عام طور سے لفظ صوفی کا تصور آتے ہی ہم ایسے شخص کا خیال دل میں لاتے ہیںجو دین دار،
آئیے دیکھتے ہیں یہ صوفیاء آخر ہیں کون اور چاہتے کیا ہیں۔
تصوف:
صوف سے مشتق ہے۔جس کے معنی اون کے ہیں۔چونکہ اکثر صوفیاء اون کا لباس پہنتے تھے اس لیے لوگ ان کو صوفی کہنے لگے۔(تاریخ تصوف: صفحہ99 پروفیسر سلیم چشتی ) بہت سے لوگ اسلامی اور غیر اسلامی تصوف میں فرق کرتے ہیں اور اسلامی تصوف کو تزکیہ و احسان کے معنی میں دیکھتے ہیں۔ممکن ہے شروع میں ان کی نیت تزکیہ و احسان کی رہی ہو،
صوفیاء کے عقائد:
ابلیس سب سےبڑا موحد ہے کیونکہ اس نے اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ نہیں کیا۔فرعون صاحب ایمان تھا اور جب اس نے کہا ’’میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں‘‘تو اس نے عین حقیقت بیان کیا۔کیونکہ صوفیوں کے معروف عقیدے وحدۃ الوجود کے مطابق ہر مخلوق میں اللہ ہے۔جہنمیوں کو جہنم میں آگ سے لذت ملے گی وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح یہ عقیدہ اتحاد کے بھی قائل ہیں یعنی بندہ مر کر اللہ کی ذات میں مل جاتا ہے۔غالب کا ایک شعر ہے:
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہوجانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا
اور ان کا ایک اور عقیدہ حلول بھی ہے یعنی رب کبھی کبھی کسی مخلوق کے اندر اتر آتا ہے۔چنانچہ جب حلاج نے کہا ’’انا الحق‘‘تو یہ حلاج نہیں بلکہ اس کے اندر سے اللہ بول رہا تھا۔یہ عقیدہ ہندؤوں کے عقیدہ اوتار کے مشابہ ہے۔
صوفیاء دین کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟
مشائخ صوفیاء کا خیال ہے کہ وہ اپنا دین براہ راست،
اب آتے ہیں اصل معاملے کی طرف،
بالکل اسی طرح صوفی ازم بھی سیاست زدہ ہوچکا ہے۔اور اس کے ہاتھ اپنے ہی ہم مذہبوں کے خلاف سازشوں اور خونریزی سے رنگے ہوئے ہیں۔اس کی تازہ ترین مثال فتح اللہ گولن کے ذریعے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر ترکی کی حکومت کا تختہ پلٹ کرنے کی ناکام کوشش کرناہے۔آج عالم یہ ہےکہ اپنوں کے خلاف غیروں کا آلہ کار بننے میں ان کو ذرا بھی شرم نہیں آتی۔اور مسلمان دشمن لیڈروں کے ساتھ مل کر یہ کانفرنسیں کرتے ہیں۔جیساکہ انھوں نے اپنوں کے خلاف سازش کرتے ہوئے دہلی میں صوفی کانفرنس کا انعقاد کیا۔اور اب گروزنی صوفی کانفرنس میں تو انھوں نے حد ہی کردی۔اسلام کے علمبرداروں،
گروزنی: بہت سے علاقے جو روس کے زیر تسلط تھےآ زاد ہوچکے ہیں لیکن چیچنیا وہ بدنصیب ریاست ہے جو ابھی بھی روس کے قبضے میں ہے۔اس کا دار الحکومت گروزنی ہے،
1- دین کے نام پر کھلواڑ کرنے اور مشرک و بدعقیدہ اور زانی،
2- بدقسمتی سے ہمارے اس دور میں ملک شام وعراق میں خوارج کا ایک فتنہ نمودار ہو اہے جسے لوگ داعش کہتے ہیں۔ان کے ظہور کے اسباب وہاں کے اپنے حالات ہیں۔ہر چند کہ سلفی علماء نے اس کی ہر ممکن اسٹیج سے تردید کی ہے۔اور اس کی قیادت سے بھی کسی ایسے عمل کا ہرگز صدور نہیں ہوا جس سے سلفیوں کےساتھ دوستی ظاہر ہو۔پھر بھی سلفی تحریک کے دشمنوں کےلیے عالمی رائے عامہ کو ان کے خلاف بھڑکانے کا اس سے بہترکوئی موقع نہیں مل سکتا تھا،
3- حد تو یہ ہے کہ وہ علماء جن کی وفات کو صدیا ں گزر یں ان کو بھی داعشی فتنے کا سرپرست اور فکر ی غذا فراہم کرنے والا بتایا گیا۔علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیسے مخلص عالم دین کو نشانہ بنایا گیا۔امام محمد بن عبد الوہاب جیسے مصلح کو متہم کیا گیا۔شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ ان علماء نے نام نہاد صوفیاء کی پول کھولی تھی۔اسلام کے نام پر غلط نظریات کی بیخ کنی کی تھی۔اور ان مصلحین کا اثر پبلک آج بھی قبول کررہی ہے جس سے ان کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
