کئی سال پہلے کی بات ہے کہ مسجد عائشہ بیدر کرناٹک میں ایک اجلاس عام منعقد ہوا،
کیا دین ڈاڑھی میں اٹکا ہوا ہے؟؟
سائل کی نیت اللہ جانے مگر لب و لہجہ ایسا تھا جیسے یہ سوال نہ ہو بلکہ سائل ڈاڑھی رکھنے کی مکرر ترغیب سے نالاں ہو،
حالانکہ سائل یا ان جیسے حضرات صرف اتنا دیکھ لیتے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکرر اس بات کا حکم دیا ہے۔ڈاڑھی رکھنے کا حکم دیتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث مروی ہیں ان میں "أعفوا" "أرخوا" "وفروا" جیسے امر کے صیغوں کا مکرر آنا خود اس ترغیب اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔
بعض معاصرین کی تحقیق کے مطابق ڈاڑھی کو دین سے جدا محض عادات کی قبیل سے سمجھنا عصر حاضر کی بدعات میں سے ہے،
سائل کا یہ سوال کہ کیا دین ڈاڑھی ہی میں اٹکا ہے؟ دراصل ایک مخصوص سوچ کا ترجمان ہے،
ان میں سے بعض تو اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ ان کی نظر میں ڈاڑھی جیسے مسائل پر گفتگو کرنا اور اس کی ترغیب دلانا گویا امت کے حق میں جرم اور امت کو حقیقی مسائل سے بھٹکانا ہو۔امت کی ضرورت اور ان کے حقیقی مسائل ایسے شرعی مسائل نہ ہو کر محض سیاسی مسائل ہی سب کچھ ہوں۔اسی فکر کا ترجمان ایک جملہ یہ بھی ہے "دشمن مسلمانوں کی گردنیں ناپنے میں لگا ہے اور آپ حضرات لوگوں کی ڈاڑھی ناپنے میں۔۔۔۔۔"
یاد آتا ہے کہ ہمارے ایک سینیئر ساتھی نے مدینہ یونیورسٹی میں اپنے کلاس روم کا ایک واقعہ سنایا تھا۔یہ وہ دور تھا جب بوسنیا اور یوگوسلاویہ کے درمیان سخت جنگ چھڑی ہوئی تھی۔بوسنیا کا ایک طالب علم دوران درس کسی ضرورت کے تحت کلاس روم سے باہر نکلنے لگا،
استاد جی!
بوسنیا میں لوگوں کا قتل عام جاری ہے اور ایئرکنڈیشنڈ روم میں بیٹھے آپ کو میرے ٹخنے سے نیچے لٹکتے کپڑے کی پڑی ہے۔۔۔۔!
استاذ نے بڑے ہی پرسکون لہجے میں اس طالب سے کہا:
بیٹا۔۔!
ہم ٹخنے سے نیچے بھی اللہ کے احکام کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں اسی لیے یہاں ایئرکنڈیشنڈ روم میں پرسکون بیٹھے ہیں۔
بات شروع ہوئی تو تھی بیدر کی مسجد عائشہ سے اور پہنچ گئی مدینہ یونیورسٹی تک۔مسجد عائشہ میں سائل کے اس چبھتے سوال کے جواب میں بر وقت میں نے یہ عرض کیا تھا کہ:
دین ڈاڑھی میں نہیں اٹکا ہے مگر دین میں ڈاڑھی لٹکانا ضروری ہے۔مقصود یہ تھا کہ یقینا ڈاڑھی دین کے ان بنیادی ارکان میں سے نہیں ہے جن پر پورے دین کا دار و مدار ہو مگر ڈاڑھی رکھنا دینی واجبات میں سے ہے۔
پرانی باتوں کے یاد آنے کی کوئی نئی وجہ ضرور ہوتی ہے،
ان کے بقول ان کی سگریٹ نوشی اور ڈاڑھی نہ رکھنے کی عادت نے رفتہ رفتہ انھیں دین سے دور کردیا تھا،
ایسے کتنے لوگ ہیں جنھوں نے برملا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ڈاڑھی رکھنے کے بعد اب برا لگتا ہے کہ نماز کے وقت کہیں بازار میں مٹرگشتی کریں،
نہ جانے اور کتنے ایسے احساسات اور جذبات ہیں جو اس ایک ڈاڑھی کے ساتھ انسان کے اندر چلے آتے ہیں،
اب میرا خیال یہ ہے کہ ہاں! دین ڈاڑھی میں بھی اٹکا ہوا ہے۔اور میرے اس خیال کو آپ غلط نہیں قرار دے سکتے،






