پوسٹ اور کمنٹ کے اس زمانے میں اقوال زریں چھوڑنے کے بجائے اہم مستفادات کو مدلل طریقے سے مختصر مضمون کی شکل دے دینا صبر و ضبط نیز علم و حلم کی راہ ہے۔اس سے اشکال کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں اور استفادہ کے مواقع بھی وسیع ہوجاتے ہیں۔
زیر نظر مضمون اپنے موضوع اور پیش کش دونوں اعتبار سے انتہائی اچھوتا ہے۔اللہ رب العالمین ابو المرجان فیضی صاحب کو یہ مبارک سلسلہ جاری رکھنے اور ہمیں مستفید ہونے کی توفیق دے۔ (ایڈیٹر)
انسان فطرتا آزاد پیدا ہوا ہے اور یہ تب تک آزاد رہتا ہے جب تک اشخاص،
پہلا عمل:
ہم یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں اور جب بھی ویڈیوز ختم ہوتی ہیں اسی کٹیگری کی دوسری سیمیلر ویڈیوز چالو ہو جاتی ہیں اس کا مطلب ہے اگر ہم اچھی ویڈیوز دیکھیں گے تو اسی طرح کی مزید اچھی ویڈیوز کی رہنمائی ملے گی اور اگر ہم گندی ویڈیوز دیکھتے ہیں تو مزید گندا میٹیریل سامنے آجائے گا۔بالکل اسی طرح پوری کائنات کام کرتی ہے۔
یعنی ایک نیکی مزید نیکیوں کا راستہ دکھاتی ہے۔اور ایک برائی انسان کے لیے اور زیادہ برائیوں کا راستہ ہموار کردیتی ہے۔
یہاں ہم کو جو مکمل آزادی تھی۔وہ پہلی غلطی کے وقت تھی۔بعد میں ہمیں اسی طرف ایکسلیٹ کردیا جاتاہے۔پھر وہاں سے واپسی دشوار ہوجاتی ہے۔الا یہ کہ صدق دل سے توبہ کرلیا جائے۔
اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان الصدق یھدی الی البر وان البر یھدی الی الجنہ وان الکذب یہدی الی الفجور و ان الفجور یھدی إلى النار(متفق علیہ)سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف،
یہ دنیا مناسبات سے بھری ہوئی ہے۔ایک ہم جنس دوسرے ہم جنس کو ڈھونڈ لیتا ہے۔قانون جاذبیت سیمیلر اشیاء کو اکٹھا کردیتا ہے۔نیک نیکوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور برے بروں کے ساتھ۔
یہاں تک کہ آخرت میں بھی لوگ اپنے جیسوں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔بعض ابلیس وفرعون کے ساتھ ہوں گے اور بعض سید الانبیاء و صحابہ و اولیاء کے ساتھ۔
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
(ہم جنس،
اور اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے:
الخبيثات للخبيثين والخبيثون للخبيثات والطيبات للطيبين والطيبون للطيبات أولئك مبرءون مما يقولون لهم مغفرة ورزق كريم[النور:۲۶]لخبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے۔پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔
پہلی رائے:
جب ہم خالی الذہن ہوتے ہیں تو ہمارے سامنے بہت سارے موضوعات اور بہت ساری باتیں اور مسائل آتے ہیں وہاں ہم بنا کسی جھجھک اور بنا زیادہ سوچے سمجھے اپنی رائے فوری طور سے دے دیتے ہیں بسا اوقات یہی اظہار رائے ہماری قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔یہی ایکسپریشن ہمارا مستقبل اور ہمارا انجام طے کرتا ہے۔اور یہیں سے زندگی کا رخ مڑجاتا ہے۔
حديث پاک میں وارد ہے:
إنَّ العَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بالكَلِمَةِ مِن رِضْوانِ اللَّهِ،
اور سورہ قصص میں درج ذیل آیت کی تفسیر میں بھی اسی طرح کی بات مروی ہے:
وَقَالَتِ ٱمْرَأَةُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّي وَلَكَ(اور فرعون کی بیوی نے کہا میری اور تمھاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔فرعون نے کہا بلکہ تمھاری آنکھوں کی ٹھنڈک،
فقال النبي ﷺ:
والذي يحلف به لو أقر فرعون أنه يكون له قرة عين كما أقرت لهداه الله جل ذكره به كما هدى به امرأته،
یعنی ہم کو کسی چیز کے بارے میں غلط قسم کا اظہار رائے کرنے سے بچنا چاہیے۔اگر بولیں تو اچھی بات بولیں ورنہ چپ رہیں۔
حدیث پاک میں ہے:
مَن كان يُؤمِنُ باللهِ واليَومِ الآخِرِ،
معلوم ہوا کہ پہلا عمل،
لہذا ہم کو اپنی پہلی چوائس پہلا ایکسپریشن اچھا رکھنا چاہیے۔اگر اچھے جذبات نہ پیدا ہوں تو اظہار سے رک جانا چاہیے۔خاموش ہوجانا چاہیے۔
نسال اللہ حسن الخاتمة و من القول والعمل ما یرضی بہ ربنا۔