یہ عقل کے اندھے نہیں سمجھتے کہ ہم کیا کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں۔اگر داعش کی نسبت سلفیت کی طرف ہوسکتی ہےتو کنعان کی نسبت نوح علیہ السلام کی طرف بھی ہو سکتی ہے۔اور یہ کہنا بھی جائز ہوسکتا ہے کہ حروری خوارج کے خروج کے ذمہ دار حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔
کانفرنس کی روداد: گروزنی میں روسی حکومت کے تعاون سے چیچن حکومت کے زیر انتظام 21 ذو القعدہ 1437 ھجری مطابق 25 اگست 2016عیسوی کو ایک تین روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں تقریبا 200 زعماء وعلماء کو دنیا بھر سے دعوت دی گئی۔اس کا عنوان تھا:
’’اہل السنۃ والجماعۃ کو ن ہیں؟‘‘
تین دنوں میں مختلف علماء نےمقالات پیش کیے،
کانفرنس کے عناوین:
عناوین یہ ہیں:
(1) اہل السنۃ کی تعریف،
(2) مذاہب اربعہ کو ماننے والے ہی اہل سنت ہیں۔
(3) اشعری اور ماتریدی مسلک کو ماننے والے ہی سواد اعظم ہیں۔
(4) مذہبیت کی اہمیت اور زمینی زندگی پر لامذہبیت کی بدنظمی کا اثر۔
(5) پوری تاریخ میں صوفیاء ہی اہل سنت والجماعت رہے ہیں۔
(6) تصوف کی ماہیت اور سلسلوں کے حاملین کی خصوصیات۔
(7) محدثین کرام کے مذاہب اور ان کا تصوف سے تعلق۔
(8) اہل سنت سے بغاوت اور معاشرے پر اس کے اثرات۔
(9) معاشرے پر اہل سنت وجماعت کے اصلی منہج سے بغاوت کے آثار۔
اس کانفرنس میں اہل سنت والجماعت کی یہ تعریف بیان کی گئی کہ اہل السنۃ والجماعۃ اعتقادی یعنی کلامی مسائل میں اَشاعرہ (جو امام ابوالحسن الاشعری کی طرف منسوب ہیں)،
اسی طرح فقہی لحاظ سے ائمہ اربعہ کےماننے والے،
یہ الزام خاص طور سےلگایا گیا کہ جن اہل حدیث نے اِن کلمات کو اعضاء وجوارح (Organs)کے معنی میں لیا ہے،
اختتامی بیان میں یہ بھی ذکر ہوا کہ ’’ سلفیت امت اسلامی کے تفرقے اور اسلام کی بدنامی کا سبب بنی ہوئی ہے‘‘۔
’’اہل سنت والجماعت کے مفہوم کو خطرے اور انحراف سے بچانا سب سے اہم اور ضروری مسئلہ ہے،
حالانکہ سلفیہ کا جو موقف ہے،
اصل میں معنی کے مکمل ادراک کے لیےان د ونوں پہلو وں کا علم شرط ہے:
1- معنی متعین اور معلوم ہو۔
2- معنی کی کیفیت متعین اور معلوم ہو۔
سلفیہ معنی کو کلی طور پر جاننے کا دعوی نہیں کرتے،
ان صفات کے معانی کی تفویض اس لیے جائز نہیں کیونکہ ان کا معنی معلوم ہے۔تشبیہ اور تجسیم کا الزام اس لیے غلط ہے کیونکہ سلفیہ کیفیت کی نفی کرتے ہیں اور جب تک متشابہ الکیفیہ کی قید لگی رہے گی تجسیم لازم نہیں آئے گی۔
مثال کے طور پر ہمارےنزدیک ’’وجہ‘‘ کا حقیقی معنی چہرہ ثابت ہے اور یہی اس کا مرادی معنی ہے۔’’وجہ‘‘ اپنے حقیقی معنی میں نص ہے کہ متشابہ المعنی قرار دے کراس کی تفویض نہیں ہو سکتی کیونکہ ’’وجہ‘‘سے کم ازکم ’’ساق‘‘ مراد نہیں ہے یعنی یہ ایک دوسری ہی صفت ہو گئی۔اب اس سے معنی کی تحدید تو ہو ہی گئی۔پھر جب معنی کی تحدید ہوگئی تو تفویض کیسی؟ آخر کو لفظ اپنے معنی پر دلالت کرنے لیے ہی بولے جاتے ہیں۔لیکن کیفیت کی تحدید نہیں ہوئی۔کیونکہ اس باب میں مثلیت کی نفی کی گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے مثل نہیں تب کس طرح؟۔جواب یہ ہے کہ یہ ہمیں نہیں بتایا گیااس لیے کیفیت نامعلوم ہے۔
اور جو یہ اعتراض ہے کہ وجہ،
تمھارے زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں ہے
خلاصہ یہ کہ اس باب میں سلفیوں کا وہی عقیدہ ہے جو اہل سنت والجماعت کا ہے۔
