یہ بات ہے کووڈ 19 اور پہلے لاکڈاون کے آغاز سے تقریبا ایک ماہ قبل کی،
اس وقت تک شیخ عزیر شمس سب کی طرح میرے لیے بھی ایک بڑا نام تھا کیونکہ وہ ایک ایسے میدان کے شہسوار ہی نہیں بلکہ قافلہ سالار تھے جس میدان کے راہرو بھی خال خال ہمارے درمیان نظر آتے ہیں۔
عزیر شمس کے نام کی پہچان ان کے سابقہ و لاحقہ القاب کے بجائے محض ان کے کام سے تھی۔اس حوالہ سے دل نے اپنا رشتہ تو جوڑ لیا تھا مگر اس وقت تک یہ تعلق اپنا سفر طے کرکے گہرے عقیدتمندانہ مراسم تک نہ پہنچ سکا تھا جس کی ایک بڑی وجہ میری طبیعت کی یہ "خامی" بھی تھی کہ "بڑے لوگوں" سے اور "بڑے ناموں" سے ملنے میں کئی وجوہات کی بنا پر بڑا تأمل رہتا ہے اسی کا نتیجہ تھا کہ شیخ عزیر شمس کو بہت پہلے سے دور اور نزدیک سے دیکھا بھی اور ان کی بابت اور ان سے سنا بھی مگر باقاعدہ تعلقات استوار کرنے کا اور بالمشافہہ خصوصی ملاقات کرنے کا کبھی اتفاق نہ ہوا تھا۔
شیخ ثناءاللہ صادق تیمی حفظہ اللہ کا یہ علمی احسان ہے کہ انھوں نے فیس بک پر شیخ عزیر شمس کے لائیو ڈسکشن کا آغاز کیا جن کو دیکھنے اور سننے کے بعد میرے اندر دو باتوں کا احساس جاگا،
چنانچہ اس سفر کے مقاصد میں شیخ سے ملاقات بھی شامل رہی اور حسب ارادہ شیخ ثنا صادق تیمی حفظہ اللہ کے توسط سے شیخ سے ملاقات کے لیے وقت لے لیا اور نماز عصر کے لیے شیخ کے محلہ کی مسجد جا پہنچا،
شیخ کی شخصی خوبیوں کے حوالے سے اپنی اس ایک ملاقات کی روشنی میں زیادہ کچھ لکھنا نہیں چاہتا کہ میری گواہی بھی اتنی ہی کمزور مانی جائے گی تاہم یہ تو لکھ ہی سکتا ہوں کہ اس ایک ملاقات میں بھی میزبان کی سادگی اور مہمان کی قدرافزائی کا ایک انوکھا تجربہ ہوا۔
بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
اس ملاقات کے وقت تین مقاصد میرے پیش نظر تھے۔
1۔كلية الحديث (جامعة الإمام سيد نذير حسين الدهلوي،
2۔تراث ابن تیمیہ کے سلسلے میں خود کے بھی اور طلبہ كلية الحديث کے بھی مستفید ہونے کے امکانات اور اس کے عملی راستوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا۔
مذکورہ بالا دونوں حوالوں سے جب بات ہوئی تو شیخ محترم نے ہر ممکن اور قابلِ عمل تجویز پر اپنی رضامندی اور آمادگی ظاہر کی،
3۔تیسرا مقصد مخطوطات کی قرأت اور تحقیق سے متعلق شیخ کے طویل تجربہ سے ذاتی طور پر کچھ سیکھنا کیونکہ اس باب میں میری کل پونجی محدثین کے نزدیک قلمی نسخوں میں کاٹ چھانٹ کے معروف اور بنیادی اصولوں سے زیادہ نہیں تھی،
مرضی مولی کہ پہلے طویل لاکڈاون اور پھر ہماری تھوڑی سی سستی رہی اور یہ اونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھ سکا اور قبل اس کے کہ ہم اپنے منصوبوں اور ارادوں کو عملی جامہ پہنا پاتے اچانک یہ خبر آئی کہ شیخ عزیر رخصت ہوگئے۔إنا لله وإنا إليه راجعون
كل مصيبة بعدك جلل يا رسول الله!
