جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

دستور ہند کی ترتیب وتنظیم میں مسلم ممبران کا کردار

تحریر: خبیب حسن مبارکپوری26 جنوری، 20191,835قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۵ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

190/برس کی مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر 15/اگست 1947 کے دن ہندوستان نے آزادی حاصل کرلی۔اور تقریبا تین برس کی شب وروز کوششوں اور 62 لاکھ 96 ہزار 792 روپیے کی خطیر رقم صرف کرکے 26/ جنوری 1950 کو اپنا ذاتی آئین نافذ کیا اور اس طرح یہ ملک دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک قرار پایا۔

دراصل مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد لاقانونیت پھیل گئی اور یہاں کا سارا نظام درہم برہم ہوکر "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کا سا ہوگیا۔انگریزوں کے ظلم و بربریت سے تنگ آکر1857 میں تحریک آزادی نے دوسرا رخ اختیار کیا اور ساتھ ہی انقلابیوں نے کچھ قوانین بنانے کی کوشش کی لیکن بزور بازو انگریزوں نے ان کی تمام تر سرگرمیوں کو دبا دیا،اس کے بعد بھی گاہے بگاہے یہ آواز اٹھتی گئی مگر اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوسکا۔پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جب وطن عزیز میں انگریزوں کی جڑیں کمزور ہوگئیں اور اس کو تمام لوگوں نے بخوبی جان لیا تو 1946 میں قانون ساز اسمبلی بنای گئی جس میں تمام مذاہب و مکاتب کے لوگوں نے حصہ لیا-خصوصا مسلمانوں نے جن کی تعداد سو کے قریب تھی،اسی دوران1947 میں تقسیم ہند کا المیہ پیش آیا جس کی وجہ سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر ہجرت کی،اس کے باوجود ہندوستانی قانون ساز اسمبلی میں 35 سے زائد مسلم ممبران نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،اس کی تمام میٹنگوں،پروگراموں اور جلسوں میں شرکت کی اور اس کی ایک ایک شق کی خوبیوں اور خامیوں کو سامنے رکھ کر دستور ہند کو تشکیل دیا۔

لیکن افسوس آج ہمارا مطالعہ صرف چند ہی مسلم ناموں کے ارد گرد گھومتا ہے اور بقیہ مسلم ممبران جنھوں نے اپنی زبردست علمی مہارت،بے لاگ اور منصفانہ تجزیوں اور دلائل و براہین سے دستور ہند کو سجایا اور سنوارا،انھیں ہم بھول گیے اور نہ جانے کتنے مسلم ممبران مذہبی،نسلی اور قبائلی تعصب کا شکار بھی ہوگیے۔یہ ہماری حرماں نصیبی ہے کہ ہم ان کے حیات و کارنامے کو محفوظ نہ رکھ سکے،خصوصا رفیع احمد قدوائی،بشیر حسین زیدی،محمد اسماعیل خان،قاضی سید کریم الدین،سر سید محمد سعدالله،شیخ محمد عبد اللہ اور محبوب علی وغیرہ۔اس کے علاوہ مولانا ابو الکلام آزاد جن کی زیر نگرانی بڑے پیمانے پر آئین کی تصحیح و تخریج کی گئی۔اسی طرح تجمل حسین جنھوں نے اقلیت کے لفظ پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ تنوع میں وحدت ہی ہماری پہچان ہے اور بیگم رسول جنھوں نے ریزرویشن کے متعلق پیش آمدہ نتائج و خطرات پر کھل کر بات پیش کی۔یہ اور بات ہے کہ کچھ باتیں لی گئیں اور کچھ کو چھوڑ دیا گیا جس کا اثر آیے دن ہم اقلیتوں اور ریزرویشن کے متعلق اخباروں میں پڑھتے ہیں۔

الغرض مسلم ممبران نے آئین ہند کو مؤثر اور قابل عمل بنانے کے لیے ہر طرح کے عملی اقدام کیے جنھیں تاریخ فراموش نہیں کرسکتی کیونکہ ان کے تذکرے کے بغیر تاریخ ادھوری اور ناقص شمار کی جایے گی۔

