اللہ تعالی کی صفت فوقیت اور اس سلسلہ میں شارح عقیدۂ طحاویہ کے موقف کا تنسیقی وتوضیحی مطالعہ
’’العقیدۃ الطحاویۃ‘‘ عقیدہ کی بنیادی کتابوں میں سے ہے،
مؤرخین اورتذکرہ نویسوں نے ان کی تالیفات کی تعداد تیس سے زائد بتائی ہے مگر شرح معانی الآثار،
ان میں سب سے اہم جسے بلاد اسلامیہ میں غیرمعمولی پذیرائی اور بے پناہ اہمیت و مقام حاصل رہا وہ یہی آخرالذکر کتاب ہے،
علو و فوقیت اللہ تعالی کی صفات ذاتیہ میں سے ہیں (۱)،
اہل علم علو کی تین قسمیں کرتے ہیں:
۱۔علو القوۃ
۲۔علوالقہر
۳۔علو الذات و المکان
اہل سنت ان تینوں قسموں کو تسلیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی قوت قہر وجلال کے اعتبارسے بھی عالی اور بلند ہے اور ساتھ ہی ذات و مکان کے اعتبار سے بھی بلند و برتر ہے اور اہل کلام اور اہل تجهم و اعتزال آیات و احادیث کو صرف علو قوت و قہر میں محصور مانتے ہیں جب کہ آیات و احادیث اور عقل سلیم علو ذات و مکان پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں۔
انکار کی صورت میں اہل باطل کے لیے مسئلہ پیدا ہوا کہ اللہ اگر عرش پر مستوی نہیں تو کہاں ہے؟ چنانچہ یہیں سے عقیدۂ وحدت الوجود (۳) و حلول جیسے باطل افکار و عقائد کا ظہور ہوا۔ان پر ’’فرَّ من المطر،
شارح عقیدۂ طحاویہ نے ان سب مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہے،
ایک مہذب شرح العقیدۃ الطحاویۃ اور دوسری تہذیب شرح العقیدۃ الطحاویۃ،
امام طحاوی لکھتے ہیں:
’’وھومستغنٍ عن العرش ومادونه،
شارح نے امام طحاوی کے اس متن کی توضیح میں تین طرح کے مسائل کا ذکر کیا ہے:
۱۔استغنائہ عن خلقہ: یعنی اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔
۲۔إحاطتہ بہم: یعنی اس نے تمام مخلوقات کا احاطہ کر رکھا ہے۔
۳۔علوہ علیہم: اللہ کی ذات تمام مخلوقات پر بلند ہے۔
پہلے مسئلہ میں یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالی کی ذات مقدسہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے،
دوسرے مسئلہ میں یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالی نے پوری کائنات کا اپنی عظمت،
لَیْسَ کَمِثْلِه شَيءٌ
’’اس کے مثل کوئی چیز ہے ہی نہیں۔‘‘
اور تیسرے مسئلہ میں اللہ تعالی کی صفت علو کو تین طرح سے ثابت کیا ہے:
۱۔شھادۃ النصوص والآثار۔ نصوص وآثار سے استدلال۔
۲۔شھادۃ العقول۔ عقلی استدلال۔
۳۔شھادۃ الفطرۃ۔ فطری اور بدیہی استدلال۔
۱۔نصوص وآثار سے استدلال:
شارح علیہ الرحمہ نے مختلف دلائل اور نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے استدلال کرکے مسئلہ’’ فوقیت‘‘ کو ثابت کیا ہے،
۱۔فوقیت کے ذریعہ تصریح:
ارشاد باری ہے:
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِہ. (الأنعام:۶۱)
’’اوروہ اپنے بندوں کے اوپر غالب و برتر ہے۔‘‘
یَخَافُوْنَ رَبَّہُمْ مِّنْ فَوْقِهمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ. (النحل:۵۰)
’’اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔‘‘
عن أبي هریرة رضي اللہ عنه عن النبي صلی اللہ علیه وسلم أنَّه قال: لمَّا قَضَـَی اللہُ الخلقَ،
[صحیح بخاری: بدء الخلق رقم۳۰۲۲،
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
