جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ذکرِ الٰہی کی فضیلت

تحریر: شیخ محمد مقیم فیضیؒ15 ستمبر، 20261,469قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۷ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ذکرِ الٰہی کی فضیلت
فل اسکرین دیکھیں

ذکر کا لغوی معنی:

لغوی اعتبار سے ذکر کا معنی یاد کرنا ہوتا ہے۔زبان پر کسی چیز کو جاری رکھنے کو بھی ذکر کہتے ہیں۔ذکر کا ایک معنی شہرت بھی ہوتا ہے،نیز ذکر ثنا کے معنی میں بھی آتا ہے۔نماز،دعا اور قرآنِ کریم کو بھی ذکر کہا جاتا ہے۔

ذکر کا اصطلاحی معنی:

غفلت اور نسیان سے محفوظ رہنے کا نام ذکر ہے۔راغب فرماتے ہیں: ذکر بول کر بھی نفس کی وہ ہیئت مراد ہوتی ہے جس سے انسان کے لیے حاصل شدہ معرفت کا محفوظ رکھنا ممکن ہوتا ہے۔کبھی کسی چیز کے دل میں حاضر ہونے کا نام ذکر ہوتا ہے اور کبھی زبان سے اس کے بولنے کو ذکر کہتے ہیں،اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ذکر دو طرح کا ہوتا ہے: ذکر بالقلب اور ذکر باللسان۔

اللہ کا ذکر ایک عظیم نعمت اور گراں قدر عطیہ ہے،اس کے ذریعے نعمتوں کا حصول،بلاؤں اور آفتوں سے حفاظت ہوتی ہے۔ذکر دلوں کی غذا،آنکھوں کا نور،جانوں کا سرور ہے،زندگی کی روح اور روحوں کی زندگی ہے۔بندوں کو اس کی بڑی احتیاج ہے اور وہ سب اس کے نہایت ضرورت مند ہیں،کوئی بھی مسلم اس سے کسی بھی حال میں مستثنیٰ اور بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے۔

جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی یہ قدر و منزلت،ایسی عظیم الشان اور ایسا عالی مقام ہے تو ہر مسلم کو چاہیے کہ وہ اس کے فضائل و اقسام اور فوائد کی معرفت حاصل کرنے کی سعی کرے اور اس کے ثمرات و برکات سے مستفید ہو۔اسی مقصد کے پیشِ نظر ہم چاہتے ہیں کہ حکیمِ امت علامہ ابنِ قیم رحمہ اللہ کی کتاب «الوابل الصیب» سے ذکر کے متعلق کچھ باتیں اختصار کے ساتھ یہاں نقل کر دیں جو بڑی گراں قدر اور پرنور ہیں:

ذکر کی فضیلت:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ،وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ،وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ»،قَالُوا: بَلَى،قَالَ: «ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى»

«کیا میں تمھیں تمھارے شاہ (اور مالک) کے نزدیک تمھارے اعمال میں سب سے اچھے اور پاکیزہ اور تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والے اور تمھارے سونے چاندی خرچ کرنے سے بھی اچھے اور دشمنوں سے مقابلہ کرکے ان کی گردن مارنے اور ان سے اپنی گردن کٹانے سے بھی اچھے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں؟» لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیے،آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل کا ذکر۔(ترمذی: ۳۳۷۷،سنن ابنِ ماجہ: ۳۷۹۰)

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا:

«مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ،مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ»

اپنے رب کا ذکر کرنے والے اور اپنے رب کا ذکر نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔(بخاری)

یعنی ذکر کرنے والا زندہ ہوتا ہے اور ذکر نہ کرنے والا مردہ۔

صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي،وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي،فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي،وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ،وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا،وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا،وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً»۔

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں،اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں،اگر وہ مجھے اپنے جی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں،اور اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کا ذکر اس سے بہتر جماعت میں کرتا ہوں،اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس سے قریب ہوجاتا ہوں،اور اگر وہ ایک ہاتھ مجھ سے قریب ہوتا ہے تو میں دو دو ہاتھ اس کے قریب آجاتا ہوں،اور وہ جب چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں۔(بخاری: ۷۴۰۵،مسلم: ۶۸۳۲)

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اذۡكُرُوۡا اللّٰهَ ذِكۡرًا كَثِيۡرًا ۙ‏

[الاحزاب:۴۱]

(مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیادہ کرو)

اور فرماتا ہے:

وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ

[الاحزاب:۳۵]

(بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں)

ان آیات میں کثرت اور شدت کے ساتھ ذکر کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے ثمرات بیان کیے گئے ہیں۔اس بات کا اشارہ دیا گیا ہے کہ بندہ اس کا شدید محتاج ہے اور اسے ایک لمحے کے لیے بھی ذکرِ الٰہی سے استغنا حاصل نہیں ہے۔

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«لِكُلِّ شَيْءٍ جِلاءٌ،وَإِنَّ جِلاءَ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

(ہر چیز کو چمکانے کا ایک عمل ہوتا ہے اور دلوں کو چمکانے کا عمل اللہ عزوجل کا ذکر ہے)

اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ دلوں پر بھی ایسے ہی میل بیٹھ جاتی ہے جیسے تانبے،پیتل اور سونے چاندی وغیرہ پر بیٹھ جاتی ہے،انھیں چمکانے اور صاف کرنے کی ضرورت پڑتی ہے،اسی طرح دلوں کو بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کا زنگ دور ہوجائے،انھیں صیقل کرنے کا کام ذکرِ الٰہی سے لیا جاتا ہے کیونکہ ذکر سے وہ آئینے کی طرح صاف و شفاف اور چمکدار ہوجاتے ہیں،اور جب ذکر ترک کردیا جاتا ہے تو پھر ان پر زنگ آجاتا ہے،اور جب پھر ذکر کرتے ہیں وہ دوبارہ چمک اٹھتے ہیں اور یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

دلوں پر سیاہی اور زنگ دو باتوں کی وجہ سے لگتے ہیں: غفلت اور گناہ کی وجہ سے۔اور ان کو صیقل بھی دو ہی چیزوں کے ذریعہ کیا جاتا ہے: استغفار اور ذکر۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا [الکہف:۲۸]

(دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے)

اگر کسی آدمی کو کسی کا ساتھ پکڑنا ہو اور اس کی پیروی کرنی ہو تو وہ یہ دیکھ لے کہ شخصِ مطلوب اہل ذکر میں سے ہے یا اس کا شمار غافلوں میں ہے،اس پر ہوائے نفس کی حکمرانی ہے یا وہ وحیِ الٰہی کا متبع ہے؟ اگر ہوائے نفس کا اسیر ہو،اہل غفلت میں سے ہو،اپنے معاملات میں افراط و تفریط کا شکار ہو تو پھر اس کی اقتدا اور پیروی سے باز آجائے ورنہ ہلاکت سے دوچار ہوئے بغیر نہ رہے گا،وہ ضرور اسے تباہی کی راہ پر ڈال دے گا۔(ماخوذ از:رقیہ مروجہ کے منکرات:ج٢،ص۸۲۱ تا۸۲۴)

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ذکرِ الٰہی کی فضیلت - دی فری لانسر | دی فری لانسر