میں بچپن میں گاؤں کے جس مدرسہ میں پڑھائی کرتا تھا وہاں کے مولوی صاحب درس و تدریس کے ساتھ ساتھ مرغا بنانے میں بھی استاذ تھے۔پہلی بار جب میں اسکول میں مرغا بنا تو اس قدر لطف آیا کہ پڑھائی سے زیادہ مرغا بننے میں میری دلچسپی بڑھ گئی۔یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی مولوی صاحب مجھے اس عمل سے آزاد کرتے میں فورا دوسری شرارت کرکے مرغا بننے کو تیار کھڑا رہتا۔مرغا بننے کا ایک فائدہ یہ تھا کہ کم ازکم آدھا گھنٹہ پڑھائی لکھائی سے فرصت مل جاتی تھی لیکن کہتے ہیں نا کہ گرو تو گرو! مرغا بننے کی میری غیر معمولی دلچسپی کو مولوی صاحب نے بھانپ لیا اور پھر سدا کے لیے انھوں نے مجھے اس عمل سے نجات دے دیا اور اس طرح بھرپور صلاحیت کے باوجود میں مرغا بنتے بنتے رہ گیا۔
قسمت کی خوبی دیکھیے کہ شادی کے بعد مجھے جو اکلوتی سگی بیوی ملی اس کے اندر بھی مولوی صاحب کی طرح مرغا بنانے والی عادت نہ صرف بدرجہ اتم موجود تھی بلکہ مرغا پالنے کا شوق بھی جنون کی حد تک تھا۔انھوں نے مجھے بتایا کہ جس طرح آپ کو مرغا بننے کا شوق بچپن سے تھا اسی طرح مرغا پالنے کا شوق بھی مجھے بچپن سے ہے۔حیرت کی انتہا نہیں رہی جب بیگم نے کہا کہ آپ سے پہلے بھی میں تین مرغ پال چکی ہوں لیکن پھر انھوں نے جب وضاحت کی کہ اس میں دو دیسی اور ایک فارم والا تھا تب جاکر مجھے قدرے اطمینان ہوا۔مرغا پالنے اور بنانے میں ان کی والہانہ دلچسپی کو دیکھتے ہوئے بطور سزا برتن مانجنے یا مرغا بننے کے آپشن میں ہمیشہ مرغا بننے کو ہی میں نے ترجیح دیا۔اس کا فایدہ یہ بھی ہوا کہ بچپن میں مولوی صاحب کی لاپروائی اور ان کے غیر دانشمندانہ فیصلے سے اس پروفیشن میں جو کمی رہ گئی تھی وہ بیگم کے زیر نگرانی پروان چڑھنے لگی۔(جو لوگ اس فن سے نا آشنا ہیں وہ آج بھی گھروں میں برتن مانجنے پر مامور ہیں)
ایک دن مرغا بنانے کے بعد بیگم نے بچے سے کہا کہ جاکر ناشتہ لے آؤ لیکن یاد رہے کہ انڈا مت لانا۔انڈا نہ لانے کی بات کو انھوں نے جب تین بار دہرایا تو میں آنے والے خطرے کو بھانپ گیا۔بیگم کی نیت دیکھ کر میری رگِ مذکر پھڑک اٹھی اور بغاوت کے سر میں بولی کہ بیگم جو کام آپ سے نہیں ہوسکا وہ مجھ سے کیسے ہوسکتا ہے؟ میں مانتا ہوں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایک عورت جب چاہے جنس بدل کر مرد کا روپ دھار لے یا ایک مرد جب چاہے اپنی گود بھرلے لیکن 4 جی بی ریم کا کام 2 جی بی ریم سے کیسے ہوسکتا ہے۔اس طرح تو ہارڈسک بھی ڈیمیج ہوسکتا ہے۔میری بات سن کر بیگم نے جب قہر اور زہر آلود نظروں سے دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ انڈے کے بجائے کوئی سیال مادہ باہر آنے کو بیتاب ہے اور تھوڑی سی بھی تاخیر گھر میں ناک کٹوانے کا سبب بن سکتی ہے اس لیے ایک جست کے ساتھ قریب کے بیت الخلاء میں گھس گیا۔
