سند عالی کہتے ہیں جس سند میں راوی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان واسطے کم سے کم ہوں بہ نسبت اس سند کے جس میں اسی حدیث میں راوی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان واسطے زیادہ ہوں۔
کسی سند کا عالی اور نازل ہونا ایک نسبی چیز ہے۔مثلا ’ثلاثی سند‘ اور ’رباعی سند‘ کی بہ نسبت عالی ہے،
سند عالی کا حصول محدثین کی سنت رہی ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
طلب الإسناد العالي سنة عمن سلف[الجامع لاخلاق الراوى وآداب السامع للخطيب البغدادى:۱/۱۲۳]سند عالی کا حصول سلف کی سنت ہے۔
بلکہ یہ ان کے نزدیک ہمیشہ سعادت ومنقبت کا باعث اور مرغوب امر رہا ہے۔
مشہور تابعی ابو العالیہ الریاحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كنا نسمع الرواية بالبصرة عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم نرض حتى ركبنا إلى المدينة فسمعناها من أفواههم [سنن دارمی:۱/۴۶۴،
غور فرمائیں کہ اس زمانے میں بصرہ سے مدینہ کا سفر کتنا مشکل ترین مرحلہ تھا،
اگر کسی کے پاس سند عالی ہوتی تو ان کی شان ہی نرالی ہوتی۔اس تعلق سے امام طبرانی رحمہ اللہ کاایک دلچسپ قصہ ملاحظہ فرمائیں:
ابن العمید رحمہ اللہ رکن الدولہ کے زمانے میں وزارت کے عہدے پر فائز تھے۔ان کا کہنا ہے:میں یہ سمجھتا تھا کہ رئاست ووزارت سے محبوب دنیا میں کوئی چیز نہیں،
امام طبرانی نے کہا: لائیں ایسی کون سی حدیث ہے آپ کے پاس۔
تب ابو بکر الجعابی نےاپنی سند اس طرح بیان کی:
حَدثنَا أَبُو خَليفَة،
اس پر امام طبرانی نے فرمایا: میں ہی سلیمان بن ایوب ہوں۔آپ میرے شاگرد ابو خلیفہ کے واسطے سے مجھ تک نہ پہنچ کر مجھ سے ہی اسے ڈائرکٹ سن لیں،
اس پر ابو بکر الجعابی شرم سے پانی پانی ہوگئے۔
ابن العمیدفرماتے ہیں: اس وقت میری دلی کیفیت یہ تھی کہ کاش رئاست ووزارت کا مالک نہ ہوکر میں طبرانی کی جگہ پر ہوتا اور حدیث-وسند عالی-کی وجہ سے طبرانی کو جو خوشی ومسرت حاصل ہوئی وہ مجھے حاصل ہوئی ہوتی۔[دیکھیں: جزء فيہ ذكر ابى القاسم الطبرانی للامام ابن مندہ،
اس قصہ سے بخوبی سند عالی رکھنے والےکی رفعت شان اور علو مرتبت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
بلکہ بسا اوقات بعض ائمہ سند عالی کے لیے ثقہ راوی کو چھوڑ کر کسی ضعیف راوی سے روایت کرنے سے گریز نہیں کرتے۔’کتب المستخرجات‘ میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔میں نے اپنی کتاب ’کتب حدیث میں ضعیف احادیث کیوں؟‘ میں اسےمع مثال بیان کیا ہے۔[دیکھیں:ص۶۰-۶۵]
بلکہ امام مسلم نے بھی اپنی ’صحیح‘ میں بعض جگہوں پر ایسا کیا ہے۔انھوں نے بعض ضعیف راویوں اور دوسرے طبقہ کے چند متوسط راویوں سے ایسی روایات ذکر کی ہیں جو ان کی صحیح کی شرط پر پوری نہیں اترتیں،
أن يعلو بالشخص الضعيف إسناده،
خودامام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إنما أدخلت من حديث أسباط وقطن وأحمد ما قد رواه الثقات عن شيوخهم إلا أنه ربما وقع إلي عنهم بارتفاع ويكون عندي من رواية أوثق منهم بنزول فأقتصر على ذلك،
آج بھی اہل علم کے یہاں سند عالی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔اسی لیے آپ پائیں گے کہ متعدد عرب مشایخ ہندوستان کا سفر کرتے ہیں اور ہمارے مُعَمَّر مشایخ سے سند اجازہ حاصل کرتے ہیں،
جہاں تک کتب حدیث کی بات ہے تو امام مسلم،
امام ترمذی کے یہاں صرف ایک حدیث ’ثلاثی سند‘ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں:
حدثنا إسماعيل بن موسى الفزاري ابن بنت السدي الكوفي،
غور فرمائیں! اس میں امام ترمذی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف تین واسطے ہیں: اسماعیل الفزاری،
امام ابن ماجہ کے یہاں اس طرح کی پانچ حدیثیں ہیں جو ’ثلاثی سند‘ سے مروی ہیں۔ان کے نمبرات ہیں:۳۲۶۰،
