ہر تعلق میں دو لیئر ہوتے ہیں،
یہ دونوں لیئر جس تعلق میں اپنی اپنی جگہ پر ہوتے ہیں وہ تعلق بڑا خوشگوار ہوتا ہے۔انھیں جگہ پر رکھنے کے لیے کوئی بٹن نہیں ہے،
حسن نیت اور توفیق الٰہی کے بنا کسی تعلق میں قربت کا بیلنس بنا رہ سکتا ہے نہ فاصلے میں توازن ممکن ہے،
وفا ہی ریموٹ ہے وفا ہی بٹن،
ایک گھر میں رہنے والے یا ایک کام سے جڑے لوگوں کے تعلق میں جو بات بڑی مشکل سے پیدا ہوتی ہے وہ ایک استاد اور شاگرد کے تعلق میں دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی۔
اس تعلق کا بیان زیر نظر مضمون میں ہے۔بظاہر یہ بیان تو ایک دل کے واردات ہیں مگر بیانیے میں جو فطری نشیب و فراز ہیں وہ تعلق کے حصار سے باہر نہیں نکلتے،
ڈاکٹر وسیم المحمدی صاحب نے اپنے ایک استاد کو یاد کرتے ہوئے جو جذبات خرچ کیے ہیں وہ آمد لگتے ہیں،
اللہ رب العالمین ایسے استاد ہر شاگرد کو نصیب کرے اور ایسے شاگرد ہر استاد کو دے۔آمین (ایڈیٹر)
یہ میری خوش نصیبی ہی تھی کہ مولانا 1997م میں جب پہلی بار جامعہ محمدیہ تشریف لائے اس وقت فضیلت کا میرا پہلا سال تھا۔مولانا دو سال رہے،
مولانا سے 1997م میں میرا تعلق جو قائم ہوا تو پھر آپ کی وفات تک باقی رہا۔ہماری آخری ملاقات آپ کی وفات سے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل 15 / اگست 2022م کی شام پونہ میں ہوئی۔اس وقت آپ کا علاج چل رہا تھا اور آپ مکمل ہوش وحواس میں تھے۔چونکہ آپ بیمار تھے اس لیے ملاقات مختصر رہی اور آپ سے بہت زیادہ باتیں نہیں ہو سکیں۔
مجھے آپ کی شاگردی کے دو سال (فضیلت اول اور فضیلت ثانی ) نصیب ہوئے۔ان دو سالوں میں آپ نے مجھے صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسی اہم کتابیں پڑھائیں۔علاوہ ازیں فضیلت ثانی میں آپ میری بحث کے مشرف بھی رہے۔آپ ہی کی نگرانی میں "الأمثال العربیۃ ولطائفہا" کے موضوع پر میں نے عربی زبان میں مقالہ لکھا۔
جامعہ محمدیہ سے نکلنے کے بعد جامعہ اسلامیہ کی پوری زندگی آپ سے رابطے میں رہا۔ہمیشہ گفتگو ہوتی۔وہ موبائل کے زمانے میں بھی اکثر خط لکھتے۔پہلے نصیحتیں کرتے،
آپ جب جامعہ محمدیہ آئے میں سادس سے فضلیت اول میں منتقل ہو چکا تھا۔مزاج میں لا ابالی پن تھا۔نمبرات اگرچہ بہت اچھے آتے تھے مگر اس سنجیدگی سے تعلیم وتعلم کا جذبہ پیدا نہیں ہوا تھا جو ایک اچھے طالب علم کے اندر ہونا چاہیے۔
مولانا کی نظر عنایت مجھ پر پڑی۔انھوں نے اپنے بیٹے کی طرح مجھ پر کرم کیا۔میری تعلیم کے علاوہ مجھے مطالعہ کرنے پر ابھارا۔لکھنے کا شوق مجھے ضرور تھا،
