آج بیگم مجھ سے بولیں کہ چلیے تھوڑی دیر کے لیے باہر گھوم آتے ہیں گھر میں بیٹھے بیٹھے اکتاہٹ ہورہی ہے۔میں نے کہا ممبرا میں ایک پہاڑ ہی ہیں،
میری بات سن کر بیگم بھڑک اٹھیں اور منہ بناتے ہوئے سیدھا بیڈ روم میں چلی گئیں۔میں یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ میری بیگم کھانا بہت اچھا بناتی ہیں لیکن منہ اس سے بھی زیادہ اچھا بنا لیتی ہیں۔مجھے تو یقین ہے کہ منہ سازی کا اگر عالمی مقابلہ کبھی ہوا تو بیگم کو پہلی پوزیشن سے ہٹانے میں بہت سی خواتین کے پسینے چھوٹ جائیں گے۔
بہر کیف میں بھی مسکراہٹ بالجبر کے ساتھ ان کے پیچھے گیا اور بولا کہ بیگم میں آپ کا اکلوتا کامگار شوہر ہوں،
دروازے پہ پہنچ کر جیسے ہی میں نے بائیک کی چابی اٹھائی بیگم نے کہا کہ آج پیدل چلیں گے۔میں نے کہا کہ اس طرح تو آپ تھک جائیں گی اور آپ کے پیر دکھنے لگیں گے جس پر فورا پلٹ کر انھوں نے کہا کہ رات میں آپ کو کام ہی کیا ہے؟ کچھ اور تو کر نہیں سکتے تو کیا پاؤں بھی نہیں دبا سکتے؟ میں نے سوچا کہ بیگم کہیں میری اور کوئی پول نہ کھول دیں اس لیے فورا ہی بول پڑا کہ یہ تو میری خوش بختی ہوگی اور ویسے بھی ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے اب میری ماں تو ہے نہیں تو کم از کم بچوں کی ماں کا پاؤں داب کر ہی جنت کا مستحق بن جاؤں۔اور پھر بادل نخواستہ ان کو لے کر گھر کے دروازے سے نکل گیا۔
ہم دونوں ابھی چند ہی قدم چلے تھے کہ راستے میں ایک طبیلے سے ہمارا گزر ہوا،
اللہ وہی آنکھیں،
یہ بھینس تو بالکل میرے دلبر کی طرح ہے
اس درمیان مجھے یہ بالکل دھیان نہیں رہا کہ بیگم بھی ساتھ میں ہیں اور جب تک دھیان آتا کافی دیر ہوچکی تھی۔بیگم اس وقت تک آتش فشاں پہاڑ کی طرح دہک رہی تھیں،
بیگم کے جانے کے بعد میں کافی دیر تک وہیں کھڑا سگار لکھنوی کو کوستا رہا کہ آپ تو اس دنیا سے چلے گئے لیکن ہم کو پھنسا کر گئے آخر۔۔۔
آپ نے ایسا شعر کیوں لکھا
ہم جسے گنگنا نہیں سکتے
بیگم کے جارحانہ تیور کو دیکھتے ہوئے ان کے پیچھے گھر جانے کا مطلب خود کو ہلاکت میں ڈالنا تھا اور ابھی تو داہنا بازو بھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوا ہے ایسے میں کوئی اور خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا تھا۔کافی سوچ بچار کے بعد میں نے اپنا قدم قریب کے ایک ہوٹل کی طرف بڑھا دیا وہاں پہنچ کر چائے کا آرڈر دیا اور اس درمیان بیلن سے اپنے بچنے کی ہر ممکن تدبیر سوچتا رہا۔لاوے کی طرح ابلتے ہوئے بیگم کے غصے کو کیسے شانت کیا جائے؟ ابھی اسی فکر میں غلطاں ہی تھا کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی فون میرے بیٹے کا تھا پوچھنے لگا کہ ابو آپ کہاں ہیں؟ فورا گھر پہ آجائیں،
بالآخر بچوں کی حفاظت کی خاطر میں نے گھر جانے کا فیصلہ کیا لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ "کوشش کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا" راستے میں ہی میرے ذہن میں ایک اور ترکیب سوجھی جس پر عمل کرتے ہوئے میں نے بچوں کی نانی کو فون لگایا۔علیک سلیک کے بعد میں نے بتایا کہ بیگم کی طبیعت ان دنوں ٹھیک نہیں رہتی ہے کھانا پینا بھی اتنا کم ہوگیا ہے کہ دس روٹی سے زیادہ نہیں کھا پاتی ہیں،
تھوڑی دیر بعد پھر موبائیل کی گھنٹی بجی اس بار فون بیگم کا تھا کچھ دیر کے لیے تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا کروں پھر ہمت جٹاکر میں نے فون ریسیو کرنے کا فیصلہ کیا۔لیکن دہشت کی وجہ سے ہاتھ میں جو کپکپاہٹ تھی انگلی گرین کے بجائے ریڈ بٹن پر چلی گئی اور اس طرح فون کٹ گیا۔فورا ہی میں نے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے بیگم کو فون لگایا اور جیسے ہی الو کی آواز سنائی دی میں نے بھرائی ہوئی آواز میں سلام کیا۔خلاف توقع جب بیگم نے سلام کا جواب نہایت سنجیدگی سے دیا تب جان میں جان آئی۔بیگم کے مزاج کی نرمی محسوس کرتے ہوئے میں نے فورا ہی سسرال جانے کی پیشکش کردی اور ان سے کہا کہ بیمار ماں کے آنے کے بجائے کیوں نہ ہم لوگ ہی وہاں چلے جائیں اور پھر اسی بات پر متفقہ فیصلہ ہوگیا (بیگم کا فیصلہ ہی ہمارے یہاں متفقہ ہے) میں نے وقت ضائع کیے بغیر سسرال میں فون کرکے ساس کو بیگم کی آمد کی خبر کردی اور خود انھیں آنے سے منع کر دیا کیونکہ میں نہیں چاہ رہا تھا کہ ایک مصیبت سے بچنے کے لیے دوسری مصیبت گلے میں لٹکالوں۔
تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں بائیک پر سوار ہوکر سوئے سسرال روانہ ہوگئے لیکن اس بار جان بوجھ کر میں طبیلے کے راستے سے نہیں گزرا۔