کیا کیا تھے لوگ آنکھوں سے اوجھل جو ہوگیے

اب ڈھونڈتے پھرو گے وہ شکلیں کہاں کہاں

خیر 1949 کے اسمائے ارکان دستور ساز اسمبلی کے مطابق بارہ فیصد مسلم ارکان قانون ساز مجلس کے ممبر تھے یعنی کل 302/اراکین میں سے 35/مسلم ممبران تھے۔اور یہ اعداد و شمار تو ان مسلم ممبران کے ہیں جن کے تذکرے مختلف کتابوں اور مضامین میں بکھرے پڑے ہیں جب کہ کوئی نہیں جانتا کہ مزید کتنے مسلم ممبران تھے۔بہرحال ان کے اسماء بالتفصیل بتانا تو ممکن نہیں کیونکہ کہیں کہیں بعض کے صرف نام ہی ملتے ہیں اور کہیں ان کا معمولی تذکرہ،لہذا انہی 35/ مسلم ارکان قانون ساز مجلس کے اسمایے گرامی کو ذکر کرنے کا التزام کیا جارہا ہے:

1_مولانا ابوالکلام آزاد

2_عبد القادر شیخ

3_ابو القاسم خان (5/اپریل 1905-32/مارچ 1991)

4_عبد الحمید

5_عبد الحلیم غزنوی(1876-1956)

6_سید عبد الرؤوف

7_چودھری عابد حسین

8_شیخ محمد عبد اللہ(5/دسمبر 1905-8/ستمبر 1982)

9_سید امجد علی(1907-5/مارچ 1997)

10_آصف علی(11/مئی 1888-1/اپریل 1953)

11_بشیر حسین زیدی(1898-29/مارچ 1992)

12_بی.پوکر صاحب بہادر(م 1965)

13_بیگم عزیز رسول(1908-2001)

14_حیدر حسین

15_مولانا حسرت موہانی

16_حسین امام

17_جسیم الدین احمد

18_کے.ٹی ایم احمد ابراھیم

19_قاضی سید کریم الدین (1899-1977)

20_کے.اے محمد

21_لطیف الرحمن

22_محمد اسماعیل(قائد ملت کیرلہ)

23_محبوب علی بیگ صاحب بہادر

24_محمد اسماعیل خان

25_محمد حفظ الرحمن

26_محمد طاہر

27_شیخ محمد عبد اللہ(1905-1982)

28_مرزا محمد افضل بیگ

29_مولانا محمد سعید مسعودی

30_نذیر الدین احمد

31_رفیع احمد قدوائی(پہلے وزیر مواصلات)

32_ راغب احسن

33_سید جعفر امام

34_تجمل حسین

35_سرسید محمد سعد اللہ(آسام کے پہلے وزیر اعلی)

آخر میں مشہور قول پیش خدمت ہے کہ" بھارت ایک مرقع ہے،مذہبوں کا،تہذیبوں کا اور تہواروں کا،رسموں اور رواجوں کا،روایتوں کا اور جدتوں کا،آدرشوں کا اور امنگوں کا،کاوشوں کا اور کامیابیوں کا،بھارت ایک گلدستہ ہے جس میں بھانت بھانت کے پھول آنکھوں کو بھاتے ہیں،دلوں کو لبھاتے ہیں،اگر اس کو کسی خاص رنگ میں رنگنے کی کوشش کی گئی تو اس کی ساری خوبصورتی اور حسن و جمال برباد ہوجایے گا۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ باہمی اخوت و محبت اور انسانیت نوازی کو فروغ دیں تاکہ ملک میں امن و امان قائم رہ سکے۔

ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستاں ہمارا

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

ھ
ھلال ھدایت
26 جنوری، 2019
👍👍
K
Kashif Shakeel
26 جنوری، 2019
بہت

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

دستور ہند کی ترتیب وتنظیم میں مسلم ممبران کا کردار - دی فری لانسر | دی فری لانسر