یہی محنت انھوں نے میرے اندر مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لیے بھی کیا۔اچھی کتابوں کی طرف رہنمائی کرتے۔جو بھی نئی کتاب ان کے پاس کہیں سے آتی اور میرے لائق ہوتی مجھے ضرور دیتے اور پڑھنے کی تلقین کرتے۔جب پڑھ کر واپس کرنے جاتا تو تبصرہ کے انداز میں کچھ سوالات کرتے تاکہ جان لیں کہ میں نے پڑھی بھی ہے کہ نہیں؟ ادبی کتابوں پر ان کا دھیان زیادہ رہتا تھا تاکہ لکھنے اور بولنے کا ملکہ اچھا ہوجائے۔کرنل محمد خان کی بسلامت روی،
اسی سال چھٹیوں میں جب گاؤں گیا تو آپ نے طیب پور اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔وہاں بھی آپ کے پاس ایک چھوٹی سی لائبریری تھی۔چند بہترین کتابیں اور مغلیہ سلطنت پر ایک خصوصی نمبر بطور خاص عنایت کیں۔پڑھ کر دوبارہ پھر آنے کی تاکید کی۔الحمد للہ آپ کی عنایتوں کا یہ سلسلہ دونوں سال بحسن وخوبی جاری رہا۔
مولانا تمام طلبہ سے بڑا ہی مشفقانہ اور خیرخواہانہ تعلق رکھتے تھے۔تاہم حوصلہ مند طلبہ پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔مجھے انھوں نے اپنی اولاد کی طرح جانا۔مجھ پر خصوصی عنایت کی۔فضیلت اول اور ثانی میں مجھے جس محبت وعنایت کی ضرورت تھی آپ سے بھرپور انداز میں ملی۔ان کی نگاہ میری تعلیم سے لے کر میری صحت،
میرے تئیں مولانا کی محبت بہت ہی مثالی اور خیرخواہی پر مبنی تھی۔وہ ایک فاصلہ بنا کر نہایت باریکی سے میری نگرانی کرتے اور میرا بھرپور خیال رکھتے۔حوصلہ افزائی تو کرتے ہی تھے،
انسان کسی کی محبت کا عادی ہوجائے تو اس کی خاموشی بھی بہت گراں گزرتی ہے۔کسی کی عنایت کا خوگر ہوجائے تو اس کا متغیر لہجہ ہی اذیت کے لیے کافی ہوتا ہے۔ایسے شخص کا بدلا ہوا تیور ہی تنبیہ کرنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔مولانا زیادہ ناراض ہوتے تو بالکل خاموش ہوجاتے۔پھر زبان سے زیادہ ان کی نگاہ بولتی تھی۔گویائی سے زیادہ ان کی خاموشی سرزنش کرتی تھی۔تکلم سے زیادہ ان کا سکوت زجر وتوبیخ کرتا تھا۔وہ مار دھاڑ کے قطعا قائل نہیں تھے۔کسی پر ہاتھ اٹھانا،
ایک ہی علاقے کا ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ سفر کرنے کا بھی اتفاق ہوا۔آپ کے ساتھ سفر مزید پر لطف اور فوائد سے بھرپور ہوتا۔مسافت طویل ہوتی مگر اکتاہٹ کا احساس نہ ہوتا۔مولانا سفر میں بالکل ساتھی اور دوست بن جاتے۔کھل کر گفتگو کرتے۔تجربات ومشاہدات شیئر کرتے۔واقعات سناتے۔نہ تو سفر کو رسمی پند ونصائح سے بوجھل کرتے نہ ہی استاذ اور شاگرد کا فرق بالکل مٹنے دیتے۔
فضیلت اول اور ثانی کا زمانہ بہت ہی مثالی رہا۔تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود کھانا پینا رہنا سہنا سب بہت شاندار تھا۔طلبہ کے دلوں میں اداروں سے محبت ویسے نہیں پیدا ہوتی۔بہت ساری چیزوں کے ساتھ ساتھ ایسے مشفق اساتذہ اور بہترین انتظامیہ کا بھرپور کردار ہوتا ہے۔بسا اوقات کسی استاذ کا کوئی ایک نامناسب رویہ یا کسی ذمہ دار کی کوئی ایک غلطی طالب علم کے دل میں زندگی بھر کے لیےنفرت پیدا کر دیتی ہے۔ادارہ اس کے لیے یاد ماضی کا ایسا عذاب اور ناقابل فراموش حادثہ بن جاتا ہے جو رہ رہ کر اس کی یادوں کے زخم سے مختلف انداز میں ٹپکتا اور موقع بموقع اس کی یادداشت کے ناسور سے متعدد شکلوں میں رستا رہتا ہے۔
