جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

شر کی تخلیق

تحریر: اداریہ21 دسمبر، 20252,011قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
شر کی تخلیق
فل اسکرین دیکھیں

خیر کی طرح شر کا خالق بھی اللہ ہی ہے (اللہ خالق کل شیء)،پھر چاہے وہ ابلیس ہو،اس کے کرتوت ہوں یا بندوں کے برے اعمال،اس کائنات میں سب کچھ اللہ ہی کے اذن سے ہوتا ہے،بلکہ اللہ ہی مخلوقات کا اور ان کے اعمال کا بھی خالق ہے۔

یہ مسئلہ اکثر ملحدین بلکہ بہت سارے مسلمانوں کے درمیان بھی اللہ کے تئیں بدگمانی کا باعث بنتا ہے،اس کی بنیادی وجہ اس تخلیق کے پیچھے کارفرما حکمت کا ادراک نہ ہونا یا انسانوں کی کم علمی اور جہالت ہے۔

اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے درج ذیل پہلوؤں کو مدِ نظر رکھا جائے تو بات واضح ہوگی:

1۔اللہ تعالیٰ نے شر کی تخلیق کی اور کرتا رہتا ہے،تاہم ان میں سے کوئی بھی شر "شرِ محض" نہیں ہے۔

2۔شر بذاتِ خود مقصود نہیں ہے بلکہ شر کی تخلیق "مقصود لغیرہ" ہے۔

اسی کو یوں بھی کہا جاتا ہے: «الشر ليس في أفعال الله وإنما هو في مفعولاته أي مخلوقاته»

اسی لیے نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا: «الخير كله بيديك والشر ليس إليك»

3۔یہ کائنات ایک دارالامتحان ہے،یہاں ابلیس سے بنی آدم تک سب کو چھوٹ اسی لیے ہے کہ یہاں آزمائش ہو،یہ چھوٹ اگر نہ ہو تو پھر امتحان کیسا؟

(فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر) البتہ اللہ تعالیٰ کا کمالِ انصاف یہ ہے کہ وہ ہر ذرہ کا حساب لے گا،اسی لیے آگے فرمایا: (إنا أعتدنا للظالمين نارا أحاط بهم سرادقها) اور مزید یہ بھی کہا: (ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره)

4۔ہر برے انسان کو اپنی برائی اور ہر ظالم کو اپنا انجام لامحالہ دیکھنا ہی ہے،یا تو اس دنیا میں مکافاتِ عمل کی شکل میں یا آخرت میں جہنم کی شکل میں۔

5۔آخرت پر ایمان کے بغیر شر کی تخلیق کے پیچھے کارفرما رب العالمین کی حکمت اور اس کے عدل کو سمجھنا ناممکن ہے۔

6۔مذکورہ بالا باتیں بھی انسان کو دیے گئے محدود علم کی روشنی میں ہیں،ورنہ اللہ تعالیٰ کے تمام افعال جن حکمتوں پر مبنی ہیں ان کا کلی ادراک انسان کی استطاعت سے باہر ہے (ولا يحيطون بشيء من علمه إلا بما شاء) البتہ انسان کو یہ دو ٹوک حقیقتیں بتا دی گئیں: (ولا يظلم ربك أحدا)،(وما ربك بظلام للعبيد) اور یہ بھی کہ (إن ربك حكيم عليم)

ان چند حقائق کو آدمی سلیقہ سے سمجھ لے تو اشکالات زائل ہو سکتے ہیں،بلکہ ایمان میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تخلیق کی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر تقدیر بھی (جس کا ایک باب یا جزء شر کی تخلیق بھی ہے) رب العالمین کا شاہکار ہے،جو اس کے وجود سے آگے اس کی عظمت و کبریائی اور کمالِ اختیار و اقتدار اور اس کے کمالِ عدل و انصاف کی بہت بڑی دلیل ہے۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

شر کی تخلیق - دی فری لانسر | دی فری لانسر