امیری و غریبی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تقسیم دولت کا یہ فرق نہ رکھا ہوتا تو نظام زندگی فساد در فساد کی زد میں ہوتا۔امیری کے آنگن میں عیش و طرب،
خوشی جہاں میں بہت ہے ہمارے گھر نہ سہی
ملول کیوں رہیں دنیا کے انتظام سے ہم
یہ سچ ہے کہ غریبوں کی ڈھارس بندھانے اور ان کی اشک شوئی کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک حاتم زمانہ پڑے ہیں لیکن ہمدردیاں وبہی خواہیاں صرف زبانی جمع خرچ تک محدودہوتی ہیں۔اگر کہیں ہمدردی و بہی خواہی کا پر جوش اقدام نظر آرہا ہے تو سمجھ لینا کہ پس پردہ اس اقدام کا ڈانڈا کہیں نہ کہیں مفادات سے جڑا ہوا ہے۔کیا آپ نے سوشل میڈیا اوراخبارات میں امیر وغریب کی تصویر کو خیرات کے سامانوں کے ساتھ نہیں دیکھا؟ کیا چاول کی ایک چھوٹی سی بوری کے ساتھ شرمندہ شرمندہ سا بوڑھا سراپا احتجاج نظر نہیں آتا؟ وہ مسکین کیمرے کے سامنے شدت احساس سے پگھل جانا چاہتا ہے لیکن دل کو کڑا کرکے فوٹو کھنچوا لیتا ہے کہ چند دنوں کے لیے آتش شکم سے نجات جو مل جائے گی۔جی ہاں یہ سارا ڈھونگ "نیکی کر فیسبک پر ڈال" کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے اور بس۔کیا کیجیے گا؟ غریبی دراصل نام ہی ہے تذلیل کا رسوائی کا جگ ہنسائی کا۔امیروں کو کسی کے جذبات اور احساسات سے کیا سروکار؟ امیری کا تو اصول ہی یہ ہے کہ بھوکوں مرو یا تو ہمارے ساتھ سیلفی دے کر ہماری سخاوت کا اشتہار بن جاؤ۔مرتا کیا نہ کرتا۔احساس تو اس وقت ہوا جب پورے سال ہر ملنے جلنے والے نے طعنہ دیا کہ تمھاری تصویر فیسبک اور واٹسپ پر بہت گھوم رہی تھی۔وہ تم راشن مانگنے گئے تھے ناں۔اس مسکین کو کیا پتہ تھا چند کلو اناج کے لیے اتنی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔غریبی تو پورے سال درد دیتی ہے لیکن رمضان میں یہ ظالم جان ہی نکال لیتی ہے۔رمضان کثیر اخراجات کا مہینہ ہے،
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے جذبہ ایثار کی ترقی معکوس اب باقی بچے کھانوں اور اترن پر ہی گزارہ کر رہی ہے؟ ہماری بے حسی و بے مروتی اس سے زیادہ کی توقع کی اجازت نہیں دیتی؟ یہی نہیں بلکہ ایسے روزہ دار بھی دنیا میں ہیں جنھیں رمضان میں بھی فاقہ کشی کی زندگی گزارنی پڑتی ہے۔نہ تو ڈھنگ کی سحری میسر ہے اورنہ سلیقے کا افطار۔
صومالیہ کا ایک مسلمان مفتی حرم سے پوچھتا ہے کہ اگر ہم لوگوں کو سحری اور افطار میں کچھ میسر نہیں اور بغیر اس کے ہم روزہ رکھ لیا کریں تو کیا ہمارا روزہ صحیح ہوگا؟ یہ سوال نہیں تھا بلکہ غریبوں کی مصیبتوں کا ایک تڑپا دینے والا دکھڑا تھا۔امام حرم سے رہا نہ گیا سوال کا جواب دینے کے بجائے دامن سے اپنے آنسو پوچھنے لگے۔پھر وہ لمحہ بھی کیسا عجیب ہوتا ہوگا جب غریب کا ننھا بچہ ماں سے کہتا ہوگا کہ امی سب کے یہاں کپڑے تو خریدے جاچکے ہیں۔عید کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ہمارے لیے کپڑے کب آئیں گے؟ ہماری خریداری کب ہوگی؟ سنا تو یہ بھی گیا کہ کتنے ہیں جو پیسے لے کر روزانہ بازار جاتے ہیں لیکن ہوشربا مہنگائی میں ناکافی پیسوں کی وجہ سے خالی ہاتھ واپس آجاتے ہیں اور اسی طرح عید آجاتی ہے لیکن نئے کپڑوں کی حسرت دل ہی میں کہیں دفن ہوجاتی ہے۔رمضان کی شاپنگ بھی کیسی جان لیوا ہوتی ہے غریب زچ ہوکر یہ بھی کہہ بیٹھتا ہے کہ رمضان آتا ہی کیوں ہے؟ ہمارے زخموں کو ہرا کرنے۔عید آتی ہی کیوں ہے؟ ہماری محرومیوں میں اضافہ کرنے۔ایک سرد آہ نکلی جب ہم نے سنا کہ ایک سونار کی دکان پر برقع پوش خواتین کو دیکھ کر کہنے والے نے کہا کہ دیکھو مسلمانوں کے پاس کتنا پیسہ ہے کہ رمضان میں اور اس مندی کے دور میں زیورات خرید رہی ہیں۔تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ خواتین رمضان و عید کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنا سونا بیچنے آئی تھیں زیورات خریدنے نہیں۔
دل کو خون خون کردینے والی اور بھی زندہ مثالیں ہیں جنھیں تحریر کرکے لوگوں کی عید ورمضان کا مزہ کرکرا نہیں کرنا چاہتا۔رمضان کو لذت کام و دہن کا مہینہ بنانے والو! صرف رمضانی شوق اور چونچلوں پر لاکھوں روپیہ اڑادینے والو!! اپنی زندگی کے خودساختہ حصار سے باہر بھی جھانک کر دیکھو،
اگر شام و فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر مگرمچھ کے آنسو بہانے اور اعداء اسلام کے خلاف زبانی جہاد سے اور رنگ بدلتی ملکی سیاست اور تجارت پر تبادلہ خیال سے فرصت ملے تو پڑوس میں نان شبینہ کے محتاج قسمت کے ماروں پر بھی توجہ مبذول کر لیاجائے شاید کہ دل کے خاموش تاروں میں کچھ حرکت پیدا ہوجائے۔