شیخ عزیر تو نیت کا اجر اپنے ساتھ لے گئے اور ہم بس ہاتھ ملتے رہ گئے۔
شیخ عزیر شمس ان اہل علم میں سے تھے جن سے بالمشافہہ کچھ سیکھنے کی بڑی آرزو تھی،
شیخ عزیر شمس کی پہچان ایک محقق (بالخصوص ابن تیمیہ و ابن قیم رحمہما اللہ کے علمی ورثہ کے محقق و مدقق) کی ہے۔اللہ جزائے خیر دے شیخ ثنا صادق تیمی حفظہ اللہ کو کہ فیس بک پر لائیو ڈسکشن کی شکل میں 40 سے زیادہ علمی مجلسوں کا انعقاد کرکے تراثِ ابن تیمیہ اور مخطوطات کی دنیا سے ہٹ کر ان کے علم کے دیگر دروازوں کو بھی وا کرنے کی بڑی کامیاب کوشش کی اور ہم جیسوں کی آرزوؤں کی ادھوری تکمیل کا سامان مہیا کردیا۔
شیخ ثنا صادق تیمی ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں کہ آپ نے شیخ عزیر کی شخصیت کی پرتیں کھولنے کی کامیاب کوشش کی اور زیر زمین چٹانوں کے اندر بہتے چشمے کی طرح مخطوطات میں گھری شیخ کی زندگی میں سیندھ لگائی اور ان کے علوم و معارف کا ایک چشمہ جاری کرکے ایک پنگھٹ بنادیا اور ہر خاص و عام کے لیے اس سے سیرابی کا راستہ ہموار کردیا۔جزاكما الله عنا جميعا خيرا
ان مجلسوں کی تعداد 47 ہے جن میں تاریخ اسلام،
تاہم ان مجالس کی بابت دو اہم باتیں ذکر کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے:
1۔آپ کی یہ مجلسیں مختلف علوم و فنون کے مبتدئین کے لیے بیش قیمت علمی تحفہ ہیں تو متخصصین کے لیے بھی علم و معرفت کا خزینہ ہیں،
2. شیخ عزیر شمس کثیر المطالعہ تھے،
(الرجال يعرفون بالحق لا الحق يعرف بالرجال)
(لاتعرف الحق بالرجال اعرف الحق تعرف أهله)
(من عرف الحق بالرجال حار في متاهات الضلال)
لہذا شیخ عزیر شمس کے قارئین و سامعین کو بھی یہی منہج پیش نظر رکھنا چاہیے کیونکہ خود شیخ عزیر خود بھی اس منہج کے مناد تھے۔
ہم واپس اپنی ملاقات کی طرف لوٹتے ہیں،
بر وقت میں نے اس دعوی کی تردید کی تھی اور یہ بتایا تھا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ایسی کوئی مستقل تصنیف نہیں ہے بلکہ ایک استفتاء کا جواب ہے جو مجموع الفتاوى کی جلد نمبر 35 کے آغاز میں مطبوع ہے،
اور دوسری گرفت یہ کی تھی کہ اپنے مشمولات کے اعتبار سے بھی ان دونوں کتابوں میں کوئی مطابقت اور موازنہ ہی نہیں ہے بلکہ بعض پہلوؤں سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے رسالہ کو مولانا مودودی کی خلافت و ملوکیت کے بعض افکار کا رد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا،
بات آئی گئی پرانی ہوگئی تھی شیخ عزیر سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس موضوع پر گفتگو کی،
اس سہ رخی فہرست کے إجمالا تذکرہ کے ساتھ ان کی دی ہوئی اس فہرست کی ایک کاپی پی ڈی ایف کی شکل میں اس مضمون کے ساتھ نتھی کررہا ہوں تاکہ یہ علمی امانت علم دوست حضرات کے حوالے ہوجائے۔
1۔پہلی فہرست شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے ان رسائل کی ہے جو مجموع الفتاوى میں شیخ الاسلام کے دیگر فتاوی کے ساتھ شامل اشاعت کر لیے گئے ہیں کیونکہ ان کی حیثیت بھی دراصل استفتاء کے جوابات کی ہے۔ان کی تعداد 112 ہے۔
2۔دوسری فہرست ان رسائل کی ہے جو مجموع الفتاوى میں شامل نہیں ہیں۔بلکہ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی مستقل تصانیف ہیں جن کی کل تعداد 37 ہے۔
3۔تیسری فہرست ابن تیمیہ کے علمی ورثہ میں سے ان کتابوں کی ہے جن کا ترجمہ اردو زبان میں ہوچکا ہے۔یہ فہرست خود شیخ عزیر شمس کے قلم سے لکھی ہوئی ہے جس میں کتابوں کی تعداد 59 ہے۔
تراث ابن تیمیہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ سہ رخی فہرست خاصے کی چیز ہے۔
شیخ عزیر شمس سے میری آخری بات چیت رمضان ١٤٤٣ھ کے آخری عشرہ کی ہے،
اگلا سفر؟؟
اس مسافر کے دوبارہ مہمان بن کر وارد ہونے سے قبل میزبان خود اپنے حقیقی سفر پر روانہ ہوگیا۔اللهم أجرنا في مصيبتنا و أخلف لنا خيرا منه