روی مسلم عن النبي صلی اللہ علیه وسلَّم فی تفسیـر قوله تعالی: ’’ھُوَ الْأَوَّلُ وَاْلآخِرُ وَالظَّاهرُ وَالْبَاطِنُ‘‘ قوله: أنت الأولُ فلیس قبلكَ شيءٌ،
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت ھو الأول ... کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: توہی اول ہے،
یہاں ظہور سے مراد علو ہے،
فَمَا اسْطَاعُوْا أَنْ یَّظْهَرُوْہُ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَه نَقْباً (الکھف: ۹۷)
’’ان میں اس دیوار کے اوپر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ اس میں سوراخ کرسکتے تھے۔‘‘
تو گویا یہاں یظہر کا معنی یعلو ہوگیا۔(اس کے علاوہ اور بھی اس قسم کے دلائل ہیں،
۲۔عروج کے ذریعہ تصریح:
نصوص میں لفظ ’’عروج‘‘ یعنی ’’بلند ہونا ‘‘ کے ذریعہ صفت فوقیت کا اثبات کیا گیا ہے۔ذیل کے دلائل کے ذریعہ اندازہ کیاجاسکتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے:
تَعْرُجُ الْمَلَائِکةُ وَالرُّوحُ إِلَیه فِیْ یَوْمٍ ... (المعارج:۴)
’’جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں ایک دن میں۔۔۔۔‘‘
ارشاد نبوی ہے:
یعرج الذین باتوا فیکم فیسألہم اللہ ... [صحیح بخاری: المواقیت رقم۵۳۰،
’’جن فرشتوں نے تم میں رات بسر کی ہوتی ہے وہ اللہ کی جانب بلند ہوتے ہیں تو اللہ ان سے سوال کرتا ہے۔۔۔۔‘‘
۳۔صعود کے ذریعہ سے تصریح:
ارشاد باری ہے:
إلَیْه یَصْعَدُالْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُه. (الفاطر:۱۰)
’’تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے۔‘‘
۴۔بعض مخلوقات کو اٹھانے کے ذریعہ تصریح:
ارشاد باری ہے:
بَلْ رَّفَعَه اللّٰہُ إلَیْه (النساء:۱۵۸)
’’بلکہ اللہ تعالی نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا۔‘‘
مزید ارشاد ہے:
ياعِیْسٰی إنِّيْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ إلَیَّ. (آل عمران:۵۵)
’’(جب اللہ تعالی نے فرمایا ) اے عیسی! میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں۔‘‘
۵۔علو مطلق کے ذریعہ سے تصریح:
اس علو مطلق کے ذریعہ فوقیت کی تصریح جو علو کے تمام مراتب ذات،
وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ. (البقرۃ:۲۵۵)
’’وہ تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔‘‘
اور مزید فرمایا:
إنَّه عَلِیٌّ حَکِیْمٌ (الشوری:۵۱)
’’بے شک وہ برتر ہے،
۶۔کتاب نازل کرنے کے ذریعہ تصریح:
فوقیت اور علو کی صراحت اس طرح سے کی کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کو نازل فرمایا۔ظاہر ہے نزول اوپر سے ہی ہوسکتاہے نہ کہ نیچے یا کسی اور جہت سے۔ارشاد باری ہے:
تَنْزِیْلُ الْکِتَابِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ. (الزمر:۱)
’’اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالی غالب باحکمت کی طرف سے ہے۔‘‘
۷۔اس بات سے تصریح کی کہ بعض مخلوقات اللہ کے پاس ہیں:
اللہ تعالی نے علو کی صراحت یہ بتا کر کی کہ بعض مخلوقات ایسی ہیں جو آسمان میں اس کے پاس رہتی ہیں اور ان میں سے بعض بعض سے زیادہ قریب ہیں۔ارشاد باری ہے:
وَلَه مَنْ فِيْ السَّمَاوَاتِ وَالْأرْضِ وَمَنْ عِنْدَہ،
’’آسمان اور زمین میں جو ہے اسی اللہ کا ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں نہ تھکتے ہیں۔‘‘