یہ پانچوں احادیث ایک ہی سندسے مروی ہیں،
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ،
یہ سند بھی ضعیف ہے۔جبارۃ بن المغلس اور کثیر بن سلیم دونوں ضعیف ہیں۔[دیکھیں: تقریب التہذیب،
کتب ستہ میں’ثلاثی اسانید‘ سے مروی احادیث سب سے زیادہ امام بخاری رحمہ اللہ کے یہاں ہیں۔تکرار کے ساتھ بائیس اور بغیر تکرار کے ان کی تعداد سولہ ہیں۔امام بخاری رحمہ اللہ ان تمام ’ثلاثیات‘کو پانچ اسانید سے روایت کرتے ہیں،
۱۔حدثنا أبو عاصم الضحاك بن مخلد،
۲۔حدثنا المكي بن إبراهيم،
۳۔حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري،
۴۔حدثنا عصام بن خالد،
۵۔حدثنا خلاد بن يحيى،
بہت سارے علما نے امام بخاری رحمہ اللہ کی ان ثلاثیات کو جمع کرنے اور ان کی شرح کرنے کا اہتمام کیا ہے۔مثلا:
۱۔الفرائد المرويات في فوائد الثلاثيات لمحمد بن إبراهيم الحضرمي المري (ت۷۷۷ھ)
۲۔شرح ثلاثيات البخاري للبرماوي (ت۸۳۱ھ)
۳۔كفاية القاري بشرح ثلاثيات البخاري لحميد الدين السندي المكي الحنفي (ت۱۰۰۹ھ)
۴۔تعليقات القاري على ثلاثيات البخاري للملا علي بن سلطان القاري (ت۱۰۱۴ھ)
۵۔منحة الباري بشرح ثلاثيات البخاري للشيخ محمد بن عمر بن سالم بازمول
یہ تمام کتابیں الحمد للہ مطبوع ہیں۔
ثلاثیات کی اس بحث میں امام دارمی،
امام دارمی کی مسند میں اس طرح کی پندرہ احادیث ہیں۔عبد بن حمید الکشی کے یہاں ان کی تعداد اکاون (۵۱) ہے۔اور مسند احمد کے اندر ان کی تعداد تین سو بتیس (۳۳۲) ہیں۔مسند احمد کی ان تمام احادیث کی علامہ سفارینی نے شرح کی ہے۔
کتب ستہ میں کوئی بھی ’ثنائی‘ سند موجود نہیں ہے۔یہ شرف اور سعادت امام مالک رحمہ اللہ کے حصے میں وافر مقدار میں آئی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ موطا امام مالک میں ان ’ثنائیات‘ کی تعداد کتنی ہے؟
علامہ عبد العزیز بن شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے ’بستان المحدثین‘ میں ان کی تعداد تقریبا چالیس بتائی ہے۔جب کہ در حقیقت ان کی صحیح تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔
استاد محترم فضیلۃ الشیخ محفوظ الرحمن فیضی حفظہ اللہ نے موطا کی ان ’ثنائیات‘ کو کتابی شکل میں جمع کیا ہے جو’دار غراس‘ کویت سے مطبوع ہے۔شیخ نے سبب تالیف یہ بیان کیا ہے کہ جب انھوں نے علامہ عبد العزیز بن شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کا یہ قول دیکھا تو موطا سے ان چالیس احادیث کو جمع کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔جب آپ نے اس پر کام شروع کیا تو ابھی ایک تہائی کتاب تک نہیں پہنچے تھے کہ ان ’ثنائیات‘ کی تعداد چالیس پہنچ گئی۔پھر جب اپنی بحث سے فارغ ہوئے تو ان کی تعداد ایک سو ترپن (۱۵۳) تک پہنچ چکی تھی۔
لہذا صحیح قول یہ ہے کہ موطا امام مالک میں ان ’ثنائیات‘ کی تعداد ایک سو ترپن (۱۵۳) ہے۔
مطبوعہ کتب میں ’ثنائیات‘ہی سب سے عالی سند تصور کی جاتی ہے،
اس کتاب میں کل ایک سو اڑتیس (۱۳۸) احادیث موجود ہیں اور ان تمام احادیث میں ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ ہے۔
اس کتاب کی تمام احادیث کو امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔امام احمد کی سند ہے:
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ،
صرف پہلی حدیث میں امام احمد نے یہ سند بیان کی ہے،
امام معمر بن راشد رحمہ اللہ نے بھی اپنی جامع میں اس کی اکتیس (۳۱) احادیث کو روایت کیا ہے۔
صحیحین کے اندر بھی اس کی بہت ساری احادیث موجود ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ محدثین کے نزدیک سند عالی کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔شروع سے لے کر آج تک اس کی جستجو برقرار ہے۔لیکن یہ واضح رہے کہ عالی ہونے کے ساتھ ساتھ اگر وہ صحیح بھی ہو تو اس کی بہت زیادہ علمی قیمت ہے،






