سب سے پہلے تو ملک کے باشندگان کو بطور عام اور مسلمانوں کو بطور خاص سلام پیش کرنا چاہیے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے آنے کے بعد جس ہوش مندی،
بابری مسجد رام جنم بھومی کا معاملہ نیا نہيں تھا۔اس سے پہلے ہائی کورٹ نے تین فریقوں کے بيچ زمین بانٹ دی تھی جسے لگ بھگ تمام فریقوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔سپریم کورٹ نے مانا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ منطق کے مطابق نہیں تھا۔سپریم کورٹ نے یہ بھی مانا کہ مسجد کی زمین پر مسلم فریق اپنا مالکانہ حق ثابت نہ کرسکے،
ہم بحیثیت ایک ذمہ دار شہری کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے۔سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے بنچ نے فیصلہ سنایا ہے اور متفقہ فیصلہ سنایا ہے لیکن مہذب اور قانونی دائرے میں چند باتیں قابل غور ضرور ہیں۔
1۔سوال یہ ہے کہ ہندوفریق کیا یہ ثابت کرسکتا ہے کہ ایودھیاکی وہی زمین رام جنم بھومی ہے؟ کیا مالکانہ حقوق مذہبی عقیدے کی بنیاد پر ثابت کیے جاسکتے ہیں؟
2۔ایک اہم سوال ہے جس کی طرف بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب نے اشارہ کیا کہ کیا بابری مسجد اگر شہید نہ کی گئی ہوتی تب بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ یہی آتا؟
3۔اگر ہندو فریق کے آستھا کا اعتبار کرکے انہيں زمین دی جاسکتی ہے تو مسلم فریق کے آستھا کا اعتبار کیوں نہیں؟ جب کہ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسجد تو تھی جسے ڈھایا گيا،
4۔اگر مسلم فریق مالکانہ حق ثابت کرنے سے قاصر ہیں تو کیا ہندو فریق مالکانہ حق ثابت کرپارہے ہیں؟ اگر نہيں تو ایک کو نوازنا اور دوسرے کو محروم کرنے کی بنیاد کیا ہے؟ اگر آستھا ہی ہے تو ایک کا آستھا معتبر اور دوسرے کا نامعتبر کیوں؟
5۔مسلم فریق کو پانچ ایکڑ زمین الگ ایودھیا ہی میں مسجد کی تعمیر کے لیے کس بنیاد پر دی جارہی ہے؟ اس کی کوئی قانونی اور عدالتی وجہ؟
یہ وہ پہلو ہیں جن پر بہرحال غور کرنے کی ضرور ت ہے۔اگر ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے کسی فریق کو یہ لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں یہ اطمینان بخش فیصلہ نہیں ہے،
فیصلہ آنے کے بعد مسلمانوں کا رویہ ماشاءاللہ بہت ہی مہذب اور حکیمانہ رہا اور اس کے لیے انہیں مبارکباد دینی چاہیے البتہ کچھ لوگوں نے جس طرح اپنوں پر الزامات کی بارش شروع کردی یا غیر عدالتی کوششوں کو یاد کرکے منہ چڑھانا شروع کردیا وہ سب اچھی بات نہیں۔عدالتی کاروائی ہی دانشمندانہ رویہ تھا اور پوری ملت نے اس کو سپورٹ کیا تھا اور اب جب فیصلہ آیا اور ایک بار پھر سے قیادت کسی نتیجے تک پہنچتی ہے تو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔فیصلے کا حق میں آنا یقینا خوش آئند ہوتا لیکن یہ تو کم نہیں کہ ہم نے اپنے حصے کی پوری کوشش کی۔
سپریم کورٹ یقینا اعلا ہے لیکن غلطی یا چوک اس سے بھی ہوسکتی ہے اور نظر ثانی کا ایک راستہ کھلا ہوا ہے تو اسے استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے البتہ اس موقع سے اگر کوئی بھی کسی بھی قسم کی بھڑکاؤ باتیں کرتا ہے یا ہمیں غیر ضرور ی طور پر اکسانے کی غلطی کرتا ہے تو ہمیں بہت سمجھداری سے ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔یا درہے کہ اب بھی اور آئندہ بھی ہمارے لیے قانونی راستہ ہی بہتر راستہ ہوگا۔البتہ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جس طرح دن بہ دن عدالتوں میں ہماری نمائندگی کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے وہ نیک فال نہیں اور ہمیں اس سلسلے میں بہت منظم کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔کچھ تنظیموں نے اس سلسلے میں کچھ پیش رفت کی ہے،
رہے نام اللہ کا۔





