ارکان اسلام میں اللہ و رسول کی شہادت کے بعد نماز،
ان عبادات میں ان کے اوقات کی بندش اور حد بندی کچھ تو قرآن کریم کی آیتوں سے ثابت ہے اور بعض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے بیان کی گئیں جس میں آج تک کسی بھی شخص کو کسی طرح کی تبدیلی اور کمی و زیادتی کا نہ کبھی اختیار دیا گیا اور نہ ہی کسی بڑے سے بڑے عالم نے اپنے تقوی،
وقت کی بندش اور پابندی نماز کے تعلق سے کچھ زیادہ رکھی گئی،
ان الصلوٰۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتا(نساء:۱۰۳)کہ نماز وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔
اسی لیے نماز کے اوقات کو اجمالی طور پر قرآن کریم میں اور تفصیلی طور پر بے شمار احادیث میں بیان کیا گیا۔پنج وقتہ فرض نمازوں کی وقت کے اندر ادائیگی کو ادا اور اگر وقت کے اندر نہ پڑھ سکے تو پھر قضا مانا گیا۔جمعہ کی نماز ظہر کے وقت میں ادا کرنے کی تاکید کی گئی اور اگر وقت میں ادا نہ ہو پائے تو جمعہ کا وقت فوت ہو گیا اب اس کی قضا جمعہ کی شکل میں نہیں بلکہ اس کی جگہ ظہر پڑھنی پڑے گی۔
عیدین کی نماز کو بھی چاند ہونے کے بعد صبح سورج نکلنے اور بلندی پر آجانے کے بعد سے زوال سے پہلے تک پڑھنے کا حکم دیا گیا اور اگر وقت گزر جائے تو انفرادی طور پر پڑھنا ناممکن،
نماز استسقاء کے تعلق سے یہ اجازت ضرور ملتی ہے کہ پڑھنے والوں میں اگر مسلم حکمراں نہیں تو آپس میں اس کے طے شدہ وقت(عید کا وقت) میں جس دن جو وقت چاہیں خود متعین کر لیں،
تراویح،
مذکورہ بالا نمازوں کو ان کے اوقات کی پابندی سے پڑھنا ہی اصل دین اور کار خیر ہے،
اسلام میں تین اوقات میں کسی بھی طرح کی نماز پڑھنے سے منع کردیا گیا سورج نکلتے وقت،
جس طرح وقت کے ساتھ مخصوص نمازوں کے اوقات میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی اور انھیں بے وقت پڑھا نہیں جاسکتا،
اسلام میں توبہ کی بہت اہمیت ہے۔گناہوں کی معافی اور استغفار نماز کے ساتھ بھی کی جا سکتی ہے اور بغیر نماز کے بھی۔اللہ تعالی نے حکم دیا:
و توبوا الی اللہ جمیعا ایہا المومنون لعلكم تفلحون( نور:۳۱) کہ اے مومنو تم سب کامیابی کے لیے اللہ سے توبہ کرو۔
دوسری جگہ توبہ نہ کرنے والوں کو ظالم قرار دیا اور فرمایا:
ومن لم یتب فاولئک ھم الظالمون( حجرات:۱۱)
توبہ کے لیے دو رکعت نفل نماز پڑھ کر بھی توبہ کی جا سکتی ہے جس کو ’صلوٰۃ التوبۃ‘ کہتے ہیں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من عبد يذنب ذنبا ثم يتطهر فيحسن الطهور ثم يصلي ركعتين ثم يتوب لله من ذنبه،
یہ خیال رہے کہ ’صلوۃ التوبہ‘ کے لیے شریعت میں کوئی وقت متعین نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کو اجتماعی طور پر پڑھنے کا مطالبہ کیا گیا۔اس لیے جس طرح متعین اوقات کے ساتھ پڑھی جانے والی نمازوں کو بے وقت پڑھنا درست نہیں اسی طرح صلوۃ التوبہ جس کا کوئی خاص وقت متعین نہیں کیا گیا اس کے لیے کوئی وقت متعین کرنا اور اس کی تمام مسلمانوں سے اپیل کرنا بھی شریعت کی روح کے خلاف ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ اس طرح کے کام نیک نیتی سے بھی کیے جائیں تب بھی شریعت میں غیر شعوری طور پر تحریف کی شروعات ہو سکتی ہے،
ہاں تمام مسلمانوں سے وقت کی تعیین کے بغیر یہ اپیل کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے اپنے طور پر جب مناسب سمجھیں صلوۃ التوبہ پڑھ کر اللہ سے اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کریں اور موجودہ وبا کو دور کرنے اور مسلمانوں و تمام انسانوں کی ہر طرح کی بیماریوں،






