رمضان المبارک کا آخری عشرہ،
أن النبی کان یجتھد فی العشر الأواخر مالا یجتھدفی غیرھا( نبی اکرمﷺ (رمضان کے) آخری عشرہ میں (عبادت الہٰی کے اندر) جس قدر محنت اور کوشش کرتے وہ اس کے علاوہ دیگر عشروں میں نہیں کرتے تھے)
اور آپﷺکا یہ اہتمام و اجتہاد صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہوتا تھا بلکہ آپ اس بات کے بھی غایت درجہ حریص ہوتے تھے کہ اس عشرہ کی فضیلت سے آپ کے اہل و عیال بھی فیضیاب ہوں اور اس کی مبارک راتوں کو عبادت اور ذکر و تلاوت میں جاگ کر گذاریں۔کیونکہ ایسے بابرکت ایام ولیالی اور حصول خیر کے مواقع ہمیشہ میسر نہیں ہوتے۔اس لیے عقل مند اور خیر اندیش وہی ہے جو ان ساعتوں کی قدر کرے اور انھیں غفلت میں نہ گذارے۔ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیحین میں روایت ہے وہ فرماتی ہیں:
كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخل العشر شد مئزره،
حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ پوری شب جاگتے اور رات کے مختلف حصوں میں مختلف عبادتیں مثلاً نماز کی تیاری،
رمضان کے آخری عشرہ کی چند خصوصیات:
(۱)اعتکاف:
نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ کا تاحین حیات اعتکاف کرتے رہے اورآپ کی رحلت کے بعد ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن نے اعتکاف کیا،
ولا تباشروھن وأنتم عاکفون فی المساجد (البقرہ:۱۸۷) اور اپنی عورتوں سے مباشرت نہ کرو اس حال میں کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔
اعتکاف کا مقصد ہی لوگوں کے عام میل جول اور دنیاوى مشاغل سے کٹ چھٹ کر اللہ کی طاعت و بندگی کے لیے فارغ ہونا ہے،
(۲)لیلۃ القدر:
اس عشرہ کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اندر لیلۃ القدر مخفی ہے۔اور جفت راتوں کے مقابلہ میں طاق راتیں اس کا محل ہیں۔اور دلائل پر غائرانہ اور منصفانہ نظر کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی ايك رات میں متعین نہیں بلکہ منتقل ہوتی رہتی ہے۔کبھی اکیسویں شب میں تو کبھی تئیسویں شب میں اور کبھی پچیسیویں شب میں تو کبھی ستائیسویں اور انتیسویں شب میں۔اللہ تعالیٰ نے اسے مخفی فرماکر بندوں پر بڑا احسان کیا ہے تاکہ بندے متعدد راتوں میں نماز،
اس رات کی عظمت کو اجاگر کرنے کے لیے قرآن مجید کی ایک سورت ہی اس کے نام سے موسوم ہے،
۱۔دنیائے انس و جن کی ہدایت اور دنیوی و اخروی سعادتوں کا سرچشمہ قرآن مجید اسی رات میں نازل ہوا۔
۲۔اس رات کی عبادت اور اس کا قیام ( تراویح و تہجد) ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔
۳۔ملائکہ اور ملائکہ کے سردار جبریل امین علیہم الصلاۃ و السلام اس رات میں دنیا میں تشریف لاتے ہیں اور ان کا نزول برکت و رحمت کا ضامن ہے۔
۴۔یہ رات سلامتی کی رات ہے عبادت کرنے والے بندوں کے حق میں عذاب و عقاب سے سلامتی مقدر کردی جاتی ہے۔اس رات کی فضیلت میں صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مشہور حدیث منقول ہے:
من قام ليلة القدر إيمانا وإحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه(ایمان و ثواب طلبی کی نیت سے جس نے لیلۃ القدر میں قیام ( تراویح اور تہجد) کیا تو اس کے ماقبل کے (صغائر) گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
ماہ رمضان میں قیام کر نے کی بھی یہی فضیلت حدیث میں بتلائی گئی ہے۔یہ اللہ کا فضل عظیم ہے کہ اس نے لیلۃ القدر کے قیام کو سابقہ گناہ صغائر کا کفارہ بنا دیا ہے۔
(۳) صدقہ فطر:
اس عشرے کے اختتام سے ایک ہم فریضہ ’صدقہ فطر‘ بھی متعلق ہے جو ایک طرف روزہ داروں کے لغو و رفث (بیہودہ بکواس اور غلط حرکات) کا کفارہ اور روزوں کی قبولیت کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف فقراء و مساکین کے ساتھ احسان و رواداری اور عید الفطر کی خوشیوں میں انھیں شریک کر نے کا اہم سبب ہے،
ماہ صام کے اختتام پر ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔اگر کسی کو ایسا معلوم و محسوس ہو کہ اس نے بفضلہ تعالیٰ اس ماہ مبارک کے حقوق کی بہت حد تک بجا آوری کر دی ہے تو وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے کہ اسی کی توفیق سے یہ سب کچھ ممکن ہوسکا ااور پھر نیک عملوں پر ہمیشگی کرے اور اگر معاملہ اس کے برعکس نظر آئے تو اللہ کی طرف پلٹے اور اپنی کوتاہیوں کی اس سے معافی مانگے اور اپنا عذر پیش کر کے آئندہ اسلامی زندگی شروع کر نے کا اس سے عہد کرے توبہ کا دروازہ موت سے پہلے تک کھلا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے ہم اپنی اور تمام مسلمانوں کی کوتاہیوں اور غفلتوں کی معافی چاہتے ہیں اور ٹوٹی پھوٹی بندگیوں کی قبولیت اور مستقبل میں حسن عمل کی توفیق کی دعا کرتے ہیں۔
والحمد لله رب العالمين وصلى الله وسلم على نبينا محمد وآله صحبه أجمعين






