ایک آدمی جو کم علمی اور احساس کمتری کی وجہ سے اپنی ذاتی زندگی کے معاملات و مسائل میں اپنے نجی موقف کو دل میں دبا کر جیتا ہے وہ اجتماعی بے توجہی کا ایسا مارا ہوتا ہے کہ ہر سماجی ناہمواری پر لفظوں سے پتھراؤ کرتا ہے۔
منکر پر نکیر کی ہر سچویشن میں وہ ہمیشہ ایک ہی دہائی دیتا ہے،
اصل مسئلہ اس کا لاعلمی ہے اس لیے وہ نہیں جانتا کہ اختلاف کیا ہے اور انتشار کیا،
اس کی زندگی میں موجود ساری سرگرمیاں خون کھولاتی ہیں جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا،
منظر جیسا ہے ویسا ہی دکھائی دے اس کے لیے اہتمام کرنا پڑتا ہے۔جیسا تہران دکھانا چاہتا ہے اس کے لیے صرف سنی اور جذباتی ہونا کافی ہے۔بصیرت کی ضرورت ہے نہ بصارت کی،
حقائق سے نابلد اور مستند معلومات سے عاری ذہنوں کا یہ مشغلہ،
ایسی علامات جس میں بھی پائی جائیں وہ بیمار ہے،
ایسے تمام بیماروں اور بیماریوں کا علاج بتایا ہے دکتور وسیم المحمدی صاحب نے،
سلفیوں کا جو طبقہ اس وقت سنگ گراں بن کر اپنوں کی راہ میں حائل ہے اللہ تعالیٰ اسے علم دے،
تاریخ انسانیت میں یہودیوں کی ایک الگ ہی پہچان رہی ہے۔شر پسندی اور شر انگیزی میں-روافض کے سوا-ان کا کوئی ثانی نہیں رہا۔جھوٹ،
اس ڈی این اے کی تشکیل وتکوین میں ان کے تحریف شدہ دین اور تلمودی فکر کی بڑی حصہ داری رہی ہے جو یہودیوں-نعوذ باللہ-کو اصل انسان بلکہ اللہ کا عنصر قرار دیتی اور انھیں تعصب اور بالا دستی کا نشہ پلاتی ہے۔ساتھ ہی ساتھ غیر یہودیوں کے لیے ہر قسم کے ظلم وستم اور دست درازی کو جائز بلکہ ثواب ٹھہرا کر انھیں دہشت گردی اور خونخواری کی راہ دکھاتی ہے۔
رافضیت کی اصل یہودیت ہے۔روافض متعدد صفات میں یہودیوں کے وارث ہیں۔عقائد سے لے کر اعمال تک اور اعمال سے لے کر صفات تک روافض یہود کا اسکین شدہ نسخہ ہیں۔تاہم تین یہودیانہ صفات ایسی ہیں جو روافض کے اندر بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔مکروفریب،
روافض اسلام دشمنی میں یہودیوں کے ہم پلہ بلکہ سوا ہیں۔موجودہ دور میں وہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے یہودیوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔صرف گزشتہ دس سے پندرہ برسوں میں رافضیوں نے جتنے مسلمانوں کو قتل کیا ہے یہودیوں نے پوری اسلامی تاریخ میں اس قدر مسلمانوں کا خون نہیں بہایا ہے۔عصر حاضر میں اسلامی ملکوں کو جس قدر نقصان رافضیوں سے پہنچا ہے یہود اس سے بہت پیچھے ہیں۔صرف گزشتہ پندرہ برس کی اسلامی تاریخ ان کے ہاتھوں اس قدر لہولہان ہے کہ اسلام کی باقی تاریخ اس پر نوحہ کناں ہے۔
قرن اول سے ہی سلف،
سلطنت عثمانیہ ایران کی رافضی حکومت اور مجوسی سلطنت سے ہمیشہ جوجھتی رہی۔اس کی فتوحات میں یہ فارسی حکومت حتى المقدورروڑہ بنتی رہی۔اس طرح رافضیت کی اسلام دشمن شناخت باقی رہی۔اہل علم ہر دور میں ان کی حقیقت جانتے اور بتاتے رہے۔ابن تیمیہ-رحمہ اللہ-نے صاف طور سے کہہ دیا:"الرَّافضۃُ مِن أجھلِ النَّاسِ وأضلِّھم،
سلطنت عثمانیہ کے آخری ادوار میں بوجوہ یہ تفریق کم ہونے لگی اور اس کے سقوط کے بعد روافض اہل سنت میں خلط ملط ہونے لگے۔رافضیوں کے اہل سنت میں خلط ملط ہونے،
صوفیت کا رافضیت سے گہرا تعلق ہے۔پہلا شخص جس پر لفظ "صوفی" کا اطلاق ہوا رافضی تھا۔صوفیت کے بڑے بڑے ائمہ رافضی الاصل ہیں۔عقائد واخلاق میں مشابہت،
اخوانیت اپنے وجود سے ایک شر پسند جماعت اور اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار رہی ہے۔انھی کی مدد سے اس کی نشو نما ہوئی اور انھی کے تعاون سے یہ تنظیم کھڑی ہوئی۔دیار مصر کے محدث اور مفتی علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ نے پوری صراحت سے اس بات کا یہ کہہ کر ذکر کیا: "حرکۃُ الشَّیخِ حسَن البنّا وإخوانِہ المُسلِمینَ الذین قلَبُوا الدَّعوۃَ الإسلامیّۃَ إلى دَعوۃٍ إجرامیَّۃٍ ھدَّامۃٍ یُنفِقُ علَیھا الشُّیوعِیُّونَ والیَھودُ،
اخوانیت نے اپنے اندر رافضیت،
عقلانیت اور ہوى پرستی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔عقلانیت پہلے ہوى پرستی کا دروازہ کھولتی ہے پھر ہوی پرستی آگے بڑھ کر عقل کی لگام اپنے ہاتھوں میں تھام لیتی ہے۔اسلام میں جو جو افراد اور جو جو جماعتیں عقلانیت کا شکار ہوئیں،
عقلانیت،
جس طرح رافضی یہودیوں کے گدھے ہیں بالکل اسی طرح اخوانی رافضیوں کے گدھے ہیں۔یہ اپنے وجود سے نہ صرف رافضیوں کے قریب رہے ہیں بلکہ صحابہ کرام-رضی اللہ عنہم-کے ان دشمنوں سے جوخبث اور شر پسندی سے لت پت ہیں،
افکار ونظریات میں یکسانیت،
برصغیر میں موجود تحریکی،
اسلام دشمن سیاسی عناصر نے بھی سنیوں میں رافضیت پھیلانے اور اسے مقبول بنانے میں بڑے سلیقے سے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ایران اور اس کے ہمنواؤں کو ہیرو بنانے اور انھیں اسلام دوست اور مسلم دنیا کا خیر خواہ ثابت کرنے میں ان کا کردار کسی صاحب بصیرت پر مخفی نہیں ہے۔اس طرح یہ اسلام پر دہرا وار کرتے ہیں۔ایک طرف یہ اسلام دشمن عناصر کو مختلف طریقوں سے اسلام کا خیر خواہ اور اپنا دشمن باور کراتے ہیں تو دوسری طرف مخلصین اسلام کو اسلام دشمن باور کرانے کے لیے پوری قوت جھونک دیتے ہیں۔عراق،
یہ رافضیت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔دشمنان اسلام کا یہ قدیم اور بے خطا طریقہ رہا ہے۔اہل اسلام کی نظر میں جسے مطعون کرنا ہواسے وہ اپنا دوست باور کراتے ہیں بھلے ہی وہ ان کا ازلی دشمن ہو۔جسے ہیرو بنانا ہو اسے اپنا دشمن ظاہر کرتے ہیں بھلے ہی وہ ان کا گہرا دوست ہو۔اس گمراہ کن تشہیر اور پروپیگنڈے کے لیے میڈیا کے تمام وسائل بروئے کار لائے جاتے ہیں اور ان پر خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے۔
یہ وہ تین عناصر ہیں جنھوں نے رافضیت کو سنیوں میں پھلنے پھولنے اور رافضی افکار کو قابل ہضم بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔تاہم اخوانیت وتحریکیت ان میں سب سے شر انگیز اور اپنے منفی کردارمیں سب سے اعلى ہے۔حالیہ عالمی حوادث نے جس طرح رافضیت کو بے نقاب کیا ہے اسی طرح اخوانیت کو بھی ننگا کردیا ہے۔لیکن جب بصیرت اندھی ہو جائے تو بصارت کسی کام کی نہیں رہ جاتی: (فإنَّھا لا تَعْمَی الأبصارُ ولکنْ تَعْمَى القُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُوْرِ) [الحج: 46]
اس وقت عالم اسلام عموماً اور مشرق وسطى (مڈل ایسٹ) خصوصاً جس آزمائش کا شکار ہے اس میں صیہونیت،
رافضیت کے اس مشن میں اخوانیت نے حتى المقدور ساتھ دیا اور عالم عرب کی تباہی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔صیہونیوں صلیبیوں اور رافضیوں کی سازش سےدسمبر 2010م سے عرب ممالک میں جب سلسلہ وار مظاہرات شروع ہوئے اور ہر رطب ویابس کو جلانے لگے؛
ابھی بھی اخوانیت کے قدم رکے نہیں ہیں۔جہاں جہاں موقع مل رہا ہے اپنی شرپسندی کا بھرپور ثبوت دے رہے ہیں۔حماس کے حالیہ اقدام اور اس سے نکلنے والے پے درپے افسوس ناک نتائج نے رافضیت اور اخوانیت دونوں کے مکروہ چہروں سے مزید پردہ اٹھا دیا ہے۔تاہم مریض نفوس اور بصیرت سے محروم افراد کی آنکھیں نہیں کھل رہی ہیں۔
