کہنے لگیں: آپ اچھا بولی ہیں لیکن اس درس میں دلچسپی نہیں بن سکی۔
ہم نے جواب دیا: کاملیت کا دعویٰ تو نہیں ہے چند الفاظ جوڑے تھے،
کہنے لگیں: لوگوں کو قبر کا خوف دلائیں،
میت کو صرف صدقہ جاریہ اور مغفرت کی دعائیں فائدہ دیتی ہیں۔پھر مغفرت کی دعا پڑھ کر بھی بتائی،
چھوٹے گناہوں پر دوام آگ تک لے جاتا ہے۔قرآن سے تعلق جوڑنے اس کے معنی و مطالب پر غور،
فرمانے لگیں مگر پھر بھی کشش نہیں بن سکی۔ڈرانا چاہیے لوگوں کو موقع کی مناسبت سے۔
سمجھ گئے من گھڑت واقعات سنا کر اتنا ڈرا دینا کہ خوف منفیت کی طرف لے جائے اور عمل سے دور کردے اس چیز کا ڈپریشن پیدا ہوجائے کہ الله کا دین پورا کا پورا ہے ہی صرف قبر کے عذاب میں اور اس سے بچنے کا راستہ دن رات الله کی عبادت ہزار گنجی کی نماز اور سو نفل،
پھر فرمانے لگیں آپ نے وہ حدیث نہیں سنائی شوہر کے مرنے پر صبر کرنے والی اور شادی نہ کرنے والی جنت میں نبی صلی الله عليہ وسلم سے آگے ہوگی۔
تبلیغی جماعت کے لےل جنت میں ایک الگ لائن ہوگی۔
اعتراضات ہم نے نوٹ کر لےن بعد میں حکمت سے بتائیں گے روایات ضعیف بھی ہوتی ہیں۔شوہر کی وفات پر شادی نہ کرنے والی روایت امام البانی رحمہ الله نے سلسلہ ضعیہی رقم ۵۳۷۴ میں ذکر کی ہے۔
اور ضعیف الترغيب رقم۱۵۱۲ میں بھی بہرحال روایت پر کلام ہے اصول حدیث کی روشنی میں بھی اور اس کے مقابلے میں مطلقاً نکاح کی ترغیب سورہ النور میں بھی ہے اور کئی احادیث میں بھی بلکہ ایک روایت میں بیوہ کے الفاظ کے ساتھ اس کو نکاح کرنے کے الفاظ ہیں جسے شیخ زبیر علی زئی نے حسن کہا ہے۔نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے علی!تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا:
۱۔نماز،
۲۔جنازہ،
۳۔بیوہ،
(حسن،
اور کسی بھی صحیح حدیث میں تبلیغی جماعت کا نام لے کر جنت میں لائن کا ذکر نہیں ہے۔ویسے دین کی دعوت میں امر بالمعروف اورنھی عن المنکر پر زور دیا گیا ہے۔
من گھڑت و موضوع روایات بیان کرکے آپ بیان میں چس تو پیدا کرسکتے ہیں مگر وہ دین کو مجموعی نقصان زیادہ اس لےو پہارکتے ہیں کہ اس طرح دین سے جڑنے والے علم میں مضبوط نہیں ہوتے،
مگر یہ سب میانہ روی و حکمت کے ساتھ ہوتا ہے اچانک سے لوگ نہیں مان لیتے کہ ہر روایت دین میں حجت نہیں ہے۔






