مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ملکی سطح کی پینتیسویں کانفرنس بعنوان "احترام انسانیت اور مذاہب عالم" کو منعقد ہوئے تقریبا ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور سوشل میڈیا پر آیا مثبت و منفی تبصروں کا ابال بھی قریب قریب تھم چکا ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اب کچھ اپنی بھی عرض کردوں۔
بنیادی طور پر یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ احترام انسانیت کا موضوع دو دھاری تلوار ہے۔
ایک طرف انتہاپسندی،
دوسری طرف احترام انسانیت کا ماسونی ورژن ہے جس میں ادیان باطلہ کے ساتھ ساتھ دین برحق دین اسلام کی بھی نفی کرکے انسانیت ہی کو سب کا دین دھرم ثابت کرنے کی ہر سو کوشش جاری ہے،
اسی سے قریب ایک اور صورت حال ہمارے اپنے ملک میں بھی ہے،
صورت حال یہ ہے کہ جن پر مذہب کا بے جا جنون سوار ہے وہ انسانیت کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور جن پر "انسانیت" کی مذکورہ بالا تعبیر کا خمار چھایا ہوا ہے وہ دینداری کو انتہا پسندی سے جوڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔
ایسے ماحول میں ایک طرف انسانیت کے احترام کا سبق پڑھانا،
دہلی کی اس کانفرنس میں بعض ایسے مظاہر ضرور دیکھنے میں آئے جہاں بعض مہمان حضرات نے وہی مانوتا ہی سب سے بڑا دھرم ہے والی بات کہی یا خط امتیاز کو ختم کرنے کی بات کی بعض اپنوں نے (خطباء،
سوال یہ ہے کہ وہ حد فاصل یا خط امتیاز کیا ہے جس سے انسانیت کے احترام اور انسانیت کے نام پر دین سے دستبردار ہوجانے کے درمیان فرق کیا جاسکتا ہے۔
اس کا جواب اس مسئلہ میں مضمر ہے کہ ہم قرآن و سنت کی دو اصطلاحات مداہنت اور رواداری(مدارات) کو سمجھیں،
رواداری کے باب میں ہمیں حکم ہے کہ { لَّا یَنۡهَاكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِینَ لَمۡ یُقَـٰتِلُوكُمۡ فِی ٱلدِّینِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوكُم مِّن دِیَـٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوۤا۟ إِلَیۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ یُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِینَ }
اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(الممتحنة:8)
رواداری ہی کے باب میں اس بات کا بھی حکم ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی اچھا سلوک روا رکھیں { وَلَا تَسۡتَوِی ٱلۡحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّیِّئَةُۚ ٱدۡفَعۡ بِٱلَّتِی هِیَ أَحۡسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِی بَیۡنَكَ وَبَیۡنَهُۥ عَدَ ٰوَةࣱ كَأَنَّهُۥ وَلِیٌّ حَمِیمࣱ }
اور (اے نبی) نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔(فصلت: 34)
امام بخاری نے اپنی صحیح کے کتاب الأدب میں مستقل باب (باب المداراة مع الناس) باندھا ہے اور شریعت مطہرہ کی اس بے مثال و لازوال تعلیم کی استنادی حیثیت کو اجاگر کیا ہے۔یہی روش کتب حدیث کے دیگر متعدد مؤلفین کی بھی ہے جنھوں نے باب بھی قائم کیے اور اس مسئلہ کی دلیل بننے والی احادیث بیان کی ہیں۔
اور مداہنت کے باب میں ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ لوگ چاہیں گے اور دعوت بھی دیں گے کہ تم دین یا متعلقات دین سے دستبردار ہوجاؤ لیکن تم کسی کی نہ سنو { وَدُّوا۟ لَوۡ تُدۡهِنُ فَیُدۡهِنُونَ } یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں۔(القلم: 9)