دشمنان اسلام نے اپنى پلاننگ کی کامیابی اور مشن کی تکمیل کے لیے جس طرح میڈیا کو سیٹ کرکے استعمال کیا ہے اپنے اثر کے اعتبار سے وہ اس وقت نقطہ انتہا پر ہے۔دراصل میڈیا اس وقت ہراول دستہ کا کام کر رہا ہے۔اثر انگیزی اس قدر ہے کہ اچھے اچھے لوگ بآسانی اس کے شکار بن رہے ہیں۔موجودہ وقت میں حقائق کو جاننے اور درست موقف اختیار کرنے کے لیے ایک نہایت اہم چیز،
یہودی نصرانی صیہونی صلیبی مزدکی اور مارکسی میڈیانے حق کو باطل اور باطل کو حق باور کرانے کے لیے ایسی پروپیگنڈہ مشین ایجاد کی ہے جو حواس کو اس طرح جکڑتی ہے کہ عوام تو عوم خواص کا ایک طبقہ اس کے اثر سے باہر نہیں نکل پاتا اور کذب واتہام سے لبریز خبروں کی نہ صرف تصدیق کربیٹھتا ہے بلکہ اس کی تائید اور بسا اوقات اس کا دفاع بھی کرنے لگتا ہے۔
یہی حال کربلائی،
بر صغیر میں اس میڈیائی پروپیگنڈے کا ایک بڑا اثر یہ بھی ہوا ہے کہ منہج سلف کی اتباع کرنے والے اہل حدیثوں میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہوگیا ہے جو مذکورہ بالاان تین عناصر-اخوانیت،
سلفیوں میں موجود یہ طبقہ جو اخوانیت،
سہولت کاروں کا یہ گروہ سوشل میڈیا پر دانستہ یا نادانستہ سلفیت کا رد کرنے اور منہج سلف سے برگشتہ کرنے میں حتى المقدور لگا ہوا ہے۔اس سے اہل بدعت کو خاطر خواہ فائدہ اور سلفیت کو بھرپور نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس وقت ان کا وجود سلفی دعوت کے لیے کس قدر نقصان دہ اور ان کی تحریریں کس قدر زہر آلود ثابت ہورہی ہیں اس کا درست اندازہ سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ان کی ان شقاوت سے لبریز تحریروں سے ہوتا ہے جو سلفیت کے دفاع اور اس کی نشر واشاعت میں جاری ہونے والی تحریروں کا ہر ممکن کاؤنٹر کرنے کی غرض سے لکھی جاتی ہیں۔اس وقت حال یہ ہے کہ کسی سلفی تحریر کے رد میں کسی بدعتی کی تحریر آئے نہ آئے برصغیر میں منتشر اس ٹولہ کی طرف سے کوئی نہ کوئی تحریر ضرور آتی ہے۔
اس گروہ کے جرائم متنوع اورنہایت سنگین ہیں۔ایک طرف اس نے سلفی دعوت سے متاثر ہونے والے افراد کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرنے کا کام کیا ہے تو دوسری طرف مخالفین کے دلوں میں اس مبارک دعوت کی ہیبت کو کم کرنے کا فرض ادا کیا ہے۔ان کے مجرمانہ اعمال کے چلتے داعیوں کا ایک طبقہ کہیں نہ کہیں منہجی غیرت سے دستبردار ہوا ہے تو دوسرا طبقہ ان کے کرتوتوں سے ڈسٹرب ہوا ہے۔ایک طرف یہ سلفی داعیوں کی راہ کا روڑہ بن رہے ہیں تو دوسری طرف سلفیت سے متاثر ہونے والوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کر رہے ہیں۔اس طرح سہولت کاروں کا یہ گروہ سلفی دعوت کو دوہرا نقصان پہنچا رہا ہے۔
سوشل میڈیا کا یہ مافیا صحیح منہج کی نشر واشاعت کرنے والوں کا حوصلہ توڑنے کی ہر ممکن کوشش کرتا اور انھیں طرح طرح کے القاب سے نوازتا ہے۔ان کی عیب جوئی کرتا ہے۔موقع مل جائے تو انھیں بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔یہ چیزیں بلا شبہ دعوتی میدان میں ان کے اثر کو کم کرنے میں واضح کردار ادا کر رہی ہیں۔
یہ ٹولہ اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ ایک طرف گمراہ کن نظریات کے حاملین ائمہ ضلال کی تلمیع کرتا،
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طبقہ کے نشانہ پر وہ ائمہ سلف اور اہل علم خصوصی طور پر ہوتے ہیں جو بدعات کے دشمن اور سنت کے رکھوالے ہیں۔اسی طرح وہ کتابیں اس کا خصوصی ٹارگٹ ہوتى ہیں جو سنت کے احیا اور بدعات کا قلع قمع کرنے میں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بہت سارے بھولے بھالے سلفی نہ صرف ان گمراہ افراد سے جڑ کر ان کے باطل افکار ونظریات کو قبول کر رہے ہیں بلکہ ان ائمہ سے برگشتہ یا بد ظن ہو رہے ہیں جو سنت کے رکھوالے اور بدعات کے لیے ننگی تلوار ہیں۔
اس کی کرتوتوں کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ بدعتیوں کے تئیں حسن ظن قائم ہو رہا ہے۔ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ان کی باتیں سننا عام ہو رہا ہے۔جبکہ منہج سلف سے لوگ متنفر ہو رہے ہیں اور یہی اس کا مقصد ہے۔
یہ منہج سلف کی خود ساختہ تفسیر کرتے اور اس کو ہوائے نفس کے من پسند پیرائے میں ڈھالتے ہیں تاکہ لوگ اصل منہج سے بیزار ہوکر الگ ہو جائیں اور ان کا مقصد حاصل ہوجائے۔
باطل کا تعصب ان کے یہاں اس قدر ہے کہ اس کے احقاق و ترویج کی خاطر یہ تحریف وتاویل کا ہر حربہ اپناتے اور ہر سطح سے نیچے اتر جاتے ہیں۔اس طرح یہ متعدد مواقع پر حق کے ضیاع کا کلیدی سبب بنتے ہیں۔
ان کے یہاں بدعتیوں کے تئیں کافی نرم گوشہ ہے۔اتنا نرم کہ سلفیوں کے لیے اس کا عشر عشیربھی نہیں ہے۔ایک طرف یہ بدعتیوں سے حسن ظن رکھتے اور انھیں پرموٹ کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تو دوسرى طرف ان بدعتیوں اور منحرفین پر رد کرنے والوں کو بدنام کرنے کی پیہم کوشش کرتے اور لوگوں کو ان سے دور کرنے کی نا مبارک سعی کرتے ہیں۔
حالت یہ ہے کہ اہل حدیثوں میں موجود یہ طبقہ اپنی کم علمی اور کم ظرفی کے مختلف مظاہر سے سلفیوں میں نہ صرف انتشار پھیلا رہا ہے بلکہ ان میں گروہ بندی کی فضا بھی ہموار کر رہا ہے۔
یہ سلفی دعوت کے وہ نام نہاددانشور ہیں جن کا تعلق اہل حدیث گھرانوں سے ہے۔یہ خود کو باور تو اہل حدیث اور سلفی کراتے ہیں مگر عملاً یہ اس کے ہر محاذ پر دشمن بنے ہوئے ہیں۔اگر وقت رہتے ان کا منظم انداز میں علاج نہ کیا گیا اور ان کی اچھے سے سرکوبی نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں فکری آوارگی اور منہج بیزاری سے لبا لب یہ طبقہ سلفیت کے لیے انتہائی گھاتک ثابت ہوگا۔
یہ طبقہ اپنے اخلاق و کردار میں اخوانیت سے قریب تر ہے۔عمداًیا سہواً بسا اوقات ان کا آلہ کار بھی بن جاتا ہے۔شعوری یا غیر شعوری طور پر اس نے بعض اخوانی اور تحریکی افکار کے ساتھ ساتھ ان کےاخلاق کا بھی ایک حصہ اپنا لیا ہے۔اصل چیز عمل اور موقف ہوتا ہے۔جہاں زبان حال پوری قوت سے گویا ہو وہاں ضروری نہیں کہ زبان قال سے بھی اس کا اعلان کیا جائے۔اہل علم پر یہ چیز مخفی نہیں ہے کہ بسا اوقات زبان حال زبان قال سے زیادہ قوى اور با اثر ہوتی ہے۔
افکار سے اخلاق تک کا جو سفر اس طبقہ نے طے کیا ہے اس میں محض میڈیا کا دخل نہیں ہے۔بلکہ اس میڈیائی اثر کے علاوہ بھی متعدد وجوہات اور مختلف اسباب ہیں۔ان اسباب میں علمی وتربیتی اصالت کا فقدان،
دو اسباب اور ہیں۔یہ دونوں اسباب مذکورہ بالا تینوں اسباب سے نہ صرف جڑے ہوئے ہیں بلکہ مشار الیہ افکار وخیالات نیز اخلاق وکردار کے لیے مہمیز کا کام کرتےہیں۔ان کا تعلق انسانی نفسیات سے ہے۔علامہ محمود شاکر رحمہ اللہ (ت: 1997م)نے اپنے ایک وقیع مقالہ میں ان کا ذکر کیا ہے۔فرماتے ہیں:"يُوشِكُ تاريخُ الإسلامِ أن يُصبِحَ لَهْوًا على الألسِنَةِ،
وإنما ابْتُلي زمانُنا بهذا لأسبابٍ كثيرةٍ:
أوَّلُها: أنَّ العصرَ الذي نعيشُ فيه يُعجِّل الناسَ عن تحقيقِ معنى الدِّينِ نفسِه في حقيقةِ قُلُوبِهم.