گواہی نمبر ایک:
كکتاب الوجيز في عقيدة أهل السنة والجماعة میں ہے:
وأَهل السُّنَة والجماعة: يثبتون لله سمعا،
اہل سنت والجماعت اللہ کےلیے کان،
(1)قال تعالی: {إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى} [طہ: 46]
(یقیناً میں تمھارے ساتھ ہوں دیکھ اور سن رہا ہوں)
اس آیت سے معیت ثابت ہوتی ہے۔
(2)وقال: {وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ} [التحريم: 2]
(اور وہ جاننے والا حکمت والا ہے)
اس آیت سے اللہ کےلیے علم اور حکمت کا ثبوت ملتا ہے۔
(3){وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا} [النساء: 164]
(اور اللہ نے موسی علیہ السلام سے کلام کیا)
اس آیت سے اللہ کا کلام کرنا معلوم ہوتا ہے۔
(4){وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ} [الرحمن: 27]
(اور تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا جو بزرگی اور عزت والا ہے)
اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے چہرہ ہے۔
(5){رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ} [المائدہ: 119]
(اور اللہ ان سے راضی ہوا ا ور وہ اللہ سے راضی ہوئے)
یہ آیت اللہ کےلیے صفت رضا ثابت کرتی ہے۔
(6){يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ} [المائدہ: 54]
(اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں)
یہاں اللہ کے لیے صفت حب ثابت ہورہی ہے۔
(7){فَلَمَّا آسَفُونَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ} [الزخرف: 55]
( جب انھوں نے ہم کو ناراض کیا تو ہم نے ان سے بدلہ لیا)
یہاں اللہ کےناراض ہونے اور انتقام لینے کی صفت بیان کی گئی ہے۔
(8){يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ} [القلم: 42]
(جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور ان کو سجدہ کرنے کےلیے بلایا جائے گا تو وہ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے)
یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے پنڈلی ہے۔
(9){اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [آل عمران: 2]
(وہ ) اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،
یہاں اللہ کے لیے زندگی اور تمام چیزوں کی نگہبانی کی صفت ثابت ہورہی ہے۔
(10){وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ} [الفتح: 6]
(اور اللہ ان پر ناراض ہوا)
اس سے معلوم ہورہا ہے کہ اللہ غضبناک بھی ہوتا ہے۔
اہل سنت والجماعت ان تمام صفتوں کا اثبات کرتے ہیں۔لیکن ان صفات کے معنی کے تعلق سے یہ آیت ان کے پیش نظر ہے:
( لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ) [الشوری:11 [
(اس کے جیسا کوئی نہیں اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے)
یعنی معنی کا تو اثبات کریں گے لیکن کیفیت کی نفی۔کیونکہ کیفیت ہمیں نہیں بتلائی گئی۔اور یہ صفتیں اس طرح نہیں ہیں جیسی مخلوق کی صفتیں ہوتی ہیں۔یہی معنی ہے امام مالک رحمہ اللہ کے اس قول کا،
گواہی نمبر دو:
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا عقیدہ بھی یہی تھا چنانچہ اس سلسلے میں ان کا قول کتاب الفقہ الاکبر میں اس طرح وارد ہے:
له يَد وَوجه وَنَفس كَمَا ذكره الله تَعَالَى فِي الْقُرْآن فَمَا ذكره الله تَعَالَى فِي الْقُرْآن من ذكر الْوَجْه وَالْيَد وَالنَّفس فَهُوَ لَهُ صِفَات بِلَا كَيفَ وَلَا يُقَال إِن يَده قدرته اَوْ نعْمَته لِأَن فِيهِ إبِطَال الصّفة وَهُوَ قَول أهل الْقدر والاعتزال وَلَكِن يَده صفته بِلَا كَيفَ وغضبه وَرضَاهُ صفتان من صِفَات الله تَعَالَى بِلَا كَيفَ .
