پچھلے چند سالوں سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پھر سے اسلام کی طرف راغب ہو رہی ہے،
لیکن عربی سیکھنے سکھانے کے معاملے میں اکثر ہمارے یہاں اتنی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں کہ طلباء عربی سیکھنا شروع تو کر دیتے ہیں لیکن اس پر قائم نہیں رہ پاتے۔ان مسائل میں سے ایک مسئلہ ہمارا عربی سیکھنے سکھانے کا طریقہ ہے۔دنیا کی دیگر زبانیں ہم کیسے بھی دیکھیں،
ممکن ہے یہاں ظلم کا استعمال کسی کو ظلم لگے،
اگر آپ نے یہاں تک پڑھ لیا ہے تو ظاہر ہے کہ آپ اردو پڑھ (اور سمجھ) لیتے ہیں۔الحمد للہ۔آئیے! اب ایک نظر اردو زبان پر ڈالتے ہیں۔ہم میں سے کتنے ہیں جو مشبہ اور مشبہ بہ کا فرق جانتے ہیں؟ یا ہمارا پالا کبھی لفظِ استعارہ سے پڑا ہے؟ یا استفہامیہ کی فضا میں ہم نے اڑان بھری ہے؟ یا استہزائیہ کے کھیت میں بیج بویا ہے؟ یا صفت موصوف سے بچپن کے دوست سی آشنائی ہے؟ یا ماضی اسمتراری کی سواری کی ہے؟ یا مستقبلِ ناتمام کے خواب دیکھے ہیں؟ یا ضمیرِ تنکیر کا انکار کیِا ہے؟ یا ضمیرِ موصول کو حاصل کِیا ہے؟ یا اسمِ صوت کی آواز سنی ہے؟ یا اسمِ اشارہ کے اشارے کو سمجھا ہے؟ یا اسمِ ظرف کی اعلیٰ ظرفی کا مشاہدہ کِیا ہے؟ یا ضمیرِ اشارہ بعید کو قریب سے دیکھا ہے؟ یا صفتِ غیر معین کا تعین کِیا ہے؟ یا صفتِ نسبتی سے تعلق جوڑا ہے؟ یا صفتِ استغراقی میں تیراکی کی ہے؟ یا فعلِ تام کا نام سنا ہے؟ یا فعلِ ناقص کو پورا کِیا ہے؟ یا۔۔۔
جب ہماری اکثریت ان قواعدی اصطلاحات کو پروسے بغیر اردو کا ولیمہ دے سکتی ہے۔تو ہم صرف و نحو کے کھجور کے بغیر عجمیت (غیر عربیت) کا روزہ کیوں نہیں کھول سکتے؟
یقین جانئے!
اسلامی جذبہ کے تحت عربی زبان سیکھنے والا ایک مبتدی جب مبتدا اور خبر سنتا ہے تو خود کی خبر نہیں رکھ پاتا۔موصوف صفت کی تفصیل کو اپنی سمجھ کا عیب سمجھنے لگتا ہے۔مرکب اضافی سے اپنے علم میں کمی ہوتے پاتا ہے۔شخصی ضمیریں اسے ملامت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔اضافی اور مفعولی ضمیریں اس کے جذبہ کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیتی ہیں۔اسمِ اشارہ اس کی طرف کوئی اشارہ ہی نہیں کرتا۔ضمائرِ استفہامیہ اسے سوالیہ نظروں سے گھورتے رہتے ہیں۔جمع مکسر اسے توڑ کر رکھ دیتا ہے۔عدد اور معدود سے اس کا جذبہ ہی معدوم ہونے لگتا ہے۔اور حرف جر سے لفظ مجرور ہو یا نہ ہو،
تو پھر عربی کیسے سیکھیں / سکھائیں؟؟
آسان جواب ہے: عربی قرآن سے سکھائیں۔اس سے اسے عربی عبارتیں بنی بنائی ملیں گی،
آپ ابتدا ہی میں اسے پورا گرامر پڑھانے کی بجائے صرف اتنا بتائیں کہ عربی کے تقریبا سبھی الفاظ کے تین بنیادی حروف (مادہ) ہوتے ہیں۔تو کسی بھی عربی لفظ کے بنیادی معنی کا تعین کرنے کے لیے بس اس کے (تین حرفی) مادہ کو جاننا ہے۔اگر وہ مادہ پہچان میں آ گیا تو اس لفظ کا معنی بھی اس سے متعلق ہوگا۔مثال کے لیے یہ الفاظ دیکھیں:
سجدہ،
ان تمام الفاظ کا (تین حرفی) مادہ “س ج د“ ہے۔اب ہمیں صرف “س ج د“ کا معنی جاننا ہے۔اگر اس کا معنی معلوم ہو گیا تو اس سے بننے والے تمام الفاظ کا بنیادی معنی اسی مناسبت سے ہوگا۔
س ج د = سجدہ،
سجدہ = “س ج د“ کا عمل
ساجد = “س ج د“ کرنے والا
مسجود = جسے “س ج د“ کیا گیا ہو
مسجد = “س ج د“ کرنے کی جگہ
وغیرہ۔۔۔
فعل کی پوری چودہ چودہ گردان پڑھانے کے بجائے صرف چھ چھ سے کام چلائیں۔
(1.اس آدمی نے کیا۔
2.ان سب آدمیوں نے کیا۔
3.تو ایک آدمی نے کیا۔
4.تم سب آدمی نے کیا۔
5.میں نے کیا۔
6.ہم نے کیا۔۔۔
اور اسی طرح مضارع کے چھ صیغے)۔
آپ جانتے ہیں کہ قرآن میں تثنیہ یا مؤنث صیغے خال خال ہی استعمال ہوئےہیں،
استاد پہلی آیت کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کرے،
(إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا)
میں لفظ وَهَيِّئْ کا ترجمہ کرتے وقت اسے اردو میں استعمال لفظ "مہیا" سے جوڑیں۔اس سے طلباء کو یہ لفظ مانوس اور جانا پہچانا لگے گا۔اور اسے یاد رکھنا آسان ہوگا۔
درمیان میں تھوڑا تھوڑا ضروری گرامر ضرور بتائیں،
مثال یہ سمجھ لیں کہ کیا ایک ریاضی کا ماہر کسی تیسری جماعت کے بچے کو ریاضی پڑھاتے ہوئے ٹریگنومیٹری (trigonometry) کی تفصیلات بتانے لگ جائے گا؟ نہیں نا!! وہ اسے اپنی علمی وسعت سے نہیں،