وآخِرُها: أنّ المسلمينَ في زمانِنا بلَغُوا مِن العَجْزِ،
فكانَ لهذه الكلمةِ سِحرُها حين مسَّتْ مكانَ الغرورِ والكبرياءِ من نُفُوسِهم،
ثمَّ خرَج بهم مَخرجًا أوقعَ في أوهامِهم أنَّهم قادِرُون على أن يُجَدِّدُوا أمرَ هذا الدِّينِ بمُجَرَّدِ النَّظرةِ الخاطِفَةِ المُعْتَسِفَةِ في كتابِ الله وسُنَّةِ رسولِ الله–صلّى اللهُ عليه وسلّم–،
محمود شاکر-رحمہ اللہ-اپنے زمانے کے حالات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قریب ہے کہ تاریخِ اسلام زبانوں پر کھیل کود کا سامان اور اخبارات میں لہو لعب کی چیز بن کر رہ جائے۔تثبت ویقین کے بجائے وہ ایسے ظنون واوہام کی چراگاہ میں تبدیل ہوجائے جو جلد بازی اور عجلت پسندی کا نتیجہ ہو۔ایسے کم ظرفوں کے نشانے پر آجائے جو حق کے خلاف ایسی جرأت کا مظاہرہ کرنے لگیں جو درحقیقت باطل کے خلاف مطلوب ہے۔اسی طرح وہ لایعنی اور فضول بحث ومباحثہ کا ایسا میدان بن جائے جس میں ہر وہ شخص طبع آزمائی کرتا پھرے جو محض بولنے والی ایک زبان،
اس ابتلا وآزمائش کے متعدد اسباب ہیں جن میں پہلا سبب یہ ہے کہ جس زمانے میں ہم جی رہے ہیں اس میں عجلت کا عالم یہ ہے کہ لوگ اپنے دل کی گہرائیوں میں دین کا حقیقی معنی اتارنے میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔
جبکہ اس کا آخری سبب یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں مسلمان خود اپنی نظروں میں جس طرح گر گئے ہیں اور عاجزی،
جب ان کے دلوں میں موجود کبر وغرور اور عجب وخود پسندی کو اس "فہم جدید" کا سہارا ملا تو اس نے ان پر جادو سا اثر کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے فہم کا وہ حصہ جس کا تعلق ان کے ماضی-یعنی: فہم سلف-سے تھا اس سے وہ مکمل طور پر بد ظن ہوگئے یا اس کا بیشتر حصہ انھیں پست اور کم تر لگنے لگا۔چنانچہ ان کے سوء ظن نے انھیں یہ باور کرادیا کہ دین کا یہ "نیا فہم"-جو کہ خود ان کا ایجاد کردہ ہے-ہی ان کے نفس میں اللہ کے دین کے احیا کا درست راستہ اور اس کی زمین میں اس کی شریعت کے نفاذ کا صحیح ذریعہ ہے۔
پھر انھیں اس وہم وگمان نے آلیا کہ محض کتاب وسنت کا سطحی علم اور تاریخ اسلام پر سرسری نظر ہی انھیں اس قابل بنا دے گا کہ وہ مجدد کے عظیم منصب پر فائز ہوکر اس دین کی تجدید کا شرف حاصل کرلیں گے۔
علامہ محمود شاکر-رحمہ اللہ-کی یہ بات اپنے موضوع پر قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔آپ کی ان باتوں میں جو گہرائی ہے وہ اہل بصیرت پر مخفی نہیں۔آپ ان سطور کو بار بار-کم از کم تین بار-پڑھیں اور سوشل میڈیا سے لے کر زمینی سطح تک موجود مفکروں اور نام نہاد دانشوروں کی تحریروں پر نظر ڈالیں۔ان کے سطور اور بین السطور پر غور کریں۔آپ کو بہت اچھی طرح یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ محمود شاکر-رحمہ اللہ-نےان چند سطروں میں دانشوروں کی تمام دانشوری اور ان کے آئیڈیل کرداروں کی ساری شعبدہ بازی کا خلاصہ کردیا ہے۔
ان سطور کی چمکتی روشنائی میں آپ نہ صرف اخوانیوں،
اسباب ذکر کرنے سے پہلے علامہ محمود شاکر-رحمہ اللہ-نے اپنے زمانے کےجن افسوس ناک حالات اور تکلیف دہ صورت حال کا ذکر کیا ہے آج کا سوشل میڈیا اس کا عکس مبین ہے۔غور کریں گے تو مماثلت کے ایسے واضح خطوط نظر آئیں گے کہ بے اختیار منہ سے نکل جائے گا: "ما أشبَھتِ اللَّیلۃُ البارِحۃَ"۔
ان پانچوں اسباب پر آپ غور کرلیں تو منہج سلف کے متبعین برصغیر کے اہل حدیثوں میں باطل افکار کی مسلسل زراعت کرنے میں مشغول اس سہولت کار طبقے کی ساری کہانی بخوبی سمجھ میں آجائے گی۔
سوشل میڈیا پر متحرک آوارہ مزاجوں کا ایک اور گروہ ہے جو اس کے گلیاروں میں ہمیشہ چھچھواتا رہتا ہے۔یہ ہر موقع ومناسبت سے ان سہولت کاروں کا مختلف انداز میں سپورٹ کرتا ہے۔بظاہر تو یہ ٹولہ محض انجوائے فرماتا ہے مگر بباطن اس کا ہوائے نفس اسے سہولت کاروں کا معاون بنائے رکھتا ہے۔بین السطور پڑھیں گے تو بڑی آسانی سے آپ کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ یہ ٹولہ دراصل ان سہولت کاروں کا سہولت کارہے۔
یہ سارے مل کر بیک وقت سلفی دعوت کے دانستہ ونادانستہ دشمن بنے ہوئے ہیں اور حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اس وقت سلفیوں کے مقابل اہل بدعت کا محاذ یہی سنبھالے ہوئے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ اہل حدیث علماء اور سلفی دعاۃ اس وقت ایک اضافی مشن پر اپنی انرجی صرف کر رہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب بر صغیر کے اہل حدیث اپنی سلفیت اور اتباع سنت میں ضرب المثل تھے۔علم کے ساتھ ساتھ ان کا منہج اور عمل سب کچھ مثالی تھا۔ان کے دعوتی کاز زبان سے زیادہ عمل کی مرہون منت ہوتے تھے۔مگر آج معاملہ بہت محتلف ہے۔علم میں کمی اور عمل میں کوتاہی تو ہے ہی،
کسی بھی قوم کا تخلف اور اس کا انحطاط علم سے ہو کر عمل تک پہنچتا ہے۔فکر و آگہی اور شعورواحساس اس کا آخرى شکار ہوتا ہے۔جب کسی قوم یا جماعت کی فکر شکار ہونے لگے تو جان لیں کہ شکارى اب جال سمیٹ کر واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔بلا شبہ اہل حدیثوں کے لیے موجودہ صورت حال بہت ہی نازک،
اس نازک اور دل خراش صورت حال کا ایک نہایت تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہر سو سلفیت اور منہج سلف سے جنگ جاری ہے؛
سعودی عرب اپنے وجود سے صحیح اسلام کا سب سے ٹھوس اور مضبوط نمائندہ ہے۔منہج سلف کا سب سے بڑا پاسدار اور حامی ہے۔سلفیت کی ترویج اور اس کی نشر واشاعت میں اس کا بے مثال عالمی کردار ہے۔منہج سلف کی پاسداری نے عالمی سطح پر سعودی عرب کو ہر قسم کے دشمن عطا کیے ہیں۔غیروں کے ساتھ ساتھ اہل اسلام کا ایک بڑا طبقہ صرف اسی لیے اس کا دشمن ہے۔خیرخواہوں کا حلقہ اگر ایک لمحہ کو اسے فراموش بھی کر دے تو دشمن اسے کبھی فراموش نہیں کرتا۔سعودی عرب سے اس کی ساری دشمنی عقید ہ ومنہج کی دشمنی ہے۔بہانے لاکھ جمع کر لیے جائیں اصل سبب یہی ہے۔یہ دشمنی یہ نفرت یہ بغض یہ حسد اس معیار کو پہنچا ہوا ہے کہ دشمن غلطی کرے تو خوشی ہوتی ہے کیونکہ اس پر نقد کرنے کا موقع ملتا ہے۔طنزو تشنیع کا دروازہ کھلتا ہے۔شبیہ بگاڑنے میں مدد ملتی ہے۔مگر یہی دشمن نیکی کرے تو تکلیف ہوتی ہے کیونکہ اس سے اس کا قد اونچا ہوتا ہے۔نیک نامی بڑھتی ہے۔سرخروئی نصیب ہوتی ہے۔مخالفین کی زبانوں پر تالے لگ جاتے ہیں۔سناٹا چھا جاتا ہے۔بلا شبہ کسی بھی قوم یا فرد سے بغض وعداوت کا یہ انتہائی درجہ ہے۔
