آج ہر چہار جانب برائی و بے حیائی،
ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور اس کا تاریخی پس منظر:۔
ویلنٹائن ڈے کے تاریخی پس منظر کے بارے میں مؤرخین نے تین واقعات بیان کیے ہیں:۔
پہلے واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ رومیوں کا ایک مذہبی تہوار تھا جسے وہ اپنے محبت کے دیوتا لوپر کالیا (Loper Calia) کے نام پر جشن لور خوشی کے طور پر مناتے تھے جس میں لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے ساتھ ناچتے گاتے اور خوشی مناتے تھے۔
دوسرا واقعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ دن ’’ویلنٹائن" نامی ایک عاشق پادری کی یادگار ہے،
اور تیسرے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نامی ایک پادری نے بادشاہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے فوجیوں کے درمیان نکاح کا سلسلہ شروع کیا اور بادشاہ کی جانب سے ممانعت کے باوجود بھی وہ اپنے کام پر قائم رہا۔چنانچہ اس جرم کے پاداش میں اس کو پھانسی کی سزا سنائی گئی،
اگر ویلنٹائن ڈے کے تاریخی پس منظر کا ایک تنقیدی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کا تعلق خالص مذہبی نوعیت کا ہے یا پھر عشق و عاشقی اور پیار و محبت کی ایک موہوم سی داستان۔اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جس کی بنا پر اس دن کو جشن اور خوشی کے طور پر منانے کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دے سکتا۔
ویلنٹائن ڈے قرآن و سنت کی نظر میں:۔
اب آئیے ہم شرعی طور پر اس کے مفاسد و نقصانات اور شناعت و قباحت کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آخر مذہب اسلام اس مخصوص محبت کے دن کو جشن اور خوشی کے طور پر منانے کی اجازت کیوں نہیں دیتا؟
اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ کہ اسلام میں صرف دو ہی دن ایسے ہیں جس میں شرعی طور پر جشن اور خوشی منانے کی اجازت دی گئی ہے ایک یوم الفطر اور دوسرا یوم الأضحٰی۔جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو ان لوگوں کے سال میں دو دن مقرر تھے جن میں وہ کھیلتے (خوشیاں مناتے) تھے،
اس دن کو منانے کی دوسری قباحت یہ ہے کہ ایک خالص مذہبی اور نظریاتی عمل ہے اور اس سے یہود و نصاری اور اباحیت پسند طبقہ کی مشابہت لازمی آتی ہے (کیونکہ یہ ان کا خالص مذہبی اور نظریاتی عمل ہے جیسا کہ تاریخی پس منظر سے یہ بات واضح ہوتی ہے) اور اسلام کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کرتا ہے چہ جائیکہ ان کے افکار و نظریات اور شرعی رسم و رواج پر عمل کیا جائے۔فرمان نبوی ہے:۔’’من تشبہ بقوم فھو منھم‘‘ (رواہ ابوداؤد)۔
یعنی: جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’یہ حدیث کفار کے اقوال و افعال،
ویلنٹائن ڈے کے اندر تیسری خرابی یہ ہے کہ اس سے بے حیائی،
ویلنٹائن ڈے کی شناعت و قباحت میں سے یہ بھی ہے کہ اس موقع پر مختلف شکلوں میں اموال کو ضائع و برباد کیا جاتا ہے اور اسراف و فضول خرچی کی اعلی مثال قائم کی جاتی ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ تہوار ہی بے حیائی و برائی اور اسراف و تبذیر کا مجموعہ ہے اور اسلام نے اسراف و فضول خرچی کرنے سے نہ صرف منع کیا ہے بلکہ ایسا کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے،
اور اسراف و فضول خرچی کرنے والے شخص سے کل قیامت کے دن سخت محاسبہ کیا جائے گا،
یعنی قیامت کے دن ابن آدم کا قدم اپنے رب کے پاس سے جنبش تک نہ کر سکے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال نہ کر لیا جائے،
مذکورہ بالا حدیث پر اسراف و فضول خرچی کرنے والے ذرا غور کریں کہ وہ قیامت کے دن اپنے رب کو کیا جواب دیں گے؟
اور ویلنٹائن ڈے کی سب سے بڑی شناعت و قباحت یہ ہے کہ اس میں بشمول برائی و بے حیائی اور بدکاری و زناکاری کے مختلف سماجی و معاشرتی برائیوں کو فروغ ملتا ہے اور اسلام نے ان جرائم کے پھیلانے والوں کو دردناک عذاب کی سزا سنائی ہے،
بیشک جو لوگ اہل ایمان کے اندر فحشکاری و بدکاری پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک اور سخت عذاب ہے۔
اس کے علاوہ بھی ویلنٹائن ڈے کے بہت سے مفاسد و نقصانات ہیں۔اور یہی وہ اسباب و عوامل اور مفاسد و نقصانات ہیں کہ اسلام میں ویلنٹائن ڈے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس کا منانا ناجائز اور حرام ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام و خواص مل کرکے اس لعنت کو سماج و معاشرے سے ختم کرنے کی کوشش کریں،
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور ہمارے سماج و معاشرے کو اس قسم کے قبیح اعمال سے دور رہنے کی توفیق دے۔(آمین)





