زکوۃاسلامی فرائض اور ارکان اسلام میں سے ایک ہے اور اس کی اہمیت شہادتین اور نماز کے بعد ہے۔زکوۃکے وجوب پرقرآن وحدیث اور امت کا اجماع ہے۔ساتھ ہی دنیا کے تمام مسلمانوں کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ زکوۃ کے وجوب کا منکر مرتد ہے۔اس سے توبہ کرائی جائے گی،
اس زمانے میں زکوۃکو لے کر بڑی افراتفری پائی جاتی ہے۔لوگ من چاہے طریقے سے زکوۃ لیتے دیتے اور خرچ کرتے ہیں۔حالانکہ اس فریضے کو شریعت کی روشنی میں سمجھنا اور اس کو بروئے کار لانا ہر مسلمان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔زکوۃ کے نام پر آج شہر سے لے کر دیہات تک لوٹ کھسوٹ اور جمع خوری ہے۔مستحق غیر مستحق سب زکوۃ وصولی کی لائن میں لگے ہوئے ہیں۔صرف کاغذ کو بنیاد بناکر زکوۃلیا اور دیا جاتا ہے۔حقیقت کی کوئی تلاش نہیں ہوتی۔صاحب مال کو جو جس بہتر انداز میں رجھا لے اتنا ہی زیادہ وہ زکوۃ حاصل کرتا ہے۔رمضان میں تو جیسے وصولنے والوں کا سیلاب آجاتا ہے۔جس کا مدرسہ زمین پر ہے اور جس کا صرف کاغذ پر سب بلاتفریق اللہ کا مال لے کر اپنی جیب بھرتے ہیں۔اصلاح او رتنظیم کہیں نظرنہیں آتی۔جس کی وجہ سے مستحقین کا حق مارا جاتا ہے۔اسلام نے بڑی حکمت کے تئیں زکوۃ کو فرض کیا ہے۔اگر اس کے اندر تنظیم پائی جائے تو مسلم معاشرے سے غربت کا خاتمہ ہوجائے اور مسلمانوں کا ہر کام بحسن وخوبی انجام پائے۔لیکن اس کے لیے پڑھے لکھے مسلمانوں اور ان کی تنظیموں کو اپنا ڈھانچہ اور سسٹم ٹھیک کرنا ہوگا۔اورزکوۃکے معاملے میں ہر سطح پر جو بدنظمی اور بے راہ روی ہے اس کو دور کرنے میں دلچسپی ظاہر کرنی ہوگی۔بغیر سسٹم درست کیے مسلم سماج کی غریبی اور افلاس کا رونا رونا عبث ہے۔
ہر صاحب نصاب( جس کے اوپرزکوۃواجب ہے) کازکوۃ بیت المال کو دینا اور لینا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔اور جہاں اسلامی حکومت نہیں وہاں صاحب نصاب کی خود ذمہ داری ہے کہ وہ زکوۃ کامال بہتر سے بہتر انداز میں مستحقین تک پہنچائے۔اللہ کے دیے ہوئے مال میں بخیلی اور کنجوسی ظلم اور عذاب الہی کا سبب ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
’’جنھیں اللہ تعالی نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لیے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے۔عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے۔آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالی ہی کے لیے ہے اور جو کچھ تم کررہے ہوں اس سے اللہ تعالی آگاہ ہے۔‘‘(آل عمران:۱۸۰)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کازکوۃ نہ نکالا تو وہ(مال) قیامت میں گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا،
اللہ تعالی نے فرمایا:
’’اور جولوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے،
صحیح مسلم کی روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ہر وہ شخص جو اپنے سونے چاندی کا حق ادا نہیں کرتا،
زکوۃ کے بے شمار دینی،
دینی فائدے:
(۱)زکوۃ کی ادائیگی سے اسلام کا ایک رکن پائے تکمیل کو پہنچتا ہے۔جو ایک مسلمان کی دنیوی واخروی سعادت مندی کا باعث ہے۔
(۲)زکوۃبندے کو اللہ سے قریب کردیتا ہے۔اور اس سے آدمی کے ایمان میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔جیسا کہ دیگر عبادات کی ادائیگی سے ہوتا ہے۔
(۳)زکوۃ دینے سے آدمی اجر عظیم کا مستحق قرار پاتا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