ان دنوں فلسطین کا مسئلہ ایک بار پھر چرچا میں ہے۔علاقہ میں جنگ جاری ہے۔پورا مشرق وسطى اس جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔یہ جنگ رکے گی یا آگے بڑھے گی؟ جب ختم ہوگی تو کیا صورت حال نکل کر سامنے آئے گی؟ ابھی یقینی طور سے کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔تاہم اس جنگ کے منظر اور پس منظر نے کئی چہروں سے اچھی طرح نقاب اٹھا دیا ہے۔وہ نفوس جو گومگو کی کیفیت سے دوچار یا اضطراب کا شکار رہتے تھے بہت حد تک کہانی اور اس کے کرداروں کو سمجھنے لگے ہیں۔تاہم مرض جن کے قلوب واذہان میں سرطان بن کر رگ رگ میں سرایت کرچکا ہے ان کی حالت اب بھی وہی ہے۔
سعودی عرب نے جس قدر فلسطینی مسئلہ کو سپورٹ کیا ہے۔اس کی مدد کی ہے۔دنیا کے کسی ملک نے نہیں کی ہے۔اس کی ہمیشہ کوشش رہی کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو اورایک آزاد ملک کی شکل میں فلسطین کا قیام ہو۔بین الاقوامی مسائل کی فہرست میں یہ مسئلہ سعودی عرب کے یہاں ہمیشہ اول نمبر پر رہا ہے۔تاہم جب جب سعودی عرب اس مسئلہ کو حل کرانے کے قریب پہنچا دشمنان اسلام نے اسے ناکام کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ایران کی مجوسی حکومت اور فلسطینی قضیہ سے جڑی اس کی حلیف اخوانی لابی کا اس میں کلیدی کردار رہا۔
گزشتہ سال بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب سعودی عرب کی قیادت میں فلسطینی قضیہ کے تئیں جاری مفاہمتی گفتگو اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے ممکنہ سمجھوتہ کو سبوتاژ کرنے کے لیےایران کے اشارے پر حماس نے 7/اکتوبر 2023م کو اسرائیل پر حملہ کردیا اور اسے طوفان اقصى کا نام دیا۔یہ ضمیر فروش اس امید میں تھے کہ ہمیشہ کی طرح سو پچاس لاشوں کی سوداگری سے بات ختم ہوجائے گی اور ان کا منصوبہ کامیاب ہوجائے گا۔مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔
نتائج ہمیشہ حسب توقع نہیں نکلتے۔بیع وشراء اور خیانت وبے ایمانی کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔معاملہ کہیں سے کہیں پہنچ گیا اور اللہ تعالى نے سنت الہی: ﴿وَكَذَلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [الأنعام: 129] کے مطابق ان ظالموں پر ظالم دشمنوں کو اس طرح مسلط کیا کہ ضمیر فروش اور لاشوں کے سوداگر مٹی میں ملنےلگے۔حماسی منافقوں کے بعد اب خبیث رافضی قیادتوں کی صفائی کا کام جاری ہے۔ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔جنگ کے شعلے پوری شدت سے بھڑک رہے ہیں۔بات ان کے آقا تک پہنچ گئی ہے اور اس وقت مجوسیوں کا اپناآنگن بھی شعلوں کی لپیٹ میں ہے جس کی زد سے بچنے کے لیے رافضی وفود عرب ممالک کے چکر لگا رہے ہیں۔آگے کیا ہوگا یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔تاہم اتنا ظاہر ہے کہ ان منافقوں اور سوداگروں کے پاؤں کےنیچے سے زمین کافی کھسک چکی ہے اور ان کے مزعومہ قوت اور پروپیگنڈائی شجاعت کا پانی کافی اتر چکا ہے۔
اس بار کھیل اس قدر بگڑ گیا ہے کہ معاملہ سنبھالے نہیں سنبھل رہا ہے۔ایک طرف کربلائی میڈیا پورا زور صرف کر رہی ہے کہ کسی طرح اس بگڑتے کھیل کو سنبھالا جائے تو دوسری طرف صلیبی اور صیہونی میڈیا اپنے مفادات کی حفاظت میں لگا ہوا ہے۔حسب عادت اخوانی،
اس ٹولہ سے اگر پوچھ لیا جائے کہ جب اپنے اندر طاقت نہیں تھی تو کس کے اشارے پر تم نے اہل غزہ کو جنگ کی آگ میں جھونکا؟ اس عدو لدود اور ازلی دشمن سے لڑنے کے لیے جس کے ساتھ تقریبا تمام امریکہ اور یورپ کھڑا ہے؛
والتَّغْلَبِیُّ إذَا تَنَحْنَحَ لِلْقِرَى
حَکَّ اسْتَہُ وتَمَثَّلَ الأمَثَالَا
ایسے سوالوں کے جواب میں یہ سب کچھ کہے گا مگر اصل موضوع پر بات نہیں کرے گا۔اگر کسی طرح اصل موضوع پر آیا بھی تو ایسی دور ازکار باتیں کرے گا اور اس قدر دور کی کوڑی لائے گا جو اہل دانش وبینش کے یہاں مردود ومرفوض ہوگی۔ایسے فوائد گنائے گا جنھیں وہ خود اس سے عشر عشیر قیمت پر-بلکہ کسی قیمت پر-نہیں قبول کرے گا جو اہل غزہ نے ادا کی ہے۔حماقت وجہل اور ڈھٹائی وبے شرمی سے مرکب اس ٹولہ کی شروع سے کچھ ایسی ہی حالت رہی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ اس کا حساب کتاب اور نفع نقصان کا کلکولیشن بدلتا رہا ہے۔جب حماقت کی شروعات ہوئی تو یہ کچھ اور کہہ رہا تھا۔جب بات مزید بڑھی تو کچھ اور کہنے لگا۔جب معرکہ گرمایا اور واضح طور سے نقصان نظر آنے لگا تو کچھ اور تاویل کرنے لگا۔اب جب سب کچھ لٹ چکا ہے اور ہر طرف صرف دھواں ہی دھواں نظرآرہا ہے تو کچھ اور فائدہ بتا رہا ہے۔اس طرح اس کے مواقف بدلتے رہے ہیں اور نفع نقصان کا پیمانہ وقت کے ساتھ ساتھ چینچ ہوتا رہا ہے۔بدلی نہیں ہے تو صرف ایک چیز اور وہ ہے ان رافضیت زدہ اخوانی منافقوں اور حماسی احمقوں کا دفاع جو ایران کی غلامی کرتے کرتےخود تو زمیں بوس ہوئے ہی غزہ کو بھی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا اور مجوسیت کے چکرویو میں پھنس کر اپنے ہی وطن کو تار تار کردیا۔
آخر نفاق کا وہ کون سا مقام ہے جہاں پہنچ کر اِن جذباتیوں کو اُن حماسی منافقین کی موت پر بہت دکھ ہورہا ہے جو فکری اور سیاسی طور پر بالکل رافضیت زدہ ہیں؟ تناقض کا وہ کون سا مرتبہ ہے جس سے سرفراز ہوکر علم سے کنگال مگر جوش وجذبات سے لبریز اِن دانشوروں کو اُن قیادتوں کی ہلاکت پر بہت تکلیف ہورہی ہے جو نہ صرف رافضیوں اور مجوسیوں کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں بلکہ ان کے اشاروں پر ناچتے اور اپنے مبارک وطن کا سودا کرتے رہے؟ اُن بے ضمیروں اور لاشوں کے سوداگروں کی بربادی پر تو یہ جذباتی ٹولہ نوحہ کناں ہیں؛
آپ بغور ان کی تحریروں کا جائزہ لیں! علم کی اصالت سے خالی،
اگر چہ سازش طشت ازبام ہونے کی وجہ سے اس بار وہ کامیابی نہیں مل رہی ہے جو ہمیشہ ملتی تھی تاہم ایک زمانے سے یہودی،
نتیجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے اس قدر مخلصانہ جہود،
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی مدد سے ایران نے نہ صرف پھلتے پھولتے سنی ممالک پر قبضہ کرلیا ہے بلکہ ان کی ڈیموگرافی بدلنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔صرف عراق میں ایران کی اس مجوسی اور رافضی حکومت نے جو کیا ہے اور کر رہی ہے وہ کسی فلسطین سے کم نہیں ہے۔فرق بس اتنا ہے کہ فلسطین پر یہودیوں کا قبضہ ہے اور عراق پر یہودی پیداوار اور یہود نواز قوم روافض کا۔عراق کی کہانی اس قدر درد ناک ہے کہ اس کی رپورٹوں پر نظر ڈال لیں یا ڈاکو مینٹریاں دیکھ لیں تو ایک سلیم طبیعت انسان کی نیند حرام ہوجائے۔اسے بے خوابی کی شکایت ہونے لگے۔
