ہر شخص کی زندگی تجربات سے بھری پڑی ہے۔تجربات زندگی کا واحد تحفہ ہیں۔تجربات جس قدر تلخ ہوتے ہیں انسان کی شخصیت،خیالات اور اس کی باتیں اسی قدر شیریں،واضح اور مثمر رمز لیے ہوتی ہیں۔
”نسائیت کے سانچے میں سانس لینے والی شخصیت کی حیثیت سے میں ایک انسان ہوں۔میں "میں بھی" نہیں بلکہ میں سے مراد میرا مادی وجود ہے۔مجھ پر بنی نوع انسان کا ہر فرد ایک بوجھ ڈالتا ہے کہ میں چپ رہوں۔وہ مجھے اخلاق کا سبق سکھاتا ہے اور پھر خود ہی اسے پامال کرتا ہے۔وہ مجھے تہذیب سکھاتا پھر خود ہی اسے اجاڑ دیتا ہے۔وہ میرے چلنے،پھرنے،اٹھنے،بیٹھنے تک کو غور سے دیکھتا ہے۔وہ میرے کپڑوں کو جو جدید طرز کے ہوتے ہیں غور سے دیکھتا ہے۔وہ میرے ان کپڑوں پہ بھی نگاہ رکھتا ہے جو مشرقی طرز کے ہوتے ہیں۔وہ مجھے نظر اٹھا کر چلنے سے منع کرتا ہے اور خود میری غفلت میں مجھے گھورتا رہتا ہے“۔
یہ چند سطریں میں نے اپنی جاب کے دوران ایک پروجیکٹ میں کسی خاتون سے انٹرویو کے دوران لکھی تھیں۔مجھے نہیں معلوم تھا میری ان سطروں کو سنبھال کر رکھ لینے کی وجہ سے میں بالکل نئی قسم کی انسانی کوششوں سے متعارف ہوسکتی ہوں۔
میں نے دینی درسگاہیں اٹینڈ کی ہیں۔اللہ نے مجھے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ابوظبي کا سفر کروایا۔وہاں سے سعودیہ عربیہ کی جانب میں نے رخ کیا۔میرے ساتھ میرے محرم تھے اور خاندان کا ایک لمبا سلسلہ اور بہت بڑی بڑی سفارشیں بھی تھیں۔مجھے تعلیم حاصل کرنے کے لیے کبھی نہیں روکا گیا،اور بڑے علمی موقعوں پہ بھی کبھی ٹوکا نہیں گیا۔میرا پہلا ایم اے ممبئی کے ایک کالج سے سائکولوجی میں تھا۔مجھے لگتا ہے میری باقی ماندہ تعلیم کا موضوع ہیومن سائکولوجی سے متعلق ہی ہوگی۔ابوظبی اور پھر سعودیہ میں علم اور اعلی تعلیم کے الٹ پھیر نے ایک وقت میں مجھے بہت ہی اکسائٹڈ کر دیا تھا۔میں بہت پڑھنا چاہتی تھی اور اب ایک وقت آیا مجھے لگنے لگا کہ میں نے بہت پڑھ لیا۔اس لیے نہیں کہ واقعتاً میں نے بہت پڑھ لیا تھا بلکہ اس لیے کہ مجھے کسی نے "بتایا" آپ کیوں پڑھ رہی ہیں۔دھیان رہے اس نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کیا پڑھ رہیں ہیں اور آپ کو کیا پڑھنا چاہیے،یہی وجہ تھی کہ ان سے گفتگو جاری رکھی گئی۔
تعلیم و تعلم کی راہ میں لگ جانے کے بعد آپ خود اپنے شعور کو سمجھنے لگتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آپ کا شعور آپ کا ہے ہی نہیں۔تعلیمی نظام کی ایک اچھی بات ہے وہ آپ کو ذہنی طور پر بالغ بنا دیتا ہے اور ہمارے معاشرتی نظام کی ایک بری بات یہ ہے کہ وہ آپ کو بالغ ہونے ہی نہیں دیتا،کبھی جسمانی ساخت کو مد نظر رکھ کر اور کبھی ذہنی کجی کو مد نظر رکھ کر۔پچھلے کئی سالوں سے میں ہمارے ایک خیر خواہ کی باتیں بڑے غور سے سن رہی ہوں۔وہ وہی زبان بولتے ہیں جس کو میں بولنا چاہتی ہوں۔میں اپنے تجربات اور اپنی پروفیشنل لیاقت کو سامنے رکھ کر ایسی بات کہنا چاہتی ہوں جو ہمارے لیے بالکل نئی نہیں۔میرے موضوع میں عورت،پدرانہ نظام،علماء،دین،تہذیب اور ہمارے سوچنے کا انداز اہم نکات ہیں۔