فضیلت اول میں نئے اور باصلاحیت ساتھیوں کے آجانے سے بڑی سخت کمپٹیشن تھی۔میری تیسری پوزیشن آ گئی۔میں بہت دلبرداشتہ تھا۔ایک طرح سے انہزامی کیفیت کا شکار تھا۔مدینہ یونیورسٹی میں پڑھنے کی شدید خواہش تھی۔اس وقت پورے ہندوستان سے مشکل سے بیس طلبہ کا داخلہ ہوتا تھا۔میں کافی پریشان تھا۔مولانا سے ذکر کیا تو بہت ہمت بندھائی۔میرے نمبرات پوچھے۔پھر سادس کے نمبرات پوچھے اور کہا: دیکھو آپ کے نمبرات گزشتہ سال سے بھی زیادہ ہیں،
اللہ کا مزید فضل ہوا اور پہلے ہی مرحلہ میں مدینہ یونیورسٹی میں مجھے داخلہ بھی مل گیا۔مولانا نے ادبی کتابوں سے جو دلچسپی اور رغبت پیدا کر دی تھی وہ سلسلہ یہاں بھی دراز رہا۔جب باذوق ساتھیوں کی رفاقت نصیب ہوئی تو کرنل محمد خان کے ساتھ ساتھ مشتاق یوسفی،
جب بی اے کے پہلے سال میں تھا بوسینیا سے متعلق ایک عربی مضمون کا ترجمہ کیا،
مدینہ منورہ کی پوری زندگی میں آپ سے رابطہ رہا۔جب بھی چھٹیوں میں گھر جاتا اکثر آپ سے ملاقات کرتا۔آپ ہمیشہ تعلیم کے تئیں استفسار کرتے۔رزلٹ کے بارے میں پوچھتے۔حوصلہ افزائی کرتے۔اچھا مشورہ دیتے۔مدینہ منورہ میں ہوتا تو مختلف مناسبتوں سے خط لکھتے۔آپ کے خطوط نصیحت سے پر ہوتے تھے۔اصل مدعا دو چار سطر میں ہوتا باقی نصیحتیں ہوتیں۔میری عادت تھی اپنے اساتذہ کرام کو وقتا فوقتا کال کرلیا کرتا تھا۔آپ کو بھی خصوصی طور سے کال کرتا تو کبھی کبھی بات لمبی ہوجاتی۔بسا اوقات کہتے: یار تم بہت لمبی بات کرتے ہو،
مدینہ منورہ سے واپسی ہوئی تو ایک بار پھر جامعہ محمدیہ آگیا۔اس بار وہاں دو سال کا پڑاؤ رہا۔اس دو سال کے قیام میں بھی آپ سے بہترین تعلق رہا۔جو محبت وخیرخواہی آپ نےزمانہ طالب علمی میں دکھائی تھی،
آپ کی شخصیت کے عظمت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ آپ بھی کبھی کبھار مجھ سے مشورہ طلب کرتے۔کوئی نئی کتاب لکھتے تو بسا اوقات اسے مراجعہ کے لیے بھی دیتے۔وہ اس کے قطعا محتاج نہ تھے۔مجھ سے بھی باصلاحیت اور تجربہ کار اساتذہ موجود تھے۔یہ محض ان کی محبت اورحوصلہ افزائی تھی۔تعلیم و تربیت کا ایک بہترین اسلوب تھا۔
مولانا کی عادت تھی کہ الدین النصیحہ اور ابراء للذمہ کے تحت بسا اوقات ذمہ داروں کو لکھ کر نصیحت کیا کرتے تھے۔مشورے دیتے تھے۔ایک دفعہ لفافہ میں بند ایک تحریر لے کر میرے گھر آئے۔کہا یہ کچھ مشورے اور نصیحتیں ہیں،
مولانا نے بچوں کی تربیت کے کچھ نہایت اہم اور مفید اصول مرتب کیے تھے۔ایک دن میرے پاس لے کر آئے،
استاذ مخلص ہو،