اس مجوسی سلطنت کی اعلى قیادت صراحت کے ساتھ عراق پر اپنا حق جتاتی اور اسے اس قدیم کسروی سلطنت کا حصہ مانتی ہے جو اسلام سے پہلے قائم تھی۔جس کے احیا کے لیے ایران کی موجودہ حکومت کوشاں ہے۔چنانچہ حسب معاہدہ جب صلیبیوں نے عراق کو ان مجوسی رافضیوں کے سپرد کیا تو ان کی بعض اعلى ترین قیادت نے بالکل کھل کر اعلان کیا: "إنَّنَا نُعْطِي لأَهْلِ السُّنَّةِ فِي العِرَاقِ ثَلاثَةَ خَياراتٍ لا رَابِعَ لَها: إمَّا أنْ يَتَشَّيَّعوا،
بغداد میں باقاعدہ ایسے ریڈ زون بنا دیے گئے ہیں جہاں سنیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔جبکہ یہ کبھی ان کے علاقے ہوا کرتے تھے۔سنی علاقوں میں غیرعراقی رافضیوں تک کو لا لا کر پورے پلان کے تحت بسایا جا رہا ہے تاکہ عراق کی ڈیموگرافی بدلی جاسکے۔ایک طرف اس طرح کے شنیع اعمال جاری ہیں۔دوسری طرف ایران اسلام اور مسلمانوں کی خیرخواہی کا ڈرامہ بھی بڑی خوبی سے پلے کر رہا ہے۔تیسری طرف بر صغیر کا کربلائی اور تحریکی میڈیا نہ صرف اسے فل سپورٹ بھی دے رہا ہے بلکہ حتى المقدور پروموٹ بھی کر رہا ہے۔
صدام حسین نے اپنے زمانے میں فلسطینیوں کی بھرپور مدد کی تھی۔مہاجر فلسطینیوں کو پوری عزت وتکریم کے ساتھ لاکر عراق میں بسایا تھا۔ہر طرح کی سہولیات فراہم کی تھی۔بغداد کے پوش علاقوں میں وہ گھر وں اور دوکانوں کے مالک تھے اور پوری شان وشوکت سے رہتے تھے۔جب ایران کی مجوسی حکومت وہاں پر قابض ہوئی تو پورا نقشہ بدل گیا۔ظاہر ہے جب وہاں کے مقامی سنیوں کو انھوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا تو ان مہاجرین کو کیسے رہنے دیتے۔چنانچہ ان فلسطینیوں سے ان کے گھر چھین لیے گئے۔باقاعدہ ان میں رافضیوں کو لا کر بسایا گیا۔ان کے کاروبار پر قبضہ کرلیا گیا۔ان کی ایک بڑی تعداد کو قتل کردیا گیا۔جو بھاگ سکے وہ بھاگ گئے۔تقریباً پچاس ہزار فلسطینی صرف بغداد میں اپنے اپنے گھر اور کاروبار سے محروم ہو کر آج خیموں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔یہ کبھی اپنے خوبصورت گھر وں اور قابل رشک محلات میں پوری شان وشوکت سے رہتے تھے۔مصیبت کی اس گھڑی میں ان فلسطینیوں نے حماسی قیادتوں کو پکارا۔ان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا۔"ولکنْ لا حیاۃَ لِمَنْ تُنَادِي"۔بھلا حماس اور حماسی قیادت ایران کی مجوسی حکومت کے خلاف کیسے جا سکتی ہے؟ وہ فلسطین کے خلاف جا سکتے ہیں۔فلسطینیوں کا سودا کر سکتے ہیں۔خود کو ہلا کت میں ڈال سکتے ہیں۔مگر ایران کی مجوسی حکومت کے خلاف کبھی نہیں جاسکتے۔ہاں اس رافضی سلطنت کی خاطر عالم عرب سمیت ساری دنیا کے خلاف جا کر اپنی قبر ضرور کھود سکتے ہیں۔
جو کچھ عراق میں ہوا یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں تھا۔ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا جب ان رافضیوں نے فلسطینیوں کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک کیا ہو۔اس سے بہت پہلے 1982م میں لبنان میں موجود صبرا اور شاتیلا کے خیموں میں رہنے والے فلسطینی پناہ گزینوں کے ساتھ جو دلخراش اور ناقابل فراموش مذبج خانہ بنایا گیا تھا اس میں بھی ان رافضیوں نے بھرپور ہاتھ بٹایا تھا۔صبرا اور شاتیلا میں انجام دیا جانے والی سفاک خونریزی فلسطین کا ایسا زخم ہے جو آج تک رس رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ وہ رافضی اور مجوسی جو آج عراق میں اور کل لبنان میں انھی فلسطینیوں کے ساتھ ایسا بہیمانہ اور سفاکیت سے لبریز سلوک کر سکتے ہیں وہ فلسطین کی پاک سرزمین میں بھلا ان کے لیے کیوں کر مخلص ہو سکتے ہیں؟ ایران کے دم پر چلنے والی عسکری تنظیمیں کیا ایران کی مرضی کے خلاف کام کر سکتی ہیں؟ رافضیوں کے اشاروں پر ناچنے والے اور مجوسیوں کا جوتا اٹھانے والے دم چھلے کیا ایران کی اسلام دشمنی کے حصار سے باہر نکل سکتے ہیں؟ مختصرا ً یہ کہ کیا ایران کی یہ مجوسی حکومت اور اس کے ٹکڑوں پر پلنے والے رافضی وغیر رافضی اسلام اور مسلمانوں کے مخلص ہو سکتے ہیں؟ پھر یہ ڈرامہ بازی کیوں ہے؟
نفاق کی تہہ در تہہ چادروں میں لپٹی ہوئی یہ سیاست در اصل اسلام اور مسلمانوں کی دشمنى پر مبنی ہے۔اس کا خمیر ہی اسلام دشمنی پر اٹھایا گیا ہے۔لہذا یہ کچھ بھی ہو سکتے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے مخلص نہیں ہو سکتے۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس دل خراش داستان کے کرداروں پر نفاق کی تہہ در تہہ اتنی چادریں تنی ہوئی ہیں کہ اچھے بھلے لوگ حقیقت تک نہیں پہنچ پاتے اور شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی راہ پر چل پڑتے ہیں جو دشمنان اسلام کے منصوبوں اور ان کی پلاننگ کے عین مطابق ہوتا ہے۔
کیا اہواز،
کیا ایسے رافضی اسلام کے مخلص ہو سکتے ہیں؟ ان کے اشاروں پر ناچنے والے مسلمانوں کے کام آ سکتے ہیں؟ پھر یہ فیلق القدس کیا ہے؟ یہ فلسطین کی آزادی کا نعرہ کیا ہے؟ یہ حماس کا تعاون کیا ہے؟ یہ اسی ایرانی سیاست کا حصہ ہے جس کی بنیاد تقیہ پر رکھی گئی ہے۔یہ اسی رافضی خباثت کا جزء لاینفک ہے جو یہودیت کے خمیر سے اٹھی ہے۔یہ اسی قدیم کسروی اور مجوسی مکرو فریب کا پرتو ہے جسے ولایت فقیہ کا چولا پہناکراستعماری قوتوں نے میدان میں اتارا ہے۔جھوٹ اور نفاق جس کے بنیادی عقائد میں سے ہیں۔عیاری،
میدان کارزار میں سرگرم اور اس خونیں معرکہ سے قریب ممالك میں سے اگر کسی کو ایران کی خبیثانہ سیاست سے سب سے کم نقصان پہنچا ہے تو وہ اسرائیل ہے۔ایران کے پڑوسی سمیت باقی سارے ممالک اس سے پریشان اور اس کی اسلام دشمن سیاست سے مضطرب اور بے چین ہیں۔
صرف گزشتہ پندرہ سالوں میں اسلام کو جتنا نقصان ایران اور اس کے حلیف رافضیوں نے پہنچایا ہے،
ایران کی یہ گھاتک اسلام دشمنی اس لیے بھی سنگین ہو جاتی ہے کہ روئے زمین پر شاید ہی کوئی ایسا مسلمان ملے جو یہود ونصارى اور صیہونیوں صلیبیوں کو اپنا دشمن نہ سمجھتا ہو،