عورت: دو تعارف
پہلا تعارف:
عورت ایک فائدہ اٹھانے کی چیز ہے۔وہ تمھاری زندگی میں رنگ بھرنے کے لیے ہے۔ان سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے تو اس کی اچھے طریقے سے پرورش کرو۔وہ تمھارے گھر کی زینت ہے اور تمھارے گھر کی سوگواری پہ چہچہاہٹ طاری کر دینے والی ایک مخلوق بھی ہے۔
مگر عورت عورت ہے،وہ شیطان کا دوسرا روپ بھی ہے۔عورت کو اتنا پڑھاؤ جس سے وہ تمھارے کنٹرول میں رہ سکے۔عورت تمھاری عزت ہے اور تمھاری غیرت بھی ہے۔اس کے پاس زیادہ عقل نہیں ہوتی اس لیے اس سے مشورے نہ لو۔اس کی جسمانی ساخت اور نفسیاتی تبدیلیاں اس کے مزاج کو ڈھالتی ہیں۔وہ تمھاری جائداد اور ملکیتوں کے بٹنے کی وجہ بھی ہوتی ہے۔انھیں کنٹرول اور مکمل کنٹرول میں رکھو۔کون اسے کب پاگل بنا کے اڑا لے جائے کسی کو کچھ نہیں پتہ۔عورت مرد کی ماتحت ہے اس لیے کہ مرد قوام ہے۔
دوسرا تعارف:
ہم درد کی رکھوالی کرنے کے لیے ہیں۔ہم سے وراثتیں زندہ رہتی ہیں۔ہم مذہب کے اسی طرح محافظ ہیں جس طرح تم مذہب کی حفاظت کے ذمہ دار۔شاید تم سے مذہب کی اب حفاظت نہیں ہوتی مگر ہم تو آج بھی ایک کھوٹے سے بندھے ہیں،اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں اور دین میں اپنی راہ اور جگہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے مایوس ہوگئے ہیں۔
ہزارہا سالوں سے ہم تمھاری زندگی،ملکیت،سلطنت،قوت،مردانگی اور غلیظ خواہشات کے حساب سے اس طرح سجائے جاتے رہے جیسے ہماری تخلیق بس آرائش ہے۔تم ہماری رگ و ریشہ تک کو چٹخارے کا موضوع بنا لو اور ایمان کا محل بنا کر اس پر پرہیزگاری کی کنڈی چڑھا لو تو کیا بات بن جائے گی۔تم ہمیں بیچو،خریدو،بوڑھوں سے بیاہ کرادو،بچوں سے بیاہ کرا دو،یا بیاہ نہ کراؤ اور ہماری رائے تک نہ لو۔ہم أشياء کے معاملے میں،شوہر کے معاملے میں اور بود و باش کے معاملے میں بس اظہار بھر کر دیں تو آپ لال پیلے ہوجائیں،نتیجے میں ہماری گردنیں کبھی کسی گٹر میں پڑی ملیں اور ہم کبھی کسی روڈ حادثہ میں تباہ ہو جائیں،کبھی سلینڈر پھٹ جائے،کبھی ہم اپنے مسیحاؤں کے ہاتھوں خود مذہبی تعلیم گاہوں اور کبھی غیر مذہبی تعلیم گاہ اور آفسوں میں برباد ہو جائیں۔
عورت اور پدرانہ نظام:
