(۱)پروگرام کے دوران بار بار میری نظریں اس بزرگ خاتون کے چہرے پر کچھ اس طرح جاکر ٹھہر جاتیں کہ میری لڑکھڑانے لگتی۔محسوس ہوتا کہ وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہیں۔
جوں ہی پروگرام ختم ہوا،
رونا کیاتھا،
(۲)وہ جنٹلمین اب پچاسی(۸۵)کے لپیٹے میں ہیں۔ایک ریٹائرڈ لیکن باشعور معمر انسان جس کی بیمار بوڑھی بیوی پچھلے چار سالوں سے بستر کی ہوکر رہ گئی تھی۔
ان کا معمول بن گیا تھا کہ وہ رات کے ساڑھے دس بجے بس پر سوار ہوکر گھر سے دو اسٹاپ آگے جاتے تاکہ وہ بیوی اور خود کے لیے دو وقت کفایت کرجانے والی،
بڑی بی مجھ اجنبی کے گلے لگ کر جب تڑپ تڑپ کر روچکیں تو انھوں نے کہا: ’’تم میرے گھر چلو اور جو باتیں والدین کے حقوق پر تم نے پروگرام میں بتائیں وہی باتیں میرے گھر والوں کو سمجھادو۔مجھ سے راستہ چلا نہیں جاتا لیکن پوتے پوتیوں کو اسکول پہنچانے اور لانے کا کام میرے ذمہ ہے۔ذرا سی دیر ہوجائے تو مجھے بہت جلدی جلدی چلنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے میں گر جاتی ہوں اور اکثر مجھے چوٹیں آتی ہیں۔لیکن میرے بیٹے اور بہو یہ بات نہیں سمجھ رہے،
وہ بار بار ایک ہی جملہ کہتیں:’’ بیٹا! میری بوڑھی ہڈیوں میں اب طاقت نہیں رہی۔تم میرے گھر چل کر کچھ اچھی باتیں انھیں بھی سمجھادو تاکہ وہ مجھ سے زیادہ کام نہ لیں۔‘‘
ایک بوڑھے اور تھکے ہوئے جسم کو جسے خود راستہ چلنے کے لیے ہمہ وقت کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اسے بچوں کا محافظ بناکر گھر سے باہر کے کاموں پر لگادیا جاتا ہے یہ کس قدر شرمناک اور افسوسناک بات ہے۔
اور وہ جنٹلمین،
کیا وجوہات رہی ہوں گی کہ بیٹے کی فیملی ہونے کے باوجود مستقل بیمار رہنے والا یہ بزرگ جوڑا دو وقت کی دال روٹی کا محتاج تھا؟
پہلی بزرگ خاتون اور دوسرے جنٹلمین بزرگ دراصل الگ الگ حالات و واقعات میں اپنی سگی اولاد کے ہاتھوں ایک ہی طرح سے ڈسے گئے تھے جس کا تریاق ان کی اپنی اولاد کے پاس ہی تھا۔
بہت سارے لوگوں نے ایسے یا اِس سے زیادہ افسوسناک واقعے دیکھ یا سُن رکھے ہوں گے۔افسوس کیا ہوگا دُکھ جَتایا ہوگا تسلیاں بھی دی ہوں گی۔لیکن کیا ان سب سے بزرگان کی تسلی کا سامان ہوجائے گا؟
شاید نہیں،
یہ بھی تبھی ہوتا ہے جب ’عصائے پیری‘کہلائی جانے والی اولاد،
چھوٹی چھوٹی چیزوں کو ترستے ہوئے بزرگوں کو ترساکر معاشرہ کس قسم کی ترقی کررہا ہے؟ہم بے شک پیرنٹننگ کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن اچھی تعلیم وتربیت کا جو اصل منبع ہمارے گھروں میں بزرگوں کی صورت میں موجود ہے بچوں کو جان بوجھ کر ان کے سایہ عاطفت سے محروم رکھا جارہاہے۔اور بزرگ اپنے پوتے پوتیوں پر اپنی محبت وشفقت نچھاور کرنے کی آس لیے اندر ہی اندر گھل گھل کر ختم ہو جاتے ہیں۔
