خیر کی طرح شر کا خالق بھی اللہ ہی ہے (اللہ خالق کل شیء)،
یہ مسئلہ اکثر ملحدین بلکہ بہت سارے مسلمانوں کے درمیان بھی اللہ کے تئیں بدگمانی کا باعث بنتا ہے،
اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے درج ذیل پہلوؤں کو مدِ نظر رکھا جائے تو بات واضح ہوگی:
1۔اللہ تعالیٰ نے شر کی تخلیق کی اور کرتا رہتا ہے،
2۔شر بذاتِ خود مقصود نہیں ہے بلکہ شر کی تخلیق "مقصود لغیرہ" ہے۔
اسی کو یوں بھی کہا جاتا ہے: «الشر ليس في أفعال الله وإنما هو في مفعولاته أي مخلوقاته»
اسی لیے نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا: «الخير كله بيديك والشر ليس إليك»
3۔یہ کائنات ایک دارالامتحان ہے،
(فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر) البتہ اللہ تعالیٰ کا کمالِ انصاف یہ ہے کہ وہ ہر ذرہ کا حساب لے گا،
4۔ہر برے انسان کو اپنی برائی اور ہر ظالم کو اپنا انجام لامحالہ دیکھنا ہی ہے،
5۔آخرت پر ایمان کے بغیر شر کی تخلیق کے پیچھے کارفرما رب العالمین کی حکمت اور اس کے عدل کو سمجھنا ناممکن ہے۔
6۔مذکورہ بالا باتیں بھی انسان کو دیے گئے محدود علم کی روشنی میں ہیں،
ان چند حقائق کو آدمی سلیقہ سے سمجھ لے تو اشکالات زائل ہو سکتے ہیں،
حقیقت یہ ہے کہ تخلیق کی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر تقدیر بھی (جس کا ایک باب یا جزء شر کی تخلیق بھی ہے) رب العالمین کا شاہکار ہے،