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پدرانہ نظام یہ مردوں کی یا مردانہ نکتہ نظر کی کنجی ہے۔اسلام کا شروعاتی دور ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے اس نے پدرانہ نظام کے ظلم سے عورت کو آزاد کرایا،اس طرح آزاد نہیں کرایا کہ دنیا آپ کے پیچھے تلوار لے کر دوڑ پڑے بلکہ اس طرح کرایا کہ نبی کے معجزے اور قرآن کا اعجاز کام میں آئے۔دینی تعلیم یہ نہیں ہے کہ عورت کو کوہ کاف میں چھپا دو اور چیختے پھرو ہم سے بڑا مذہب والا کوئی نہیں! دینی تعلیم یہ نہیں ہے کہ عورت کو اس کے جسمانی جغرافیہ،اس کی نفسیاتی حالت کو مد نظر رکھ کر آپ معاشرت کے مصادر و مراجع کو سمجھیں بلکہ یہ ہے کہ عورت کو وجودی اور انسانیت کے مقام کے لحاظ سے آپ کس طرح اپنی اور خود عورت کی کے لیے اسے کیسے پیش کرتے ہیں! شروع کے اسلام اور قرآن و سنت کی تفسیر میں عورت انسانیت کے سانچے میں دیکھی گئی .... تہذیبی پیچیدگیوں کے سانچے میں نہیں۔
پدرانہ نظام کے لیے اچھے خاصے جواز ہیں اور ہو سکتے ہیں۔پدرانہ نظام اچھا بھی ہوسکتا ہے مگر کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ابھی کے پدرانہ نظام کا سپورٹ کرنے کے بجائے ہم عورت کو لکھنے،پڑھنے اور علوم دینی_دنیوی (میرے لیے دونوں ایک چیز ہے) کی حفاظت کے لیے اس طور سے آگے بڑھائیں جس میں معاشرہ کو واضح رہنمائی ملے۔آپ کو اگر ڈر ہے کہ عورت کو زیادہ پڑھائیں گے تو چولہا کون سنبھالے گا،یا کہیں وہ امامت نہ کرانے لگیں تو آپ تھوڑا سا بھروسا کریں (اس کے علاوہ آپ کے پاس کوئی آپشن نہیں یا خطرناک آپشن ہے)،ہمیں ایک محفوظ ماحول دیں ہم آپ کو ایسی نسلیں دیں گے جو چہار دانگ عالم میں دینی شعور کو پروان چڑھادیں۔
مربیانہ انداز:
کرم خوردہ دلوں پہ واقعی سانپ لوٹ جاتے ہیں جب ہم مردوں کی بے جا خواہشات کو پورا نہ کر سکیں۔فطری چیزیں پورا کرنے میں کسے انکار ہوسکتا ہے مگر اسے بہانہ بنا کر کوئی شخص ہمیں نفسیاتی مریضہ بنا دے تو ویل ہے ایسے شخص پہ اور ایسی تہذیب کے اقدار پہ۔ایسے میں آپ کو مان لینا چاہیے کہ ہماری تہذیب منافقانہ اقدار کو بھی ہوا دیتی ہے۔میری سہیلی کی ماں اور گھر والے اس کی شادی اس لیے نہیں کرانا چاہتے اگر وہ چلی گئی تو گھر کون سنبھالے گا! خواتین کی تحریروں میں ہم آج بھی گلابی رنگ ڈھونڈتے ہیں جب کہ ہماری بہت سی بہنوں نے مغربی ممالک میں جنسی ہجرت کو اپنا لیا ہے شاید ہندوستان میں بھی اپنانا شروع کردیں یا کر دیا گیا ہو؛جنسی ہجرت دراصل جنس کی تبدیلی کا نام ہے۔ایسا عورتوں کی اس نفسیات میں مبتلا کرنے والی تہذیب کا تمام قسم کی اخلاقیات سے بے بہرہ ہوجانے کی وجہ سے ہے وہیں ان کی تربیت پہ کم توجہ دینا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے؛یا آپ اس کی جو چاہے تاویل کر لیں۔