بلا شبہ یہودی ہمارے ازلی دشمن ہیں۔صلیبی ہر میدان میں ہم سے بر سر پیکار ہیں۔یہ ایسا نقطہ ہے جس پر شاید ہی کوئی باشعور مسلمان اختلاف کرے۔ان کے ساتھ اس کا کیسا بھی معاملہ ہو مگر اس بات کی صداقت میں اسے ادنى سا شک بھی نہیں ہوسکتا۔یہ ایک تسلیم شدہ اور متفق علیہ امر ہے۔مگر یہ کون سی حماقت یا مکاری یا دل کا مرض ہے کہ ہم گھر کے اس دشمن پر پردہ ڈالنے کے لیے جو ہمیں ہمارے اسی جانی دشمن کے ہاتھوں فروخت کرنے چلا ہے؛
جب تک منافقین اپنی صفوں میں رہیں گے دشمن سے جنگ بہت مشکل ہے۔پہلے اپنی صفوں کو صاف کرنا پڑے گا۔ان میں موجود دشمنوں سے نجات حاصل کرنی پڑے گی۔پھر دیگر دشمنوں سے نمٹنا-ان شاء اللہ-بہت آسان ہوجائے گا۔جب تک اپنی صفوں میں منافق موجود رہیں گے آپ کسی دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ہماری صفوں میں موجود دشمن دراصل ہمارے خارجی دشمن ہی ہیں جو کسی اور شکل میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ہمارے درمیان ان کی موجودگی سے ہمارا خارجی دشمن مضبوط ہے۔ایسے داخلی دشمن کی سنگینی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب لوگ اسے پہچان نہ پا رہے ہوں اور خطرے کا نشان اس وقت کافی اوپر چلا جاتا ہے جب اس منافق دشمن کو قوم کا ایک بڑا طبقہ خیرخواہ اور مخلص سمجھ رہا ہو۔ایسی صورت میں اگر بدقسمتى سے یہ داخلی دشمن اور منافقوں کا گروہ میدان سیاست سے لے کر میدان جنگ تک ہمارى نمائندگی کرنے لگے اور اسلام دشمن عناصر بڑی چالاکی سے اسے ایسی پوزیشن پر لے آئیں کہ وہی ہمارے سیاہ و سفید کا مالک بن جائے؛
تاریخ کے صفحات اٹھا کر دیکھ لیں۔دور نہ جائیں برصغیر کی تاریخ پر ہی ایک سرسری نظر ڈال لیں۔جب تک اپنی صف درست نہیں ہوتی۔منافقوں اور کالی بھیڑوں سے پاک نہیں ہوتی،
دشمن سے جنگ کرنے سے پہلے اور میدان کارزار میں اترنے سے قبل اپنی صفوں میں موجود منافقین سے نمٹنا اور ان سے نجات حاصل کرنا،
چلیں فرض کرلیں کہ حماس فلسطین کے لیے مخلص ہے۔ایران کی مجوسی حکومت سے ان کا تعلق فلسطین کی خیرخواہی پر مبنی ہے۔وہ رافضی جو دیگر ممالک میں فلسطینیوں سمیت دیگر مسلمانوں کو اس بہیمانہ انداز میں قتل کر رہے ہیں کہ یہودی بھی شرما جائے؛
اگر ہم بہت گہرائی میں نہیں جاسکتے تو جس طرح ہم اپنے کاروبار اور اپنی اجتماعی زندگی کے دیگر امور میں نفع نقصان کا سیدھا سیدھا حساب کرتے ہیں،
حقیقت یہ ہے کہ اس رافضی اور اخوانی گٹھ جوڑ نے بجز خسارے کے فلسطین کو کچھ نہیں دیا ہے اور اگر کچھ دیا بھی ہے تو اس کے بدلے میں فلسطینیوں کے دین وایمان اور جان ومال سب کا ایسا سودا ہوا ہے کہ فلسطینی بہت بڑے خسارے میں چلے گئے ہیں۔
وہ مبارک سرزمین جو موحد اعظم ابراہیم علیہ السلام کے نقش پا کی وارث ہے وہاں رافضیت کے نجس قدم پڑنے کے بعد رافضیت پھیلائی جارہی ہے۔فلسطینی بچوں کو رافضی نصاب مہیا کرایا جا رہا ہے۔ان کے عقائد ونظریات کو ہائی جیک کیا جا رہا ہے۔
حماس کے ذریعہ جہاد کے نام پر جو کھیل وہاں کھیلا گیا ہے اس سے سرزمین فلسطین صرف لٹی ہے۔برباد ہوئی ہے۔اہل فلسطین نے اپنی جان،
پرانی باتیں جانے دیں۔آج فلسطین کی جو حالت زار ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ غزہ کو کھنڈر بنانے میں کس کس کا کردار ہے؟ حماس کے نفاق نے فلسطین اور اہل فلسطین کی جھولی میں کیا ڈالا ہے؟
بہت آسان ہے یہ کہہ دینا کہ ہمارا ازلی دشمن اسرائیل ایسا کر رہا ہے۔جنگوں کا تجزیہ اتنا آسان نہیں ہوتا کہ رٹی رٹائی مسلم اور زبان زد بات کہہ کر آپ آگے نکل جائیں۔سارے اسباب و علل پر غور کرنا پڑتا ہے۔اسباب کے ساتھ ساتھ نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لینا پڑتا ہے۔دشمن سے پہلے اپنی صفوں پر نظر ڈالنی پڑتی ہے۔ما لہ و ما علیہ کا جذباتیت سے اوپر اٹھ کر نہایت سنجیدگی سے ریسرچ کرنا پڑتا ہے؛
مسئلہ صرف یہیں تک محدود نہیں ہے کہ کیا دیا اور کیا لیا ہے؟ سوال کا سرا وہاں تک پہنچتا ہے کہ فلسطین کو کھلونا کس نے بنایا ہے؟ اس کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کس نے کیا ہے؟ حماسی قیادتوں نے رافضیوں کے اشاروں پر،
حالیہ جنگ کے بعد اہل غزہ کی زار زار حالت اور ان کا تار تار دامن ہم سے کیا کیا کہتا ہے؟ سوشل میڈیا لے لے کر عالمی ٹی وی چینلوں تک پھیلی ہوئی ان کے سیکڑوں ویڈیو ہم سے کیا شکوہ کرتے ہیں؟ کیا آپ نے روتی ہوئی عورتوں کی بد دعائیں نہیں سنیں؟ آہ و بکا کرتے ہوئے مردوں کی دلخراش آوازیں آپ کی سماعت سے نہیں ٹکرائیں؟ بوڑھوں کی آہیں اور بزرگوں کی کراہیں آپ کو نہیں سنائی دیں؟ اگر نہیں تو آپ مردہ ہیں کہ فلسطینیوں کی آہیں آپ کے کانوں تک نہیں پہنچتیں مگر رافضیت زدہ منافقوں کے حشر پر آپ کا ایمان جاگ اٹھتا ہے۔اگر ہاں تو اس میں آپ نے کیا سنا؟ ہم نے تو اسرائیل سے زیادہ حماس اور یہودیوں سے زیادہ اخوانیوں کو بدعائیں دیتے،
(یا عِبادِی إنّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ علَى نَفْسِی،
غزہ اور اہل غزہ کے سوداگروں میں حقیقی فرق کو سمجھنا ہے تو بر صغیر کے اخوانیوں،
سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا واقعی ہمیں فلسطین سے سچی محبت ہے؟ ہم کو اہل فلسطین سے حقیقی لگاؤ ہے؟ یا پھر ہمیں بس ان سوداگروں سے ایک جذباتی لگاؤ اور اندھی عقیدت ہے جنھوں نے اپنے وطن کے ساتھ فیصلہ کن مراحل میں غداری اور خیانت کی ہے؟ وہ جھوٹی محبت جو مکار صیہونی میڈیا کے زیر اثر اور کربلائی،
یہ چالاکی رافضیوں نے اپنے یہودی ملاؤں سے لی ہے پھر اخوانیوں اور تحریکیوں نے اپنے رافضی آقاؤوں سے اسے اچک لیا ہے اور اب اخوانی و تحریکی کچروں کے ڈبوں سے چن چن کر بر صغیر کا دانشور اور سہولت کار طبقہ اسے پرموٹ کر رہا ہے۔
عالم عرب کے رافضی اور اخوانی جیسے ہی دیکھتے ہیں کہ ان کی منافقتوں اور مکاریوں کا دبیز پردہ کوئی چاک کر رہا ہے۔رات کے اندھیرے میں طے پانے والے ان کی سوداگری اور تجارت کے ڈیل کو کوئی عوام کے سامنے لا رہا ہے؛
منحرفین اور باطل افکار سے متاثر ہونے والے افراد،
در اصل مکروفریب کا یہ وہی کھیل ہے جس کی بنیاد یہودیوں اور صلیبیوں نے رکھی ہے اور اب وہی کھیل رافضیوں کے ساتھ ساتھ اخوانی،
یاد رکھیں! فکر میں یہ مشابہت ایسے نہیں آتی ہے۔اس کے لیے ہوائے نفس کا اسیر اور جذباتیت کا غلام بننا پڑتا ہے تب جاکر ایک انسان (يُضاھِھُون قولَ الذين كَفَرُوا) کا مصداق بنتا ہے۔