مولانا میری طبیعت اچھى طرح جانتے تھے۔مجھے کبھی پریشان یا بے چین دیکھتے تو روک لیتے۔بسااوقات چلتے چلتے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتے،
ایک دفعہ مجھے بہت پریشان دیکھا تو اپنے گھر بلا لے گئے۔دیر تک سمجھاتے اور حوصلہ دیتے رہے۔آپ کی کچھ باتیں سن کر میری آنکھیں ٹپکنے لگیں۔آنسو گرتا دیکھ کر کھڑے ہوگئے،
مولانا کی محبت کبھی ڈانٹنے اور سرزنش کرنے میں رکاوٹ نہیں بنی۔وہ پیٹھ پیچھے غیبت کرنے اور عدم موجودگی میں دل کی کدورت نکالنے کے قائل نہیں تھے۔اس مرحلہ میں بھی بسا اوقات ٹوکتے۔اپنے اسی مخصوص لہجہ میں بقدر ضرورت سرزنش بھی کرتے۔ایک سے زائد دفعہ ایسا ہوا کہ کوئی چیز ناگوار لگی تو نہ صرف ٹوکا بلکہ اسی پیار بھرے اسلوب و انداز میں سرزنش بھی کی جیسے کبھی طالب علمی کے دور میں کیا کرتے تھے۔
اللہ کے فضل وکرم سے دو سال بعد میری تقرری حائل یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر ہوگئی۔ممبئی پہنچ کر آپ کو فون کیا تو پہلے تو شکایت کی کہ بنا بتائے اچانک کیوں چلے گئے،
سعودی عرب آکر آپ سے رابطہ منقطع نہیں ہوا۔تاہم کرونا کی وجہ سے کم ضرورہوگیا۔کرونا کے بعد جب سالانہ چھٹی میں گھر گیا تو آپ کی علالت کی خبر ملی۔مولانا بہت صحت مند تھے۔یہ توقع کبھی نہیں تھی کہ آپ اتنی جلدی ہم سے رخصت ہو جائیں گے۔15 / اگست 2022م کی شام پونہ میں آپ سے آخری ملاقات ہوئی اور 2- 3 اکتوبر 2022م کی درمیانی شب آپ ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔
مولانا مثبت فکر،
جامعہ محمدیہ ہی کی زندگی میں مولانا مجھ سے دھیرے دھیرے بہت بے تکلف ہوگئے تھے۔اکیلے میں اکثر یار اور توں (غنہ کے ساتھ) کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔محبت سے لبریز یہ طرز تخاطب اور بے تکلفی سے مزین ان کا یہ اسلوب مجھے بہت بھاتا تھا۔خطاب کا یہ اسلوب اس وقت تک باقی رہا جب تک میں طالب علم رہا۔جب مدینہ منورہ سے فارغ ہوکر واپس جامعہ محمدیہ آگیا تو آپ کا یہ انداز بدل سا گیا۔میں اس غیر مرغوب تبدیلی کو اچھی طرح محسوس کرتا۔اب اکثر مولانا مجھے آپ یا یا ڈاکٹر صاحب کہہ کر بلانے لگے تھے۔مجھے لگتا جیسے تعلقات میں ایک طرح کا تکلف در آیا ہو۔تاہم جب کبھی موڈ میں ہوتے تو بے تکلفی میں پھر وہی توں،
مولانااب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ہم سے جدا ہو کر بہت دور چلےگئے۔مگر آپ کا وہ مسکراتا روشن چہرہ نگاہوں میں گھومتا،
اللہ تعالى مولانا کی مغفرت کرے۔ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ان پر اپنی رحمتوں کی بارش کرتا رہے۔انھیں بلا حساب وعذاب جنت الفردوس میں انبیاء،
*****************
نوٹ: یہ مضمون مولانا پر لکھی گئی میری مفصل تحریر "سراغ زندگی" کا ایک ٹکڑا ہے۔