جس تہذیب کے پاس ”صرف“ تعلیم ہو وہ تو تباہ ہوتی ہی ہے اور جس تہذیب کے پاس تعلیم نہیں ہوتی وہ ایک جہالت زدہ پدرانہ نظام کے ہتھے بالآخر چڑھتی ہے،کم سے کم تاریخ ہمیں یہی بتائے گی۔اب اگر تہذیب خود بھی تربیت کے نام پہ دو راہیں نکالے اور مربی بننے کے نام پہ نسائی شعور کو کنٹرول رکھنے اور ماتحت بنانے کے لیے نئی نئی ترکیبیں نکالے تو ہم بلا قید مسلک و ملت اپنے لوگوں کے پاس کیوں رہیں؟ ہمارا ایسے ماحول میں دم کیوں نہ گھٹے؟ ہم محلہ میں برقعہ اور محلہ سے باہر اسکرٹ میں کیوں نہ گھومیں؟ ہم فرار اختیار کیوں نہ کریں؟ جب ہم اس موضوع پہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں تو آپ کا مربیانہ انداز ہمارے تمام تر غموں کو اپنی دانست میں ختم کرکے چند حوالہ جات،وراثت،طریقہ،روایت کی دہائی دیتا ہے۔جب ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہماری ماں ہمارے بھائی کو دودھ کا پیالہ ناشتہ میں پہلے دیتی ہے اور ہمیں چائے روٹی تو آنکھوں سے سیلاب کیوں نہیں بہہ پڑتا!
میں غلیظ ہوں،میں خبیث ہوں……۔یہ محترمہ اقرا خلجی کے جملے ہیں جسے انھوں نے چند دنوں پہلے بی بی سی پہ اور دوسری جگہوں پہ وائرل کیا۔ان کے یہ جملے ہماری مہذب اور پڑھی لکھی دنیا میں عورتوں کے اعضاء کو لے کر کانا پھوسی کرتے ہوئے وجود میں آئے۔وہ شاعرہ بھی ہیں۔میرے حساب سے ایک پڑھے لکھے معاشرہ سے آپ پرورٹڈ خیالات کی امید نہیں کر سکتے۔میں بھی ایسا ہی سوچتی ہوں۔میں ایک مدرسہ کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ بھی ہوں،میرا بہت گہرا رشتہ ایک دینی گھرانے سے ہے۔مگر آج جب میں ایک دین والے معاشرہ سے ذرا قریب بھی جاتی ہوں تو مجھے اس سے زیادہ برے سلوک اور پرورژن کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو پہلی حالت میں صرف ایک ہائیلی کوالیفائیڈ یونیورسٹی کے ماحول میں آزاد سوچ کے نام پہ تھا۔
اب یہ خیال چھوڑ دو کہ آرائش ہے تخلیق میری...... یہ بہن خلجی کے اشعار کے آخری جملے ہیں۔
ہماری جنریشن ایک دباؤ اور معاشرتی پریشر سے تو بھاگنے کا انتظام کر چکی ہے مگر کیا اس کے پاس اباحیت والے دروازے کے علاوہ کوئی اور دروازہ ہے؟ ہماری نسل،ہماری ہی تہذیبی نظام سے بد دل ہے اور ہمارے علماء سے نظریں چرانے لگی ہے.... کیا پھر ہماری نیتوں میں کوئی کھوٹ ہے؟
(میں شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ہمارے کچھ خیر خواہ کا جنھوں نے مجھے بہت پرانی مگر ضروری بات کہنے کا راستہ سجھایا اور میزان بھائی کا جن کے غائبانہ تعارف نے مجھے ڈھارس بندھائی اور یہ بتایا کہ نجات دہندہ آچکا ہے اور علماء تیار ہیں نئی نسل کو مخاطب کرنے کے لیے)