یہ ہفتہ عورت کے نام سے منسوب کیا گیا ہے تو ہم مشاہدات کی روشنی میں اس حوا کی بیٹی کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کر کے ان کا زندگی گزارنے کے طریقے پر بات کریں گے۔ہماری گزارش ہے مزاح کو مزاح ہی رہنے دیجئے گا جس میں ذوق کی کمی ہے وہ اگنور کر کے آگے بڑھ جائے۔
تو ہم بتاتے ہیں یہ پہلی قسم واقعی مظلوم خواتین ہیں جو بے جا قدغن لگاتے بھائیوں سے دکھی رہیں اب شادی بھی ایسے ہی بھائی نما کزن سے خاندان میں ہی ہورہی ہے ان کے لیے شادی کا مطلب ایک زندان سے نکل کر دوسرے میں جانا ہے
اس لیے یہ بے تاثر ہی رہتی ہیں۔
اور کچھ کو والدین کے گھر پابندیاں تھیں مگر شوہر نے بے جا آزادی دے دی تو اب ان کی کوشش ہوتی ہے گاڑی خود ڈرائیو کریں،
اور کچھ شادی کے ایک دو سال تک میکے سے فون آنے پر پہلے دس منٹ رو کر گزارتی ہیں وہ تو اللہ کا شکر ہے موبائل پیکجز سستے ہیں ورنہ صورتحال بہت گھمیر بنا رکھی ہےان خواتین نے اور انتہاء تو تب ہوجاتی ہے جب سسرال میں ان کی سالگرہ منانے کا فل ماحول بنا ہوتا ہے اور کیک کٹنے سے پہلے میکے سے فون آگیا اور ان کا دھواں دار رونا شروع اور یہ ہیں کہ روتے ہوئے اداکاری میں مینا کماری کو بھی مات دے دیں۔
اور وہ جن کی نبض شاپنگ سے چلتی ہے جی ہاں یہ پہلے جائیں گی خریداری پر ان کے مسائل میں سر فہرست یا کلر ان کی مرضی کا نہیں ہوتا یا فیبرک،
کچھ بیوٹی سیلون صرف اس لیے جاتی ہیں کہ سب جارہی ہیں ہم نہیں جائیں گے تو کتنا برا لگے گا بی کاز اٹس ٹرینڈنگ۔
بعض شادی کے بعد والدین کے جانا حرام سمجھتی ہیں ان کا میکہ عموماً اسی شہر میں ہوتا ہے یہ میکے جا کر دو گھنٹے بعد ہی شوہر کے ساتھ واپسی کا کرتی ہیں ماں کو یہ بول کر یہ ہمارے بغیر کھانا نہیں کھاتے؟ جیسے ان کے شوہر نامدار پہلے پچیس تیس سال فاقہ زدہ رہے ہیں۔
عموماً یہ خاندان کی ان ساس امیوں کی پسندیدہ ہوتی ہیں جو بہو کے دو دو ماہ میکے کے قیام سے بہت دکھی ہوتی ہیں ایسے میں دکھی ساسو مائیں ان اپنی بہووں کو میکے جانے سے ڈائرکٹ روکنے کے بجائے ایسی میکے نہ جانے والی کی تعریف کر کے بہووں پر جتانا چاہتی ہیں دیکھو جی آتے ہی گھر سنبھال لیا میکے تو جاتی ہی نہیں،
اور ساسو ماں ٹھنڈی آہ بھر کر بیٹے سے امید باندھ لیتی ہیں کہ شاید بیٹا ہی اس بے لگام کو لگام ڈال لے مگر بیٹا ازلی ڈھیٹ بچپن سے رن مریدی کے خواب دیکھتا آیا ہے " الٹا ماں کو تسلی دے گا امی آپ اس دوران باجی کو گھر بلوا لیا کیجئے نا "
ان میں سے بیشتر کے شوق صبح مارننگ شو دیکھنا ہوتا ہے یہ ان مارننگ شوز میں گھر بسانے کے طریقوں پر کم رنگ گورا کرنے کے ٹوٹکوں پر زیادہ فوکس رکھتی ہیں۔
رات آٹھ سے گیارہ بجے کا وقت ٹی وی چینلز پر پاکستانی و انڈین ڈرامے دیکھ کر گزرتا ہے اور ان کی اس مستقل مزاجی پر داد دینا بنتی بھی ہے۔
ان کے وٹس ایپ عبارت پر عموماً ایسے فقرے درج ہوتے ہیں " عورت وہ سستا مزدور ہے جسے یہ کہہ کر کہ تم اس گھر کی مالکن ہو عمر بھر مزدوری کرائی جاتی ہے " جبکہ یہ سستا مزدور چھوٹی عید پر پچاس ہزار اور بڑی عید پر تیس ہزار کی شاپنگ کرتی ہے۔
