دارالحدیث رحمانیہ دہلی کے چشم و چراغ مولانا عبدالصبور رحمانی رحمہ اللہ کے فرزند ارجمند مولانا سعید اختر سلفی کی ولادت باسعادت 15 ستمبر 1960ء کو ہوئی۔اور آج 26 ستمبر 2026ء کو یہ جانکاہ خبر ملی کہ مولانا اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
"ایں خانہ ہمہ آفتاب است" کے آپ سچے مصداق تھے۔موصوف عالمِ دین تھے،
مولانا سعید اختر سلفی سے ناچیز کی پہلی ملاقات غالباً اس وقت ہوئی جب آپ اپنے سب سے چھوٹے صاحب زادے سالم سعید سلفی سلمہ اللہ کے داخلے کے سلسلے میں جامعہ سلفیہ بنارس آئے ہوئے تھے۔اس کے بعد جب کبھی تشریف لائے ملاقات کا شرف بخشا۔
والدِ محترم سے خاص تعلق تھا،
بڑی بے تکلف شخصیت کے مالک تھے۔میں نے دیکھا کہ آپ چلتے پھرتے ہوئے بھی نہایت شگفتگی کے ساتھ ہر خاص و عام تک اسلام کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔
حیرت تو تب ہوئی جب دورانِ گفتگو اپنے مخصوص لہجے میں حافظ صاحب سے کہا کہ سر اور داڑھی کے بالوں میں خضاب لگائیے،"
ماحضر تناول فرمانے کے بعد میزبان کو دعائے خیر سے نوازا "اللہم أطعم من۔۔۔۔۔۔۔"،
سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ "وأکل طعامکم الأبرار" کا ترجمہ پوچھا اور پھر صحیح ترجمہ "کھائیں تمھارا کھانا نیک لوگ" کرتے ہوئے فرمایا کہ اکثر لوگ اس میں دھوکہ کھاتے ہیں۔اس سے مولانا کی عربی دانی اور زبان و بیان پر گرفت کا مجھے کچھ اندازہ ہو گیا۔
سوگ اور عدت کے احکام سے متعلق والدِ محترم کو ایک علمی سوغات دی تو معلوم ہوا کہ آنجناب ایک ماہر مترجم بھی ہیں۔
بفضلہ تعالیٰ ایک عرصے سے شہر بنارس کی اہم ترین مساجد میں والدِ محترم مولانا محمد یونس مدنی حفظہ اللہ ہی خطبائے جمعہ کا بند و بست فرماتے ہیں۔بنا بریں مولانا سعید اختر سلفی سے یہ گزارش کی کہ کل جمعہ کا خطبہ مسجد اہل حدیث نیمیا میں دیں۔ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ اور ڈاکٹر رضاء اللہ ادریس مبارک پوری رحمہ اللہ بھی اس معروف مسجد میں خطبہ دیتے تھے لہٰذا اکثر بزرگ سامعین عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔
اس طرح کے خاص موقعوں پر والدِ محترم تجاہلِ عارفانہ اختیار کرتے ہوئے لوگوں سے دریافت کرتے تھے "کل کس نے خطبہ دیا؟" ایک شخص کا جواب تھا کہ "کل جو مولانا آئے تھے ان کی تقریر بڑی دل پذیر تھی اس سے پہلے بھی ہم سوشل میڈیا پر آپ کی تقریریں سن چکے ہیں۔"
جامعہ سلفیہ بنارس میں سالم سعید سلفی سلمہ اللہ کے داخلہ فارم میں سالانہ آمدنی کے خانے میں خلافِ معمول مولانا نے "بقدرِ کفاف" لکھا،
ایک عرصے سے مولانا کی دعوتی و اصلاحی سرگرمیاں عروس البلاد شہر ممبئی میں جاری تھیں کہ وقتِ رخصت آ پہنچا۔اللهم اغفر لہ وارحمہ






