۔موضوع سن کر میں چونکا،
ایک مقالہ جو تکمیل اور تجلید کے بعد جمع کیا جاچکا تھا اس کا عنوان دیکھ کر میں سخت حیرانی میں پڑا۔مقالے کا عنوان کچھ اس طرح تھا: ’’شیعیت عیسویت کبری کے بعد‘‘ مقالے کے مشتملات پر نظر دوڑانے کے بعد بھی بات کچھ سمجھ میں نہ آئی۔فوراً ذہن میں یہ بات آئی کہ یہاں نقطوں کی وجہ سے زبردست تحریف ہوگئی ہے۔عنوان اس طرح رہا ہوگا: ’’شیعیت غیبوبت کبری کے بعد‘‘۔شیعوں کے بارہویں امام محمد بن حسن عسکری جنھیں امام غائب کہا جاتا ہے،
نقطوں کا چھڑکاؤ:
ایک صاحب کے بارے میں بتلایا جاتا ہے کہ ان کی تحریر کچھ اچھی نہیں تھی،
مولانا سیالکوٹی کا جلال اور مولانا اسماعیل سلفی کے نقطے اور نکتے:
مولانا اسحاق بھٹی لکھتے ہیں:
’’۔۔۔۔مولانا (محمد ابراہیم) سیالکوٹی جس بات کو غلط سمجھتے اس پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔غلطی پر ٹوکنا،
۔۔۔۔حضرت مولانا محمد اسماعیل (گوجرانوالہ) بہت بڑے عالم اور کثیر المطالعہ بزرگ تھے اور مولانا سیالکوٹی کے حلقہ تلمذ میں رہنے کا انھیں شرف حاصل تھا۔ایک دفعہ کسی مضمون میں انھوں نے لفظ (نکتہ) کو( نقطہ) یا لفظ(نقطہ) کو (نکتہ)تحریر فرمادیا۔یہ مضمون مولانا سیالکوٹی کے مطالعہ میں آیا تو انھوں نے مولانا محمد اسماعیل صاحب کو خط لکھا جس میں اس غلطی (یا سبقت قلم) کی طرف اس انداز سے توجہ دلائی کہ تم عالم بنے پھرتے ہو،
یہ عجیب وغریب خط مولانا اسماعیل صاحب نے کتنے ہی لوگوں کو دکھایا اور سنایا جو مولانا سیالکوٹی کے ’’صاحب جلال‘‘ ہونے کا بہت بڑا ثبوت تھا۔اس سلسلے میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مولانا سیالکوٹی کی اس خط سے تسلی نہیں ہوئی وہ ایک جلسے میں گوجرانوالہ تشریف لائے اور تقریر ارشاد فرمائی تو اس میں بھی اس کا ذکر فرمایا اور کہا: اسماعیل جاہل ہے لوگو! تم بھی اسے جاہل کہو،