اس آیت میں اللہ تعالی نے ’’مَنْ لَہٗ‘‘ اور’’َمَنْ عِنْدَہٗ‘‘ کے ذریعہ سے فرق کیا ہے۔’’مَنْ لَہٗ‘‘ کامطلب ہوا کہ کائنات میں بہت سی مخلوقات اس کی ملکیت اور اس کی نگرانی میں ہیں اور ’’مَنْ عِنْدَہٗ‘‘ کا مطلب ہوا کہ بہت سی مخلوقات اس کی ملکیت میں تو ہیں ہی اس کے پاس اور قریب بھی ہیں۔
۸۔اس بات سے صراحت کی کہ اللہ تعالی آسمان میں ہے:
علو و فوقیت کی صراحت کہ اللہ تعالی آسمانوں میں بلند ہے،
أَأَمِنْتُمْ مَّنْ فِیْ السَّمَاءِ أَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْأَرْضَ. (الملک:۱۶)
’’کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں والا تمھیں زمین میں دھنسا دے؟‘‘
مفسرین نے اس کی دو توجیہات بیان کی ہیں:
۱۔یہاں’ فی‘ ’علی‘ کے معنی میں ہے،
۲۔’السماء‘ سے مراد ’علو‘ ہے جس میں کسی مفسر کا اختلاف نہیں،
۹۔استوی کے ذریعہ علو کی تصریح:
اللہ تعالی نے قرآن کے متعدد مقامات پر اپنے عرش پر مستوی ہونے کی بات کہی ہے اور ساتھ ہی عموما ’علی‘ کا صلہ بھی استعمال کیا ہے جو کسی چیز پر استقرار کے معنی کو واضح کرتا ہے۔ارشاد باری ہے:
الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی. (طہ:۵)
’’رحمن عرش پر مستوی ہوا۔‘‘
ثمَّ اسْتَوٰی عَلٰی الْعَرْشِ. (یونس:۳)
’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘
۱۰۔ہاتھ بلندی کی طرف اٹھانے کے ذریعہ علو کی تصریح:
ارشاد نبوی ہے:
إنَّ ربَّکم حيٌ کریمٌ یستحیي من عبدہ إذارفع إلیه یدیه أن یرُدَّھما صفراً. [صحیح سنن أبی داؤد:کتاب الصلوۃ باب الدعاء رقم۱۳۳۷،
’’اللہ تعالی کو اپنے بندے سے شرم آتی ہے کہ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹائے جب وہ اپنے ہاتھوں کو اس کی طرف بلند کرتا ہے۔‘‘
۱۱۔آسمان دنیا پر نزول کے ذریعہ علو کی تصریح:
ارشاد نبوی ہے:
ینزِلُ اللہُ في کلِّ لیلةٍ إلی السَّماء الدُّنیا. [مسند أحمد إسنادہ صحیح علی شرط مسلم رقم ۱۶۷۴۵،
’’اللہ تعالی ہر روز آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے۔‘‘
ظاہر ہے کہ نزول اوپر سے نیچے ہی ہوگا،
۱۲۔حسی اشارہ کے ذریعہ علو کی تصریح:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر انگلی کو آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا تھا:
اللَّھم اشهّدْ.[صحیح بخاری کتاب الحج رقم۱۶۵۴،
’’اے اللہ! تو ان باتوں کے لیے گواہ رہنا۔‘‘
۱۳۔أین کے ذریعہ علو کی تصریح:
اس کی صراحت اس حدیث میں ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لونڈی سے پوچھا تھا: ’’أین اللہ؟‘‘ ’’اللہ کہاں ہے؟‘‘ تو اس نے جواب دیا: اللہ تعالی آسمان کے اوپر عرش پر ہے۔[صحیح مسلم:کتاب المساجد ۳۳،
قرآن و سنت سے ماخوذ یہ چند اہم تصریحات ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ اللہ تعالی صفت علو و فوقیت سے متصف ہے۔اس سلسلہ کی تمام تصریحات کا احصاء باعث طوالت ہے۔
آثار سے استدلال:
ابومطیع بلخی نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جو یہ کہتا ہو کہ میں نہیں جانتا کہ میرا رب زمین میں ہے یا آسمان میں؟ تو امام صاحب نے فرمایا: وہ کافر ہے کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے کہ’’ رحمن عرش پر مستوی ہے۔‘‘اور اس کا عرش ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے۔میں نے کہا: اگر وہ کہے کہ وہ عرش پر تو ہے لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ عرش آسمان میں ہے یا زمین میں،