عربوں نے فلسطین کے لیے حقیقی قربانی دی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے صرف قربانی دی ہے۔محض کھویا ہے۔بس گنوایا ہے۔آج بھی خوشی خوشی قربانی دے رہے ہیں۔پورے اطمینان سے اپنا خسارہ کر رہے ہیں۔عطا کر رہے ہیں۔لٹا رہے ہیں۔ان بے غرضوں اور بے لوث محبت کرنے والوں کو اللہ کی رضا جوئی کے سوا نہ کسی اور چیز کی خواہش ہے،
ہاں ایک چیز انھیں مزید ملی ہے اور خوب ملی ہے۔وہ ہے بدنامی۔ایسی بدنامی جو ان کے نام سے جوڑ دی گئی ہے۔لیکن یہ بدنامی انھیں کسی شریف انسان سے نہیں ملی ہے۔اس بدنامی کے پیچھے ایک لمبی سازش اور دائمی حقد وحسد ہے۔یہ بدنامی صلیبیوں،
یہ ایک نفسیاتی مسئلہ بھی ہے جس کی طرف ایک باغیرت اور نباض حماسی شاعر نے بہت ہی خوبصورت انداز میں کچھ اس طرح اشارہ کیا ہے:
أكُلُّ امْرِئٍ ألفَى أَبَاهُ مُقَصِّرًا
مُعادٍ لأهْلِ المَكْرَمَاتِ الْأَوَائِلِ
إِذا ذُكِرَتْ مَسْعَاةُ وَالِدِهِ اضْطَنَی
وَلَا يَضْطَنِي مِنْ شَتْمِ أَهْلِ الْفَضَائِل
یعنی: کیا ہر وہ انسان جس کے آباء واجداد کوئی قابل قدر کارنامہ انجام دینے سے قاصر اور شرف وفضیلت پانے سے عاجز ہیں اس کی یہ عادت اور نفسیاتی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ اہل شرف وفضیلت اور اصحاب نبل وکرم سے عداوت ودشمنی کرے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ جب اس کے باپ دادا کے کرتوتوں کو ذکر کیا جاتا ہے تب تو اسے سنتے ہوئے شرم آتی ہے،
اب آپ برصغیر کے ان دشنام طرازوں پر غور کریں جو سعودی عرب سمیت عرب ممالک کو اس طرح کے تمام معاملات میں مورد الزام ٹھہراتے،
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں! فضل و شرف سے محروم،
عربوں کو اپنی اس مبارک سر زمین سے سچی محبت اور حقیقی لگاؤ ہے۔وہ محبت جو ہر اس مخلص محب وطن کے جسم میں خون بن کر دوڑتی ہے جسے اپنی زمین کی خاک کفن سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔جس کے بدلے اسے نہ مال و متاع کی خواہش ہوتی ہے نہ کسی نام و نمود کی۔اس کی حفاظت کے لیے وہ ہر خطرہ مول لیتا ہے۔سارے خطرات سے کھیلتا ہے۔اپنا مال ومتاع،
اسرائیل کے وجود سے لے کر اب تک کی تمام جنگیں باقاعدہ انھوں نے ہی لڑی ہیں۔اپنا بہت کچھ قربان کیا اور گنوایا ہے۔اپنی جان،
۱۹۷۳ کی وہ ایک اکلوتی جنگ جو اسرائیل سے لڑی اور جیتی گئی وہ بھی عربوں نے ہی لڑی۔سعودی عرب نے اس کی خصوصی پلاننگ کی۔شاہ فیصل-رحمہ اللہ-جیسا مدبر اور سعودی فرمانروا اس کا تھنک ٹینک تھا۔مصر کی فوجی قیادت میں اسرائیل کو ایسا سبق سکھایا گیا جو یہودیوں کے حافظے سے مٹائے نہیں مٹے گا۔کبھی آپ نے غور کیا کہ اگر یہ جنگ نہ ہوتی اور اس میں اللہ کے فضل وکرم سے کامیابی نہ ملتی تو اسرائیل اب تک کہاں تک پہنچ چکا ہوتا۔اس تاریخی موقع پر مصر کے صدر انور سادات-رحمہ اللہ-نے شاہ فیصل-رحمہ اللہ-کے اس ٹھوس اقدام اور غیر متزلزل موقف کی جس نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کو گھٹنوں پر لادیا تھا؛
یہ وہ چند نکات ہیں جو اس مسئلہ کو دو اور دو چار کی طرح واضح کردیتے ہیں کہ فلسطین کا حقیقی مخلص کون ہے۔فلسطینیوں کا سچا ہمدرد کون ہے؟ ان کے دشمن کون کون ہیں؟ کون ان کے ساتھ اپنے موقف میں سچا ہے اور کون ان کے ساتھ مسلسل نفاق کا کھیل کھیل رہا ہے؟ یہ کوئی ایسی پہیلی نہیں ہے جس کو سمجھنے میں بہت پریشانی ہو۔مگر بات وہی ہے جو بڑے سلیقہ سے کہہ دی ہے: ”جاننا ہو تو حقائق تک رسائی مشکل نہیں ہے مگر نقطۂ نظر کے مطابق ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔منظر جیسا ہے ویسا ہی دکھائی دے اس کے لیے اہتمام کرنا پڑتا ہے۔جیسا تہران دکھانا چاہتا ہے اس کے لیے صرف سنی اور جذباتی ہونا کافی ہے۔بصیرت کی ضرورت ہے نہ بصارت کی،
ایک بات ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کرنى ہوگی کہ رافضی اسلام اور مسلمانوں کے وجود کے دشمن ہیں۔یہ کبھی اسلام کے مخلص نہیں ہو سکتے۔اسلام کی پوری تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے ان کی عداوت یہود ونصارى سے زیادہ شدید اورخطرناک ہے۔اسی لیے ان کے تئیں سلف صالحین کا موقف ہمیشہ دو ٹوک اور بے لچک رہا ہے۔
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (ت: 728ھ) ان روافض کی بڑی باریک خبر رکھتے تھے۔آپ نے ان کے مکرو فریب کو چاک کرنے کے لیے نہ صرف "منھاج السنۃ النبویۃ"نامی ایک بے مثال کتاب لکھی بلکہ ایک سے زائد بار اس بات کی طرف واضح اشارہ کیا کہ بعض وجوہات کی بنا پر روافض اور بعض دیگر باطنی فرقے یہود ونصارى سے زیادہ خطرناک ہیں۔
آپ نے فرمایا:"فقد عُرِف مِن مُوالاتهم لليهودِ والنّصارى والمشركين،
اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان رافضیوں کی کارستانیوں اور مسلسل سازشوں کا آپ نے یہ کہہ کر خلاصہ کردیا کہ: "والرَّافِضَةُ لَيْسَ لهُم سَعْيٌ إلّا فِي هَدْمِ الإسلامِ،
اسی لیے آپ نے روافض کو مسلمانوں کے حساس مقامات پہ متعین کرنے کو گناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں: "وأمّا استخدامُ مثلِ ھؤلاءِ-یعنی: الرَّافِضۃَ-فی ثُغُورِ المُسلمینَ أو حُصُونِھم أو جُندِھم فإنَّہ مِن الکًبائِرِ. وھو بِمَنزِلۃِ مَنْ یَستَخْدِمُ الذِّئابَ لِرَعْیِ الغَنَمِ"۔(مجموع الفتاوى:35/155) یعنی: مسلمانوں کے سرحدوں اور ان کے قلعوں کی حفاظت کی خاطر،
یہی وجوہات ہیں کہ آپ نے نہ صرف روافض کو ہمیشہ کچلنے کی تلقین کی ہے بلکہ اسے عظیم عبادت قرار دیا ہے،
روافض کی طرف سے ہونے والے شدید نقصانات اور اس امت کو پہنچنے والے سنگین ضرر کی وجہ سے مشہور حنبلی فقیہ ابو السعادات بہوتی (ت: 1051ھ) نے ان سے کسی قسم کا تعاون لینا حرام قرار دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: "ویُحْرَم أن یَستعینَ مُسلِمٌ بأھلِ الأھواءِ کالرَّافِضۃِ،
بعض اہل علم نے تو یہاں تک کہہ دیا: "الرَّافضةُ هُم شَرُّ الطوائفِ و أشدُّ خَطَرا على الإسلامِ و المسلمينَ مِنَ اليَهودِ و النَّصارى بدَليلِ النَّقْلِ و العَقْلِ و التّاريخِ والواقِعِ. فاحْذَرْهم وحَذِّرْ مِنْهم" یعنی: روافض سب سے بدترین فرقہ ہیں۔وہ مسلمانوں کے لیے یہود ونصارى سے زیادہ خطرناک ہیں۔شرعی دلائل،
رافضی کبھی اسلام کا مخلص نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسلام کو اس کے ذریعہ عزت مل سکتی ہے۔اللہ تعالى صحابہ کرام-رضی اللہ عنہم-کو گالیاں دینے اور ان کی تکفیر کرنے والوں کو کبھی اس سے شرف یاب نہیں کرے گا۔