(اور اللہ کے ہاتھ اور چہرہ اور نفس ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالی نے یہ صفات قرآن میں ذکر کیا ہے۔چنانچہ یہ اللہ کی ایسی صفتیں ہے (جن کا معنی تو ہے ) لیکن اس کی کیفیت نہیں بیان کی جائے گی۔(اور ان صفات کی تاویل بھی نہیں کی جائے گی ) اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ اللہ کا ہاتھ اس کی قدرت یا نعمت ہے۔کیونکہ ایسا کرکے ہم ان صفتوں کی تعطیل کردیں گے۔اور تعطیل ِصفات تو قدریہ اور معتزلہ کا فعل ہے (ہمارا نہیں) بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی صفت ہے بنا کیفیت بیان کیے۔غضب اور رضا بھی اس کی صفت ہے بناکیفیت کے)
اسی طرح کا عقیدہ امام شافعی،
گواہی نمبر تین:
اسی طرح سے ابن ابی العز حنفی بھی عقیدہ کی مشہور کتاب ’’شرح عقیدۃ الطحاویہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
[مذهب أهل السنة في إثبات الصفات وسط بين المعطلة والمشبهة]
وقولہ: (ومن لم يتوق النفي والتشبيه زل ولم يصب التنزيه) الناس في باب الأسماء والصفات ثلاث طوائف:……
صفات کے باب میں اہل سنت والجماعت کا مذہب معطلہ اور مشبہ کے درمیا ن ہے۔(قولہ ) جو نفی اور تشبیہ سے نہیں بچے گا وہ تنزیہ تک نہیں پہنچے گا۔
شارح فرماتے ہیں کہ اسماء وصفات کے باب میں لوگوں کے تین گروہ ہیں:
(1) معطلہ جو اسماء و صفات کی نفی کرتے ہیں۔ان کا نام جہمیہ بھی ہے۔اور ان کاپیشوا جہم بن صفوان اور اس کے متبعین ہیں۔نیز معتزلہ اور ان کے موافقین ہیں۔
(2) مشبہہ جو اللہ کو اس کی مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں۔یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں۔جو( منطقی قضیہ) نقیض کے دونوں کناروں پر کھڑے ہیں۔معطلہ کا دعوی ہے کہ وہ صفات کی نفی کرکے اللہ کومخلوق کی مشابہت سے منزہ کرکے بڑا اچھا کام کررہے ہیں۔اس طرح سے انھوں نے ایک باطل چیز کو حق کی شکل میں ظاہر کیا ہے۔انھوں نے تنزیہ میں غلو کیا اور حد پار کردی۔یہاں تک کہ الحاد اور گمراہی میں پڑ گئے۔
مشبہہ نے اللہ کی صفات کو ثابت تو کیا لیکن اس کو مخلوق کی صفات سے تشبیہ دے دیا۔ان کے کہنے والے نے کہا: اللہ کے پاس ہمارے کان کی طرح کان ہے۔اور ہماری آنکھ کی طرح آنکھ ہے۔انھوں نے صفات کے اثبات میں غلو کیا یہاں تک کہ اسےمخلوق کی صفا ت سے تشبیہ دے دی۔
اور یہ دونوں گروہ سیدھے راستے سے ہٹے ہوئےہیں۔
(3) تیسرا گروہ: یہ صراط مستقیم پر چلنے والے اہل سنت والجماعت ہیں۔یہ ہر اس بات پر ایمان رکھتے ہیں جس کی خبر اللہ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے۔اور رسول اکرم ﷺ نے اللہ کے بارے میں دی ہے۔
چنانچہ یہ اللہ کو ان تمام صفات سے متصف کرتے ہیںجس سے اللہ نے خود کو متصف کیا ہے۔یا نبی کریم ﷺ نے اللہ کو متصف کیا ہے۔بلاتحریف اور تعطیل اور بلاتکییف اور تمثیل کے۔ان کا مذہب اسماء وصفات کی تحریف،
اس کے علاوہ بھی بہت سی دلیلیں اور شہادتیں ہیں۔اختصار کے پیش نظر ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
اب یہ جو گروزنی کانفرنس میں شریک ہونے والے صوفیا ء ہیں۔یہ لوگ صفات باری تعالی کی یا تو تاویل کرتے ہیں یا تعطیل۔پھر بھلا بتائیں؟ یہ اہل سنت والجماعت کیسے ہوئے؟ اصلی اہل سنت والجماعت توسلفی اور اہل حدیث ہی ہیں۔
بڑا افسوس ہوتا ہے کہ جس زمانے میں مسلمانوں کے تشخص ہی نہیں بلکہ وجود پر سوالیہ نشان لگ رہا ہو۔اتحاد امت وقت کی اہم ضرورت ہو۔مل کر تدبیر کرنا وقت کا تقاضا ہو۔ایسے میں اس طرح کے مسائل اٹھا کر ملت کو افتراق اور انتشار سے دوچار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اللہ ہمیں ہدایت دے۔
علامہ اقبال نے سچ کہا تھا ؎
طبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی
ورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علم کلام
اللہ رب العالمین ہمیں صحیح عقیدے کو سمجھنے کی توفیق دے۔آمین