اس کے بعد شارح طحاوی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے دفاع میں لکھتے ہیں:
ولا یُلتفت إلی مَن أنکر ذلك ممن ینتسبُ إلی مذهبِ أبي حنیفةَ؛
’’امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب بعض ایسے افراد ہیں جو علو کی حقیقت کا انکار کرتے ہیں،
۲۔عقلی استدلال:
شارح علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
لقد شھدتِ العقولُ السلیمةُ بعلو اللہ علی خلقه و ذلك من وجوہ: العلم البدیھي القاطع بأنَّ کل موجودین إما أن یکون أحدھما قائمًا بالآخر کالصفات،
إنَّ اللہ لما خلق العالم،
إنَّ کونه تعالی لاداخل العالم ولاخارجه یقتضي نفي وجودہ بالکلية،
’’پختہ اور صحیح و سالم عقلیں بھی اللہ تعالی کی فوقیت اور علو کی گواہی دیتی ہیں۔یہ ایک بدیہی اور قطعی بات ہے کہ دو موجود شے دو حال سے خالی نہیں ہوں گی یا تو ان میں سے ایک قائم بالغیر یعنی دوسرے پر منحصر ہوگی جیسے صفت کا انحصار موصوف پر اور اس کے برعکس یا قائم بالذات وبالنفس اور دوسرے سے مبائن اور غنی ہوگی یعنی اس کا انحصار دوسروں پر نہیں ہوگا۔
لہذا جب اللہ تعالی نے کائنات کو پیدا کیا تو یہ بھی دو حال سے خالی نہ ہوگا یا تو اس نے کائنات کو اپنی ذات میں پیدا کیا ہوگا یا اپنی ذات سے خارج،
اگر اللہ کی ذات کو فوقیت سے متصف نہ مانیں۔جب کہ اللہ کی ذات قائم بالذات اور غیر مخالط للعالم ہے۔تو یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ فوقیت کی ضد سے متصف ہے اور اس کی ضد سفول ہے اور یہ نہایت مذموم ہے کیونکہ سفول یہ ابلیس کا ٹھکانہ ہے۔‘‘
تعالی اللہ عمایقولون علواًکبیراً۔
گزشتہ سطور میں یہ بات آچکی ہے کہ بعض لوگ اللہ کی صفت فوقیت کا انکار کرتے ہیں۔وہ مندرجہ ذیل ہیں:
فلسفی متکلمین،
یہ لوگ اللہ کی صفت فوقیت کا انکار کرتے ہیں اور نصوص میں فوقیت کے ذکر کو معنوی فوقیت پر محمول کرتے ہیں اور غلاۃ جہمیہ بالکلیہ انکار کرتے ہیں چنانچہ اس مسئلہ میں اپنی تائید کے لیے انھوں نے عجیب و غریب اصطلاحات اور دور از کار تاویلات وضع کیں۔فی الواقع یہ اللہ کی ذات و صفات کا مسئلہ ہے،
الاستواءُ معلومٌ،
’’اللہ کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے،
ذات و صفات کے حوالے سے اصل اعتبار کتاب و سنت کا ہوگا،
ہم کہتے ہیں کون شخص ہے جو اللہ کا قابل للفوقیہ ہونا یا نہ ہونا طے کرے گا؟ اللہ تعالی ہر چیز پر غالب اور متصرف کل ہے اور یہاں شارح نے جو اہل کلام کی زبان میں گفتگو کی ہے اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انہی کی زبان میں ان کا رد کیاجائے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ جو عقیدۂ سلف سے ناواقف ہیں حیران ہوجاتے ہیں،
۳۔فطری استدلال:
فطرت صحیحہ و مستقیمہ واضح انداز میں گواہی دیتی ہے کہ اللہ تعالی تمام مخلوقات پر بلند ہے اور علو کی صفت سے متصف ہے،
محمد بن طاہر المقدسی لکھتے ہیں کہ شیخ ابوجعفر ہمدانی امام الحرمین جوینی کی مجلس میں شریک ہوئے اور وہ اس وقت اللہ کی صفت فوقیت و علو کی نفی کررہے تھے اور کہہ رہے تھے:
کان اللہ ولاعرش وھو الآن علی ماکان.