’’اللہ تعالی سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے۔‘‘( البقرہ: ۲۷۶) اور فرمایا:’’تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہتا ہے وہ اللہ تعالی کے ہاں نہیں بڑھتا۔اور جو کچھ صدقہ زکوۃ تم اللہ تعالی کا منہ دیکھنے( اور خوشنودی کے لیے) دو تو ایسے لوگ ہی ہیں اپنا دوچند کرنے والے ہیں۔‘‘(الروم: ۳۹)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو بھی اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے۔اور پاک ہی کو قبول کرتا ہے۔تو اللہ تعالی اس(صدقے کے کھجور ) کو داہنے ہاتھ سے لیتا ہے۔اور دینے والے کے لیے اسی طرح بڑھاتا ہے جس طرح ایک شخص اپنے بچھڑے کو بڑھاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔‘‘(صحیح بخاری:۱۴۱۰)
(۴)زکوۃ کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’صدقہ اسی طرح گناہ کو بجھادیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔‘‘(جامع ترمذی:۶۱۴)
اخلاقی فائدے:
(۱)زکوۃ دینے سے آدمی کا شمار سخی اور فیاض لوگوں میں ہونے لگتا ہے۔
(۲)زکوۃدینے کی وجہ سے آدمی کے اندر اپنے غریب بھائی کی محبت اور ہمددری پیدا ہوجاتی ہے۔وہ رحم وکرم کی صفت سے متصف ہوجاتا ہے۔اور جو اس دنیا میں کسی پر رحم کرتا ہے اللہ تعالی قیامت میں اس پر رحم فرمائے گا۔
(۳)اس کی وجہ سے آدمی کشادہ دل ہوجاتا ہے۔اور جس مقدار میں وہ اپنے بھائیوں پر خرچ کرتا ہے اسی اعتبار سے وہ لوگوں کی نگاہوں کاتارا بن جاتا ہے۔
(۴)زکوۃ کی وجہ سے انسان کنجوسی اور بخیلی جیسی مذموم صفت سے باہر آجاتا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’آپ ان کے مال میں سے صدقہ لے لیجیے،
سماجی فائدے:
(۱)زکوۃسے غریبوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔جو کسی بھی معاشرے کی اکثریت ہواکرتے ہیں۔
(۲)اس سے مسلمانوں کی طاقت وقوت بحال ہوتی ہے۔ان کے مقام ومرتبے بلند ہوتے ہیں۔اسی لیے زکات کے مصارف میں سے ایک مصرف جہاد بھی قرار دیا گیا ہے۔
(۳)اس کی وجہ سے فقیروں کے دل میں مالداروں کے لیے جو نفرت وکدورت ہوتی ہے وہ کافور ہوتی ہے۔اگر مالدار اپنی ذات پر خرچ کریں اور غریبوں کا خیال نہ رکھیں تو عین ممکن ہے کہ غریبوں کے دل میں مالداروں کے لیے دشمنی پیدا ہوجائے،
(۴)زکوۃ دینے سے مال میں اضافہ اور برکت ہوتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی۔‘‘( صحیح مسلم:۲۵۸۸)
(۵)زکوۃ ادا کرنے سے مال کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔اور اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔اگر ایسا نہ ہوتو مال ودولت مالداروں تک سمٹ کر رہ جائے۔اور غریبوں کو ان کا حق نہ ملے۔
زکوۃ سونا چاندی(اگرچہ سونا اور چاندی زیورات کی شکل میں کیوں نہ ہوں)نقدی،
سونے چاندی روپئے پیسے اور سامان تجارت میں سے زکوۃ نکالنے کا مختصر طریقہ جاننے کے لیے شیخ اسعد اعظمی حفظہ اللہ کی ایک جامع تحریر کاکچھ حصہ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
’’ سونے،
’نصاب‘سے مراد یہ ہے کہ مال اتنی مقدار میں ہو جس پر شریعت نے زکوۃ فرض کیا ہے،
(۱)چاندی: چاندی کا نصاب بموجب حدیث رسول ۲۰۰درہم ہے،
(۲)سونا: سونے کا نصاب ۲۰ دینار یا مثقال ہے،
(۳)کرنسی نوٹ: آج کے دور میں کاروبار اور لین دین وغیرہ میں کرنسی نوٹوں کا رواج عام ہے،
تنبیہ: واضح رہے کہ اس وقت سونا اور چاندی کے دام میں کافی تفاوت ہے،
ایسی صورت میں جمع کردہ روپئے نصاب کو کب پہنچیں گے = ؍ 23800 پر یا = ؍ 340000 پر؟
اس سلسلے میں اہل علم کے دونوں طرح کے اقوال ملتے ہیں،
(۴)سامان تجارت: تجارتی مقاصد سے جمع کیے ہوئے سامانوں میں بھی نصاب کو پہنچنے اور حولان حول (سال گزرنے) پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔موجودہ دور میں اس جانب سے بڑی غفلت ہے اور عام طور پر دوکاندار حضرات اس طرف توجہ نہیں دیتے۔
تجارتی سامانوں کی زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دوکاندار اپنی پونجی کا تخمینہ لگائے اور دوکان یا اور جہاں بھی دوکان کا سامان ہے اس کی قیمت لگائے،






