جمعے کے دن ہر مسلمان دین دار ہو جاتا ہے۔گھر میں ٹی وی کا کیبل نکال دیا جاتا ہے اور ریڈیو بند رکھا جاتا ہے۔ہمہ وقت مشغول رہنے والے بھی جمعے کی نماز کے لیے اپنے آپ کو فارغ کر لیتے ہیں۔خواتین بھی گھروں میں قبل از وقت کھانا بنا کر فارغ ہو جاتی ہیں اور نہا دھو کر نماز پڑھتی ہیں اور کلامِ پاک کی تلاوت کرتی ہیں۔جمعے کے دن کے احترام میں ہر مسلمان اپنی زبان کو بھی بد کلامی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ وہ کام ہیں جو دوسرے دنوں میں نہیں ہوتے۔مختصراً یوں کہہ لیں کہ جمعے کے دن مسلم سماج میں خود بہ خود وہ روحانی ماحول قائم ہو جاتا ہے جو دوسرے دنوں میں نہیں ہوتا۔
ایسے ماحول میں اگر آپ کسی شخص کو دین کی بات بتائیں اور اسے بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں تو یقیناً دوسرے دنوں کے مقابلے اس کی تاثیر زیادہ ہوگی۔اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جمعے کا خطبہ مشروع فرمایا ہے اور خطبے کے دوران کلام کی ممانعت کر کے اس کو عام خطبوں سے اونچی حیثیت بھی دی ہے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی بندیوں کو مسجد جانے سے نہ روکو۔(صحیح بخاری:900،
ٹھیک ہے آج کے لوگوں کا ایمان کم زور ہے،
اگر ہم خواتین کو مسجد نہیں بھیجیں گے اور وہ مسجد جا کر قرآن و حدیث کی تعلیمات نہیں حاصل کریں گی تو ان کے اندر فتنوں سے لڑنے کی شکتی کہاں سے پیدا ہوگی؟ اور کہاں سے ان کے اندر بچوں کی صالح تربیت کا جذبہ آئے گا؟ اور سب سے بڑی بات توحید و شرک کی سمجھ اگر ان کے اندر مسجدوں سے نہیں آئے گی تو کیا مزاروں سے آئے گی؟ ویسے بھی بہت سی خواتین مسجد کا دروازہ بند ہونے کے سبب جمعے کے دن مزاروں اور قبروں کا رخ کرتی ہی ہیں۔