’’اللہ تعالی تو پہلے تھا مگر عرش نہیں تھا لہذا اس وقت اسی حالت میں ہے جیسے پہلے تھا۔‘‘
پھر ہمدانی نے کہا کہ استاذ! اس ضرورت کا کیا ہوگا جسے ہم اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں کیونکہ کبھی بھی کوئی عارف اللہ کا لفظ جب اپنی زبان سے ادا کرتا ہے تو اس کے دل میں اللہ کے حوالے سے علو کا احساس ہوتا ہے،
علو کے سلسلہ میں اعتراضات و تاویلات:
۱۔عقلی دلیل پر اعتراض:
ان لوگوں نے عقلی دلیل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ دلیل عقلی بدیہی نہیں ہے کیونکہ اس کا جمہور عقلاء نے انکار کیا ہے اور اگر یہ مسئلہ بدیہی ہوتا تو اس میں کسی قدر بھی اختلاف نہ ہوتا۔
ہم جواب دیتے ہوئے کہیں گے: اگر عقل نے تمھاری بات تسلیم کی ہے تو ہماری بات کو اور زیادہ تسلیم کرے گی اور اگر ہماری بات رد کرتی ہے تو تمھاری بات کو بدرجۂ اولی رد کرے گی،
اگر تم نے یہ کہا کہ اکثر عقلاء ہماری رائے سے متفق ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ یہ بات بالکل غلط ہے بلکہ سب سے پہلے فلاسفہ کے ایک گروہ نے یہ باتیں پیش کیں اور اسلام میں سب سے پہلے جہم بن صفوان سے یہ عقیدہ آیا اور جو لوگ بھی تمھارے اس عقیدہ کو مانتے ہیں وہ شریعت اسلامیہ کے صریح مخالف و متضاد نظریات کے حامل ہیں۔
۲۔فطری دلیل پر اعتراض:
تم ہم پر اعتراض کرتے ہو کہ آسمان دعا کا قبلہ ہے جیسا کہ صلاۃ کا کعبہ ہے،
اس کا جواب یہ ہے:
۱۔تمھارا یہ کہنا کہ آسمان دعا کا قبلہ ہے،
۲۔دعا کا قبلہ وہی ہے جو صلاۃ کا قبلہ ہے،
تاویلات:
علو کے مسئلہ میں شارح علیہ الرحمہ نے دو طرح کی تاویلات کا تذکرہ کیا ہے:
۱۔بعض اہل کلام اور منکرین علو نے ’’فوقیت‘‘ کو خیریت اور افضلیت کے معنی میں لیا ہے۔گویا جب ہم کہتے ہیں:
’’اللہ فوق العرش‘‘ (اللہ تعالی عرش کے اوپر ہے) تو اہل باطل کے یہاں اس کا معنی ہوا: اللہ خیروأفضل من العرش یعنی اللہ تعالی عرش سے بہتر ہے۔۔
اس اعتراض کی نامعقولیت واضح ہے یہ تو ایسے ہی ہوا جیسے کوئی کہے:
السماء أعلی من سقف الدار،
’’آسمان چھت سے زیادہ بلند ہے،
یہ تو توہین اور گستاخی ہے،
ألم ترَ أنَّ السیف ینقصُ قدرُہ
إذا قیل إنَّ السیف أمضیَ من العصیَ
’’کیا تم نے دیکھا نہیں تلوار کی قدر و قیمت اس قت کم ہوجاتی ہے جب اس کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہا جائے کہ تلوار لاٹھی سے زیادہ تیز ہے۔‘‘
عصا سے تیز ہے تلوار گر کہے کوئی
تو گویا اس نے کی توہین،
اور پھر خالق و مخلوق کے درمیان اس طرح کی تمثیلات کی چنداں ضرورت نہیں۔ہاں کبھی مقام کا تقاضا ہو تو بیان تفاوت ضروری ہوجاتا ہے۔جس طرح یوسف علیہ السلام نے جیل میں قیدیوں سے فرمایا:
أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيرٌ أَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ. (یوسف:۳۹)
’’بھلا کئی جدا جدا آقا بہتر ہیں یا ایک اللہ یکتا و غالب۔‘‘
یہاں گویا ایک طرح کا موازنہ کیا اللہ اور دیگر معبودان باطلہ کے درمیان،
۲۔منکرین تاویل کرتے ہیں كہ اللہ تعالی صفت علو سے تو متصف ہے لیکن’’ علوالمکانۃ والمنزلۃ لاالمکان والمنزل‘‘ یعنی وہ مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بلند ہے،