1979م میں جب استعماری قوتوں کے ذریعےخمینی انقلاب لایا گیا اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے ان منافقوں نے اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا نعرہ لگایا۔فلسطین کو آزاد کرانے کی بات کہی۔حزبیوں تحریکیوں اور اخوانیوں نے اس کی بھرپور تائید کی۔اسی وقت ابن باز رحمہ اللہ (ت: 1999م)نے صراحت کے ساتھ کہہ دیا تھا: "لا یُعِزُّ اللہُ دینَہ برافِضِیٍّ"۔یعنی: اللہ تعالى اپنے دین کو کسی رافضی کے ذریعہ طاقت وقوت اور شرف و عزت نہیں عطا کرے گا۔
اسی لیے اگر کوئی شخص رافضیوں سے خیر کی توقع رکھے،
ایران اور اسرائیل دونوں اسلام دشمن ہیں۔ان کی اسلام دشمنی ان کے اور اسلام کے وجود سے عبارت ہے۔دشمنی ناپنے کے معاییر ومقاییس اور پیمانے ہوتے ہیں۔عموماً بغض وحسد،
ایران اور اسرائیل دونوں کے اپنے اپنے عزائم ہیں۔جہاں اسرائیل گریٹر اسرائیل کے لیے کوشاں ہے وہیں ایران قدیم مجوسی کسروی سلطنت کے احیا پر پورے پلان کے ساتھ کام کر رہا ہے۔دونوں کی دیرینہ خواہش کی تکمیل میں عرب آڑے آتے ہیں جو اسلام کے اصل نمائندے اور انبیاء نیز وحی کا گڑھ ہیں۔بنا ان کو ختم کیے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیے ایران اور اسرائیل دونوں اپنی اپنی دیرینہ خواہشات پوری نہیں کر سکتے۔عربوں سے ان کی دشمنی،
ایران اور اسرائیل کے عزائم یکساں ہیں۔مفادات مشترک ہیں۔ازلی دشمن ایک ہے۔اسی لیے تعلقات بھی مضبوط ترین ہیں۔ایران اور اسرائیل دوستی،
چونکہ مصالح کی عارضی جنگ اور مفادات کی وقتی لڑائی کا حتمی مقاصد اور دائمی مصالح پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا،
ایک بات اور یاد رکھیں! ہر ظالم کا حساب ہوتا ہے۔بسا اوقات وقت لگتا ہے مگر ظالم اپنے کیفر کردار تک ضرور پہنچتا ہے۔اللہ تعالى ڈھیل ضرور دیتا ہے مگر جب انتقام لینے پر آتا ہے تو ایسے انداز سے انتقام لیتا ہے کہ ظالم عبرت وموعظت کے ساتھ ساتھ حسرت وندامت کا بھی نمونہ بن جاتا ہے۔اسے ایسی جگہ سے پکڑتا ہے جو اس کے خواب وخیال میں نہیں ہوتی۔اسے ایسا گرفتار کرتا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ہل تک نہیں پاتا۔دو قسم کے لوگ عموماً پہلے دنیا میں سزا پاتے ہیں پھر آخرت کی باری آتی ہے۔ایک ماں باپ کا نافرمان اور دوسرا لوگوں پر ظلم کرنے والا۔اسی طرح جو لوگ ظلم وزیادتی پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں،
شیخ الاسلام ابن تیمیہ-رحمہ اللہ-نے کسی پر ظلم وزیادتی کا شنیع عمل انجام دینے میں ایک دوسرے کی مدد کرنے والوں کی ایک نہایت اہم بشری طبیعت اور انسانی نفسیات کی طرف اشارہ کیا ہے: "والنَّاسُ إذا تَعاوَنُوا علَى الإثمِ والعُدْوانِ أبْغَضَ بَعْضُھُم بَعْضًا،
فارسی حکومت کا ایک مکروہ چہرہ اس کا استحصالی مائنڈ سیٹ اور مجوسی سلطنت کا ایک خبیث رخ اس کا پراکسی جنگ میں مہارت بھی ہے۔اپنے اہداف ومقاصد کے حصول کی خاطر "الغَایَۃُ تبُرِّرُ الوَسِیْلَۃَ" کے تحت وہ کسی کی بھی قربانی سے گریز نہیں کرتی۔قدیم کسروی سلطنت ہی سے یہ اس کی خاص پہچان اور غیر متزلزل طبیعت کا حصہ رہی ہے۔موجودہ صورت حال میں حماس اور حزب اللہ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اور باقی باج گزاروں کے ساتھ جو کچھ ہونے کا امکان ہے کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اسی فارسی اسٹراٹیجک پالیسی اور مجوسی استحصالی مائنڈ کا ایک پلان شدہ حصہ ہو،
بلا شبہ یہود و روافض دونوں اسلام کے شدید ترین دشمن ہیں۔اسلام کے تئیں جس قدر نفرت،
اسلام کے تئیں جو نفرت یہودیوں کے دلوں میں تھی اسے نہایت مکاری اور منافقت سے روافض کے سینوں میں انڈیلا گیا۔باطنی فرقوں کا سینہ جب لبالب اس نفرت سے بھر گیا تو اسے مختلف طریقوں سے دیگر مسلمانوں میں کاشت کرنے کی کوشش ہوئی۔صلیبی تو زمانے کے دشمن تھے۔یہود ونصارى،
عربوں کے تئیں روافض میں موجود یہ نفرت اخوانیوں،
جماعت اخوان المسلمین اپنى ابتدا ہی سے مجوسیت نواز اور رافضیوں کی ہم نوا رہی ہے۔یہی حال برصغیر کے تحریکیوں اور مودودیوں کا رہا ہے۔چاہے وہ مولانا مودودی ہوں یا حسن بنا اور سید قطب سب کا رافضی قیادتوں اور خمینی انقلاب سے گہرا تعلق رہا ہے۔انھوں نے اپنی تحریروں،
یہ سب کچھ اس پیمانے پر ہوا کہ سنی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد میں یہ تصور راسخ ہو گیا کہ ایران کی مجوسی حکومت خلافت اسلامیہ کی سچی وارث ہے۔اسلام دشمن میڈیا نے ایک طرف اس باطل تصور کو خوبصورت سے خوبصورت تربنا کر پیش کیا،
آج حالت یہ ہے کہ اگر ایران اور عرب ممالک میں جنگ ہوجائے تو مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ایران کی حمایت کرے گا۔کربلائی لابی کے ساتھ ساتھ اخوانی،
مشہور معاصر عالم عبد اللہ قصیّر رحمہ اللہ (ت:2024ھ) نے اپنے ایک خطاب میں وصیت کرتے ہوئے کہا تھا: "کلُّ مَنْ سارَ فی فَلَکِھم _أیْ: فی فلکِ الرَّافضۃ_،
یعنی: ہر وہ شخص جو رافضیوں کا دم چھلہ اور ان کا ہم خیا ل ہو،
یہی رافضیت کا مکروہ چہرہ ہے۔یہی اخوانیت کی حقیقی کہانی ہے۔یہی تحریکیت اور مودودیت کا خلاصہ ہے۔یہی وہ آئینہ ہے جس میں آپ مشرق وسطى کے حالات کو دیکھنا چاہیں گے تو اس منافقانہ سیاست کا ہر کردار اپنے مکروہ چہرہ اور بدکرداری کے ساتھ بے لباس نظر آئے گا۔بلا شبہ مشرق وسطى میں جو خونیں کھیل جارى ہے اس میں رافضیت،
نفرت کی جو کاشت کی گئی ہے۔عالم اسلام کا جو فرضی سیٹ اپ تیار کیا گیا ہے۔دشمنان اسلام کی قیادت میں اسلامی ممالک کی جو من مانی درجہ بندی نہایت مکاری سے کی گئی ہے؛
یاد رکھیں! جو قوم اپنے مخلصین اور منافقین میں فرق نہیں کرپاتی ہے،
اللہ تعالى سے دعا ہے کہ ہمیں بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت کی نعمت سے بھی اللہ تعالى سرفراز کرے۔حکمت وفراست جیسى عظیم نعمت کا وافر حصہ ہمیں عطا کرے۔اپنوں اور غیروں میں تمیز کرنے کی توفیق دے۔دوستوں اور دشمنوں میں فرق کرنے کا سلیقہ عطا فرمائے۔ہوائے نفس اور اس کے مظاہر سے ہمارى پل پل حفاظت کرے۔پلک جھپکنے کی مدت بھی ہمیں ہمارے حوالہ نہ کرے۔کبھی بھی ہمیں بے سہارا نہ چھوڑے۔ایمان کے نور سے ہمارے دلوں کو ہمیشہ منور اور اس کی حلاوت سے ہمیں سدا لذت آشنا رکھے۔اسلام اور مسلمانوں کی محبت سے ہمارے قلوب واذہان کو ہمیشہ معمور ومعطر کرتا رہے۔ہر سوء ومکروہ اور شر سے ہمیں بچائے۔ہر قسم کے ھم وغم اور حزن والم سے ہمیں نجات دے۔ہر طرح کی بلا،
والحَمْدُ للہِ رَبِّ العَالَمِینَ