مذکورہ واقعات سے کشیدہ مسائل سے تقریبا ملتے جلتے مسائل ہرگھر میں موجود ہیں لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔پھر وہ بزرگ مرد یا عورتیں جن کا شریک سفر انھیں زندگی کی راہوں میں تنہا چھوڑگئے اب اگر وہ اپنی بنیادی اور ناگزیر ضروریات کے لیے دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں تو پھر سے یہ سماج اور اس کی واہیات،
سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کون ہے جو آدھی رات کھانستے ہوئے باپ کے سرہانے ان کی تیمارداری کے لیے ہمہ وقت حاضر ہوسکتا ہے؟اور وہ کون سی بیٹی ہے جو اپنے میاں اور بچوں کو چھوڑ کر باپ کے گھر ہفتہ ہفتہ قیام کرے گی اور بوڑھے باپ یا ماں کی ضروریات کا خیال رکھے گی؟
شاید بوقت ضرورت کوئی بھی ایسی خدمات کے لیے میسر نہیں ہوگا اور اگر ہو بھی تو زوجین کی طرح ایک دوسرے کی ضروریات کو کماحقہ پورا نہیں کرپائے گا۔
تو پھر انسانیت کے اس ستم رسیدہ طبقہ کو حالات کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑدیا گیا؟
دراصل بڑھاپے کی نفسیات کا سب اہم پہلو یہ ہے کہ انسان کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ اس کے چھوٹے،
شاید بڑھاپے کا یہ وہی دور ہوتا ہے جب انسان دوبارہ بچپن کی طرف لوٹ جاتا ہے اور نبی رحمتﷺ نے اپنی دعاؤں میں اسی ارذل عمر سے پناہ بھی طلب کی تھی۔
کبھی اس بوڑھے کا دل گول گول جلیبیوں پر مچل جاتا ہے تو کبھی ٹھنڈی ٹھنڈی آئسکریم اسے اپنی طرف کھینچتی ہے۔کبھی گول گپّے کا چٹخارہ اسے بے چین کردیتا ہے۔
بچپن کے بعد یہ بڑھاپے کا ہی دور ہوتا ہے جب زبان الگ الگ ذائقوں کی تمنا کرتی ہے۔آنکھوں سے نظر آتی رنگ برنگی اشیاء کو جلدی سے چکھ لینے کی بڑی بےتابی ہوتی ہے۔
لیکن بڑھاپے کی خواہشات بھی کبھی پوری کی جاتی ہیں یہ تو بس لعنت ملامت کی خاطر ہوتی ہیں۔بوڑھوں کو بے قرار کرنے کے لیے۔سب سے زیادہ تنقید انھیں کھانے پینے میں برداشت کرنی پڑتی ہے۔ان کے لیے مقوی غذاؤں کا اہتمام نہیں کیا جاتا،
کبھی وہ بچوں کے ساتھ کھیلنا چاہتےہیں،
بزرگ کوئی تخلیقی کام کرنا چاہتے ہیں،
وہ گھر سے باہرنکل کر اپنے جیسے لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں ان کی مجلسوں میں شریک ہونا چاہتے ہیں لیکن انھیں گھر کا چوکیدار بناکر خود سیر سپاٹوں کے مزے لیے جاتے ہیں۔
مقام افسوس ہے کہ ہم سن رسیدہ لوگوں کی خواہشات کو اپنی مصروفیات،
جس عمر میں بزرگ والدین کو سکون سے دو وقت کی روٹی کھلانی چاہیے،
ہر جگہ،
ہمیں اپنا آپ ٹٹولنے کی ضرورت ہے،
بزرگوں کو زک پہنچانا شر ک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔نماز جیسی توقیفی عبادت میں بھی نبی رحمت ﷺ نے معمر افراد کے لیے تخفیف کا حکم دیا،
إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللَّهِ: إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ(ابوداود:۴۸۴۳)اللہ کی تعظیم میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بزرگ (سن رسیدہ) مسلمان کی عزت کی جائے۔