مکی زندگی میں مسلمان کمزور تھے لاچار و بے بس تھے تب بھی اس مداہنت کی بات آئی تو اللہ تعالی نے یہ فیصلہ کن سورت اتاری (قُلۡ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلۡكَـٰفِرُونَ لَاۤ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ وَلَاۤ أَنتُمۡ عَـٰبِدُونَ مَاۤ أَعۡبُدُ وَلَاۤ أَنَا۠ عَابِدࣱ مَّا عَبَدتُّمۡ وَلَاۤ أَنتُمۡ عَـٰبِدُونَ مَاۤ أَعۡبُدُ وَلَاۤ أَنتُمۡ عَـٰبِدُونَ مَاۤ أَعۡبُدُ لَكُمۡ دِینُكُمۡ وَلِیَ دِینِ) کہہ دو کہ اے کافرو میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو،
اب ایک حساس سوال یہ ہے کہ اس مداہنت اور رواداری کے درمیان فرق کا ضابطہ کیا ہوگا؟ کیسے طے ہوگا کہ ہمارا کونسا طرز عمل رواداری میں شمار ہوگا اور کونسی بات مداہنت اور ناجائز قرار پائے گی؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے امام قرطبی نے یہ بات لکھی ہے جسے حافظ ابن حجر نے قاضی عياض کی طرف بھی منسوب کیا ہے اور خود بھی اس سے اتفاق کیا ہے،
دنیا آج انہی دو انتہاؤں میں سے کسی ایک کا شکار ہے یا تو رواداری کے نام پر مداہنت میں مبتلا ہے یا مداہنت سے بچنے کے نام پر رواداری کے تقاضوں کو پورا کرنے سے کترا رہی ہے،
اور اگر وه دونوں (والدین) تم پر دباؤ ڈالیں کہ تم میرے ساتھ شریک کرو جس کا تمھیں علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا،
یہی معیار ہے اور یہی ضابطہ ہے،
غور سے دیکھیے تو یہ مداہنت سے پرہیز بجائے خود مدعو کے سامنے ایک عظیم دعوت ہے،
مدعو تک اگر یہ پیغام پہنچ جائے تو خود کے دین کے تحفظ کے ساتھ اس مداہنت سے بچنے کا ایک اور ہم مقصد پورا ہوجائے گا۔
ہمیں ایک طرف مداہنت اور رواداری کے فرق کو واضح انداز میں سمجھنا ہے اور دوسری طرف دنیا کو سمجھانا اور یہ یقین دلانا ہے کہ انسانیت کی ضرورت رواداری ہے مداہنت نہیں،
دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا،
بغیر مداہنت کے رواداری انسان کو ظالم یا جابر نہیں بناتی اسے محض ایک مصلح اور خیرخواہ داعی بناتی ہے جو اپنی بات دو ٹوک رکھ دیتا ہے لیکن کسی پر مسلط نہیں ہوتا اور نہ ہی قوم کے لیے مسئلہ بنتا ہے۔اس کا طریقہ یہی ہوتا ہے:
{ وَقُلِ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَن شَاۤءَ فَلۡیُؤۡمِن وَمَن شَاۤءَ فَلۡیَكۡفُرۡۚ إِنَّاۤ أَعۡتَدۡنَا لِلظَّـٰلِمِینَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَاۚ وَإِن یَسۡتَغِیثُوا۟ یُغَاثُوا۟ بِمَاۤءࣲ كَٱلۡمُهۡلِ یَشۡوِی ٱلۡوُجُوهَۚ بِئۡسَ ٱلشَّرَابُ وَسَاۤءَتۡ مُرۡتَفَقًا }صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمھارے ربّ کی طرف سے،
حق کو حق سمجھنے اور کہنے سے یا حق کی طرف دعوت دینے سے نہ کبھی انتہاپسندی جنم لیتی ہے اور نہ دہشت گردی،
1۔ایک داعی کا کسی پر مسلط ہوجانا اور لوگوں پر زور زبردستی اپنی کسی بات کو تھوپنا جس کے بارے میں ارشاد ہوا (فَذَكِّرۡ إِنَّمَاۤ أَنتَ مُذَكِّرࣱ لَّسۡتَ عَلَیۡهِم بِمُصَیۡطِرٍ) تو (اے نبی صلى الله عليه وسلم) آپ نصیحت کیے جاؤ،
2۔مخاطب یا مدعو کے اندر برداشت کا مادہ نہ ہونا جس کے نتیجہ میں وہ حق اور اہل حق کے خلاف محاذ آرائی پر اتر آئے۔
لوگ ان دو انتہاؤں سے بچ کر اعتدال کی راہ پر قائم رہیں اور عدل و انصاف پر گامزن رہیں تو پھر یہ دنیا ایک پر امن مقام بن جائے گی۔
موضوع کو سمیٹنے سے پہلے اس حقیقت کو بھی سمجھ لیا جائے کہ گفتگو کا مقصد خط امتیاز یا حد فاصل کی پہچان ہے،
اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(الممتحنة:8)
اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ،