بیت الخلاء گیس،
کلا اور آرٹ سے مزین ان بیت الخلاؤں کی بات ہی نرالی ہے،
کتاب النکاح پڑھاتے وقت کام سوتر کے ان چتروں کو اگر سامنے رکھا جائے تو عربی مدارس کے طلبا کو جنسی مسائل سمجھنے میں کافی سہولت ہوسکتی ہے لیکن برا ہو ان قدامت پسند مولویوں کا جو جدید قسم کی ایسی ٹیکنالوجیوں کو ہمیشہ نظر انداز کرتے رہے ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ طلباء نے بھی اس کو مسترد کردیا ہے،
مختلف قسم کے اقوال زریں بھی بیت الخلاء کی اس چھوٹی سی چہار دیواری کے اندر آپ کو نظر آجائیں گے۔دو سال قبل میونسلپٹی کے ایک ٹوائیلیٹ میں جانے کی مری دلی تمنا جب پوری ہوئی تو مجھے اتنی خوشی ہوئی جتنی بیگم کے میکے جانے سے بھی نہیں ہوتی۔جیسے ہی میں اندر جاکر بیٹھا سامنے دروازے پر ایک عبارت نظر آئی کہ دائیں جانب دیکھیں،
پلٹتے ہیں گھر کے بیت الخلاء کی طرف جہاں کافی تاخیر سے میں یہ سوچ کر باہر آیا کہ بیگم کا غصہ اب شانت ہوگیا ہوگا لیکن جوں ہی دروازہ کھولا پہاڑاپور کے اینٹ کے بھٹے کی طرح وہ ابھی بھی دہک رہی تھیں،
کچن میں گندے برتنوں کا انبار لگا ہوا تھا۔اس میں کچھ تو تروتازہ لگ رہے تھے لیکن کچھ برتن ایسے تھے جو سوکھ کر کانٹا ہوچکے تھے جبکہ بعض برتنوں میں اس قدر تعفن اور بدبو تھا لگ رہا تھا کہ ٹاٹا اسپتال کے کسی کینسر زدہ مریض کا لوتھڑا کاٹ کر اس میں ڈال دیا گیا ہو۔بہر حال دیگر احباب کی طرح اس فیلڈ میں تجربہ نہ ہونے کے باوجود بھی میں نے برتن دھونے کے عمل کو بحسن و خوبی انجام دیا البتہ ایک سوچی سمجھی رڑنیتی کے تحت نہایت ہی سست رفتاری کا مظاہرہ کیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس درمیان بیگم نیند کی آغوش میں جا چکی تھیں۔
کام سے فارغ ہونے کے بعد میں نے بیڈ روم کا رخ کیا تو دیکھا کہ بیگم بیڈ پہ سوئی ہوئی ہیں اس لیے حسب روایت بیڈ کے نیچے اپنا بستر لگانے میں جٹ گیا۔یہاں یہ بات بھی واضح کردوں کہ شادی کے دن سے ہی سونے کا میرا یہی طریقہ رہا ہے الا ماشاءالله۔کبھی بیمار ہوگیا اور میڈم کو بھی ترس آگیا تو بیڈ پہ سونے کا بھی شرف حاصل ہوا لیکن اس درمیان بیگم نیچے سوتی رہیں،
نیند ٹوٹتے ہی بیگم دوبارہ آپے سے باہر ہوگئیں۔آج تو وہ کسی بھی طور شانت ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔غضبناکی کا کون سا بھانگ انھوں نے پی لیا تھا میری سمجھ سے باہر تھا ایک بار تو سوچا کہ قاری صاحب کو بلا کر دعا کرادوں لیکن ہمت نہیں جٹا سکا،
اور ہو کیوں نا؟؟
اس تاریخی کامیابی کے پیچھے ان کا ہاتھ جو تھا۔





