علامہ بقاعی کا پورا نام برہان الدين ابو الحسن ابراهيم بن عمر بن حسن البقاعی ہے۔
سنہ ٨٠٩ ہجری میں سوریا کے ”بقاع“ میں پیدا ہوئے۔اور سنہ ٨٨٥ ہجری میں وفات پائی۔
آپ نے ایک زمانے تک حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے کسب فیض کیا،
"قد انتفعت به في علم الحديث وغيره كثيرًا،
آپ حافظ ابن حجر کے ان چند مشہور شاگردوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے دنیا کے سامنے ان کا تعارف کرانے اور لوگوں تک ان کا علم پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اللہ تعالی کسی کے علم کی حفاظت کرنا چاہے تو اس کے متعدد اسباب پیدا کر دیتے ہیں۔اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔اگر کوئی صرف اس موضوع پر لکھنا چاہے تو ایک ضخیم کتاب تیار کر سکتا ہے۔
اس کی ایک مثال علامہ بقاعی کی کتاب ”النُّکَتُ الوَفِیَّہ“ ہے۔
اللہ تعالی نے ان کے ذریعہ علوم حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے ایسے بہت سارے علمی فوائد کی حفاظت کی جو خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی کتابوں میں یا ان کے دوسرے شاگردوں کے پاس نہیں ملتیں۔
اگر کہا جائے کہ یہ حافظ ابن حجر کی ہی کتاب ہے تو شاید بے جا نہ ہو۔پوری کتاب ان کے اقوال سے پُر ہے۔علامہ بقاعی کی اپنی تحقیق کا حجم شاید پوری کتاب کا دسواں حصہ بھی نہ ہو۔
اس کتاب میں ان کا منہج یہ ہے کہ اپنی تحقیق بیان کرتے وقت شروع میں لفظ ”قلتُ“ کا استعمال کرتے ہیں،
خود اپنا منہج واضح کرتے ہوئے کتاب کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
"واعلم أن ما كان فيها من بحثي صدرتُه فِي الغالب بـ «قلتُ»،
ان کی اس عبارت پر نوٹ چڑھاتے ہوئے کتاب کے محقق ڈاکٹر ماہر یاسین الفحل فرماتے ہیں:
"ومن يطالع الكتاب لأول وهلة يجد أن ما لم يصدره بـ: «قُلْتُ» أكثر بكثير مِمَّا صدره بـ «قلت»،
نیز فرماتے ہیں:
"ويظهر لمن يطالع الكتاب أن ما صدره بـ «قلت»،
جیسا کہ شروع میں کہا گیا کہ آپ نے ایک مدت تک حافظ ابن حجر کی شاگردی اختیار کی ہے۔صرف حضر میں نہیں بلکہ سفر میں بھی ان سے خوشہ چینی کی ہے۔ان کی کتابوں کو خود ان سے پڑھا ہے،