مزید براں کسی مماثل کا بلند ہونا حقیقت میں بلند ہونے کے تابع ہوتا ہے۔ایک ذات ذہن میں بلند ہے لہذا یہ حقیقت میں بلند ہونے کے تابع ہے جب ذہن اور حقیقت میں توافق و مطابقت ہو تو بات درست ہوتی ہے ورنہ لوگ اسے جھوٹا کہتے ہیں۔اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ پاک کا مقام ہمارے دلوں میں سب سے زیادہ بلند ہے تو ہم کہیں گے یہ بھی درست ہے اور یہ اللہ تعالی کی حقیقی بلندی کے عین مطابق ہے۔اگر اللہ اپنی ذات کے لحاظ سے سب پر بلند نہیں تو بلاشبہ دلوں میں اللہ تعالی کی بلندی ثابت نہ ہوگی۔اس کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو ایسی چیزوں کو اعلی کہتا ہے جو فی الواقع اعلی نہیں،
اس طرح شارح نے علو کو مختلف انداز سے ثابت کیا ہے جسے مختصر بیان کیا گیا۔مجبورا طوالت کے خوف سے بعض نکات کو ہم نے قلم انداز کردیا اور اہم نکات پر توجہ مرکوز رکھی۔
حاشیہ
۱۔صفات باری تعالی دو طرح کی ہیں: (۱) ذاتیہ (۲) فعلیہ
(1) ذاتیہ وہ ہوتی ہیں جو اللہ تعالی سے الگ نہیں ہوتیں جیسے علو،
(۲) فعلیہ وہ ہیں جنھیں اللہ تعالی اپنی مشیت کے مطابق جب چاہتا ہے اختیار کرتا ہے اور جب چاہتا ہے الگ کردیتا ہے۔مثلا: استواء،
۲۔صفت استواء اور صفت علو دونوں سے اللہ تعالی کی صفت علو اور فوقیت کا اثبات ہوتا ہے لیکن دونوں میں ذرا سا فرق ہے۔صفت استواء نص اور نقل سے ثابت
ہے یعنی اگر قرآن و حدیث میں اس کا ذکر نہ ہوتا تو ہمیں اس کا علم نہ ہوتا بخلاف صفت علو کے کہ وہ نقل،
۳۔یعنی اللہ تعالی ہر جگہ اور ہر چیز میں موجود ہے۔یہ نہایت خطرناک مشرکانہ عقائد میں سے ہے۔وحدت الوجود صوفیاء کی بنیاد ہے،
تمام موجودات کا وجود صرف ایک ہے اور وہ اللہ کا وجود ہے،
ندیم و مطرب و ساقی ہمہ اوست
خیال آب وگل دررہ بہانہ
’’ساتھی،
اس وحدت کے برعکس اہل اسلام دو وجود کے قائل ہیں،
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلام اور تصوف کے فکری نظام میں یکسر تضاد و تباین ہے۔دونوں الگ الگ نظامہائے فکر ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ فکر و خرد سے عاری افراد تصوف کو اسلامی و غیر اسلامی یا عجمی تصوف میں تقسیم کرتے ہیں جو سراسر باطل اور کوتاہ بینی پر مبنی ہے۔یہاں اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے: ؎
بیاں میں نکتۂ توحید تو آسکتا ہے
ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے
۴۔اس میں ذات باری تعالی کی بالکلیہ ہی نفی ہوجاتی ہے جو اہل کلام،
۵۔’’مباینت لازم ہوگئی‘‘ کا مطلب ہے کہ یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالی کی ذات کائنات سے خارج اور الگ ہے یعنی جب مخلوق اللہ کی ذات سے الگ ہے جس پر ہمارا اتفاق ہے تو گویا ہم نے ثابت کردیا کہ وجود دو ہیں اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے الگ اور مختلف ہے،
۶۔قائم بالنفس یا بالذات سے مراد وہ یہ لیتے ہیں كہ اللہ تعالی کا وجود مخلوقات سے الگ اور منفرد ہے اور وہ تمام مخلوقات سے غنی اور بے نیاز ہے،