انھی میں ایسی باپ کی شیرنیاں بھی ہیں ابا نے کہا ہوتا ہے بیٹا خاوند سے زرا سا جھگڑا ہو گڈی میں بیٹھنا اور میرے پاس چلی آنا ساتھ دو چار جذباتی جملے ابا جی ٹانک ضرور ٹانک دیتے ہیں"دو وقت کی روٹی بیٹی کے لیے بھاری نہیں "
بیٹی چاہے کھاتے ہوئے روٹی کا پہاڑ ختم کردے،
کچھ کا خاص موضوع گفتگو میکے اور سسرال میں موسم کا تقابل،
کچھ وہی بے حد باتونی بقول مفتی طارق مسعود صاحب فوتگی میں بھی بات کرتی رہتی ہیں ایسی ہی ایک خاتون ہمارے عزیز کے ہاں میت پر ہم سے دریافت کرنے لگیں حبان کی مما آپ کا گھر بن گیا؟ شفٹ کب ہونا ہے؟ قبل اس کے وہ مکان کا تخمینہ لاگت کھنگالتیں ہم نے نماز کی نیت باندھنے میں عافیت جانی۔
کچھ مذہبی مگر ان کا مذہب صرف مختلف خود ساختہ وظائف تک رہتا ہے یا ان کی زندگی میں واحد ایکسائٹمنٹ خواتین جمع کرکے قرآن خوانی کروانا ہے یا دردو تنجینا پڑھوا لی،
کچھ سٹیٹس کانشس خواتین جن کی بات کا آغاز ہوتا ہے یو کے میں خالہ رہتی ہے،
غلطی سے کبھی ایسے عزیز کوئی تحائف بھیج دیں یہ اس کا پرائس ٹیگ نہیں ہٹاتیں،
کچھ کو انگلش لویریا ہوتا ہے مگر یہ بی اے کے امتحانات میں تیسری بار فیل ہوکر گھر بیٹھ کر انگریزی بولنے کا شوق پورا کرتی ہیں " میری فنگر پر نا فلائی نے بائٹ کر لیا،
ان سے غلطی سے مسٹیک ہوجاتی ہے۔
کچھ میں سینس آف ہیومر نام کو نہیں ہوتا اپنے جوکس پر خود ہی انجوائے کرتی ہیں،
اور پھر آتی ہیں ہم جیسی وہ لیجنڈز جو فطرتاً کاہل سست الوجود مگر کتابی کیڑا ہوتی ہیں مگر اماں کو کتابوں سے چڑ اور ہم جیسی بیٹیوں کو گھر کے کاموں میں الجھائے رکھنے کا شوق ذیادہ ہوتا ہے ہم جیسی خواتین امی کی گالیوں سے بچنے کے لیے والدین کے گھر مارے باندھے کام کرتی تھیں اور مدد طلب نظریں ابا پر شاید وہ ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے کام کا بوجھ ہلکا کرا دیں مگر ابا بھی بیگم سے خوف کھا کر حالات سے سمجھوتہ کر چکے ہوتے ہیں یا اماں ابا کو یہ کہہ کر خاموش کرا دیتی ہیں " انھوں نے اگلے گھر جانا ہے کوئی آسمان سے شہزادہ نہیں اترنے والا "🤦🏼♂ایسے میں یہ خواتین والدین کو لے کر عورتوں کی شیخ محسن بن چکی ہوتی ہیں۔
کبھی بہن کہہ دے امی بیٹے کی وجہ سے رو رہی تھیں تو ایسی خواتین سفاکیت سے کہتی ہیں " ہمارے والدین کے اعمال بھی کوئی اتنے اچھے نہیں ہوتے،
شادی شدہ زندگی میں یہ خواتین اگر سالن میں نمک ڈالنا بھول جائیں اور انھیں بطورِ طنز لقمہ ٹھنسا کر باور کرایا جائے آج پھر سالن میں نمک نہیں ہے یہ یہ اثر لئے بغیر بولتی ہیں "ایزی ہوجائیں،
اور اگر کبھی خاوند بول دے ملک شیک میں بناتا ہوں کم از کم جگ تو دھو دیا کرو تو مشورہ دیتی ہیں " ملک شیک پی کر ساتھ ہی جگ دھو دیا کیجئے تاکہ اگلے دن کوفت نہ ہو "
کیونکہ ہم نے سوشل میڈیا پر عورت کے حقوق پر آواز اٹھانی ہوتی ہے " ظالم معاشرہ کب عورت کو اس کا حق دے گا۔





