اللہ رب العالمین نے شریعت کو نہایت سادہ اور آسان بنایا ہے،
شریعت مطہرہ میں بحالت نماز چہرہ ڈھکنے کی ممانعت آئی ہے،
نهى أن يغطي الرجل فاه[سنن ابی داؤد:۱/۱۷۴،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو نماز کی حالت میں منہ ڈھکنے سے منع کیا ہے۔
اکثر علماء نے اس ممانعت کو کراہت پر محمول کیا ہے،
البتہ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے اس ممانعت کو تحریم پر محمول کیا ہے۔[مرعاۃ المفاتي:۲/۴۸۰]
اس ممانعت کی علت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کفار اپنے چہرے کو ڈھکا کرتے تھے،
چہرہ ڈھکنا مکروہ تنزیہی ہو یا مکروہ تحریمی دونوں صورت میں بوقت ضرورت نماز میں چہرہ کا ڈھکنا جائز ہے۔
چنانچہ حدیث مذکور کی شرح میں ملا علی قاری کہتے ہیں: چہرہ ڈھکنے کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ بلاضرورت چہرہ ڈھکے رہنا،
اور امام شوکانی کہتے ہیں: استمرار کے ساتھ چہرہ ڈھکنے سے منع کیا گیا ہے،
إذا تثاءب أحدكم فليمسك بيده على فيه[صحيح مسلم:۴/۲۲۹۳،
جب کسی کو جمائی آئے تو اسے ہاتھ سے روکے۔
اگر ہم ’نہی‘ کو کراہت پر محمول کرتے ہیں تو ضرورت کے وقت وہ کراہت ختم ہو جاتی ہے جیسا کہ قاعدہ ہے:
الكراهة تندفع مع وجود الحاجة
اور اگر ’نہی‘ کو حرمت پر محمول کرتے ہیں پھر بھی بسا اوقات حرام چیزوں کا ارتکاب بقدر ضرورت مباح ہوجاتا ہے،
الضرورات تبیح المحظورات
اگر ہم نماز کی حالت میں ماسک پہننے کو بالکلیہ حرام قرار دیتے ہیں تو اس سے بیماری اور ہلاکت کا خدشہ بڑھتا ہے اور شرعا بیماری اور ہلاکت سے بچنا مطلوب ہے جیسا کہ اللہ رب العالمین نے فرمایا:
ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة(اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو)
اور ماسک نہ پہننا ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما(اپنے آپ کو نہ مارو،
اور ماسک کا نہ پہننا قتل نفس کا سبب ہو سکتا ہے۔
معلوم یہ ہوا کہ ضرورت کے سبب نماز میں چہرہ ڈھکا جا سکتا ہے،
آج کل ہم جو ماسک لگاتے ہیں وہ ’کورونا‘ جیسے متعدی اور مہلک مرض سے بچنے کے لیے،
نیز یہ کہ نماز میں قبلہ کا استقبال ایک اہم شرط ہے،






